وجود

... loading ...

وجود

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

منگل 24 فروری 2026 فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

حاصل مطالعہ
عبد الرحیم

۔۔۔۔۔۔۔۔

سی ایس یس امتحان میں کامیابی کا نسخہ
سینٹرل سپیرئیر سروسز کے امتحان میں کامیابی رات بھر کامیابی کا نتیجہ نہیں ہے۔یہ برسوں کی تعلیم کا نتیجہ ہے جس کی ابتداء اسکول میں ہوتی ہے ،کالج اور یونیورسٹی میں جاری رہتی ہے اور منظم خود تیاری اسے جلا بخشتی ہے۔معقول دلائل پیش کرنے کی اہلیت،نفس مضمون کے سوالات کے ساتھ انصاف کرنا،واضح لکھنا اور تجزیاتی سوچ امتحان کی تیاری کے دوران اچانک پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ معیاری تدریس اور درست مطالعہ سے حاصل کئے گئے علم کے ذریعہ بتدریج حاصل ہوتا ہے۔
سی ایس ایس میں وہ لوگ کامیاب ہوئے ہیں جو اپنے تعلیمی کیرئیر کے دوران تعلیمی لحاظ سے مضبوط رہے ہیں۔ اس کے برعکس جو ناکام ہوجاتے ہیں،اس کی وجہ کوشش کی کمی نہیں بلکہ وہ مساوی تعلیمی مواقع سے محروم رہے ہیں۔ اس فرق کا آغاز اسکول کی سطح پر ہوتا ہے اور اعلیٰ تعلیم تک جاری رہتا ہے۔وہ طلبہ جو اعلیٰ نجی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں،او/ اے لیول یا بین الاقوامی نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرتے ہیں،انہیں ابتدائی اسکول کی تعلیم سے تجزیاتی تحریر، مباحثہ اور ناقدانہ منطقی سوچ کے مواقع ملتے ہیں،وہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر مراعات یافتہ طلبہ جو سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں جہاں اہل اساتذہ کی شدید قلت،متروک نصابی کتب اور سیکھنے کی جدید سہولتوں مثلاً کمپیوٹرز،انٹرنیٹ تک رسائی اور ریسرچ کے وسائل کی کمی ہے۔
طلبہ کو راغب کرنے کیلئے بہت سی اکیڈیمیاں آن لائن لیکچرز،معیاری نوٹس اور امتحان کیلئے موزوں لائحہ عمل کی پیشکش کرتی ہیں۔ ایسے مٹیریل میں گہرائی نہیں ہے اور تخلیقی سوچ کی کمی ہے۔طلبہ سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں جبکہ طلبہ کا وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا ہے۔
بھارت کی اے آئی امپیکٹ سمٹ
اس سمٹ کا ایک تاریک پہلو لیبر کیلئے خطرہ ہے جو سمٹ میں سامنے آیا۔ اکثر بھارتی کمپنیوں کو بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہیں جسے اے آئی حلقوں میں Compute کہا جاتا ہے جو آمیزون اور مائیکرو سافٹ سمیت امریکی کمپنیوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ایک ٹیکنالوجی وکیل اور سرگرم رکن مشی چودھری جو نئی دہلی اور نیو یارک کے درمیان کام کرتی ہے،نے اس کاروباری ماڈل کیلئے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔ اس کاکہنا ہے کہ امریکی کمپنیاں ہم سب کو سانپ کا تیل بیچ رہی ہیں کیونکہ وہ ہماری لیبر کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن ہم بھارت میں جابز ختم نہیں کر سکتے۔اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔
چین نے لیبر کی کمی کا حل ڈھونڈ لیا
چین کو شرح پیدائش کی کمی کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں لیبر کی کمی واقع ہوئی ہے۔سی این این کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ ملک اب دنیا کے صنعتی روبوٹس کے نصف سے زیادہ کا مالک ہے۔ یہ عمداً لائحہ عمل ہے پیداوار کو برقرار رکھنے اور لیبر کی کمی کو پورا کرنے کاجو آبادی میں کمی سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ تجربہ نہیں ہے بلکہ یہ آبادی میں کمی کا بدل ہے۔ اس سے فراہمی کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن یہ طلب کا مسئلہ حل نہیں کرتا۔سرما یہ داری سب میں تقسیم کرنے کا نام ہے۔ اس کا انحصار حقیقی سمت میں پیسے کی گردش ہے۔اجرتیں قوت خرید پیدا کرتی ہیں۔ قوت خرید آمدنی پیدا کرتی ہے۔آمدنی سرمایہ کاری بن جاتی ہے۔اگر لیبر کی جگہ سلیکون اور اسٹیل لے لیتی ہے تو پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ آمدنی کی تقسیم رک جاتی ہے۔ آٹومیشن رسد کی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے۔ یہ طلب کو صحیح حالت میں نہیں رکھتی۔ معیشت بہتات پیدا کر سکتی ہے اور اپنے صارفین کو غیر اہم بناتی ہے۔ اجرتیں ختم ہو جائیں تو قوت خرید ختم ہو جاتی ہے۔خریداروں کے بغیر خود کار سلطنت محدود ہوجاتی ہے۔
انگلی کے اشارہ سے فوج کے طاقتور ترین رہنما کو ہٹا نے والے چینی صدر
پیپلز لبریشن آرمی کے ریٹائرڈ کرنل یو ای گانگ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران صدرژی جنپنگ نے سینٹرل ملٹری کمیشن جو چین کا اعلیٰ ترین فوجی ادارہ ہے، کے6 جنرلوں میں سے پانچ کو نکال دیا ہے۔اب صرف دو باقی رہ گئے ہیں۔ایک ژی خود اور دوسرے ایک وائس چیئر مین جو ژی کی تطہیر کے عمل کے نگران ہیں۔ژی کے پیش رو ہو جنٹائو نے فوج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی لیکن سینٹرل ملٹری کمیشن کے دو وائس چیئر مینوں نے انہیں مات دے دی۔یو ای گانگ کا کہنا ہے کہ یہ سبق ژی کے سامنے تھا۔ ہو سکتا ہے جنرل ژہانگ نے فوج پر ژی کے کنٹرول کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہو۔ جنرل ژہانگ کی برطرفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ژی جنپنگ کی قیادت کو ہلانا کس قدر ناممکن ہے۔چینی فوج کے ماہرژونگ پنگ کا کہنا ہے کہ بندق ہمیشہ پارٹی کی کمان میں ہونی چاہئے ،نہ کہ اس کے برعکس۔واشنگٹن کے سٹمسن سینٹر میں چائنا پروگرام کے ڈائریکٹر یون سون کا کہنا ہے کہ ثی انگلی کے اشارہ سے فوج کے طاقتور ترین رہنما کو ہٹا سکتے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر