وجود

... loading ...

وجود
وجود

سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

جمعرات 11 جنوری 2024 سپریم کورٹ کے لیے سینیٹ قرارداد اور انتخابات پر اپنا ہی فیصلہ چیلنج بن گیا

خبر ہے کہ سینیٹ میں عام انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد پر توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت رواں ہفتے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس درخواست کا مستقبل ابھی سے واضح ہے۔ ممکنہ طور پر درخواست پر اعتراض بھی لگایاجاسکتاہے اور اس کوبینچ میں مقرر کر کے باقاعدہ سماعت کے بعدخارج بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کو سینیٹ کی اندرونی کارروائی کے خلا ف کوئی حکم جاری کرنے کااختیار نہیں ہے اس ساری کارروائی کوآئینی وقانونی طوررپرتحفظ حاصل ہے۔ مگر پھر بھی ایک بات نہایت اہم ہو گی کہ اس درخواست کا اخراج کرتے ہوئے عدالت کیا رویہ اختیار کرتی ہے؟ سپریم کورٹ نے ریٹرننگ افسران کی تعیناتی روکنے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو روکتے ہوئے انتہائی سخت ریمارکس دیے تھے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وقت پر انتخابات
کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”کسی کو بھی جمہوریت ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی“۔ چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والے ایڈووکیٹ عمیر نیازی کو توہین ِعدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیاتھا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ کیس نمٹاتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اب عام انتخابات کے حوالے سے کوئی ابہام پیدا نہیں کیا جائے، الیکشن ہر صورت آٹھ فروری کو ہوں گے۔دوسری طرف سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس ان دنوں مختلف عدالتی فیصلوں میں پارلیمنٹ کی رائے کو”سپریم“قرار دیتے ہوئے
محترم ججز کی رائے کو اس سے بالا نہ قرار دینے کے ریمارکس دیتے رہے ہیں۔کچھ ماہرین قانون نے سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حوالے سے فیصلے کو خود اپنی زندگی سے دستبردار ہونے کا حامل قرار دیا ہے۔اس پورے عمل نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے اُس اہم ترین تصور کو بھی قدرے مجروح کردیا ہے، جو پاکستان اور بھارت کی عدالتوں میں مختلف عدالتی فیصلوں، نظیروں سے راسخ ہو چکا تھا۔ جس میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی عمومی پارلیمان کی محض قانون سازی کو کبھی بھی تسلیم نہ کیے جانے کی روح شامل ہے۔ اس بڑے تناظر کے برخلاف عدالتوں میں جاری حالیہ مشق سے اُبھرنے والے اس پُر تضاد سوال سے کیسے نمٹے گی اور اب سپریم کورٹ سینیٹ کے بالادست ادارے کی اس کارروائی کو اور اپنے فیصلوں کے درمیان کیسے مطابقت کو پیدا کرے گی؟
پاکستان میں پارلیمانی ادارے کبھی بھی خود مختار حیثیت کے حامل نہیں رہے۔ پارلیمان کا وقار حالیہ مہینوں میں جس طرح زمیں بوس ہوا ہے اور ارکانِ پارلیمنٹ نے جس طرح منڈی کے مزاج سے حکومتوں کے اتار چڑھاؤ میں بولیوں کے عمل دخل کے ساتھ مداخلتوں پر ڈھیڑ ہونے کی روش اپنائی ہے، اس سے ایک بات تو واضح ہے کہ پارلیمان کا اجتماعی شعور ”آزادانہ“ نہیں۔ یہاں منڈی کے چال چلن کی طرح لالچ اور دباؤ دونوں ہی کام کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں آئین کی روح کو پامال کردینے والے اور پاکستان کے سیاسی و سماجی ڈھانچے کو اُلٹ پلٹ کر دینے والی قانون سازی میں نہ تو ارادہئ عامہ کا کوئی عمل دخل دکھائی دیتا ہے، نہ اجتماعی فلاح کے کسی عموی مقصد کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی اس میں مفاد عامہ کا کوئی پہلو پیش نظر ہوتا ہے۔ یہ قانون سازی مخصوص قسم کی پسندیدہ اشرافیہ کی”بھلائی“ میں ہوتی ہے جو اکثر اوقات میں عوامی بھلائی سے ٹکرا رہی ہوتی ہے۔ اس عمومی پسِ منظر میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے جب مخصوص فیصلوں اور چنیدہ اقدامات کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کی بالادستی کا اظہار کیا جاتا ہے تو یہ مسئلے کے حل کے بجائے مسئلے کے ایک حصے کے طورپر دیکھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ حالیہ دنوں میں اسی مسئلے سے دوچار ہے۔ اُسے ایک طرف انتخابات کے انعقاد پر اپنے ہی فیصلے کی عزت کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری طرف پارلیمنٹ کی بلاامتیاز بالادستی کے اپنے ہی اظہاریے کا سامنا بھی کرنا ہے۔
سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد کے حوالے سے اب یہ راز عیاں ہو چکا ہے کہ یہ ایک سازشی ماحول میں پیش کی گئی ہے جس سے بظاہر تمام سیاسی جماعتیں خود کو دور کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے سینیٹ میں ایک مخصوص لابی ہر قسم کے جمہوریت کش اقدامات کا حصہ بن کر مخصوص قوتوں کی سازشوں میں شریک دکھائی دیتی ہے جس میں ایک گھناؤ نا کردار چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا ہے۔ انتخابات کے خلاف ماحول بنانے میں سینیٹ کو منتخب ہی اس لیے کیا گیا کیونکہ سپریم کورٹ سمیت کسی بھی عدالت کو سینیٹ کی اندرونی کارروائی کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کااختیار نہیں ہے۔ اس صورت میں سینیٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست پر موجودہ سپریم
کورٹ سے کسی ”اجتہادی فیصلے“ کی کوئی توقع تو نہیں کی جا سکتی۔ تاہم اگر یہ معاملہ عزت ماب ججز کے اندر مستقبل کے خطرات کا کچھ احساس بھی پیدا کر دے تو یہ کافی سے زیادہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود - بدھ 01 مئی 2024

بھارت میں عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی اختتام کے قریب ہے، لیکن مسلمانوں کے خلاف مودی کی ہرزہ سرائی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جارہاہے اورمودی کی جماعت کی مسلمانوں سے نفرت نمایاں ہو کر سامنے آرہی ہے۔ انتخابی جلسوں، ریلیوں اور دیگر اجتماعات میں مسلمانوں کیخلاف وزارت عظمی کے امی...

نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود - بدھ 13 مارچ 2024

مولانا زبیر احمد صدیقی رمضان المبارک کو سا ل بھر کے مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے، جو مادی دنیا میں موسم بہار کو سال بھر کے ایام وشہور پر حاصل ہوتا ہے۔ موسم بہار میں ہلکی سی بارش یا پھو ار مردہ زمین کے احیاء، خشک لکڑیوں کی تازگی او رگرد وغبار اٹھانے والی بے آب وگیاہ سر زمین کو س...

رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود - منگل 27 فروری 2024

نگران وزیر توانائی محمد علی کی زیر صدارت کابینہ توانائی کمیٹی اجلاس میں ایران سے گیس درآمد کرنے کے لیے گوادر سے ایران کی سرحد تک 80 کلو میٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ اعلامیہ کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی،...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود - هفته 24 فروری 2024

سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر جسے اب ا یکس کا نام دیاگیاہے کی سروس بحال ہوگئی ہے جس سے اس پلیٹ فارم کو روٹی کمانے کیلئے استعمال کرنے والے ہزاروں افراد نے سکون کاسانس لیاہے، پاکستان میں ہفتہ، 17 فروری 2024 سے اس سروس کو ملک گیر پابندیوں کا سامنا تھا۔...

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود - جمعه 23 فروری 2024

ادارہ شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوری میں مہنگائی میں 1.8فی صد اضافہ ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ شہری علاقوں میں مہنگائی 30.2 فی صد دیہی علاقوں میں 25.7 فی صد ریکارڈ ہوئی۔ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 28.73 فی صد رہی۔ابھی مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے ادارہ ش...

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف وجود - پیر 19 فروری 2024

عالمی جریدے بلوم برگ نے گزشتہ روز ملک کے عام انتخابات کے حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن کے نتائج جوبھی ہوں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف سے گفتگو اہم ہے۔ بلوم برگ نے پاکستان میں عام انتخابات پر ایشیاء فرنٹیئر کیپیٹل کے فنڈز منیجر روچرڈ یسائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے بیرونی قرض...

پاکستان کی خراب سیاسی و معاشی صورت حال اور آئی ایم ایف

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود - جمعرات 08 فروری 2024

علامہ سید سلیمان ندویؒآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تعلیم او رتزکیہ کے لیے ہوئی، یعنی لوگوں کو سکھانا اور بتانا اور نہ صرف سکھانا او ربتانا، بلکہ عملاً بھی ان کو اچھی باتوں کا پابند اور بُری باتوں سے روک کے آراستہ وپیراستہ بنانا، اسی لیے آپ کی خصوصیت یہ بتائی گئی کہ (یُعَلِّ...

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق وجود - بدھ 07 فروری 2024

بلوچستان کے اضلاع پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی امیدواروں کے دفاتر کے باہر دھماکے ہوئے ہیں جن کے سبب 26 افراد جاں بحق اور 45 افراد زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردوں کے حملوں کی زد میں ہیں، آج بلوچستان کے اضلاع پشین میں آزاد امیدوار ا...

بلوچستان: پشین اور قلعہ سیف اللہ میں انتخابی دفاتر  کے باہر دھماکے، 26 افراد جاں بحق

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں وجود - منگل 06 فروری 2024

مولانا محمد نجیب قاسمیشریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی کرے۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآن وحدیث میں بہت زیادہ اہمیت، تاکید اور خاص تعلیمات وارد ہوئی ہیں۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،...

حقوقِ انسان …… قرآن وحدیث کی روشنی میں

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم وجود - جمعرات 11 جنوری 2024

پاکستان میں صارفین کے حقوق کی حفاظت کا کوئی نظام کسی بھی سطح پر کام نہیں کررہا۔ گیس، بجلی، موبائل فون کمپنیاں، انٹرنیٹ کی فراہمی کے ادارے قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں اس کے لیے وضع کیے گئے فارمولوں کو پڑتال کرنے والے کیا عوامل پیش نظر رکھتے ہیں اور سرکاری معاملات کا بوجھ صارفین پ...

گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھاری بلوں کا ستم

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت وجود - منگل 26 دسمبر 2023

انسدادِ منشیات کے ادارے اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے ملک اور بالخصوص پشاور اور پختونخوا کے دیگر شہروں میں منشیات کے خلاف آپریشن کے دوران 2 درجن سے زیادہ منشیات کے عادی افراد کو منشیات کی لت سے نجات دلاکر انھیں کارآمد شہری بنانے کیلئے قائم کئے بحالی مراکز پر منتقل کئے جانے کی اط...

منشیات فروشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی ضرورت

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے وجود - بدھ 13 دسمبر 2023

لاہور میں نوازشریف نے پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے یہ نیا مطالبہ کیا ہے کہ صرف حکومت نہیں جعلی مقدمات پر احتساب بھی چاہتے ہیں، ان کے7 سال کس نے ضائع کیے، کس نے جھوٹے مقدمات بنا کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ سب کے نام سامنے آ چکے ہیں مگر ان کا احتساب کون کرے گا؟ بات اس...

انتخابات ملتوی کرانے کے حربے

مضامین
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔ وجود بدھ 12 جون 2024
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔

بصیرت نہ بصارت وجود بدھ 12 جون 2024
بصیرت نہ بصارت

'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ' وجود منگل 11 جون 2024
'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ'

مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ وجود منگل 11 جون 2024
مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ

نیاجال لائے پرانے شکاری وجود پیر 10 جون 2024
نیاجال لائے پرانے شکاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر