وجود

... loading ...

وجود
وجود

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

جمعه 23 فروری 2024 گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی میں 1.8فی صد اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی 30.2 فی صد دیہی علاقوں میں 25.7 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فی صد رہی۔ابھی مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے ادارہ شماریات کی رپورٹ کی گونج باقی ہی تھی کہ نگراں وزیراعظم نے جن کی رخصتی میں چند ہی روز باقی ہیں،جاتے جاتے ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی بھی منظوری دیدی اور اپنے 4 ماہ کی حکومت کے دوران عوام کے منہ سے نوالہ تک چھین لینے کے تمام ممکنہ اقدام کے ساتھ ہی بیمار شہریوں کودوا کھانے کی سکت سے بھی محروم کرنے کی منظوری دینے کے بعد ایک بیان میں یہ دعویٰ بھی کردیا کہ ”ہم عوام کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہیں گے“۔ اس موقع پر نگراں وزیر اعظم سے یہ سوال کیا جاسکتاہے کہ کیا دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پر دستخط چند دن کیلئے موخر نہیں کئے جاسکتے تھے اور کیا دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ منتخب حکومت پر نہیں چھوڑا جاسکتا تھا،دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پر دستخط کرنے میں نگراں وزیراعظم
نے جس جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے بعد حلقوں کی جانب سے لگایا جانے والا یہ الزام درست معلوم ہوتاہے کہ یہ دستخط دواساز کمپنیوں سے مبینہ طورپر کک بیک حاصل کرنے کیلئے کئے گئے ہیں کیونکہ دستخط کے بغیر کک بیک کی رقم مبینہ طورپر ان کے ہاتھ سے نکل جاری ہے،جہاں تک عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرتے رہنے سے متعلق نگراں وزیر اعظم کے دعوے کا تعلق ہے تو سوال یہ کہ وہ کس ملک کے شہریوں کی فلاح وبہبورد کیلئے کام کرتے رہنے کی بات کر رہے ہیں، کیونکہ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے توگزشتہ 4 ماہ کے دوران انہوں نے کچھ کیا نہیں ہے اگر انھوں نے اس حوالے سے کوئی کام کیاہے تو اس میں سے کسی ایک کانام بتادین جس سے اس ملک کے غریب عوام کو کچھ ریلیف ملاہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کودواؤں کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینا چاہئے اور دواساز اداروں کو ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے اس میں کم کرنے پر مجبور کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بھی بہت زیادہ ہے،نگراں وزیر اعظم کو جاتے جاتے اس طرح کے عوام دشمن فیصلے کرنے سے گریز کرتے ہوئے اب اپنا سامان سمیٹنے کی کوشش کرنی چاہئے،کیونکہ اب یہ فیصلہ کرنا نئی آنے والی حکومت کی صوابدید پر ہوگاکہ وہ کسی شے خاص طور پر دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دیتی ہے یا اس ملک کے غریب عوام کو مناسب قیمت پر ادویہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متبادل طریقے اپناتی ہے،کیونکہ موجودہ صورت حال میں آنے والی حکومت اولین ترجیح عوام کو مہنگائی سے نجات دلانا اور مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہی ہوگی۔
مہنگائی کنٹرول کرنا اور معیشت کو سنبھالا دینا اگر کوئی چاہے تو کوئی مشکل کام نہیں ہے،تاہم اس کیلئے جرات کی ضرورت ہے کیونکہ اس کیلئے سب سے پہلے مرحلے میں اشرافیہ کی 17 ارب ڈالر کی عیاشیاں ختم کرنا ہوں گے یہ عیاشیاں ختم کر کر دی جائیں تو کم وبیش 17 ارب ڈالر کی بچت ہوگی جس کے بعد آئی ایم ایف یا کسی بھی دوسرے کے آگے ہاتھ پھیلانے اور اس کی عاید کردہ شرائط کی تکمیل کیلئے عوام کوگرانی کی چکی میں پیسنے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس مقصد کیلئے ایک ٹھوس میکنزم بنانے کی ضرورت ہے جس سے مہنگائی اور خوراک کے عدم تحفظ سے دو چار غریب طبقے کو دو وقت کی روٹی میسر آ سکے۔ اس وقت خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والا طبقہ معاشی طور پر جس ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہے اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں۔ ان حالات میں حکومت اگر مہنگائی پر قابو نہ پاسکی تو انتہائی غریب لوگوں کے لیے جسم وروح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ مہنگائی کی اس لہر سے عوامی سطح پر پریشانی پیدا ہوگی اور پہلے سے کمزور قوت خرید رکھنے والے عوام کے لیے ضروریات زندگی کو پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ عوام میں موجود بے چینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے، اگرنئی آنے والی حکومت نے اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو خطرہ موجود ہے کہ حکومت اور حکومتی پارٹی کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔


متعلقہ خبریں


رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود - بدھ 13 مارچ 2024

مولانا زبیر احمد صدیقی رمضان المبارک کو سا ل بھر کے مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے، جو مادی دنیا میں موسم بہار کو سال بھر کے ایام وشہور پر حاصل ہوتا ہے۔ موسم بہار میں ہلکی سی بارش یا پھو ار مردہ زمین کے احیاء، خشک لکڑیوں کی تازگی او رگرد وغبار اٹھانے والی بے آب وگیاہ سر زمین کو س...

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود - منگل 27 فروری 2024

نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلو میٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی،...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود - هفته 24 فروری 2024

سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر جسے اب ا یکس کا نام دیاگیاہے کی سروس بحال ہوگئی ہے جس سے اس پلیٹ فارم کو روٹی کمانے کیلئے استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے سکون کاسانس لیاہے، پاکستان میں ہفتہ، 17 فروری 2024 سے اس سروس کو ملک گیر پابندیوں کا سامنا تھا۔...

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعد...

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت وجود - منگل 26 دسمبر 2023

انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے ملک اور بالخصوص پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 2 درجن سے زیادہ منشیات کے عادی افراد کو منشیات کی لت سے نجات دلاکر انھیں کارآمد شہری بنانے کیلئے قائم کئے بحالی مراکز پر منتقل کئے جانے کی اط...

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے وجود - بدھ 13 دسمبر 2023

لاہور میں نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ نیا مطالبہ کیا ہے کہ صرف حکومت نہیں جعلی مقدمات پر احتساب بھی چاہتے ہیں، ان کے7 سال کس نے ضائع کیے، کس نے جھوٹے مقدمات بنا کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ سب کے نام سامنے آ چکے ہیں مگر ان کا احتساب کون کرے گا؟ بات اس...

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے

یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود - اتوار 19 نومبر 2023

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کی جانب سے یہودی مخالف پوسٹ کی حمایت کی وائٹ ہاؤس نے شدید مذمت کی ہے اور والٹ ڈزنی سمیت اہم کمپنیوں نے ایکس کو اشتہارات دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) ...

یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مضامین
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟ وجود جمعه 19 اپریل 2024
مسلمان کب بیدارہوں گے ؟

عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران وجود جمعه 19 اپریل 2024
عام آدمی پارٹی کا سیاسی بحران

مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام وجود جمعه 19 اپریل 2024
مودی سرکار کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام

وائرل زدہ معاشرہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
وائرل زدہ معاشرہ

ملکہ ہانس اور وارث شاہ وجود جمعرات 18 اپریل 2024
ملکہ ہانس اور وارث شاہ

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر