وجود

... loading ...

وجود

پی ٹی آئی کا دھاندلی کیخلاف ملک گیر احتجاج، متعدد اراکین اسمبلی ، کارکنان گرفتار

اتوار 10 مارچ 2024 پی ٹی آئی کا دھاندلی کیخلاف ملک گیر احتجاج، متعدد اراکین اسمبلی ، کارکنان گرفتار

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آج ملک کے مختلف شہروں میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا گیا، اس دوران لاہور، پشاور ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، احتجاج کے دوران پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ سمیت 20سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔پی ٹی آئی نے آج اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی احتجاج کیا ، اسلام آباد میں تمام ریلیوں کی قیادت شیر افضل مروت نے کی، پی ٹی آئی کا قافلہ اسلام آباد پریس کلب پہنچا، جس میں پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود رہی۔پولیس کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے، غیر قانونی اجتماع کی صورت میں قانونی اقدامات کئے جائیں گے۔پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اوپر مافیا کو مسلط کردیا گیا ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دو خاندان نہیں مافیا ہیں، ان کا مقصد عوام کا پیسہ باہر بھیجنا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ 25 کروڑ عوام بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ دو خاندان پچھلے 50 سال سے ہمارے بچوں کے مستقبل پر حاوی ہیں، ناجائز ایم این اے پیدا کیے جارہے ہیں، الیکشن کمیشن سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے،ان دو خاندانوں کا مل کر سب نے مقابلہ کرنا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ ہمیں لوگوں کے وسائل کا تحفظ کرنا ہے، ہمارے پیسے چھین کر ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈال کر کھائے جارہے ہیں، جب تک بانی پاکستان تحریک انصاف باہر نہیں نکلیں گے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، بانی پی ٹی آئی وزیراعظم بنے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔اس موقع پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ہر احتجاج پر بانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا جاتا تھا، احتجاج پر بانی پی ٹی آئی بہت خوش تھے، بانی پی ٹی آئی سے ملنے پر پیغام دیا گیا کہ جڑواں شہروں کے فیملیز نے باہر نکلنا ہے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ ہماری سیاسی جنگ سے زیادہ باہر نکلنے کی جنگ زیادہ اہمیت کی حامل ہے، بانی پی ٹی آئی قوم کی طرف دیکھ رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کے معیار پر ابھی بھی عوام پورے نہیں نکل رہے۔پشاور میں پی ٹی آئی کا مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاجی جلسہ رنگ روڈ کتوبر چوک پر ہوا۔جلسہ گاہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جلسے سے سینیٹر فیصل جاوید اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور خطاب کیا۔سینیٹر فیص جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی جلسوں کے بعد آج میرا یہ پہلا جلسہ ہے، آج کارکنان کو دوبارہ دیکھ کر بہت خوش ہورہا ہوں۔فیصل جاوید نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی ائی کو رہا کیا جائے، قائداعظم کے بعد پاکستان میں بانی پی ٹی آئی لیڈر ہے۔انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ہمارے لیڈرز اور کارکنان پابند سلاسل ہیں، ہم سب کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات ہمارا مطالبہ ہے، ہمارا چوری شدہ مینڈیٹ واپس بحال کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی قیادت پر ہمیں اعتماد ہے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کیاندرونی معاملات میں مداخلت کی گئی ہے، جلد تمام سازشیں بینقاب ہوں گی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا شفاف ٹرائل ہونا چاہئے، سائفر پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جانا چاہئے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس سائفر پر جوڈیشل کمیشن بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری نشستیں ہمیں واپس کی جائیں، ہم اپنا حق لے کر رہیں گے، خیبرپختونخوا میں آج عوام کی حکومت ہے، ہم سب نے متحد ہوکرکرپشن کے خلاف جہاد کرنا ہے، ہم خیبرپختونخوا میں ترقی لائیں گے، نوجوانوں کو روزگار دیں گے اور غربت کا خاتمہ کریں گے۔لاہور میں احتجاج کے دوران تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ اور لطیف کھوسہ کو گرفتار کرلیا گیا۔لطیف کھوسہ کے بیٹے شہباز کھوسہ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ لطیف کھوسہ کو ایس پی کینٹ نے گرفتار کیا، احتجاج سے قبل پولیس نے لطیف کھوسہ کو گرفتار کیا۔جبکہ سلمان اکرم راجہ کو اچھرہ سے گرفتار کیا گیا، اس کے بعد محمود الرشید کے بیٹے حسن محمود کو بھی شادمان ٹاون سے حراست میں لے لیا گیا۔میاں محمود الرشید اور ان کے داماد اکرم عثمان پہلے ہی جیل میں ہیں، رکن پنجاب اسمبلی ہارون اکبر کو بھی اچھرہ سے حراست میں لے لیا گیا۔ ہارون اکبر، میاں اکرم عثمان کے بھائی بھی ہیں۔لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ الیکشن دھاندلی پر احتجاج کے خلاف لبرٹی چوک پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔لبرٹی چوک میں 3 پولیس کی گاڑیاں،2 قیدی وینزاورپولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی، اگرچہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کی دی گئی تھی، تاہم پی ٹی آئی کا کوئی کارکن لبرٹی چوک نہیں پہنچ سکا۔بھکر میں عباس چوک پر پی ٹی آئی کارکنوں نے مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف احتجاج کیا۔ جہاں پولیس نے پی ٹی آئی رہنما رفیق نیازی، مجلس وحدت المسلمین کے رہنما ظہیرعباس نقوی سمیت 20 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔شیخوپورہ سے لاہور احتجاج میں شرکت کیلئے جانے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے قافلوں کو پولیس نے سگیاں پل پر روک کر تین ارکان صوبائی اسمبلی بیرسٹر طیاب راشد سندھو، اویس عمر ورک اور سردار سرفراز ڈوگر کو کارکنوں سمیت حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔کراچی میں بھی پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف مقاات احتجاج کیا گیا جو تقریبا چھ بجے بنا کسی گرفتاری کے اختتام پذیر ہوا۔سندھ کے شہر دادو میں بھی پی ٹی آئی نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیخلاف احتجاج کیا۔ کارکنان نے موندر ناکے سے ریلی نکال کر ایس ایس پی موڑ پر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ ہم جالی مینڈیٹ کونہیں مانتے۔اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کی جانب سے پنجاب کے مختلف مقامات پر دوپہر 2 بجے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ سینٹرل پنجاب کے ضلع لاہور کے جی پی او چوک، مال روڈ، جبکہ وزیرآباد کے علاقے لاہوری گیٹ، گجروانوالہ کے علاقے گوندلانوالہ اڈا پر احتجاج کیا جائے گا۔وسطی پنجاب کے ضلاع فیصل آباد کے کلاک ٹاور، چنیوٹ کے پریس کلب، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈسٹرکٹ پریس کلب، جھنگ کے پریس کلب، اوکاڑہ کے انصاف ہاس دیپالپور، لاری اڈا حویلیاں لکھا، ساہیوال کے پریس کلب، پاک پتن کے پریس کلب اور عارف والا پریس کلب پر احتجاج کیا جائے گا۔جبکہ شمالی پنجاب میں روالپنڈی کے خانہ پل سروس روڈ سے اسلام آباد کے پریس کلب تک احتجاج کی جائے گا، خوشاب میں الیکشن آفس جوہرآباد، رشید آباد چوک قائد آباد، جبکہ میانوالی میں میانوالی سٹی سرگودھا موڑ، ہارنولی وان باچران موڑ، بھکر میں پوسٹ آفس چوک، تلاگنگ میں تلاگنگ سٹی میں احتجاج کیا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر