وجود

... loading ...

وجود

کووڈ کو شکست دینے والوں میں مدافعتی ردعمل طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان

هفته 24 جولائی 2021 کووڈ کو شکست دینے والوں میں مدافعتی ردعمل طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان

کووڈ کو شکست دینے والوں میں مدافعتی ردعمل طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے ۔امریکا کی ایموری یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کو بیماری کے خلاف طویل المعیاد مؤثر تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ یہ اب تک کی سب سے جامع تحقیق قرار دی جارہی ہے جس میں 254 کووڈ مریضوں کو شامل کیا گیا تھا۔ مریضوں میں بیماری کی شدت معمولی سے معتدل تھی اور بیماری کے 250 دن یا 8 مہینے بعد بھی ان میں وائرس کو ناکارہ بنانے والے مدافعتی ردعمل کو دیرپا اور ٹھوس دریافت کیا گیا۔محققین نے کہا کہ نتائج سے کووڈ کو شکست دینے کے بعد طویل المعیاد تحفظ کا عندیہ ملتا ہے اور ہم نے ایسے مدافعتی ردعمل کے مرحلے کو دریافت کیا جس کا تسلسل 8 ماہ بعد بھی برقرار تھا۔تحقیق میں دریافت کیا کہ نہ صرف مدافعتی ردعمل کی شدت بیماری کی شدت کے ساتھ بڑھتی ہے بلکہ ہر عمر کے افراد میں یہ مختلف ہوسکتی ہے ، یعنی ایسے نامعلوم عناصر موجود ہیں جو مختلف عمر کے گروپس میں کووڈ کے حوالے سے ردعمل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔مہینے گزرنے کے ساتھ محققین نے جائزہ لیا کہ ان کا مدافعتی نظام کووڈ 19 کے خلاف کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے ۔انہوں نے دریافت کیا کہ جسمانی دفاعی ڈھال نہ صرف متعدد اقسام کے وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بناتی ہے بلکہ مخصوص ٹی اور بی سیلز کو بھی متحرک کرکے یاد رہنے والی یادداشت کو تشکیل دیتی ہے جس سے ری انفیکشن کے خلاف زیادہ مستحکم تحفظ ملتا ہے ۔محققین نے بتایا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ کووڈ کے مریضوں کو دیگر عام انسانی کورونا وائرسز سے بھی تحفظ حاصل ہوگیا ہے اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ اس بیماری کو شکست دینے والے افراد کو کورونا کی نئی اقسام سے بھی تحفظ مل سکتا ہے ۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سیل رپورٹس میڈیسین میں شائع ہوئے ۔اس سے قبل مئی 2021 میں جاپان کی یوکوہاما سٹی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ سے بیمار ہونے والے 97 فیصد افراد میں ایک سال بعد بھی وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اوسطاً ان افراد میں 6 ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح 98 فیصد اور ایک سال بعد 97 فیصد تھی۔تحقیق کے مطابق جن افراد میں کووڈ کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں ہوئیں ان میں 6 ماہ بعد اینٹی باڈیز کی سطح 97 فیصد جبکہ ایک سال بعد 96 فیصد تھی، جبکہ سنگین شدت کا سامنا کرنے والوں میں یہ شرح سو فیصد تھی۔قبل ازیں اٹلی کے سان ریفلی ہاسپٹل کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 کو شکست دینے والے افراد میں اس بیماری کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈیز کم از کم 8 ماہ تک موجود رہ سکتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ مریض میں کووڈ 19 کی شدت جتنی بھی ہو اور ان کی عمر جو بھی ہو، یہ اینٹی باڈیز خون میں کم از کم 8 ماہ تک موجود رہتی ہیں۔ تحقیق کے دوران 162 کووڈ کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن کو اٹلی میں وبا کی پہلی لہر کے دوران ایمرجنسی روم میں داخل کرنا پڑا تھا۔ ان میں سے 29 مریض ہلاک ہوگئے جبکہ باقی افراد کے خون کے نمونے مارچ اور اپریل 2020 میں اکٹھے کیے گئے اور ایک بار پھر نومبر 2020 کے آخر میں ایسا کیا گیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ان مریضوں کے خون میں وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز موجود تھیں، اگرچہ ان کی شرح میں وقت کے ساتھ کمی آئی، مگر بیماری کی تشخیص کے 8 ماہ بعد بھی وہ موجود تھیں۔جنوری 2021 میں امریکا کے لا جولا انسٹیٹوٹ آف امیونولوجی کی تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ اس مرض کو شکست دینے والے افراد میں کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے خلاف اینٹی باڈیز 6 ماہ بعد بھی مستحکم ہوتی ہیں جبکہ اس پروٹین کے لیے مخصوص میموری بی سیلز کی سطح بھی بیماری 6 ماہ بعد زیادہ ہوتی ہے ، تاہم میموری ٹی سیلز کی تعداد میں 4 سے 6 ماہ کے دوران کمی آنے لگتی ہے ، مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ مقدار باقی بچ جاتی ہے ۔طبی جریدے سائنس میں شائع اس تحقیق میں شامل محقق شین کروٹی نے بتایا کہ کووڈ کے خلاف مدافعتی نظام کی مدافعت اس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد میں ممکنہ طور پر کئی برس تک برقرار رہ کر انہیں کووڈ سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ وجود - پیر 05 جنوری 2026

پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 05 جنوری 2026

سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی وجود - پیر 05 جنوری 2026

9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی وجود - پیر 05 جنوری 2026

اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے وجود - اتوار 04 جنوری 2026

کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - اتوار 04 جنوری 2026

فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی وجود - اتوار 04 جنوری 2026

ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی

ظہران ممدانی نے سابق میئرکے فیصلے منسوخ کر دیے، اسرائیل شدید برہم وجود - اتوار 04 جنوری 2026

  26 ستمبر 2024 کے بعد جب ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی نیویارک منتخب میئر نے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پیٹرول ڈال دیا ہے،اسرائیلی وزارتِ خارجہ نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میٔر ایرک ایڈمز کے تمام وہ ایگز...

ظہران ممدانی نے سابق میئرکے فیصلے منسوخ کر دیے، اسرائیل شدید برہم

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا وجود - هفته 03 جنوری 2026

معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس، عادل راجا، حیدر مہدی، وجاہت سعید، صابر شاکر و دیگر کو عمر قید کی سزا

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم وجود - هفته 03 جنوری 2026

ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...

خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے وجود - هفته 03 جنوری 2026

82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 82ہزار ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر وجود - هفته 03 جنوری 2026

سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...

تجاوزات کیخلاف مہم، صدر میں 32 دکانیں و ہوٹل سر بمہر

مضامین
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال وجود پیر 05 جنوری 2026
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال

بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی وجود پیر 05 جنوری 2026
بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی

وینزویلا،اسکرین کا پس منظر وجود پیر 05 جنوری 2026
وینزویلا،اسکرین کا پس منظر

جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال وجود اتوار 04 جنوری 2026
جے شنکرمصافحہ یا بھارتی نئی چال

ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا وجود اتوار 04 جنوری 2026
ہیمنتابسوا سرما نے قومی وقار کو پامال کردیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر