وجود

... loading ...

وجود

حکومت گرانے کی بیرونی سازش، وزیراعظم نے خط ہوا میں لہرادیا

اتوار 27 مارچ 2022 حکومت گرانے کی بیرونی سازش، وزیراعظم نے خط ہوا میں لہرادیا

وزیراعظم عمران خان نے جلسے میں خط لہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتا ہے باہر سے کن، کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے، باہر سے پیسے لے کر حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس یہ خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتا چلا، جمہوری لیڈر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا عوام میں جاتا ہے، اس لیے آج عوام کو بتارہا ہوں، حکومت جاتی ہے جائے، جان جاتی ہے جائے، کبھی ان کو معاف نہیں کروں گا۔اتوار کی شام اسلام آباد میں امر بالمعروف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پی ٹی آئی ممبر پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میری کال پر پاکستان کے ہر کونے سے آنے پر دل سے شکر گزار ہوں، ممبران کو پیسوں کی لالچ دی گئی، آپ کے ضمیر کو خریدنے کی ہرکوشش کی گئی، مجھے اپنے اراکین اسمبلی پر فخر ہے، آج اپنے دل کی باتیں کرنی ہیں۔عمران خان نے کہا کہ باشعور پاکستانیو! امربالمعروف کے لیے دعوت دی تھی، یاد رکھیں پاکستان ایک نظریئے کے تحت بنا تھا، نظریہ اسلامی فلاحی ریاست تھا، ہمارا ملک ایک نظریے کے تحت بنا تھا، مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں دین کی باتیں سیاست میں کیوں کرتے ہو، آج سے 25 سال پہلے جماعت بنائی تھی، نظریہ پاکستان کے لیے سیاست میں آیا تھا، پاکستان کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست تھا، پاکستان کو مدینہ کے اصولوں پر کھڑا کرنا تھا، اتنا بڑا جلسہ ہو گیا انتظامات ناکافی ہوگئے۔وزیراعظم نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے باہر سے مداخلت کے حوالے سے بات کی، اس حوالے سے بعد میں بات کروں گا، خطاب کے آخر میں بتاؤں گا باہر سے مداخلت کون کر رہا ہے، مجھے کافی عرصے تک نظریہ پاکستان کا نہیں پتہ تھا، جب تک اپنے نظریئے پر کھڑے نہیں ہوں گے تب تک قوم نہیں بن سکتے، کتنے لوگوں کو پتا ہے پاکستان کا نظریہ کیا ہے؟ مجھے بھی بڑی دیر تک پاکستان کے نظریئے کا نہیں پتا تھا، تعلیم کے لیے باہر چلا گیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مغرب میں دیکھا فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے، چین نے 30 سال میں 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، ہیلتھ انشورنس دینے پر فخر ہے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست بنائی تھی، یاد رکھیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے رحمت بن کر آئے، ہمارے نبی نے مدینہ کی ریاست میں قانون کی بالادستی قائم کی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں جیسے جیسے ٹیکس اکٹھا کروں گا سارا پیسہ قوم پر خرچ کروں گا، کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت سود کے بغیر قرض دے رہے ہیں، نچلے طبقے کو پہلی دفعہ اوپر اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہے، ٹیکس ریونیو بڑھا تو سب سے پہلے 250 ارب کی سبسڈی دی، پٹرول کی قیمت 10 روپے بڑھانے کے بجائے فضل الرحمان کی قیمت کم کی، بجلی کی قیمت پانچ روپے فی یونٹ کم کی۔عمران خان نے امر بالمعروف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قرضوں کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں، یہ تیار ہوجائیں، حکومت، جان جاتی ہے جائے کبھی ان کومعاف نہیں کروں گا، تھری اسٹوجز 30 سال سے ملک کا خون چوس رہے ہیں، ان کی اربوں روپیوں کا نہیں اربوں ڈالر کی پراپرٹی ہے، یہ سارا ڈرامہ مشرف کی طرح این آراو لینے کے لیے ہو رہا ہے، پہلے دن سے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کوئی خاص مخلوق ہے ان کوسب کچھ معاف ہوجانا چاہیے، مشرف نے اپنی کرسی بچانے کے لیے چوروں کو این آر او دیا، مشرف کے این آر او کی وجہ سے 10 سال ملک میں لوٹ مار ہوئی، چھوٹا چور نہیں بڑا ڈاکو ملک تباہ کرتا ہے، پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ بڑے ڈاکو کو این آراو اور چھوٹا چور جیل جاتا ہے، بڑے ڈاکو غریب ملکوں سے پیسہ چوری کر کے لندن میں بڑے، بڑے محلات بناتے ہیں، چھوٹا چور نہیں بڑے چور ملک تباہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماشااللہ یہ میری قوم کا جنون ہے، اس جنون کے ذریعے پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنانا ہے، میرا ایمان ہے ملک تب ترقی کرے گا جب نبی کی سنت پر چلے گا، جب ہم پانچ سال مکمل کریں گے تو تیزی سے غربت کم ہو گی۔عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری حکومت کو گرانے کا فیصلہ کیا، دعویٰ کرتا ہوں پاکستان کی تاریخ میں ساڑھے تین سالوں جیسی پرفارمنس کسی حکومت نے نہیں دی، مدینہ کی ریاست میں اللہ نے امربالمعروف کا حکم دیا تھا، جب بدی دیکھیں تو جہاد کریں، اچھائی کے ساتھ کھڑا ہونا قوم کو زندہ رکھتی ہے، عراق جنگ کے خلاف لندن میں بیس لاکھ لوگ باہر نکلے اس کو امربالمعروف کہتے ہیں، آج مجھے آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، لوگوں کے ضمیروں کا سودا کر کے حکومت گرانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھروں کے ملازمین کو بھی حقوق دلوائیں گے، مغرب میں پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ مسلمان خواتین کو حقوق نہیں ملتے، اسلام واحد مذہب جس نے خواتین کو وراثت میں حقوق دیئے، افسوس 70 فیصد خواتین کو وراثت میں حقوق نہیں ملتے، ہماری حکومت خواتین کو وراثت سے حق دینے کا قانون لائی، ہم وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں جس میں کمزور آدمی کو بھی انصاف ملے، مدینہ کی ریاست میں خلیفہ وقت بھی قانون سے اوپر نہیں تھا، مدینہ کی ریاست میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہوتا تھا، ہمارے نبی انسانیت کو اکٹھا کرنے آئے تھے، ہماری اقلیتیں برابر کے شہری ہیں، ہم وہ فارن پالیسی لانا چاہتے ہیں کسی جنگ میں نہیں لیکن امن میں سب کا ساتھ دیں گے۔ وزیراعظم نے کارکنوں کے نعروں پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈیزل کی بات بعد میں کروں گا، شکر کریں 10 روپے ڈیزل کی قیمت کم کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کورونا دنیا کا سب سے بڑا بحران تھا، کورونا کی وجہ سے پوری دنیا میں غریب کچلے گئے، اس وبا کی وجہ سے ساری دنیا بند ہوئی، کورونا کے باوجود میں نے ملک کو بند نہیں کیا مجھ پر تنقید ہوئی، سندھ کی حکومت نے میری بات نہیں مانی اور لاک ڈاؤن کر دیا، ساری دنیا نے ہماری کورونا کی پالیسی کو سراہا، ہم نے کورونا کے دوران معیشت اورغریبوں کو بھی بچایا، ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق برصغیر میں سب سے کم بے روزگاری پاکستان میں ہے، کورونا کے باوجود ہماری معیشت نے 6۔5 فیصد ترقی کی ساری اپوزیشن دھنگ رہ گئی، ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔انہوں نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تھری اسٹوجز والی اپوزیشن میں ایک چیری بلاسم،دوسرا ڈیزل، تیسرا بیماری، چوتھا بھگوڑا ہے، ان ساروں نے کورونا کے دوران مجھ پر تنقید کی۔ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیکس اکٹھا ہوگا تو قوم کے لیے آسانیاں پیدا کروں گا، پہلی بار تنخواہ دار طبقے کے لیے گھر بنانے کے لیے 30 ارب کی سبسڈی دی، پہلی دفعہ بینک گھر بنانے کے لیے قرضے دے رہے ہیں، روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ کس کا تھا اورمیرے اللہ کا شکر ہے کام کس سے لے رہا ہے، چیلنج کرتا ہوں یہ تیس سال سے حکومت کر رہے ہیں، پانی ملک کا بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کراچی میں ٹینکر مافیا ہے انہوں نے کیا کیا؟ پاکستان میں پچاس سال بعد پہلی دفعہ ڈیم بن رہے ہیں، پشاور کے لوگوں کو خوشخبری دیتا ہوں 2025 میں مہمند ڈیم بن جائے گا، مہمند ڈیم سے سب سے سستی بجلی بنے گی، داسوڈیم 2027 تک بنے گا، بھاشا ڈیم 2028 تک بنے گا، ڈیم بننے سے کاشت کے لیے پانی دگنا اور پاکستان کی دولت میں اضافہ ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے چل رہی ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں آج مزدور نہیں مل رہے، پہلے شوگر مل مافیا کسانوں کو پوری قیمت نہیں دیتا تھا، ہماری حکومت نے کسانوں کو حقوق دلوائے، اوورسیز نے سب سے زیادہ ڈالر پاکستان بھیجے، کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے آسانیاں پیدا کیں، کنسٹرکشن انڈسٹری کے ساتھ 30 انڈسٹریز چل پڑیں، کسانوں سے پوچھ لیں ملکی تاریخ میں پانچ فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہماری حکومت نے کیا کیا؟ مریم بی بی جس نے زندگی میں ایک گھنٹے کا کام نہیں کیا، کانپیں ٹانگنے والے کو 14 سال میں اردو بولنی نہیں آئی، کہتا ہے لیڈر بننا چاہتا ہوں، زرداری اپنے بیٹے کو لیڈر بننے کے لئے تھوڑا بڑا ہونے دینا تھا، بلاول دھمکیاں دیتا ہے نیب نے بلایا تو یہ کروں گا، بلاول کہتا ہے نیب نے بلایا تو رو پڑوں گا، 30 سال حکومتیں کرنے والوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ والٹن ایئرپورٹ کو سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بنا رہے ہیں، شیخ رشید صاحب آپ کے لیے خوشخبری ہے نالہ لئی پراجیکٹ بن رہا ہے، نالہ لئی میں ٹریٹمنٹ پلانٹ بنیں گے، تمام بڑے شہروں کے لیے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں، آج سے 11 سال پہلے بلوچستان کے اندر کوئلے، تانبے کی کانیں تھیں، مائننگ کمپنی پاکستان کوعدالت لیکر گئی تھی، پاکستان کو 2 ہزار ارب کا عالمی عدالت میں جرمانہ ہوا تھا، سونے، تانبے کی کانوں میں جب کام شروع ہوگا تو آپ کو اندازہ نہیں کتنا فائدہ ہوگا؟ میرے پاکستانیو! پاکستان کا مستقبل روشن ہے، پیپلز پارٹی دور میں رینٹل پاور میں بہت بڑی کرپشن ہوئی تھی، ہمارے ملک کو 200 ارب کا جرمانہ ہوا تھا، پاکستان نے ترکی کی کمپنی کو 200 ارب جرمانہ دینا تھا، ترکی کے صدر سے مذاکرات کر کے 200 ارب جرمانہ معاف کرایا۔وزیراعظم نے کہا کہ پختونخوا کا ڈیولپمنٹ فنڈ 200 ارب ہے، سابقہ دونوں حکومتیں اس حوالے سے کچھ نہیں کرسکیں، میری ٹیم نے تین سال مذاکرات کیے اورجرمانہ ختم کرایا، وہی کمپنی اب پاکستان میں نو ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کر رہی ہے، پاکستان میں سب سے بڑی 9 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ ہوگی، بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا۔امر بالمعروف جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کرپشن سے پاک حکومت آئے تو قوم کو فائدہ ہوتا ہے، مسلم لیگ (ن) نے گیس کے معاہدے سائن کیے تھے، ہماری حکومت نے گیس کے نئے معاہدے کیے، یہ فرق ہوتا ہے ہمارے معاہدوں سے قوم کو 700 ارب کی بچت ہوگی، نوازشریف نے خود نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی وزارت رکھی ہوئی تھی، نوازشریف دور سے ہماری حکومت نے فی کلومیٹر 23 کروڑ روپیہ سستی سڑکیں بنائیں،2013 میں (ن) لیگ نے سڑکیں بنانے کے لیے ایک ہزار ارب کی چوری کی، ہماری حکومت نے ان سے دگنی سڑکیں بنائی ہیں، ان سے پوچھتا ہوں کبھی ان کی حکومتوں نے آنے والی نسلوں کا نہیں سوچا، ہماری حکومت نے ایک ارب درخت اگائے، آج ہم 10ارب درخت لگا کر آنے والی نسلوں کے لیے بہتر پاکستان چھوڑ کر جائیں گے، ان کا سب کچھ لندن میں ہے، ان کو پاکستانیوں کی فکر نہیں ان کو لندن کے محلات کی فکر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کلمہ انسان کوغیرت دیتا ہے، دنیا اس کی عزت کرتی ہے جو خود اپنی عزت کرتا ہے، بے غیرت آدمی کی کوئی عزت نہیں کرتا، جو انسانوں کے سامنے جھکتا ہے اس کی کوئی عزت نہیں کرتا، اللہ نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ہم نے پاکستان کو دنیا کو سیاحت کا ہب بنانا ہے، اسکردو میں آسٹریا کی کمپنی انویسٹ کرے گی، سیاحت کو بڑھائیں گے اور ملک میں پیسہ لاکر دکھاؤں گا، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ جوسازش ہو رہی ہے اس پر بات کرنے لگا ہوں، میرے ماں، باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے تحریک آزادی کی اسٹرگل میں شرکت کی تھی، والدین نے کہا تم خوش قسمت ہو ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے، بیرون ملک پاکستانی غیر ملک میں روزی کمانے جاتے ہیں، بیرون ملک پاکستانیوں سے پوچھو آزاد ملک بہت بڑی نعمت ہے، سیاست شروع کی تو نصب اولین ‘ایاک نعبدو’ رکھا تھا، اے اللہ تیری عبادت کرتا ہوں تیرے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔وزیراعظم نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پرمغرب والے عمل کر کے آگے نکل گئے، رمزی یوسف کا وکیل جج کے سامنے کہتا ہے پاکستانی ڈالروں کے لیے اپنی ماں بیچ دیتے ہیں، یہ بات کبھی نہیں بھول سکتا، میری قوم غیرت مند اور لیڈر بے غیرت ہیں، جو لیڈر قوم کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا، جو لیڈر سپر پاور کے سامنے گھٹنے ٹیک دے وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا، میرے دل میں لا اللہ ہے کبھی جھکا نہ قوم کو کبھی جھکنے دوں گا، کرکٹ میں انگریز ٹیم سے کھیلنے سے پہلے ہار مان چکی ہوتی تھی، 1980 کی دہائی میں دنیا کی ٹیموں کو ہم نے شکست دی، ان لوگوں نے فارن فنڈنگ لے کر اپنے ملک میں ڈرون حملے کرائے۔جلسے سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑی کم تقریر لکھتا ہوں لیکن یہ بات ایسی ہے جذبات میں آکر کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا، ہمارے ملک کو پرانے لیڈروں کی کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں، ذوالفقارعلی بھٹو نے جب ملک کو آزاد فارن پالیسی دینے کی کوشش کی تو فضل الرحمان اور بھگوڑوں نوازشریف نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور آج جیسے حالات بنا دیئے گئے تھے، ان حالات کی وجہ سے بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، بھٹو سے اختلاف ہے لیکن اس کی ہمیشہ سے خود داری پسند تھی، آج اسی بھٹو کے داماد آصف زرداری سب سے بڑی بیماری اور اس کا نواسا کی کانپیں ٹانگ رہی ہے، دونوں کرسی کے لالچ میں نانا کی قربانی کو بھلا کر بھٹو کے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر وکالت کر رہے ہیں، انہیں شرم نہیں آتی جن لوگوں نے پھانسی دلوائی کرسی کی خاطر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ثبوت کے طور پر موجود ہے، فارن پالیسی کو مروڑنے کی باہر سے کوشش کی جا رہی ہے، شاہ محمود قریشی کو پچھلے مہینوں یہ پتا چلا، آج قاتل اور مقتول اکٹھے ہو گئے ہیں، قاتل اور مقتول کو اکٹھا کرنے والوں کا بھی ہمیں پتا ہے، لیکن آج بھٹو والا وقت نہیں، وقت تبدیل ہوچکا ہے، دریا کا پانی نکل چکا، اب نیا وقت آچکا ہے، یہ ہے سوشل میڈیا کا زمانہ ہے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، ہم کسی کی غلامی قبول نہیں کریں گے، ہم سب سے دوستی کریں گے، غلامی نہیں کریں گے۔ہوں نے کہا کہ میں الزامات نہیں لگا رہا ہے، میرے پاس جو خط ہے یہ ثبوت ہے اور میں آج یہ سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی شک کر رہا ہے، ان کو دعوت دوں گا کہ آف دا ریکارڈ بات کریں گے اور آپ خود دیکھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم کب تک ایسے چلیں گے کہ دھمکیاں مل رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش پر ایسی کئی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گے، قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ یہ لندن میں بیٹھا ہوا کس کس سے ملتا ہے اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے کے اوپر چل رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں اس سے زیادہ تفصیل سے بات نہیں کر رہا کیونکہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے ملک کے مفادات کے تحفظ کی کوشش کی جائے، ملک کو نقصان نہیں پہنچی چاہیے، میں نے پوری بات نہیں کی ورنہ میں کسی سے نہیں ڈرتا۔انہوں نے کہا کہ میرا چیلنج ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں میں نے جتنا کم پیسہ خرچ کیا اتنا کسی نے نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میری ان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب پاکستان کی پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی تو قوم دیکھے گی ایک ایک آدمی کو دیکھنا ہماری طرف سے جو ووٹ دالنے جائیں گے ان کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ نہیں کرنا، اس قوم نے کبھی آپ کو معاف نہیں کرنا۔وزیر اعظم عمران خان نے منحرف اراکین کو ‘پیغام’ دیا ہے کہ اگر انھیں حکومت پسند نہیں آ رہی ہے تو وہ استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑیں۔عمران خان نے کہا ہماری طرف سے جو ووٹ ڈالنے جائے گا انھیں کہتا ہوں قوم انھیں معاف نہیں کرے گی، اس لیے ایسا نہ کریں، وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ‘یہ بھی نہ کہنا کہ حکومت نے کام نہیں کیا، ترقیاتی کام نہیں کرائے، اور اگر حکومت پسند نہیں آ رہی ہے تو استعفے دو اور دوبارہ الیکشن لڑو۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے اراکین کو کہنا چاہتا ہوں کہ ن لیگ والو زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالنا تھا تو جب سے چیری بلوسم اور زرداری اکٹھے ہوئے ہیں تو بھول گئے ہیں کہ زرداری چور تھا، جب تک آپ کے ساتھ ہے تو چوری بری چیز نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رحمت للعالمین اتھارٹی اسی لیے بنائی ہے تاکہ بچوں کی تربیت ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ پی پی پی والوں بتاؤ کہ 30 سال لگایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف چور ہیں تو بھول گئے ہو۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے نہ صرف ہمارے لوگ واپس آئیں گے بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے اراکین کے ضمیر بھی جاگیں گے، کوئی بھی سیدھے راستے پر لگ سکتا ہے، مولانا فضل الرحمٰن کو اللہ نے وہ عزت نہیں دی جو مجھے دی اور اقوام متحدہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہو کر بات کی،زیر اعظم کے خطاب سے قبل وفاقی وزرا مراد سعید، اسد عمر اور شیخ رشید نے شرکا سے خطاب میں اپوزیشن بالخصوص شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپوزیشن رہنماؤں کو ‘ڈاکو’ قرار دیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری اور وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وزیرِ اعظم حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف ‘جنگ چھیڑ رہے ہیں’ مخالفین اپنی ‘ناجائز کمائی’ کے ذریعے پاکستان میں سیاست کر رہے ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ تحریک عدم اعتماد ایک چھوٹی سی چیز ہے۔ میں وزیر اعظم کو بتانا چاہتا ہوں کہ وہ پوری مسلم دنیا کے لیڈر ہیں اور وہ یہ جنگ جیتیں گے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نئے انتخابات کرائیں تاکہ اپوزیشن کو پتا چلے کہ پاکستان کے عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف سارے چور اکھٹے ہیں، پی ٹی ا?ئی سیاست میں حرام کا پیسہ لگانیوالوں کے خلاف کھڑی ہے۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ فضل الرحمٰن امریکی صدر جوبائیڈن کو دنیا کا لیڈر کہتے ہیں، شہباز شریف بوٹ پالش کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہ جنگ عمران خان کی نہیں بلکہ پاکستان کی جنگ ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج پھر قوم جاگ چکی ہے، اْج قوم جاگ چکی ہے تو بتاؤ کیا لٹیروں کو شکست ہوگی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوم تو بر صغیر کی تاریخ بدل گئی، 1947 میں جب قوم جاگی تو پاکستان بن گیا، 1965 میں قوم کھڑے ہوئی تو بھارت کو گھٹنئے ٹیکنے پر مجبور کردیا، پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد قوم جاگی تو دہشت گردوں کو شکست دی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیا ہے کہ این آر او دے دو، ہم تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں گے، کیا کرسی کی خاطر این آر او دے دیں، قوم فیصلہ کرچکی کہ چوروں، لٹیروں کو این آر ار نہیں دینا، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کو این آر او نہیں ملیگا،انہوں نے کہا کہ مخالفین کا ایجندڈا ایک نہیں، منشور ایک نہیں، منزل ایک نہیں، صرف بغض عمران میں سب ایک ہوچکے ہیں، آج پاکستان کے عوام نے وزیر اعظم عمران خان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ میں وزیر خارجہ ہوں، میرے سینے میں بہت سے راز ہیں، اگر راز کھول دوں تو مخالفین کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہونگے، ایک حلف کا پابند ہوں جس کے باعث ان رازوں سے پردہ نہیں ا ٹھا سکتا، میں جانتا ہوں کہ حکومت کے خلاف منصوبہ بندی کہاں ہو رہی ہے، کون منصوبہ بندی کر رہا ہے، مزید وضاحت نہیں کرنا چاہتا۔ان کا کہنا تھا کہ کیا قوم عمران خان کو جھکنے نہیں دیں گے، وہ بولی لگاتے ہیں، لوگوں کے ضمیر خرید لیتے ہیں، وہ سب ایک ہو گئے ہیں، وزیراعظم ان کے خلاف تنہا کھڑے ہیں،ان کی نشست، ان کا ووٹ عمران خان کی امانت ہے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کا کرپٹ ٹولہ لیڈر نہیں ڈاکو ہے، عوام ان ڈاکوؤں سے نجات چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عمران خان صاحب، عوام کی خواہش ہے کہ نوازشریف، شہبازشریف ڈاکو، آصف زرداری جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں،شیخ رشید نے کہا کہ ایک محبت وہ ہوتی ہے جو اقتدار کی ہوتی ہے، ایک محبت وہ ہوتی ہے جو غریب اور عوام کے سمندر کی ہوتی ہے۔وزیر داخلہ شیخ رشید نو اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مخالفین نے کرنل قذاتی، صدام حسین اور اسامہ بن لادن تک کا مال نہیں چھوڑا، یہ سازش کر کے شاہ عبداللہ کے ساتھ سعودی عرب گئے، انہوں نے پلیٹ لیٹس مینج کیے اور لندن گئے۔شیخ رشید نے کہا کہ قوم نے مہنگائی اور بیروزگاری، مہنگے بجلی اور گیس بل برداشت کیے ہیں اور اب عوام چاہتے ہیں کہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری لٹیرا جیل کے اندر ہوں، یہ کرپٹ ٹولہ لیڈر نہیں ڈاکو ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں کرنے والا مقرر نہیں ہوں، شارٹ تقریر کرنے والا لیڈر ہوں، یہ اپوزیشن چور، ڈاکو گینگ آف تھری ہے۔اس سے قبل جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ پارٹی کے سپورٹرز عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں، انہوں نے سپورٹروں کو یقین دلایا کہ ہمارا بہادر لیڈر کہیں نہیں جا رہا۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عوام دیکھیں گے کہ اپوزیشن چار دن بعد روئے گی، جن قومی اسمبلی کے اراکین نے پی ٹی آئی کو چھوڑا وہ اصل میں پارٹی سے تعلق ہی نہیں رکھتے تھے، عوام دیکھیں گے کہ کچھ روز بعد منحرف اراکین بھی پچھتائیں گے۔وزیر دفاع پرویز خٹک نے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں سے اگلے انتخابات میں بھی وزیر اعظم کی حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ عوام آخری سانس تک عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔وفاقی وزیر برائے مواصلات اور پوسٹل سروسز مراد سعید نے جلسہ گاہ میں موجود پی ٹی آئی کے حامیوں سے پی ٹْی آئی کی سپورٹ کا وعدہ لیا۔مراد سعید نے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں سے حلف لیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں، آئیے آج حلف اٹھائیں، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم قوم کی عزت، غیرت اور سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہم وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کریں گے۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ جلسہ گاہ میں موجود لوگوں نے نہ صرف اپوزیشن کو بلکہ بیرونی طاقتوں کو بھی پیغام دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس( جی ڈی اے) کی رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ سندھ میں بد ترین طرز حکمرانی ہے، صوبے میں ایک سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے، سندھ میں بلوچستان سے زیادہ احساس محرومی ہے۔ ڈاکٹر فہمیدہ نے سندھ حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو 14 سال ہوگئے، سندھ میں بد ترین طرز حکمرانی ہے، 14 سال حکومت کے دوران صوبے کے عوام کو پینے کا صاف پانی تک فراہم نہیں کیا گیا،سندھ کو ہیلتھ کارڈ کیوں فراہم نہیں کیا جاسکتا، سندھ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے سندھ حکومت کو سلیکٹڈ حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے حکمرانوں نے سندھ کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے، سندھ کے حکمران پنجاب جاکر کہتے ہیں کہ انصاف دیں گے، خیبرپختونخوا جا کر کہتے ہیں کہ ہم انصاف فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے، وہ پیپلزپارٹی کے ورکروں کو انصاف مہیا نہیں کرسکے وہ دوسرے صوبوں کو کیا انصاف فراہم کریں گے،انہوں نے کہا کہ ہم کابینہ کا حصہ ہیں، ا?ج تک حکومت کے ساتھ تھے تو ہمیں اس وقت بھی حکومت کے ساتھ رہنا چاہیے اور اصولی طور پر حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ میں نے کیا، ہم اصولوں پر کھڑے ہیں، اصولوں کا راستہ آسان نہیں ہوتا، اصولوں پر چلنے کا راستہ بہت مشکل ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ میں جی ڈی اے کی نمائندتی کرتے ہوئے آج عوام کے سامنے کھڑی ہوں، ہم پارلیمنٹ میں ایک حلف لیکر آتے ہیں اور اگر ہم اس حلف کی پاسداری نہ کریں اور اچانک ضمیر بھائی جاگ اٹھے تو پاکستان کا مستقبل اور جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا۔جی ڈی اے کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ جب ہم پیپلپزپارٹی میں تھے تو ہم نے سندھ کے عوام کے لیے آواز اٹھائی اور جب ہم نے دیکھا کہ سندھ کے عوام انصاف نہیں ہو رہا تو ہم نے پیپلپزپارٹی کو چھوڑا۔انہوں نے کہا کہ آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔انہوں نے کہا کہ میں اداروں سے، پاکستان کی عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے بھی کہتی ہوں کہ اگر ہم نے اس لوٹا کریسی کو نہیں روکا، آج اسطرح اس حکومت کو ختم کیا گیا تو آئندہ آنے والی کوئی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔انہوں نے منحرف اراکین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ضمیر تو بدنام ہوگیا، ہم اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں، لوٹا کریسی بند ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ شاندار جلسے پر پی ٹی آئی کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر