... loading ...
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:باسط علی) پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر غور جاری ہے۔ مگر یہ معاملہ جس قدر حساس ہے، اس سے کہیں زیادہ اِسے خود شریف برادران کے صلاح مشوروں کے عمل نے سنگین بنا دیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ایک اہم ذریعے نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قائد نون لیگ نوازشریف کے لیے یہ تعیناتی ہمیشہ ایک مسئلہ رہی ہے اور اُنہیں سیاست کے موجودہ گرداب تک پہنچانے میں یہی تعیناتی اور اس سے متعلق امور نہایت پریشان کن عوامل رہے ہیں۔ اس دفعہ فوجی سربراہی کی جادوئی چھڑی کسی کے ہاتھ لگے، شریف برادران کے لیے یہ مسئلہ رہے گا کہ اُنہوں نے ایک مرتبہ پھر آرمی چیف کے انتخاب کے حساس ترین معاملے کو کس انداز سے حل کیا؟ شریف برادران یہ امر فراموش کردیا کہ آرمی چیف کا منصب پاکستان میں کس درجہ حساسیت کا حامل ہے۔ ایک طرف پاکستا ن کے سب سے مقبول رہنما عمران خان لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر عوام کو لاچکے ہیں۔ اُنہوں نے حکومت کے خلاف گفتگو میں آرمی چیف کی تعیناتی کو بھی ایک موضوع بنایا ہے۔ درست یا غلط طریقے سے عمران خان نے مگر یہ ایک سوال بنا دیا ہے کہ اگر آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کا ہی حق ہے تو وزیراعظم یہ تعیناتی کرتے ہوئے لندن اپنے بھائی کے پاس کیا کررہے ہیں؟ قائد نون لیگ کے طور پر نوازشریف کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ اس اہم ترین تعیناتی پر کسی بھی طرح اثرانداز ہوں، مگر پاکستان میں سیاست خالص آئینی تقاضوں کے تحت کب ہوئی ہے۔ یہاں شخصیات ہی جماعتوں اور حکومتی مناصب پر حاوی ہوتی ہے۔ لہذادرست یا غلط نئے آرمی چیف کے انتخاب کا معاملہ نوازشریف کی صوابدید پر انحصار کرتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف خود فوجی قیادت بھی نئے آرمی چیف کے انتخاب میں ہمیشہ اپنی ترجیح کا ایک دباؤ رکھتی ہے۔پاکستان کے گزشتہ تین برسوں کے عمومی اور ایک برس کے خصوصی حالات میں رخصتی دروازے کی طرف گامزن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجود ایک انتہائی اثر ڈالنے والی قیادت کے طور پر نئے آرمی چیف کے حوالے سے کیا سوچتے ہیں، یہ بھی سب سے بڑا سوال ہے؟ نواز لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق ترجیحات کا یہی ٹکراؤ لندن میں وزیراعظم شہباز شریف اور نون لیگ کے قائد نواز شریف کے درمیان صلاح مشوروں کے عمل کو طویل کرنے کا باعث بنا ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کے پاس جو نام موجود ہے، وہ نوازشریف کی خواہش کا آئینہ دار نہیں۔ جس کے باعث شہباز شریف کو لندن میں اپنے قیام کو طویل کرنا پڑا۔ شہباز شریف کو اپنے پروگرام کے مطابق جمعہ کی شب پاکستان پہنچنا تھا۔ مگر وہ اب پیر کو کسی وقت پاکستان پہنچیں گے۔ اُن کے اگلے دو تین روز کے قیام کے پیچھے اگر چہ اُن کی طبیعت کی خرابی کو ایک جواز کے طور پر پیش کیا گیا، دوسری طرف ڈیلی میل کے ساتھ جاری مسئلے میں لندن کی عدالت کے ایک فیصلے نے بھی کچھ قیاس آرائیوں کو جنم دیا، مگر شہباز شریف دراصل نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں کسی متفقہ حل کی طرف نہ پہنچنے کے باعث شدید دباؤ میں دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف نون لیگ کے لیے اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ وہ اس اعلیٰ ترین منصب کی تعیناتی کے معاملے میں اپنے اتحادیوں میں سب سے اہم دوجماعتوں کے قائدین آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیا ہم آہنگی پیدا کرپائیں گے؟ان دونوں رہنماؤں کا جھکاؤ بھی بوجوہ کافی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ نواز لیگ کے حکومت میں شامل نہایت اہم وزراء بھی اس سوال کا کوئی جواب نہیں رکھتے کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا؟ وہ شریف برادران کی ملاقاتوں کی صورتِ حال سے خود بھی اتنے ہی بے خبر دکھائی دیتے ہیں جتنے عام لوگ۔ کیونکہ اُن اہم ترین رہنماؤں سے بھی اعلیٰ قیادت میں سے کسی نے کوئی بات چیت نہیں کی۔اس حکمت عملی پیچھے دراصل یہ خطرہ موجود ہے کہ کوئی ایسا نام جو عسکری حلقوں میں اس وقت کی غالب قوت کی مرضی کے برخلاف ہوا تو بساط اُلٹ بھی سکتی ہے۔ اور ردِ تدبیر زیادہ خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ لہذا شریف برادران اس معاملے میں کافی اندیشوں کے شکار ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے ایک سادہ فقرہ یہ زیر گردش رہا ہے کہ شریف براداران کے صلاح مشوروں میں فوج کے سب سے سینئر امیدوار کو سربراہ ہونا چاہئے، مگر یہ سادہ فقرہ حقیقی صورت حال کی عکاسی نہیں کر رہا۔ کیونکہ اس معاملے میں بھی یہ بات زیادہ اہم ہے کہ فوجی سربراہ کی تعیناتی کی سمری کب زیر غور لائی جائے گی۔ اسی ماہ میں مختلف تاریخوں کی اُلٹ پھیر سے سینئر امیدواروں کے نام تبدیل ہوجاتے ہیں۔ لہذا یہ سادہ بیان بھی کافی پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے۔ لندن میں موجود نواز لیگ کے ایک اہم ترین رہنما نے جرأت سے بات چیت کرتے ہوئے رازداری کی شرط پر اپنا یہ احساس لفظوں میں بیان کیا کہ حالیہ صورتِ حال میں یہ خطرہ موجود ہے کہ ریٹائر ہونے والے آرمی چیف اور آنے والے آرمی چیف دونوں ہی موجودہ طریقہ کار کے باعث اپنے منہ کا ذائقہ خراب کر بیٹھیں۔ کیونکہ اس عمل میں احتیاط بھی مسائل پیدا کرنے کا موجب بن رہی ہے۔ نون لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف کی جانب سے آرمی چیف کے سب سے سینئر رہنما کے طور پر تقرری کی رائے سے وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستان میں موجود سینئر رہنماؤں کا اختلاف ہے۔ چنانچہ یہ خطرہ موجود ہے کہ آرمی چیف کی طرف سے نام پیش کیے جانے پر نئے ناموں کی طلبی یا کچھ اہم اقدامات کی جو توقعات نون لیگ کی اعلیٰ قیادت شہبازشریف سے رکھتے ہیں، وہ عسکری حلقوں کے دباؤ کے باعث ایسا کر پائیں گے یا نہیں؟نون لیگی رہنما کے مطابق یہی وہ پہلو ہے جو اگلے دنوں میں بھی ہمارے لیے پریشانی کاباعث بنا رہے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان سے زیادہ خود نون لیگی رہنماؤں کا حالیہ طرزِ عمل اس پورے عمل کو زیادہ سنگین بنارہا ہے۔
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...
صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...
ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...
مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...
سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...