وجود

... loading ...

وجود

باغی اوربغاوت

منگل 17 مئی 2022 باغی اوربغاوت

بلاشبہ مخدوم جاوید ہاشمی ایک شخصیت ہی نہیں بلکہ ایک تاریخ کا نام ہے ۔بنگلہ دیش نامنظور تحریک سے اب تلک بہت سے اعزازات ان کامقدر بنے وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے اور شاید آخری قومی رہنما ہیں جو 2بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور تحریک ِ انصاف کے صدر کے عہدے پر فائز رہے انہوںنے جب مسلم لیگ ن کو چھوڑکرتحریک ِ انصاف میں جانے کافیصلہ کیا کارکنوںکی آہ وبکا اور بیگم کلثوم نواز کے آنسو بھی نہ روک سکے یہ میاں نوازشریف کے لیے ایسا دھچکا تھا جس کی کسک کارکن کافی دیر تک محسوس کر تے رہے ۔ میاں نواز شریف کے برے وقت کے ساتھی مخدوم جاویدہاشمی نے جس اندازسے ان دونوں جماعتوںکو چھوڑا کارکنوںکی اکثریت نے اسے پسند نہیں کیا ۔ایک بڑا لیڈرہونے کے باوجود باغی کی شخصیت میں واضح تضادنظر آتاہے وہ مسلم لیگ ن میں تھے تو انتہائی مضطرب۔روٹھنا منانا لگارہا ۔پھرایک دن وہ کارکنوںکو روتا چھوڑکرتحریک ِ انصاف میں شامل ہوگئے اوراس دم انہوں نے محترمہ کلثوم نواز کی بھی پرواہ نہیں کی باغی کو انہوںنے اپنے دوپٹے کا واسطہ بھی دے ڈالا تھا پھر ایک دن نہ جانے کیا ہوا مخدوم صاحب نے یہ کہہ کر سب کو حیران پریشان کرڈالا کہ میرا لیڈر میاں نوازشریف ہے جس نے بھی سنا ششدر رہ گیا شاید یہ ان کے اندرکا پچھتاوا تھا جو مسلم لیگ ن چھوڑنے کے باعث آہستہ آہستہ ان کے دل و دماغ پر گھر کرگیا۔پھر انہوںنے کہا مجھے سب سے زیادہ عزت عمران خان نے دی۔۔پھر اسی پر الزامات کی بوچھاڑ کرڈالی۔ کہاجاتا ہیپاکستان میں جمہوریت کے لیے سب سے بڑی قربانی مخدوم جاوید ہاشمی نے دی جس کا اعتراف سب کرتے ہیں ۔۔کوئی نہ بھی کرے تب بھی یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ڈکٹیٹرکے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر استقامت سے ڈٹ جانے والی شخصیت مخدوم جا وید ہاشمی کو کون نہیں جانتا۔ پرویز مشرف کی چھتری تلے قائم ہونے والی ق لیگ کے دو ر ِ حکومت میں مخدوم جا وید ہاشمی کو غداری کے مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا اور ’’بغاوت ‘‘ کے الزام میں 5 سال قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیںلیکن انہوںنے آمریت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کیا جیل کے دوران مخدوم جاوید ہاشمی کی لکھی کتاب ’’میں باغی ہوں‘‘ نے بہت شہرت حاصل کی ۔مفاہمتی سیاست کے دوران مسلم لیگ ن نے جب زرداری گورنمنٹ میں وزارتیں لینے کا فیصلہ کیا تو مخدوم جا وید ہاشمی واحد سیاستدان تھے جنہوںنے کسی بھی اندازمیں جنرل پرویز مشرف سے حلف لینے سے انکار کردیا اور اصولوںکی خاطروفاقی وزیر بننا قبول نہ کیاآج کی حکمران جماعت کے کئی رہنمائوںنے بازوئوںپر سیاہ پٹی باندھ کرپرویزمشرف سے حلف لے لیا جو آج روز مشرف کے خلاف بیان داغ رہے ہیں ۔
خیربات ہورہی تھی مخدوم جا وید ہاشمی کی جنہوںنے بھرپور سیاسی جدوجہدکی لیکن ان کے انجام پر کئی لوگ ازردہ،افسردہ تھے۔ عام لوگوںکا خیال ہے ان سے کئی سیاسی غلطیاں بھی سرزدہوئیںپہلی بات تو انہیں مسلم لیگ ن کوہی نہیں چھوڑنا چاہیے تھا ۔۔تحریک ِ انصاف میں شامل ہوئے تھے تو قیادت سے اختلافات کے باوجود انہیں ڈٹ جانا چاہیے تھا پارٹی میںرہ کر اصلاح ِ احوال کی کوشش کرتے رہنا ضروری تھا ۔۔باغی کوڈی چوک سے آگے پا رلیمنٹ کے سامنے جانے پر اعتراض تھا جب دھرنا وہاں سے واپس آگیا تو اصولی طورپر ان کا اعتراض دور ہوگیا ۔۔ شوکاز نوٹس ملنے پر بھی انہیں پارٹی نہیں چھوڑنی چاہیے تھی اپنی ناراضی کااظہارکرکے موجودہ معاملات سے لاتعلق ہو جاتے تو ان کا سیاسی وزن قائم رہتا اوران کی ذات کا ایک بھرم بنارہتا لگتاہے مخدوم جاویدہاشمی نے اپنی زندگی کے تمام اہم فیصلے کرنے میں جلدبازی سے کام لیا عقل کے فیصلے جذبات سے کرنے کا یہی نتیجہ نکلتاہے انہوںنے آخری بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک تاریخی خطاب کیا جس کی بازگشت ہمیشہ گونجتی رہے گی انہوںنے قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ تو دے دیا تھا اپنی زندگی کے عروج کے دوران بھریا میلہ چھوڑکر دوبارہ الیکشن لڑنے کا فیصلہ نہ کرتے تو تاریخ میں امر ہو سکتے تھے۔ پھر2018ء کے عام انتخابات میں وہ دم تو مسلم لیگ ن کی محبت کا بھرتے رہے مگر ان کے لیے کسی لیگی کارکن نے کچھ نہ کیا۔بعض لوگوں کا خیال ہے مخدوم جا وید ہاشمی ٹریپ ہوگئے تھے دھرنے ناکام بنانے کے لیے ان کو استعمال کیا گیا اور اس کوشش میں نواز حکومت تو بچ گئی لیکن’’ عزت ِ سادات ‘‘نہ بچ سکی یہ تو خدا ہی بہتر جانتاہے کہ اندرکی کیا کہانی ہے؟ منظر ۔۔۔پیش منظر۔۔محرکات اور سیاق و سباق کیا تھے؟ کبھی نہ کبھی یہ حقیقت منظر ِ عام پر ضرور آئے گی تو یقینا تہلکہ مچ جائے گا۔۔بہرحال حالات جو بھی ہوں۔۔سیاستدانوںکی رائے جو بھی سامنے آئے دل کو یقین ہے ایک نہ ایک دن یقینا جمہوریت کی سربلندی کے لیے مخدوم جاوید ہاشمی کی قربانیوںکو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
سچی بات یہ ہے کہ وقت گذرجاتاہے لیکن کردار زندہ ہمیشہ رہتاہے یہ کردار ہی ہے جو مستقبل میں لوگوںکی رہنمائی کرتاہے اسی سے مؤرخ فیصلہ کرتے ہیں کس نے کیا فائدہ لیا۔ اور۔قربانیاں دینے والے کون ہیں؟ ۔۔۔ اپنی گراںقدر خدمات سے نئی تاریخ لکھنے اور تاریخ پر احسان رقم کرنے والوںکی چرچا کرنا ہم سب پر فرض ہے آمریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریزہونے سے انکار جرأت کا بہت بڑا اظہارہے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ قوم ان تمام رہنمائوںکی قربانیوں کو یادرکھیں جنہوںنے اپنی زندگی اس قوم کے نام کردی یہ لوگ فرشتے نہیں ہیں ان سے بھی غلطیاں، کوتاہیاں سرزد ہوئی ہوں گی ان کو درگذرکردینا چاہیے مجموعی طورپر ان تمام سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں ، ججز یا دیگر شخصیات جنہوںنے ماضی میں آمریت کے خلاف مزاحمت کی،قربانیاں دیں قیدو بند کی مشکلات سے دو چارہوئے ان سب کو ہر قسم کے تعصبات اور امتیازسے بالاترہوکر ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جائے اوران کو مراعات،اعزازات اور تمغہ ٔ جمہوریت سے نوازا جائے حکومتی سطح پر ایسا کرنے سے لوگوںکو جمہوریت سے دلی لگائو محسوس ہوگا اس اقدام سے جمہوریت مزید مضبوط ہوگی ۔ جس کسی نے بھی ڈکٹیٹروںکے سامنے ڈٹ کر جمہوریت کی بات کی، قربانیاں دی ہیں انہیں قومی ہیروقراردیا جائے۔۔ایک اوربات آمریت کا مقابلہ کرنے والوںکی خدمات کو عام آدمی تک اجاگرکیا جائے اس کے لیے ایک قومی ادارے کے قیام ناگزیرہے ۔
آمریت کے سامنے ڈٹ جانے والوں کی تصاویر پاکستان کی پانچوں صوبائی اسمبلیوں،پارلیمنٹ اور سینٹ بھی آویزاں کی جائیں ۔ نوابزادہ نصراللہ خان کو کئی الیکشن ہارنے کے باوجود بابائے جمہوریت کہا جاتاہے کچھ لوگ مخدوم جاویدہاشمی کو بھی بابائے جمہوریت قرار دے رہے ہیں اس ملک میں باغی ایک ہے ۔جاوید ہاشمی ایک ہے اور تاریخ بتاتی ہے باغیوںکے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتاہے جیسا سلوک جاویدہاشمی کے ساتھ ہورہاہے آمریت کے سامنے ڈٹ جانے والے کو لوگوںکی بے حسی نے سیاسی میدان سے نکال باہرکردیا ۔قوم نے ان کی قربانیوںکی قدرنہیں کی ۔ بہرحال’’ باغی ‘‘کو پھر سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں ان ایکشن رہنا چاہیے ان جیسے رہنمائوں کو مسلسل برسرِپیکار رہنا ہوگا ایک تو جھپٹا ،پلٹنا۔ جھپٹ کر پلٹنا لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے ویسے بھی سیاست میں اب مخدوم جا وید ہاشمی جیسے لوگ خال خال ہی رہ گئے ہیں صدیوں پہلے عظیم فلاسفر افلاطون نے اچھے لوگوںکا سیاست سے کنارہ کش ہونے کا مطلب ہے کمتر لوگ ان پر حکومت کریں غورکریں ۔۔سوچیں اور سوچ کرجواب دیں کیا افلاطون کا کہا سچ ثابت نہیں ہورہا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
خودکشی کے مترادف وجود منگل 28 جون 2022
خودکشی کے مترادف

لال قلعہ کاقیدی وجود پیر 27 جون 2022
لال قلعہ کاقیدی

بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟ وجود پیر 27 جون 2022
بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، پیپلزپارٹی نے اپنے نام کیسے کیا؟

کوئی نہیں ساتھی قبرکا وجود جمعه 24 جون 2022
کوئی نہیں ساتھی قبرکا

اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے وجود جمعه 24 جون 2022
اسمارٹ صرف فون ہوتا ہے

جمہوریت نہیں مہاپاپ وجود منگل 21 جون 2022
جمہوریت نہیں مہاپاپ

اشتہار

تہذیبی جنگ
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ وجود جمعرات 16 جون 2022
یورپین سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اسلاموفوبیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے اتحاد کا فیصلہ

گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا وجود منگل 14 جون 2022
گستاخانہ بیانات:چین بھی ہندو انتہا پسند بھارتی حکومت پر برہم ہو گیا

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج

بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر وجود منگل 07 جون 2022
بھارتی سیاست دانوں کا رویہ دہشت گردی پر مبنی ہے، مصری درسگاہ جامعہ الازہر

گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا وجود منگل 07 جون 2022
گستاخانہ بیان پر بی جے پی ترجمان کو پولیس نے طلب کرلیا

اشتہار

بھارت
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت وجود اتوار 19 جون 2022
اگنی پتھ اسکیم نے بھارت میں آگ لگادی ،مظاہروں میں شدت

سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری وجود جمعرات 09 جون 2022
سکھوں کا بھارتی پنجاب کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کا اعلان، خالصتان کا نقشہ جاری

بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار وجود بدھ 08 جون 2022
بی جے پی کا ایک اور گستاخ، پیغمبرِ اسلامۖ کے خلاف توہین آمیز ٹوئٹس پر گرفتار

گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج وجود بدھ 08 جون 2022
گستاخانہ بیان پر انڈونیشیا، ملائیشیا کا بھارت سے احتجاج
افغانستان
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان وجود بدھ 25 مئی 2022
طالبان کا متحدہ عرب امارات سے ائیرپورٹس چلانے کا معاہدہ کرنے کا اعلان

خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان وجود پیر 23 مئی 2022
خواتین براڈ کاسٹرز پر برقع مسلط نہیں کرتے، چہرہ ڈھانپنے کا کہا ہے،طالبان

سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا وجود پیر 23 مئی 2022
سقوطِ کابل کے بعد بہت سے افغان فوجی پاکستان فرار ہوئے، امریکا

بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت وجود بدھ 18 مئی 2022
بھارت کی افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کے لیے طالبان سے بات چیت
ادبیات
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار

پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی
شخصیات
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی وجود جمعه 10 جون 2022
عامر لیاقت کی تدفین کردی گئی، نماز جنازہ بیٹے نے پڑھائی

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے وجود جمعرات 09 جون 2022
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل وجود منگل 24 مئی 2022
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ٹائم میگزین کے سال کے 100 بااثر ترین افراد میں شامل

گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام وجود اتوار 22 مئی 2022
گوگل کا ڈوڈل گاما پہلوان کے نام