وجود

... loading ...

وجود

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

بدھ 21 جنوری 2026 سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ
الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا یہی رکن حصے دار تھا، حنیف سنارا سمیت دیگر کا نام لے لیتے ، وسیم حسین نے الزامات مسترد کردیے

سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد آنے سامنے آگیا جہاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور وزیردفاع خواجہ آصف نے تنقید کی۔قومی اسمبلی اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت ہوا اور ایم کیو ایم کے مطالبے پر اجلاس کا ایجنڈا معطل کر کے کراچی میں پیش آنے والے سانحہ گل پلازہ پر بحث کی گئی اور اس دوران حکمران اتحاد تقسیم ہوا اور سیاسی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں، ایک دوسرے پر الزمات کی بوچھاڑ کر دی۔پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے سانحہ گل پلازہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگی تو 40 افراد جاں حق ہو گئے تھے، لاہور میں حفیظ سینٹر میں تین مرتبہ آگ لگی لیکن اس پر کوئی سیاست نہیں کی گئی، یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عجیب ہے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر آپ صوبوں تک 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک چلے گئے، سندھ ایک ملک تھا جسے قبل از مسیح دیکھا جانا چاہیے۔شہلا رضا کا کہنا تھا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، یہ وہ واحد صوبہ ہے جس نے دل کھول کر مہاجرین کو ویلکم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ مختلف جگہوں پر لگی تھی، آخر کون سا کیمیکل استعمال کیا گیا تھا کہ آگ پانی پھینکنے کے باوجود بجھتی نہیں تھی، پھر سوال یہ بھی ہے کہ 24 داخلی و خارجی راستے گل پلازہ کے کیوں بند تھے؟انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں دیر لگی، میں مانتی ہوں کہ بلدیاتی نظام ہونا چاہیے، بلدیاتی نظام کی آڑ میں آج اندر کی کیا کیا باتیں سامنے آئیں، یہ کون سا موقع ہے کہ آپ آج اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، جو بھی حسرتیں ہیں وہ اپنے طریقے سے بتائیں۔وزیردفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آتشزدگی اور حادثات جیسے واقعات کی روک تھام اور 25کروڑ عوام کو با اختیار بنانے کے لیے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ آمریت کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں چلتی رہیں، چین کے صدر بھی مقامی حکومتوں سے ہوتے ہوئے حکومت تک پہنچے ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی اور آئے روز ڈمپر حادثات میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، کراچی اتنا بڑا شہر ہوگیا ہے کہ اس کا انتظام سنبھالنا ایک مشکل کام ہے، عوام کو بااختیار بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام لانا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ 28ویں ترمیم میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کا مؤثر سسٹم تجویز کیا ہوا تھا، ایک اتفاق رائے تھی کہ مقامی حکومتوں کا نظام جو 18ویں ترمیم میں تجویز ہوا تھا اس پر عمل کریں، ہمیں وہ ترمیم بھی واپس لینا پڑی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ گوادر سے گلگت اور پورے ملک میں نئی نسل پاکستانیت کے ساتھ ساتھ صوبائیت کو بھی پہنچانے، اس حوالہ سے نصاب ایک قومی شناخت دیتا ہے، ہمیں اس ترمیم کو بھی ڈراپ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ پورے ملک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام ہونا چاہیے تاکہ اختیارات ضلع، تحصیل، یونین کونسل کی سطح تک منتقل ہوسکیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ جب تک گلی محلے میں نمائند گی نہیں ہوگی تو نہ فائر بریگیڈ ہو گا نہ کوئی مسئلہ حل ہوگا اور وزارت دفاع، نیوی، ایوی ایشن کا فائر بریگیڈ آکے آگ بجھائے گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف نے بھی بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دیا اور باقاعدگی کے ساتھ الیکشن ہوتے رہے۔انہوں نے کہا ہم لوگ الیکشن بھی نہیں کراتے بلکہ اگرشیڈول آجائے توصوبائی حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین کے صدر شی کو دیکھیں تو وہ مقامی حکومتوں سے آگے آئے، ترکیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں مقامی حکومتوں کا فعال نظام موجود ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ آئین میں ترمیم کر کے یکساں نصاب اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ 35سال جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے کراچی پر راج کیا،کراچی کو اس حال تک پہنچانے والی یہ دو جماعتیں ہیں، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے کراچی کے سانحات کے متاثرین کی مکمل مالی معاونت کی ہے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اور سابق اسپیکر کی تقاریر کا خلاصہ ہے کہ ہم سب کو مل کر چلنا چاہیے، ہم 10سال سے یہی بات کر رہے ہیں لیکن ہمیں کہا گیا کہ ہم چور ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، ارب پتی لوگ زمین پر آگئے، 10سال کراچی میں جماعت اسلامی نے راج کیا، 10سال دوسری جماعت جس کے لوگ اسمبلی میں حیرانی کے ساتھ تقاریر کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کراچی پر راج کیا، اس کے بعد دوبارہ جماعت اسلامی آگئی، جماعت اسلامی صدقہ، فطرانہ، چندہ،کھالیں بھی لیتی ہے اور سارے پیسے کراچی میں بینرز لگا کر خرچ کردیتی ہے، 35سال دو جماعتوں نے کراچی پر راج کر کے کراچی کو اس حال تک پہنچایا۔عبدلقادر پٹیل نے کہا کہ کراچی میں آگ لگنے کا سب سے بڑا سانحہ بلدیہ تھا جس میں 360قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، کیا یہ بھول گئے یا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ٹمبر مارکیٹ آگ پر حکومت سندھ نے متاثرین کی مکمل معاونت کی، گل پلازہ کراچی ایک منزلہ عمارت تھی اس وقت میٔر بھی ہمارا نہیں تھا اور نہ ہی ادارے کی سربراہی ہمارے پاس تھی۔ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا، چلنے کا راستہ نہیں چھوڑا اور منازل بھی بڑھا دی تھیں، یہ پلازہ اس دور کی نشانی ہے جو آج آئینہ دکھا رہا ہے کہ میرے ساتھ کیا کیا، ملبے تلے دبے ہوئے لوگوں کی روحیں بدعائیں دیتی رہیں گی، چائنہ کٹنگ کہا ں سے آئی، پارک اور گراؤنڈ ختم کس نے کیے، پلاٹنگ کس نے ناجائز طور پر کی۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی وسیم حسین نے عبدالقادر پٹیل کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آج الطاف حسین پر باتیں کرنے والے یہی رکن الطاف حسین کو جا کر حلیم کھلاتے تھے، یہی رکن الطاف حسین کو سندھی اجرک اور ٹوپی پہناتے تھے، ہمیں مناظرے کا چیلنج دینے والے اندرون سندھ کی سیٹوں کی فکر کریں۔ان کا کہنا تھا کہ جب الطاف حسین کا گارڈ گوگا گل پلازہ بنوایا تھا تو یہی رکن حصے دار تھا، گوگا کے ساتھ حنیف سنارا سمیت دیگر کا نام بھی لے لیتے۔ایم کیو ایم کے رکن وسیم حسین نے عبدالقادر پٹیل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی تعمیر کے وقت متعلقہ ادارے اور سیاسی شخصیات سب کچھ جانتی تھیں، آج الزامات لگانے کے بجائے اصل ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے صوبائی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ صرف وزیر اعلیٰ کو فون کرنا کافی نہیں، وزیر اعظم کو براہِ راست کراچی کے نمائندوں سے بات کرنی چاہیے۔خالد مقبول صدیقی کے مطابق یہ واقعہ 17 سالہ بدانتظامی کا نتیجہ ہے اور حادثے میں 100 سے زائد افراد کی شہادت کا خدشہ ہے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم وجود - هفته 07 مارچ 2026

آبنائے ہرمز کی بندش:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، دفاتر کیلئے کام کے دنوں میں کمی پر غور توانائی بحران کے سبب دفاتر و تعلیمی اداروں کیلئے کوڈ 19 والی تعطیلات اپنانے، ورک فراہم ہوم کی تجاویز سامنے آئی ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدش...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کرینگے،وزیراعظم

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...

ایرانی بحری جہاز پرامریکی حملے سے 87اموات

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...

جنگی صورت حال پاکستان دباؤ میں،آئی ایم ایف کا پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...

پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم سے حکومتی قانون سازی پرتحفظات کا اظہار

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...

خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیل کی نئی دھمکی

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی وجود - جمعرات 05 مارچ 2026

امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...

ایران حملہ،فوجی اڈے نہ دینے پر ٹرمپ کی اسپین کو دھمکی

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

مضامین
نئے حاکم ۔۔۔ وجود هفته 07 مارچ 2026
نئے حاکم ۔۔۔

ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے! وجود هفته 07 مارچ 2026
ماسکو اور بیجنگ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے!

بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک وجود هفته 07 مارچ 2026
بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ سے امتیازی سلوک

غنڈہ ریاست وجود جمعه 06 مارچ 2026
غنڈہ ریاست

بھارت کی عالمی دہشت گردی وجود جمعه 06 مارچ 2026
بھارت کی عالمی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر