وجود

... loading ...

وجود

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

جمعرات 08 جنوری 2026 مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا
میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائیگا(کانفرنس اعلامیہ)سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی شرکت

نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا ہے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام آج اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد اعوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں۔ فواد چوہدری نے استقالیہ کلمات میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈا اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر عمران اسماعیل، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، بیرسٹر سیف، محمود مولوی، سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد، بانی پی ٹی آئی کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی، شاہد خاقان عباسی، جنرل (ر) نعیم لودھی، فیصل چوہدری، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، شیر افضل مروت اور دیگر نے شرکت کی۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جو مقام ہے ایسا کبھی نہیں دیکھا، ہم نے بھارت کو شکست دی، ملک میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے، ہماری دفاعی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو غداری کا لیبل لگانے کے بجائے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔عمران اسماعیل نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کا ایک ماہ پہلے آغاز ہوا اب یہ ڈائیلاگ ایک کمیٹی کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، پاکستان میں اس وقت سیاسی صورت حال نارمل نہیں ہے، ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے سب کو مل کر چلنا ہوگا، جب سے ہوش سنبھالا ملک میں دہشت گردی کی لہر دیکھی ہے، ملک میں دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہوگا دعا ہے اس کا کوئی حل نکل آئے۔ عامر الیاس رانا نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے طور پر خود کو بکاؤ کے طور پر پیش کیا، والیم 10 پر بہت پروگرامز ہوئے، آر اوز کے الیکشن کی بات ہوتی رہی، آر ٹی ایس سسٹم پر بات کی جاتی رہی جب کہ اصل فریق پاکستان کے عوام ہیں،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا، محمود خان اچکزئی کو اس مکالمے میں شرکت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں شکایت نہ ہو جائے۔جنرل (ر) زاہد نے اظہار خیال کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس یا فوج میں جو شہادتیں ہوئیں وہ سب پاکستان کے لیے ہیں، شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔علینہ شگری نے کہا کہ مکالمے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔بیرسٹر سیف علی خان نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک میں تقسیم ہے اعتماد کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک بداعتمادی یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نکل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کریں گے اس لیے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں، سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون رشید نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ نے فوجی آمروں کو خوش آمدید کہا، جب جب مارشل لاء لگا سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا، سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونا پڑے گا سیاست دانوں کو خود مضبوط ہونا چاہیے، اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے کبھی قومی سلامتی کے تصور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، صلح حدیبیہ میں بھی ایسی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں، نیلسن منڈیلا نے کتنا عرصہ جیل میں گزارا لیکن ڈالائیگ کا عمل ہمیشہ سے ہی پائیدار نتیجہ دیتا ہے ایک ہم ہیں کہ سیاسی مخالفت کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا،اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو اپنی حالت بدلنے کی فکر ہو۔شیر افضل نے کہا کہ فوج کو پاکستان کی طاقت بننا ہے پاکستان کو فوج کی طاقت نہیں بننا، بانی چیٔرمین عمران خان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، ڈائیلاگ صرف بانی چیٔرمین کی رہائی کا نہیں ہے، 27 ویں ترمیم کے بعد عدلیہ اپنی آزادی کھو چکی ہے، سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ان کا کہنا تھا کہ میرا حلقہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ حلقہ ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ڈائیلاگ بنیادی نظام پر ہونا چاہیے صرف بانی چیٔرمین اور کوٹ لکھپت کے قیدیوں کی رہائی کے لیے نہ ہو۔شیر افضل نے مزید کہا کہ میں پی ٹی آئی سے منتخب ہوا ہوں، میں نہ مانوں والی سوچ نے پارٹی کو اس حال پر پہنچایا، آپ ن لیگ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتے، آپ کو اے این پی، پیپلز پارٹی اور فواد چوہدری سے کیا مسئلہ ہے؟رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ نہیں ہیں وہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ بینیفشری ہیں، سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام مشکلات سہہ رہی ہیں، جو 1988ء میں وزیراعظم بننا چاہتا تھا وہ آج بھی وزیر اعظم بننا چاہ رہا ہے، کرپشن میں سیاست دانوں سمیت سب ملوث ہیں، میں چاہتا ہوں ملک میں کنال بنیں، ملک میں صوبے بنیں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے ہم بھی کسی چکر میں ہیں، سندھ میں کرپشن ہو رہی ہے عوام پہلے ووٹ ڈالنے کے کام آتی تھی اب تو عوام ووٹ ڈالنے کے کام بھی نہیں آتی، اصل میں تو یہ سب کچھ عوام سہہ رہی ہے۔رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔فواد چوہدری نے کمیٹی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا کہ ارکان متفق ہیں کہ مذاکرات کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنائی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور صدر مملکت بنائیں جب کہ اپوزیشن کی کمیٹی کی تشکیل کیلئے قیدیوں سے ملاقات کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی سینسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہوگا۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر