وجود

... loading ...

وجود

انتخابی مہم کے لیے عمران خان پرویز خٹک کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا

بدھ 23 مئی 2018 انتخابی مہم کے لیے عمران خان پرویز خٹک کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا

انتخابی مہم کے لیے عمران خان نے پرویز خٹک کو خصوصی خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپوزیشن جماعتوں کے اکثریتی علاقوں کو آئندہ الیکشن کے لیے اپنا ہدف بنا لیا ہے اور یہ حکمت عملی طے کی گئی ہے کہ ان علاقوں میں آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا جائے اور ایسے امیدوار سامنے لائیں جائیں جو یقینی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہو۔ اس مقصد کے لیے پارٹی کے سربراہ عمران خان نے صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا ہے اور انہیں ہدایت کی ہے کہ اپنے دور حکومت میں غربت مکاؤ، تعلیم و صحت کے انصاف، امن و امان کے انقلابی اقدامات اور کرپشن فری خیبر کے منشور کے تحت کی گئی اصلاحات کے نام پر انتخابی مہم شروع کی جائے اور تبدیلی کے حوالے سے جو اقدامات کیے گئے ہیں، ان کو بنیاد بنا کر رائے عامہ ہموار کی جائے۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹیاں مالاکنڈ ڈویڑن، ہزارہ ڈویڑن، جنوبی خیبر میں انتخابی مہم کے لیے مستقل ڈیرے ڈال رہی ہیں۔ انہیں عوام سے ڈور ٹو ڈور ملاقاتوں کا فریضہ بھی سونپا گیا ہے۔ کمیٹیوں کے پاس وہ تشہیری مواد بھی ہے جن میں صوبائی حکومت کے قلیبی کارناموں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ خصوصاً نو یونیورسٹیوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں قائم کی گئیں۔ ان میں خواتین یونیورسٹی صوابی، شہدائے آرمی سکول یونیورسٹی نوشہرہ، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، ویمن یونیورسٹی مردان، یونیورسٹی آف بونیر، یونیورسٹی آف چترال، زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لکی مروت شامل ہیں۔

اس حوالے سے اس امر کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور میں ان درسگاہوں کو حکومت کی ملکیتی اراضی پر تعمیر کیا گیا، جن کے کیمپس گزشتہ ادوار میں کرایہ کی بلڈنگوں میں قائم تھے۔ نئی انتخابی حکمت عملی کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیر بالا میں جماعت اسلامی یعنی ایم ایم اے سے پی ٹی آئی کا مقابلہ متوقع ہے۔ جہاں جماعت اسلامی کے بشیر خان اور بخت بیدار مضبوط امیدوار ہیں، جن کے مقابلے میں پی ٹی آئی تیمرگرہ سے ملک انعام کو امیدوار کے طور پر سامنے لاسکتی ہے۔ لوئر دیر میں اے ایم پی اور اپر دیر میں پیپلز پارٹی کی جڑیں مضبوط ہیں ۔ یہاں پی ٹی آئی خاصے مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتارے گی۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق، عنایت اللہ اور طارق اللہ اور مظفر سید مضبوط امیدوار گردانے جاتے ہیں کہ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے نواز خان الیکشن میں امیدوار ہوسکتے ہیں، اسی طرح مالاکنڈ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر ہمایوں خان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے شکیل احمد کو اتارا جائے گا۔ ان کی انتخابی مہم فوری طور پر بڑی سرگرمی سے شروع کی گئی ہے۔ سوات میں پی ٹی آئی کا مقابلہ ایم ایم اے اور اے این پی سے کانٹے دار ہوگا۔ مالاکنڈ ڈویڑن کے کئی علاقوں شانگلہ اور بونیر وغیرہ میں مسلم لیگ (ن)، اے این پی، ایم ایم اے اور پی ٹی آئی مضبوط امیدوار میدان میں اتارنا جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے امیر مقام بھی اسی حلقے سے امیدوار ہیں۔ ہزارہ ڈویڑن بلخصوص کوہستان وغیرہ کے مذہبی علاقے تصور کیے جاتے ہیں۔

وہاں پی ٹی آئی اس بات کو بنیاد بنا کر انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں کہ ہماری صوبائی حکومت نے قرآن پاک کو بمعہ ترجمہ انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں شامل کیا۔ اس طرح جنوبی خیبر یعنی بنوں، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان، کرک اور لکی مروت وغیرہ پر بھی مذہبی رنگ غالب ہیں اور ان علاقوں کو جے یو آئی کے اکثریتی علاقے کہا جاتا ہے۔ یہاں سے جے یو آئی کے سابق ایم این اے سمیت کئی ممتاز مذہبی شخصیات پی ٹی آئی میں شامل ہوچکی ہیں جبکہ یہاں پی ٹی آئی نے اس امر کو اپنا انتخابی نعرہ قرار دیا ہے کہ ہم نے جہیز پر پابندی لگوائی، سود کو حرام قرار دلوایا اور مذہبی تعلیم کو بھی لازمی کیا گیا۔ غیر اسلامی اسباب کو نصاب سے حذف کیا گیا۔ یہ مذکورہ دونوں نکات پی ٹی آئی کو الیکشن میں سپورٹ کریں گے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی سروے رپورٹ تیار کرنے والے معروف اداروں ایلان، بیورو آف شماریات حکومت پاکستان اور دیگر فرموں کا بھی سہارا لے رہی ہے، جن کی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت میں گڈ گورننس کے انقلابی اقدامات متعارف کروائیں اور خیبرپختونخوا میں واقع تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ پی ٹی آئی صوبے میں انتخابی مہم کے لیے سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے آبائی ضلع مردان کو بھی ٹارگٹ کر رہی ہے۔ اس بارے میں عالمی اداروں کا سروے ہے کہ اس ضلع میں اے این پی 17 فیصد اور پی ٹی آئی 60 فیصد مقبولیت کی حامل ہے جبکہ باقی تمام جماعتیں مجموعی طور پر 23 فیصد اکثریت رکھتی ہیں۔ جہاں تک پشاور کا تعلق ہے تو میٹرو منصوبے، بی آر ٹی کے حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کے باوجود اہل پشاور اس منصوبے کو اپنے لیے بہت بڑی تفریحی نعمت تصور کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں پہلے سے کئی زیادہ نشستیں حاصل کرے گی۔ ضلع چارسدہ اور صوابی جو طویل عرصے تک اے این پی کا گڑھ رہے، وہاں باچا خان خاندان کی مقبولیت میں نمایاں کمی ہیں جبکہ صوابی میں اسد قیصر اور ترکئی خاندان اے این پی کو سخت ٹائم دیں گے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی اس پرانی سیاسی روایت کو یکسر بدل دے گی کہ حکمران جماعت آئندہ آنے والے فوری الیکشن میں جیت نہیں سکتی بلکہ اسے زبردست عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر