وجود

... loading ...

وجود

مبارک ثانی کیس: مذہبی حلقوں کا شدید ردِ عمل، سپریم کورٹ کا علمائے کرام سے معاونت لینے کا فیصلہ

جمعرات 22 اگست 2024 مبارک ثانی کیس: مذہبی حلقوں کا شدید ردِ عمل، سپریم کورٹ کا علمائے کرام سے معاونت لینے کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے مبارک ثانی نظر ثانی کیس میں علمائے کرام سے معاونت حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مبارک ثانی کیس میں پنجاب حکومت کی مخصوص پیراگراف کو حذف کرنے کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظر ثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علما ئے کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کر کے کہا کہ حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، ظاہر ہے دوسری نظرثانی تو نہیں ہو سکتی، اس لیے ضابطہ دیوانی کے تحت آپ کے سامنے آئے ہیں،عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹسز جاری کیے گئے تو فریقین عدالت میں اور ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے ہیں، انہوں نے استدعا کی کہ کیونکہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن مجبور ہوں کہ میں ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول و فعل سے پہچانا جاتا ہے، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے، آئین کی 50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ میں گیا، میری ہر نماز کے بعد ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ کوئی غلط فیصلہ نہ ہو، آپ کا شکریہ کہ آپ ہمیں موقع دے رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے مولانا فضل الرحمن ،مفتی شیر محمد اور کمرہ عدالت میں موجود علمائے کرام سے معاونت لینے کا فیصلہ کرلیا، ابو الخیر محمد زبیر اور جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے۔ بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسی نے بتایا کہ ہم نے مفتی تقی عثمانی سے بھی معاونت کا کہا تھا لیکن وہ ترکیہ میں ہیں، ہم نے مفتی منیب الرحمن کو آنے کی زحمت دی تھی لیکن وہ نہیں آئے، اس پر مفتی منیب کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مجھے مفتی منیب الرحمن نے مقرر کیا ہے۔ اس موقع پر مولانا تقی عثمانی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوگئے۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں، ہم دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے۔ مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ فروری کے فیصلے اور نظرثانی پر بھی تبصرہ بھیجا، مجھے نہیں معلوم آپ تک میری رائے پہنچی یا نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم وہ منگوالیں گے لیکن زبانی طور پر بھی آپ کو سننا چاہتے ہیں کیونکہ فروری کا فیصلہ نظرثانی کے بعد پیچھے رہ گیا ہے، اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے، میرا مؤقف ہے کہ ہم امریکا اور برطانیہ کی مثالیں دیتے ہیں اپنی کیوں نہ دیں؟ میں قرآن مجید ،احادیث اور فقہ کا حوالہ دیتا ہوں مگر شاید میری کم علمی ہے، اگر سب علمائے کرام کی رائے فیصلے میں شامل ہوتی تو فیصلہ نہیں کتاب بن جاتی۔ اس پر مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ معاملہ ایسا ہو تو لمبے فیصلے لکھنے پڑتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نظر ثانی فیصلے میں بتائیں کون سے پیراگراف غلط ہیں؟ مفتی تقی نے جواب دیا کہ آپ فیصلے میں طے شدہ مسائل سے زیادہ اصل مسئلے کو وقت دیتے، اسی کے ساتھ مفتی تقی عثمانی نے پیراگراف 7 اور 42 میں غلطی کی نشاہدہی کردی۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی فیصلے میں شروع کے پیراگراف درست ہیں اور یہ طے شدہ ہیں، آپ نے فیصلے میں لکھا کہ احمدی نجی تعلیمی ادارے میں تعلیم دے رہا تھا، تاثر مل رہا ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم دے سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مفتی تقی عثمانی نے 29 مئی کے فیصلے سے دو پیراگراف حذف کرنے کا مطالبہ کر دیا، انہوں نے فیصلہ کے پیراگراف 7 اور 42 کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا۔ مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ پیراگراف 42 میں تبلیغ کا لفظ استعمال کیا گیا یعنی غیر مشروط اجازت دی۔ اس پر چیف جسٹس نے سیکشن 298 سی پڑھ کر سنایا۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سیکشن کے مطابق غیر مسلم کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے تبلیغ کی اجازت نہیں، قادیانی اقلیت میں ہیں لیکن خود کو غیر مسلم نہیں تسلیم کرتے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تقی عثمانی صاحب میں معذرت چاہتا ہوں، وضاحت کرنا چاہتا ہوں جنہیں نوٹس کیا تھا ان کی جانب سے ہمیں بہت ساری دستاویزات ملے، اگر ان سب کا بغور جائزہ لیتے تو شاید فیصلے کی پوری کتاب بن جاتی۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان تمام دستاویزات کو دیکھ نہیں سکا وہ میری کوتاہی ہے، اگر کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو ہم سوال کریں گے، ہمارا ملک اسلامی ریاست ہے اس لیے عدالتی فیصلوں میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں، میں کوئی غلطی سے بالاتر نہیں ہوں۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمٰن نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کئی نشستیں عدالت کی ہوئی ہیں اور اب نظرثانی کا معاملہ ہے، اس پر چیف جسٹس نے بتایا کہ یہ نظرثانی نہیں ہے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ نظر ثالث ہے، علمائے کرام کی اپنی رائے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے بھی سامنے آ چکی ہے، آپ کے فیصلے کے خلاف یہ آرا آئی ہیں، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ کوئی اور بھی فیصلہ تھا آپ نے جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ اس پر سربراہ جے یو آئی (ف) نے بتایا کہ آپ نے فرمایا کہ آپ سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، ہمارا بھی جمع کا صیغہ اگنور کریں، میں 72 سال کی عمر میں پہلی بار کسی عدالت کے سامنے کھڑا ہوا، مجھے اللہ نے عدالت سے بچائے رکھا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اتنے برے نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ قادنی پوری امت مسلم کو غیر مسلم کہتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کہتا تھا جو اس پر ایمان نہ لائے وہ غیر مسلم ہے، یہ تو کہا جاتا ہے کہ ہم انہیں غیر مسلم کہتے ہیں لیکن جو وہ کہتے ہیں اس پر بات نہیں ہوتی، قادیانی مرتد ہیں تو ہم نے انہیں غیر مسلم کا نام کیوں دیا یہ سوال بھی ہے؟ ہم پاکستان میں غیر مسلوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں چند علمائے کرام نے احتجاج شروع کردیا۔ احتجاج کرنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ خاموش ہو جائیں، انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے مکالمہ کیا کہ مولانا صاحب ان کو سمجائیں، مولانا فضل الرحمن نے جواب دیا کہ آپ کی عدالت ہے آپ کا حکم چلے گا، آپ اس کیس کو کسی نتیجے تک پہنچائیں۔ اسی کے ساتھ عدالت نے سماعت میں مختصر وقفہ کردیا۔ یاد رہے کہ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے مبارک احمد ثانی کیس کے فیصلے میں سے بعض حصوں کو خارج کرنے کی حکومت پنجاب کی درخواست 22 اگست کو سماعت کے لیے مقرر کر دی تھی۔ تین صفحات پر مشتمل درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیراگراف 49 کو خارج کرنے اور تصحیح کی ضرورت ہے کیونکہ 24 جولائی کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) کا 1985 کا مجیب الرحمن بمقابلہ حکومت پاکستان کا فیصلہ اور سپریم کورٹ کا ظہیر الدین بمقابلہ ریاست کیس میں 1993 کا فیصلہ پابند نظیریں تھیں اور یہ کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے 6 فروری کے فیصلے میں ان پابند نظیروں سے انحراف نہیں کیا ہے۔ درخواست میں وضاحت کی گئی ہے کہ فیصلے کے کچھ دوسرے پیراگراف میں شامل کچھ مشاہدات اور نتائج سپریم کورٹ کی طرف سے بیان کردہ نظیروں کے برعکس ہونے کی وجہ سے ایک حادثاتی غلطی معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح نظرثانی درخواست میں فیصلے کے اس طرح کے حصوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے درخواست کو 24جولائی کے فیصلے میں ترمیم کے لیے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) 1898 کے سیکشن 561 اے کے تحت پیش کیا گیا جو سپریم کورٹ رولز 1980 کے آرڈر 33 رول 6 اور کوڈ آف سول پروسیجر 1908 کے سیکشن 152 اور 153 کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ جن علمائے کرام نے وفاقی حکومت سے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی درخواست کی ان میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد تقی عثمانی، دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے مفتی منیب الرحمن، گوجرانوالہ سے مولانا زاہد الراشدی، بھیرہ سے مفتی شیر محمد خان، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن، جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم مولانا انوار الحق، چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا طیب قریشی، جامعہ عروۃ الواسقہ لاہور کے سید جواد علی شاہ، ر ملی یکجہتی کونسل کے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر اور مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر مولانا محمد اعجاز مصطفی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 6 فروری کو، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے مبارک ثانی کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا، جن پر 2019 میں پنجاب قرآن (پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ) (ترمیمی) ایکٹ کے تحت ایک جرم کرنے کا الزام تھا۔ اپنے فیصلے میں، عدالت نے نوٹ کیا کہ مدعا علیہ پر جس جرم کا الزام لگایا گیا ہے اسے 2021 تک مجرمانہ قرار نہیں دیا گیا، نتیجتاً، عدالت عظمیٰ نے سزا کو ایک طرف رکھتے ہوئے درخواست گزار کی فوری رہائی کا حکم دے دیا تھا۔جس پر مذہبی حلقوں سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا جس نے سپریم کورٹ کو وضاحت جاری کرنے پر مجبور کردیا۔ اس فیصلے کو بعد میں پنجاب حکومت نے اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ آئین کے آرٹیکل 20 سے متعلق آرڈر کے پیراگراف 9 میں ترمیم کی ضرورت ہے کیونکہ شہریوں کے حقوق جیسا کہ اس شق کے تحت تصور کیا گیا ہے مطلق نہیں بلکہ قانون، امن عامہ اور اخلاقیات کے تابع تھے۔ درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے 24 جولائی کو مبینہ طور پر قرار دیا کہ مذہب اور مذہبی آزادی کا دعویٰ کرنے کا حق جیسے آئین نے یقینی بنایا ہے، قانون، اخلاقیات اور امن عامہ کے تابع ہے۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر مکمل ایمان ہی اسلام کی بنیاد ہے، یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے بغیر کسی کو مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔ 19 اگست کو عوامی مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کرنے کے بعد مظاہرین نے سپریم کورٹ کی سیکیورٹی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو سپریم کورٹ پہنچنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، پولیس نے بتایا کہ اس سے پہلے مظاہرین دوپہر کے وقت ایکسپریس چوک پہنچے تھے اور انہوں نے تقریر کرنے کے لیے ایک گاڑی پر ایک اسٹیج بنایا جس میں ساؤنڈ سسٹم نصب تھا۔ ایک دن بعد، دارالحکومت پولیس نے ریڈ زون میں داخل ہونے پر 6000 سے زیادہ مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) اور پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت ایک پولیس اہلکار کی جانب سے سیکریٹریٹ پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی، ایف آئی آر میں 7 افراد کو ناموں سمیت جب کہ 5 ہزار سے 6 ہزار افراد کو نامعلوم کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اس کے علاوہ 21 اگست کو اینکر پرسن اوریا مقبول جان کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے لاہور سے سوشل میڈیا پر مبارک ثانی کیس کے بارے میں پوسٹ کرنے پر گرفتار کرلیا تھا۔ ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے بتایا کہ اوریا مقبول جان کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کیا اور گلبرگ آفس میں نظر بند کر دیا، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں آج جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یڈووکیٹ اشفاق نے کہا کہ ایف آئی اے کے پاس اس کیس میں کوئی اختیار نہیں، ہم مضبوط دلائل پیش کریں گے۔ ہمیں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کی تفصیلات نہیں بتائی جا رہی ہیں۔ 


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر