... loading ...
رپورٹ: شہزاد علی شاہ: عام انتخابات کے بعد صوبہ سندھ میں بننے والی پاکستان پیپلزپارٹی کی نئی حکومت نے اعلیٰ بیوروکریسی میں تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے اپنی سابقہ روش کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اپنی پسند ناپسند کو ترجیح دینا اور اعلیٰ بیوروکریسی کو مکمل اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لیے من مانے اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں ، انتہائی اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی قربت میں رہنے والے چند پی ایس ایس افسران ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی رنجشوں اور پیشہ ورانہ رقابت کے تحت اہم عہدوں پر اپنے من پسند افسران کو تعینات کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے خوشامدانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں ، اس سلسلے میں اہم ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ روز سیکرٹری سروسز کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے نوید احمد شیخ کو محض اس بناء پر اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے کہ ا نہوں نے اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک طاقتور ایم پی اے کی سفارش پر سندھ کے ایک اہم ضلع میں منظور نظر افسر کو ڈپٹی کمشنر تعینات نہیں کیا تھا جس پر راتوں رات انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا
تھا ، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت سندھ کے اسی نازیبا رویے سے متنفر ہو کر ڈی ایم جی افسران کی خاصی تعداد مرکزی حکومت میں رپورٹ کرنے کے لیے پر تول رہی ہے ، بیوروکریسی کے ذرائع نے اس بات پر اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے گزشتہ ماہ کے احکامات کے مطابق اقبال حسین درانی ، سید خالد حیدر شاہ ، سہیل راجپوت ، سید آصف حیدر شاہ اور اقبال میمن کو مرکزی حکومت رپورٹ کرنا تھی تاہم ان افسران میں سے اقبال حسین درانی ، سہیل راجپوت ، سید آصف حیدر شاہ اور اقبال میمن نے مرکزی حکومت رپورٹ کی ہے جبکہ خالد حیدر شاہ ہنوز بطور سیکرٹری بلدیات کے سندھ حکومت میں ہی اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایم جی افسران کی رائے کو اب کم اہمیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان افسران میں شدید اضطراب اور بد دلی پائی جاتی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سندھ حکومت کا ایسا ہی جانبدارانہ رویہ رہا تو سندھ کی اعلیٰ بیوروکریسی میں بحران کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اور کثیر تعداد میں ڈی ایم جی افسران کے مرکزی حکومت رپورٹ کر جانے پر حکومت سندھ کا کاروبار ٹھپ ہو سکتا ہے ، ذرائع کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ کا تعلق بھی ڈی ایم جی گروپ سے ہے اور انہیں اس بات کا شدت کے ساتھ احساس بھی ہے کہ وہ اپنے بیچ میٹس کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح سے ناکام رہے ہیں اور وہ بذات خود اس بات کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ اگر سندھ حکومت کا رویہ ایسے ہی رہا تو ڈی ایم جی افسران کی بڑی تعداد مرکزی حکومت کی جانب رخت سفر نہ باندھ لے اور یہ ہی وجہ ہے کہ چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ مذکورہ صورتحال میں خاصے متفکر دکھائی دیتے ہیں ، دریں اثناء سروسز معاملات کے قانونی ماہرین نے روزنامہ جرأت کو بتایا کہ پوسٹنگ کی مدت کے حوالے سے 1986ء کے قانون کے سیکشن 35 کے مطابق کسی بھی افسر کی کسی بھی عہدے پر تعیناتی کی مدت کم از کم 3 سال ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے سابق چیف سیکرٹری سندھ رضوان میمن نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا شق ختم کر دی تھی ، قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے مطابق بھی کسی بھی افسر کو کم از کم ایک سال تک اس کے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...
سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ،امن کیلئے صوبائی حکومت کو کوششیں مزید بڑھانا ہوں گی، صوبائی حکومت با اختیار ،خیبر پختونخوا وفاق کی اہم اکائی ،صوبائی اداروں کو مضبوط کرے،شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات ہوئ...
دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایک دو ملاقاتیں مزید ہوں گی، میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور میں نے بانی سے ملاقات کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔وزیراعظم...
14 روز انتظار کے بعد 30 جنوری کو جواب دینے میں ناکامی پرعہدے سے ہاتھ دھونا پڑا سابق ڈی آئی جی ٹریفک کوعہدے سے ہٹانے پر مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں (رپورٹ : افتخار چوہدری)ڈی آئی جی پیر محمد شاہ پرمبینہ طور پر ذاتی اثرورسوخ استعمال کرکے تاجرکومبینہ طورپراغوا کروانے کا ا...
عدالت نے ایف آئی اے کو چالان مکمل کرنے کیلئے 2 دن کی مہلت دے دی معاملہ 2022 سے چل رہا ہے ، آپ نے دلچسپی ہی نہیں لی، پراسیکیوٹر سے مکالمہ فارن فنڈنگ کسی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار ہوگئی۔بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف غیر...
آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے،شہباز شریف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کومسترد کرتے ہیں،پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی، ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، سندھ طاس معاہدے...
گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...