وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم کا 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان

جمعرات 04 نومبر 2021 وزیراعظم کا 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان

وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں پسے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیکج 120ارب روپے کا ہے جس سے13کروڑلوگ مستفید ہوں گے، 6ماہ تک پیکج کے تحت گھی،آٹا،،دال کی قیمت میں 30فیصد ڈسکاونٹ ملے گا۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے تناظر می ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے پڑے گی،دو خاندا ن ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں ،کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آدھی کردوں گا، بدھ کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ریلیف پیکج کے علاوہ احساس کے تحت 260ارب روپے کے پروگرام چل رہے ہیں ،کامیاب پاکستان میں 1400ارب روپے کی فنڈنگ رکھی ہے 2کروڑ خاندانوں کوسبسڈی پیکج سے 13کروڑ افراد مستفیدہوں گے، 40لاکھ خاندانوں کو کامیاب پاکستان پروگرام سے سودکے بغیرقرضے ملیں گے جب کہ شہروں میں کاروبار،کسانوں کو زمینوں کیلئے بلاسود5لاکھ تک قرضہ دیا جائیگا خوشی ہے تاریخ کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام سامنے رکھ رہاہوں احساس پروگرام کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں جنہوں نے تین سال میں پورے پاکستان کا ڈیٹا مرتب کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ جب تک ڈیٹا نہیں تھا ہمارے لئے سبسڈی دینا آسان نہیں تھا پروگرام سے ملک کو فلاحی ریاست بنانے میں مدد فراہم کریگا، کبھی بھی پاکستان کے معاشی حالات اتنے برے نہیں تھے جتنے ہمیں ملے حکومت ملی تو پاکستان کا خسارہ تاریخی تھا مشکل وقت میں مددکرنے پرسعودی عرب ، یوا ے ای اور چین کے شکرگزار ہیں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا کیونکہ ہمارے پاس ڈالر نہیں تھے۔ اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ایک خاندان میں ایک فردکیلئے اسکل ٹریننگ دی جائیگی، 22ہزار نئے چھوٹے کاروباروں کیلئے ہم نے قرضے دیئے اور دو لاکھ لوگوں کو اسکلز ایجوکیشن دے رہے ہیں، 60لاکھ اسکالرز شپ اور وظیفے دیں گے جس کیلئے47ارب روپے رکھے ہیں، تعلیم کے ذریعے ہم اپنے نچلے طبقے کو اوپر لاسکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہر پاکستانی خاندان کو ہیلتھ انشورس دینا میرا خواب تھا ہیلتھ کارڈ پروگرام پورے کے پی کے میں دیدیاگیا ہے، اس صوبہ میں لوگ کسی بھی اسپتال سے 10لاکھ تک علاج کراسکیں گے جب کہ اسلام آباد میں بھی ہیلتھ کارڈ کی فراہمی شروع کررہے ہیں اور پنجاب میں مارچ تک تمام خاندانوں تک ہیلتھ کارڈ آجائے گا۔کورونا بحران اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ہم ایک سال ملک کو مستحکم کرتے رہے پھر کورونا آگیا گزشتہ 100سال میں اتنا بڑا بحران نہیں جتنا کورونا سے آیا کوروناکی وجہ سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے اس مشکل مرحلے سے نمٹنے کیلئے این سی اوسی کی ٹیم بنائی بھارت میں کورونا کی وجہ سے لوگ اسپتالوں کے باہر پڑے تھے اگر ہم لاک ڈاون کرتے،معیشت کو بند کرتے تو معیشت تباہ ہوجاتی، پاکستان نے جو راستہ اپنایا اس میں بہت بڑی کنٹریبیوشن تھی نریندرمودی نے بھارت میں کرفیو لگایا تو ہم پر دبا وڈالا گیا کہ لاک ڈاون لگائیں مجھے فخر ہے کہ ہمیں کورونا سے بہتر طریقے سے نکلنے پردنیا میں پذیرائی ملی ڈبلیو ایچ او اور ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کی تعریف کی کورونا کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت منفی 7فیصد پرپہنچ گئی امریکا نے لاک ڈاون لگایا تو ان کی معیشت نیچے چلی گئی معیشت کو اٹھانے کیلئے امریکا نے 4ہزار ارب ڈالر خرچ کئے ہم نے اپنی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے صرف8ارب ڈالر خرچ کئے ہم لاک ڈاون سے بچتے رہے،ہم اسمارٹ لاک ڈاون کی طرف گئے،وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے کورونا کی وبا ء کے دوران اپنی زراعت کے شعبے کو بچایا، جس کے نتیجے میں چاول کی پیداوار میں 13.4فیصد اضافہ ہوا، اسی طرح گندم اور مکئی کی پیدوار میں بھی اضافہ ہوا ہے، کپاس کی پیدوار میں بھی 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مہنگائی کے مسئلے پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں مہنگائی کا مسئلہ ہے، میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے اس سے معاشرے کا فائدہ ہوتا ہے، میڈیا کو کہتا ہوں کہ وہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی کتنی بڑھی، عالمی سطح پر ضروری اشیا کی قیمتوں میں 50 اور پاکستان میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، تیل مہنگا ہوتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں، پچھلے تین چار ماہ میں تیل کی قیمت 100 فیصد بڑھ گئی ہے،بھارت میں 250 روپے اور بنگلا دیش 200 روپے جب کہ پاکستان میں 138روپے لیٹر ہے، ہمارا خسارہ بڑھتا جارہا ہے، ہمیں پٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی۔ کورونا کے بعد قیمتیں نیچے آنے لگیں گی۔میری دو خاندانوں سے درخواست ہے کہ وہ ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آدھی کردوں گا۔


متعلقہ خبریں


بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر