وجود

... loading ...

وجود

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اتوار 01 فروری 2026 لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

حمیداللہ بھٹی

 

امریکی محصولات اور مطالبات پرریاستیں جس تیزی سے خارجی سمت بدل رہی ہیں، یہ بدلائو دنیاکوایک بار پھر سرد جنگ کی طرف دھکیل رہاہے ۔حالانکہ جولائی 2024میں جب ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربن نے رومانیہ میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام تبدیلی کی طرف جارہا ہے اور مستقبل میں عالمی طاقت مغرب سے مشرق اور روس کی طرف منتقل ہوجائے گی تو اِس دعوے کو زمینی حقائق کے متضاد یا قبل ازوقت قرار دیا، مگراب تو صورتحال بڑی حدتک واضح ہے ۔مگراِس میں روس یا چین کا عمل دخل کم اور صدر ٹرمپ کا زیادہ کردار ہے۔ جنھوں نے نہ صرف اسلامی ممالک کو اِدھر اُدھر دیکھنے پر مجبور کیا بلکہ مغربی ممالک کو بھی باور کرایا کہ امریکہ پر تکیہ نہ کریں یا قابلِ بھروسہ نہیں۔ لیکن ایسے حالات میں جب دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے پاکستان کی پالیسی میں روایتی ٹھہرائو اور تحمل ہے، آج بھی مطمح نظر امریکی خوشنووی ہے جس سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کو تبدیلوں کا صیح معنوں میںادراک ہی نہیں۔ اسی لیے پُرانی ڈگر پر ہے۔ اگر ادراک ہوتا تو روایتی حریف بھارت سے ہی کچھ سیکھ کر تبدیلیوں کے تناظر میں نئی حکمت ِعملی ترتیب دیتا ۔
عالمی حوالے سے روس اور چین کی سوچ ایک ہے ۔بھارت بھی امریکہ پر انحصاربتدریج کم کرتے ہوئے نئی معاشی وتجارتی حکمت ِعملی اختیارکر چکا۔ ایسے حالات میں جب توانائی مسائل سے پاکستانی صنعت زبوں حالی کا شکار ہے اوربرآمدی پیداوارمیں تاریخی کمی کا سامنا ہے اِس میں بہتری کے زیادہ آثار اِس لیے بھی کم ہیں کہ برآمدی مال ہونے کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے محصولات میں کمی اور یورپی یونین کی جی ایس پلس کے حقیقی ثمرات سے بھی محروم ہے، امریکہ اور یورپ کا دوست ہونے کا دعویدار ہیںاوراُن کی بے جا فرمائشوں کوبھی دل وجان سے پوراکرنے کے باوجود جو چیز ہم سے متنفر کرتی ہے وہ خودانحصاری پر عدم توجہ ہے۔ امریکہ کو ہماری ماہانہ برآمدات کا تہائی حصہ کم ہو چکا جبکہ دوسرے درآمد کنندہ یورپ کوبھی برآمدی حجم 6.2 ارب ڈالر تک محدودہے۔ یہ صورتحال سنجیدہ نوعیت کی توجہ چاہتی ہے۔ زرا سوچیں کہ اگر یورپ کی طرف سے بھارتی مصنوعات پر محصول بہت ہی کم یا صفر ہوجائے تو کیا پاکستانی اشیاء مقابلہ کر پائیں گی ؟کسی صورت نہیں ۔کیونکہ بھارت میں سستی توانائی اور ہُنرمند کم اُجرت پر دستیاب ہیں۔ اِس لیے کم لاگت میں مال تیارہوجاتا ہے۔ بھارت اور یورپ میں تو رواں ہفتے ترجیحی تجارت اتفاق ہو چکا ۔اِس کے لیے بھارت 2007سے کوشاں تھا لیکن بات نہیں بن رہی تھیں اورہردفعہ کوئی نہ کوئی ایسی رکاوٹ آجاتی کہ دونوں فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کرنے سے دور ہوجاتے ۔
اِس وقت یورپ ،بھارت،چین اور روس جیسے ممالک نئے روابط اُستوارکرنے اور نئے تجارتی ساتھی تلاش کرنے کی کوشش میں ہیں۔ رواں ہفتے یورپی کمیشن کی پہلی خاتون صدر ارسولا وان ڈیرلائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیوکوسٹا 25جنوری کو تین روزہ دورے پرنئی دہلی آئے ۔یہ اولین موقع تھا جب یورپی یونین کی اعلیٰ ترین قیادت ایک ساتھ 26جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں بطورخاص مہمان شامل ہوئی اور پھر 27 جنوری کو سولہویں انڈیا اور یورپی یونین کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تجارتی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا ۔ اِس وقت یورپ اور بھارت کو امریکی حوالے سے یکساں غیر یقینی اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہے اور دونوں ہی نئے راستے تلاش اور اختیار کرناچاہتے ہیں ۔اسی وجہ سے وہ مذاکرات جو دودہائیوں پر محیط وقفے وقفے سے جاری رہنے کے باوجود ناکامی سے دوچار تھے، اب اچانک کامیابی سے ہمکنارہوئے۔ محصولات میں بڑے پیمانے پر کمی جیسے نکات پر مفاہمت سے اب ایسے تجارتی شراکت داربننے والے ہیں جس سے 27 رُکنی یورپی یونین کو نہ صرف بھارت کی ایک وسیع اور محفوظ منڈی حاصل ہوگی بلکہ یورپی یونین کی صورت میں بھارتی مال کا بڑا صارف میسرہوگا۔
بھارت اور یورپ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ غیرمعمولی ہے، اسے بجاطورپر تمام معاہدوں کی ماں قراردینادرست ہے۔ یہ عالمی تجارت کے تہائی حصے کانمائندہ ہوگا ،جو عالمی مجموعی پیداوارکا پچیس فیصد بنتا ہے ۔اگر گزشتہ مالی سال 2025کے اعدادوشمار پر نظر دوڑائیں تو دونوں طرف کا تجارتی حجم 136.5ارب ڈالر رہا لیکن حالیہ معاہدے سے یہ حجم پانچ سو ارب ڈالر تک جاسکتاہے ۔ ابھی معاہدے کی نوک پلک سنوارنے پر کام ہونا ہے جس میںچندماہ لگ سکتے ہیں لیکن آمدہ برس 2027میں اِس پر عملدرآمد کا آغاز ہوگاتو طاقت کا توازن بدلنے کا عمل بھی تیز ہوگا۔ بھارت اور چین کی دوطرفہ تجارت 250ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بھارتی یومِ جمہوریہ پر چینی صدر شی جن پنگ نے خیر سگالی پیغام میں بھارت کو اپنا قریبی تجارتی شراکت دار قراردیاہے۔ یہ حالات متقاضی ہیں کہ کسی سے الجھے بغیر پاکستان بھی نئی تجارتی منڈیاں تلاش کرنے پرتوجہ دے، لیکن اِس سے بھی پہلے ضروری ہے کہ مالِ تجارت کی تیاری کے لیے وافرخام مال ،ہُنرمند افرادی قوت اور سستی توانائی کو یقینی بنانا کیونکہ جب برآمد کے لیے کچھ ہوگا تونئی تجارتی منڈیوں کے ثمرات حاصل ہوں گے، لیکن اِس وقت صورتحال یہ ہے کہ صنعتیں بند ہورہی ہیں، آبی قلت سے زراعت بھی تباہی کے دہانے پر ہے لیکن ہم اسی پر خوش ہیں کہ صدرٹرمپ روزبھارتی جہاز گرانے کا تذکرہ کردیتے ہیں۔ حالانکہ ایسی باتوں کا وقتی طور پر تو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اگر طویل مدتی اہمیت حاصل کرنی ہے توقابلیت اور موثر سفارتکاری سے کام لینا ہوگا۔اِداروں اور معاشی مضبوطی پر توجہ دینا ہوگی۔ اِس کے لیے جو درآمدات پر برآمدت کا غلبہ چاہیے۔
بھارت کواحساس ہے کہ اُسے مشکل صورتحال کاسامنا ہے لیکن وہ حالات کا ماتم کرنے کی بجائے نئے اُفق کی تلاش میں ہے۔ یورپ کے ساتھ اُس کی مشرقِ وسطیٰ پر بھی نظر ہے، جہاں ایک طرف برطانیہ،نیوزی لینڈ اور عمان سے آزادتجارتی معاہدوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔وہیں متحدہ عرب امارت سے بھی دو سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا جا چکا۔ یہ ایسی پیش رفت ہیں جو گزشتہ برس امریکہ اور بھارت کے سفارتی روابط میں خلل آنے سے طے نہ پانے والے تجارتی نقصانات کو کم کرنے کا باعث بنیں گی۔ ایسے حالات میں جب دنیا میں تجارتی اور معاشی سرگرمیاں عروج پر ہیں، ہماراتو امریکی حمایت پر اکتفا ہے ۔حالانکہ ایک پر انحصار کے نقصانات بھارت اور یورپ سمجھ چکے، اِس لیے تجارت کو متنوع بنانے کی کوشش میں ہیں، جب کہ ہم مزید دھنسنے پر آمادہ و تیار ہیں جو کہ درست ڈگر نہیں۔ ضرورت اِس امر کی
ہے کہ لکیر کے فقیر بننے جیسی روایتی حکمتِ عملی چھوڑیں اور حالات و واقعات کے تناظرمیں چلیں اور فوائد کشید کیے جائیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر