وجود

... loading ...

وجود

بھارت بند ہڑتال

جمعه 20 فروری 2026 بھارت بند ہڑتال

ریاض احمدچودھری

سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ اور کئی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے ہندـامریکہ عبوری تجارتی معاہدے، مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور نئے لیبر قوانین کے خلاف بھارت بند کی اپیل کی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک نیو لیبر کوڈ کی واپسی، بجلی بل 2025، بیج بل 2025، دیہی روزگار و آجیویکا مشن قانون 2025 کی منسوخی، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور کم از کم اجرت کے نفاذ سمیت متعدد مانگوں پر مبنی ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ٹریڈ یونینوں کے بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں، مگر ان کی آواز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مزدوروں کو اندیشہ ہے کہ چار نئے لیبر کوڈ ان کے بنیادی حقوق کو کمزور کر دیں گے۔ روزگار کے تحفظ، اجرت اور سوشل سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح کسانوں کو یہ فکر ہے کہ ہندـامریکہ عبوری تجارتی معاہدہ ان کی روزی روٹی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر اس اسکیم کو کمزور یا ختم کیا گیا تو دیہی علاقوں کا آخری سہارا بھی ختم ہو سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ جب کسانوں اور مزدوروں کے مستقبل سے متعلق فیصلے لیے گئے تو ان کی رائے کیوں نہیں لی گئی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے براہ راست سوال کیا کہ کیا وہ اب عوام کی آواز سنیں گے یا پھر کسی ‘گرِپ’ کی گرفت بہت مضبوط ہے۔اس بھارت بند میں تقریباً 300 ملین کارکن شامل ہیں۔ ہڑتال کا اثر کئی ریاستوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (INTUC)، آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC)، سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (CITU)، اور ہند مزدور سبھا (HMS) سمیت کئی یونینیں اس بھارت بند میں حصہ لے رہی ہیں۔ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے نئے لیبر کوڈ اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کے لیے اس ہڑتال میں لگ بھگ 300 ملین مزدور شامل ہیں۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سکریٹری امرجیت کور نے بتایا کہ پورے ملک میں عام ہڑتال شروع ہوئی، اور انہیں آسام، تمل ناڈو، پانڈیچیری، کیرالہ، اڈیشہ اور بہار جیسی ریاستوں سے احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کسان یونینز بھی اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کریں گی۔ بینکنگ، انشورنس، ڈاک، ٹرانسپورٹ، صحت، کوئلہ اور غیر کوئلہ کان کنی، گیس پائپ لائن، اور بجلی کے شعبے ہڑتال سے متاثر ہوں گے۔ان کے فوری مطالبات میں چار لیبر کوڈز اور ضوابط کی منسوخی، سیڈ بل اور الیکٹرسٹی ترمیمی بل کے مسودے کو واپس لینا، اور نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (شانتی) ایکٹ کے پائیدار استعمال اور ترقی شامل ہیں۔ یونینیں منریگا کو دوبارہ شروع کرنے اور وکاسیت بھارت – ایمپلائمنٹ اینڈ لائیولی ہڈ مشن (دیہی) ایکٹ 2025 کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ آل انڈیا سنٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز (AICCTU) کے جنرل سکریٹری مہندر پریڈا نے کہا کہ تمام مرکزی ٹریڈ یونین اس ہڑتال اور بند کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ “ہمارا مطالبہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کے 29 موجودہ لیبر قوانین کو ضم کرنے اور چار نئے لیبر کوڈ بنانے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ کوڈ محنت کش طبقے کو غلام بنائیں گے۔ ان نئے قوانین کے تحت مزدوروں کو ہڑتال کرنے کا حق نہیں رہے گا، اور کام کا دن 12 گھنٹے تک بڑھا دیا جائے گا۔ یہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔”
لیبر قوانین کے اطلاق کی حد کو بڑھا دیا گیا ہے، جس سے 50 سے کم مزدوروں والے یونٹوں کو خارج کر دیا جائے گا اور ہندوستان کی 80 فیصد افرادی قوت کو تحفظ کے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے ہڑتال کے حق سے انکار، یونینز بنانے میں مشکلات، اور لیبر ٹربیونلز کو انتظامی اداروں میں تبدیل کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس سے مزدوروں کا قانونی راستہ محدود ہے۔
بھارت میں مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے خلاف بھارتی کسان ایک بار پھر میدان میں آ گئے۔بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ کسانوں کیلئے ڈراؤ نا خواب بن چکا ہے، مودی سرکار کے اس معاہدے سے متعلق دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا نے کہا ہے کہ کسانوں نے اس معاہدے کو زراعت کی تباہی اور مودی حکومت کا امریکا کے سامنے سرینڈر قرار دیا ہے۔کسان یونینز نے معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ تجارت سے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔کسان تنظیموں نے مودی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر متنازع شرائط پر دستخط کیے گئے تو پورا بھارت جام کر دیا جائے گا۔ مجوزہ ڈیل سے بھارت کے زرعی اور ڈیری سیکٹر کے مفلوج ہونے کا خدشہ ہے، جس کی نشاندہی عالمی ماہرین بھی کر چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی دبا کے سامنے جھکنا مودی حکومت کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ خارجہ محاذ پر ناکامی اور داخلی بے انتظامی اب مودی سرکار کا طرہ امتیاز بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست بھارتی معیشت اور کسان طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر