وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

لڑائی کیا ہے؟

منگل 09 فروری 2021 لڑائی کیا ہے؟

لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔
ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا، جب پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما فوجی قیادت پرسیاست میں مداخلت کاا لزام لگاتے پھرتے تھے۔ اُن پر ”سلیکٹرز“ کی پھبتی کسی جاتی تھی۔ وہ عمران خان حکومت کی نالائقیوں پر موردِ الزام ٹہرائے جاتے تھے۔ایک وقت تھا کہ مقتدر قوتوں کا ذکر انتہائی محتاط الفاظ سے کیا جاتا۔ گاؤں کی الھڑ دوشیزہ کی طرح جو اپنے محبوب کا نام لینے سے گریزاں رہتی اور پلو کے کناروں کو موڑتے ہوئے ہونٹوں کے کناروں سے ”اِن“یا ”اُن“ کے ساتھ ذکرکرتی۔جون ایلیا کو یہ لہجہ اُکتائے رکھتا، کہا:
شرم دہشت جھجھک پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
آپ وہ جی مگر یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں
اردو غزل کے محبوب سے مقتدر قوتوں کے عزل وفضل تک نام کا یہ جھگڑا رہتا ہے۔ پی ڈی ایم نے حکومت مخالف تحریک چلائی تو نوازشریف نے اچانک مقتدر قوتوں کے دو”عالی مناصب“نشانے پر رکھ لیے۔یوں تاریخ میں پہلی مرتبہ سرگوشیوں کی باتیں کوٹھوں چڑھیں۔ پی ڈی ایم کے اسلام آباد اجلاس سے گجرنوالہ اور کوئٹہ جلسوں تک ”نامعلوم“ اُبال کے زیر اثر تاج وتخت اچھالنے کے تذکرے ناموں کے ساتھ جاری رہے۔ یوں لگتا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک انقلاب زیر گردش ہے جو مستعار زمین و آسمان پھونک ڈالنے کو بے قرار ہے۔ کوئی دن جائے گا کہ ”دستوری بدعنوانی“ اور ”صبح بے نورانی“کو ”میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا“ کا پرچم لے کر مسترد کردیا جائے گا۔ قافلہئ جمہور کو سربلند آئین کے ساتھ افلاطون کی مثالی جمہوریہ مل جائے گی، جس میں منصب ِ حکمرانی پر عوام کے اہل، منتخب نمائندے عدل اور مساوات کے گیت گاتے رونق افروز ہوں گے۔ یوں پون صدی پر محیط اہلِ وطن کی تھکن اُتر جائے گی۔ راولپنڈی کی فضائیں صرف جذبوں کی ترجمان رہیں گی اوراسلام آباد کی ہوائیں عوامی امنگوں کو زبان دینگیں۔ نوازشریف کی مستعار پونے تین عدد تقاریرسے پون صدی کے چال چلن کے بدلنے کی امیدیں اُسی ”صحافتی پیر فرتوتوں“ نے دلوائی تھیں،جن کے کرتوتوں نے صحافت کو حکمرانوں کی دہلیز پر دائم سجدہ ریز رکھا۔ جن کی آزادیئ صحافت کا نغمہ ”آنے والی کی مدحت او رجانے والے کی مذمت“ کے تاروں سے ترتیب پایا۔ اس طبقے کو اقتدار کے کھیل میں عمران خان نامی ایک حادثے نے اچانک دربدر کردیا۔ اب موقع کے منتظر اور دسترخوان کے متلاشی طبقے نے اچانک دستوری کرپشن اور صبح بے نور کے انقلابی الفاظ میں اپنے سُر شامل کرنے کے سو جتن کیے۔ تاریکیوں کے سودوں کو سورج کے اجالوں کا مغالطہ دیا۔رائیونڈ میں پڑی چار دہائیوں کی باسی کڑھی میں اچانک انقلابی اُبال کی خبر دی۔ پاکستان کے طول وعرض میں ”ووٹ کو عزت دو“کی گونج گمک سنائی۔ ایسا لگا کہ صحافت آبرو کی چادر اوڑھ رہی ہے،منافقت کا نقاب نوچ رہی ہے۔ سیاست بدعنوانی کے چلن سے تائب ہو کر قائدا عظم کی راہ لے رہی ہے۔اب راستبازی نئے ملک کا چلن ہوگا۔ ووٹ کی عزت گردو پیش ہوگا۔ راولپنڈی میں ”ملازمین“ ملازمتیں کریں گے۔ سیاست دان ایمان داری اور عقل مندی کی تصویر بن کر افلاطون کے فلسفی حکمران کو شرمائیں گے۔ دنیا کی تمام جمہوریتیں ہمارے سیاسی چال چلن کو اپنے لیے نمونہئ منزل بنائیں گی۔قومی اداروں میں شفافیت کی امرت دھارائیں پھوٹ بہیں گی۔عدل کی مسندیں انصاف سے سربلند ہونگیں، نوشیروان کیقباد اور کمبوجیہ کی جگہ تاریخ میں ہماری مثالیں جنم لیں گی۔ شفاف طرزِ حکمرانی، مقننہ، عاملہ اور عدلیہ کے ستونوں کو پائیدار کردے گا۔ کوئی زینب بے آبرو نہ ہوگی۔ کسی موٹر وے پر عزت اور پیسے پر کسی عابد ملہی کی میلی نظریں نہ ہونگیں۔ جعلی پویس مقابلے بند ہو جائیں گے۔ اسلم چودھری اور راؤ انواز جیسے شقی القلب کبھی جنم نہ لے جاسکیں گے۔ قانون طاقتور کی لونڈی اور انصاف دولت مند کی کنیز نہ ہوگی۔کوئی سنتھیارچی پاکباز سیاست دانوں کے شرعی شب وروز کے احوال نہ سنائے گی۔

مافیاؤں کا دور لد جائے گا۔ ایک دودھ والا کسی شہر کے کمشنر کو بارہ کروڑ کی رشوت اورساتھ دھمکی نہ دے سکے گا۔ سرکاری ہرکارے مافیاؤں کی بولی نہ بولیں گے۔ ادویات پر سفاک تاجروں کا قبضہ نہ ہوگا۔ ادویات کی بڑھتی قیمتوں کا حصہ وزیروں کی جیبوں اور گورنروں کے گھروں کی رونق نہ بڑھائے گا۔ قیمتیں منڈی کی قوتیں قابو نہ کریں گی۔ انسان، صارفوں کی طرح نہ سمجھے جائیں گے۔ ملک پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی کی طرح کام نہ کرے گا۔ چینی، گندم، تیل کی قیمتیں کسی سفاک ٹولے کی مرضی کے تابع نہ ہونگیں۔ پینے کا صاف قدرتی پانی بھی نجی کمپنیوں کی تحویل میں نہیں ہو گا۔ تعلیم تجارت نہ ہوگی۔ یہ طبقات کو جنم نہ دے گی۔ کوئی بچہ اس سے محروم نہ رہے گا۔ یہ ریاست کے ذریعے سب کو یکساں، ہم آہنگ اور بلامعاوضہ دی جائے گی۔تعلیم اور صحت پر نجی کمپنیوں کا اجارہ ختم ہو جائے گا۔ حکومتیں تعلیم اور صحت کی فراہمی میں بھید بھاؤ کا شکار نہ ہونگیں۔ تھر میں بچے بھوکے نہ مریں گے۔ شمالی پنجاب کے لوگ لاہور کے دست نگر نہ ہوں گے۔کوئٹہ کی سرد ہواؤں میں اپنوں کے بچھڑنے کا کوئی ماتم نہ ہوگا۔ اہلِ کراچی کے دکھوں کا چارہ گر، تاجر نہ ہوگا۔ غم، آنسو، درد، جذبہ اور لگن کاروبار نہ بنایا جائے گا۔ بیماریاں سیاست کاری کے کام نہ آئیں گی۔ کراچی سے کشمور تک کوئی عورت سونا لادے جارہی ہوگی تو اس پر کوئی میلی آنکھ ڈالنے والا نہ ہوگا۔ بیچ میں کوئی عابد ملہی کھڑا نہ ملے گا۔

کرایے کی زبانوں اور قلم کاروں نے نوازشریف کی پونے تین تقاریر سے یہ امید بھی پید اکردی تھی کہ اب کوئی چائنا کٹنگ نہ ہوگی۔ ریاست کی زمین پر قابضین سیاسی چادر اوڑھ کر قبضے نہ کرسکیں گے۔ کوئی کھوکھر پیلس نہ ہوگا۔ فارم ہاؤسز کے دور لد جائیں گے۔ وراثت کی کھکھیڑوں میں زمینیں ہتھیانے کا کھیل اب ختم ہوجائے گا۔ دو فوجی مناصب پر فائز شخصیات کے نام لیے جائیں تو بس سیاست عسکری دباؤ سے آزاد ہو جائے گی۔ راوی چین ہی چین لکھے گا۔چنانچہ سلیکٹڈ حکومت کے خلاف گالی گفتار کے ساتھ سلیکٹرز کے ساتھ”گرم گفتار“ تقاریر کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔ یہاں تک کہ راولپنڈی کی جانب لانگ مارچ کا رخ کرنے کے عالمانہ اعلان نے بھی خوب داد سمیٹی۔ مگر یہ کیا؟ ابھی تک پی ڈی ایم کے الزامات یہ تھے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پیچھے سلیکٹرز ہیں۔ فوجی ترجمان اس الزام کی وضاحت فرماتے تھے۔ اب فوجی ترجمان یہ وضاحت کررہے ہیں کہ ”پی ڈی ایم سے کسی قسم کے بیک ڈور رابطے استعمال نہیں کیے جارہے“۔مولانا فضل الرحمان نے تو اعلان فرمادیا کہ”ہماری جنگ حکومت کے ساتھ ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں۔ اس سے ہمیں گلے شکوے ہیں اور شکایت اپنوں ہی سے ہوتی ہے“۔اب ایک تقریر نوازشریف صاحب بھی فرمائیں کہ اُن پر بیک ڈور رابطوں کا الزام کیوں عائد ہورہا ہے؟ اور فوجی ترجمان وضاحت کیوں فرما رہے ہیں؟ نوازشریف صاحب یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ ایک جماعت کا فوج سے رابطہ ”کیریکٹر ڈھیلا“ کے بمصداق کیوں اور دوسرے کا رابطہ ”راس لیلا“کیوں سمجھا جاتا ہے؟ کیا فوجی مناصب پر تنقید اس لیے تھی کہ فوج کو سیاست میں دخیل ہی نہ ہوناچا ہئے یا پھر اس لیے تھی کہ وہ عمران خان کے بجائے اُن کی جانب کیوں نہیں دیکھ رہی؟ یہ جنگ کمبل چھڑانے کی ہے یا پھر کمبل چرانے کی؟کیا عوام یہ سمجھ لیں کہ لاحاصل کی خواہش فضول ہے۔
٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا