... loading ...
سندھ اسمبلی کی تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے سندھ میں پانی کے قلت کے خاتمہ اورپانی کی منصفانہ تقسیم کے مطالبہ کی حمایت کردی ہے ۔ وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کہاہے کہ صوبے میں پانی کی قلت سیاسی نہیں اکنامک ایشو ہے ،27 فیصد کم پانی دینے کا مطلب 27ارب کانقصان ہے ،جب بھی پانی کی قلت ہوتی ہے ٹی پی لنک کینال کھول دی جاتی ہے اورسندھ کا پانی کم کردیا جاتاہے سندھ میں ابی مسئلہ پرحکومت اورعوام متحد ہیں۔وہ سندھ اسمبلی میں پانی کے مسئلہ پرپالیسی بیان کے دوران اظہارخیال کررہے تھے ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ ڈیم بنیں گے توپانی ملے گا،یہ ہم کب سے سنتے چلے آرہے ہیں،سندھ اسمبلی میں ماضی میں جب پانی پرکوئی قرارداد پیش ہوئی توسب نے حمایت کی،2008سے لیکر2013تک جب بھی پانی کی قلت ہوئی ارسانے تقسیم میں بے قاعدگی کی کوشش کی ،جس کی سندھ نے سخت مذاحمت کی ہے ،جب پانی کی کمی ہوتی ہے تویہ کھیل ہمارے ساتھ کھیلاجاتا ہے ،ربیع کے پچھلے عرصے میں پبنجاب کو33فیصد پانی زیادہ سندھ کو27فیصد کم دیاگیا،ٹیل کے دونوں صوبے متاثرہوئے ۔انہوں نے کہاکہ 27ایم اے ایف مطلب 27ارب کانقصان ہوا، ہمیں سندھ کے لوگوں نے اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ ہم کے حق کی بات کریں۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں جو کچھ ہوا مجھے اس پر افسوس ہوا،ہم اپوزیشن میں تھے جب بھی پانی کے مسئلہ پر سندھ کا ایوان متحد رہاہے ،میں کوئی تنقید نہیں کروں گا،پانی کا مسئلہ سندھ کے ایوان میں رکھنا چاہتا ہوں،پانی کیمسئلہ پر ہم متحد رہے ہیں،2002 میں جب میں اسمبلی ممبر بنا تو مجھے پانی کا اتنا زیادہ علم نہیں تھا،جب ہم اپوزیشن میں تھے تو زیادہ ڈاکومنٹ نہیں ملتے تھے ،جہاں بھی پانی کا گزر ہے ،سندھ کی سر زمین ہمیشہ سر سبز شاداب رہی ،پنجاب سے سارا پانی آتا تھا،سارے نیچرل کینال تھے ،سیلاب آتے تھے تو تباہی ہوتی تھی،85 میں دریاؤں کو روکنے کاکام شروع ہوا،سندھ کا پانی کم ہوناشروع ہوتا گیا،گریٹر تھل کینال 2000 میں بنا ہے یہ ایک ڈکٹیٹر کے زمانے میں بنا،1945 میں دونوں صوبوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا،پانی کا معاملہ سیاسی نہیں اکنامک ایشو ہے ،اس وقت ایک گورے کو بھی اس کا علم تھا،اس معاہدے میں پنجاب کو 48.8 اور 46.08 ملین ایکٹر فٹ پانی میں حصہ ملا تھا،قومی اسمبلی میں 1970 میں واپڈا نے کہا تھا ہم 1945 کے معاہدے کو فالو کرتے ہیں۔1948 اپریل میں ہندوستان نے ہیڈ ورکس بند کردئیے ،اس وقت پاکستان کی حکومت نے پیسے بھی بھارت کو دیے تھے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارا موقف شروع سے ایک ہی رہا ہے ،یہ کہا جاتا ہے کہ سمندر میں پانی ضائع کیا جارہا ہے ،یہ ضائع نہیں کیا جاتا ہے ،ہم اپنے لوگوں کو پیاسہ مار کر پانی نہیں دے سکتے ہیں،پرانا کیس پڑھ لیں،1971 میں ہمارا ملک ٹوٹا،پہلے سال مسئلہ ہوا،یہ وہ وقت تھاجب چشمہ جہلم کینال بنا تھا،72 میں گورنرز نے اس اکارڈ پر دستخط کیے ،اس وقت وزیر اعلیٰ نہیں تھے ۔سندھ کی طرف سے 72 میں ایک خط لکھا گیا کہ سندھ میں پانی کی شارٹیج ہے تو کینال بند کردیں تو انہوں نے بند کردیا،85 میں جاکر پھر پانی کے مسائل ہوئے ،سندھ کے پانی پر ڈاکہ کے علاوہ پھر اور کیا الفاظ استعمال کریں،1991 میں واٹر اکارڈ کیا گیا،اس کی پیپلز پارٹی نے مخالفت کی تھی،48.76 ملین ایکٹر ہمارا کیا گیا،پنجاب کا 58 ملین ایکٹر کردیا گیا ،پنجاب اپنے پروجیکٹ بناتا گیا،پھر کہا گیا کہ یہ ہمارا حق ہے ۔مراد علی شاہ نے کہاکہ 1991 کے معاہدے کے مطابق سب نے سمندر میں پانی جانے پر دستخط کیے ۔ہم نے کہا سمندر میں 10 فیصد پانی جانا چاہیے ،کوٹری میں یہ پانی جانا چاہیے تاکہ ہمارا ڈیلٹا آباد رہے ،انہوں نے کہا 5 ہزار کیوبک فٹ پانی ہر وقت سمندر جائے ،کوٹری بیراج کی حالت سب نے دیکھی ہوگی،ایک قطرہ پانی وہاں نہیں جاتا۔ان حالات میں اگر کوئی اور ڈیم بنتا ہے اس کو 50 فیصد اس وقت تک بھرا نہیں جاسکتا ہے جب تک کہ سیلاب آجائیڈیم پھر ہی بھر سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جس کو بھی ثبوت اورحقائق چاہئیں وہ آئے اور لے لے ، میں نے واپس اس مٹی میں جانا ہے ،مجھے کیوں نہیں اپنی مٹی کے لیے جذبات آئیں گے ،اپوزیشن بھی سوالات ضرور کرے انہیں حقائق بتائیں گے شواہد دکھائیں گے ۔ سندھ کا مقدمہ مضبوط ہے ۔مراد علی شاہ نے کہاکہ میں پیر کو ایوان میں شکار پور ایشو پر بیان دوں گا،ہم پنجاب کے لوگوں کے خیر خواہ ہیں،ہم صرف ایک بات کہتے ہیں انصاف سے جو پانی کا حصہ ہے وہ دیں۔آپ اپنے حق سے زیادہ کی بات نہ کریں،میں نے تین وزیر اعظم کے سامنے پانی کی باتیں رکھی ہیں،پانی کے اوپر کبھی سندھ اسمبلی میں جھگڑا نہیں ہوا اگر کسی نے کوئی ایسی بات کی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں،آپ جگہ بتائیں میں آنے کیلیے تیار ہوں ہمیں سندھ کے لوگوں نے اس لئے منتخب کیا ہے تاکہ ہم حق کی بات کریں۔سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے خواجہ اظہارالحسن نے وزیراعلی سندھ کی تقریرکی جواب میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ہم وفاقی حکومت کے اتحادی صحیح لیکن پانی کے مسئلے پر سندھ کے ساتھ ہیں، پانی زندگی و موت کا مسئلہ ہے ،وزیراعلی مرادعلی شاہ نیمدلل انداز میں پانی کیمعاملے پر بات کی،سندھ کیحق کے لیے ہر فورم پرساتھ ہیں۔ پی ٹی ا?ئی کے پارلیمانی لیڈر بلال عبد الغفارنے پانی کیمسئلے پر وزیراعلی سندھ کے خطاب حوصلہ افزا ہے ،سندھ کیمسئلے پر سب ایک پیج پر ہیں،پانی کیمسئلے پر ایک پورا دن ایوان میں بریفنگ دی جائے ،ہم سندھ کیحقوق کے لیے ساتھ ہیں۔ ایم ایم اے اور جی ڈی اے کے ارکان نے بھی وزیراعلی مرادعلی شاہ کیخطاب کا خیر مقدم کیا جی ڈی اے کے عارف مصطفی جتوئی نے کہاکہ پانی ہم سب کا مسئلہ اور بنیادی ضرورت ہے ،ہم سب سندھ کیمسائل پر ایک ساتھ ہیں۔ایم ایم اے کے سید عبد الرشید نے کہاکہ میں پانی کے مسئلہ پر مکمل سپورٹ کرتا ہوں،سندھ کے حقوق کی ساری جدو جدوجہد میں ان کے ساتھ رہیں گے ۔ایم کیوایم کے جاوید حنیف نے کہاکہ سندھ کے حقوق کے لیے ہم سب متحد ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ جس دن بھی کوئی ٹائم فکس کریں میں پوری تیاری سے ان کے ساتھ ہوں۔
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...
حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...
شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...
ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...
پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...