وجود

... loading ...

وجود

سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں

اتوار 13 مئی 2018 سرگودھا کی کرانہ پہاڑیوں میں قدرتی حسن سے مالامال چشمے اور جھیلیں

سرگودھا جغرافیائی لحاظ سے خوبصورت پہاڑیوں سے مالا مال ہے۔ کرانہ پہاڑیوں کا یہ سلسلہ سرگودھا کے علاقے شاہین آباد سے لے کر چنیوٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد روڈ پر جائیں تو ان پہاڑیوں کی تابناکی کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے دیو مالائی حسن اور قصے کہانیوں کے وارث ہیں۔ انہی پہاڑیوں کی بدولت سرگودھا کو ایشیا کی سب سے بڑی اسٹون کرشنگ انڈسٹری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرگودھا کی انہی پہاڑیوں میں سے پھوٹنے والے چشمے اور جھیلیں جہاں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے عوام کی توجہ کے مرکز ہیں، وہیں عوام ان کے اچانک معرض وجود میں آنے سے حیران ہیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں مسکراتی یہ جھیلیں اور چشمے قدرت کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کرانہ پہاڑیوں میں جاری اسٹون کرشنگ کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر پانی کی سطح بلند ہوگئی اور پہاڑوں کے بیچ سے رسنے والے پانی نے مختلف جگہوں پر چشموں اور جھیلوں کی صورت اختیار کرلی۔ایک ایسا ہی قدرتی چشمہ شاہین آ باد کی پہاڑیوں میں ہے جو ہر دیکھنے والے کو اپنی خوبصورتی کے جال میں جکڑ لیتا ہے، یہ چشمہ تفریح کے لیے مثالی جگہ ہے۔

سرگودھا شہر سے 20 کلو میٹر دور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چک نمبر 123 جنوبی رْخ کے بالکل سامنے واقع یہ چشمہ اپنے نرالے حسن کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول ہے۔ اسے ’’شاہینوں کی جھیل‘‘ بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا انمول شاہکار گزشتہ دہائی میں گرد و نواح کی پہاڑیوں میں بے جا بارود کے استعمال اور بلاسٹنگ سے ہونے والی جغرافیائی تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آیا۔ پہاڑوں کے بیچوں بیچ کھڑے چشمے کے پانی کو دیکھ کر سب حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ پانی آیا کہاں سے۔ پانی کی مقدار میں اکثر اضافہ ہو جاتا ہے۔ گہرائی بھی خاصی زیادہ ہے۔ کئی سال گزرنے کے باوجود چشمہ خشک نہیں ہوا۔ یہ چشمہ چاروں طرف سے چٹانی پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ جیسے یہ زمین کا انمول ترین حصہ ہو۔ بڑی بڑی چٹانوں کے بیچ کھڑا چشمے کا سبز پانی قدرت کا طلسماتی کرشمہ محسوس ہوتا ہے اور اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی افسانوی منظر ہو۔ پہاڑوں کی ساخت ایسی ہے کہ ان پر چڑھنا آسان ہے۔ اونچائی پر جا کر سبز پانی پر نظر ڈالی جائے تو انسان خود کو کسی سمندری جزیرے یا پھر جادوئی وادی میں محسوس کرتا ہے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس وادی نما چشمے کا رخ کرتی ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں پکنک اور تفریح کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ویک اینڈ پر یہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس چشمے کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور پاکستانی فلم ’’عشقِ خدا‘‘ کے ایک گانے کی شوٹنگ اسی مقام پرکی گئی، جبکہ دیگر بہت سی دستاویزی فلمیں بھی اس چشمے کے بارے میں بنائی گئی ہیں۔ نامی گرامی فوٹو گرافرز یہاں فوٹو گرافی کے لیے آتے رہتے ہیں۔ سیلفی فوبیا میں مبتلا نوجوانوںکے لیے یہ جگہ بہترین ہے، البتہ تفریح کے لیے آنے والے نوجوانوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ چند سال قبل کچھ نوجوانوں نے غیر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے پہاڑ کے اوپر سے چشمے کے پانی میں چھلانگ لگا دی، بدقسمتی سے نوجوان کسی نوکیلے پتھر پر جا کر گرا اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ لہٰذا نوجوان یہاں تفریح کی غرض سے ضرورآئیں، لیکن خود کو کسی ایسے ایڈونچر میں مبتلا نہ کریں جس سے جان جانے کا خدشہ ہو۔

قدرت کی کاری گری سے وجود میں آنے والی ایک اور انتہائی خوبصورت جھیل فیصل آباد روڈ پر پْل 11 کے قریب چک نمبر 107 جنوبی میں ہے جس کو ’’Mysterious murky lake ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ وسیع و عریض جھیل اپنے نام کی طرح ہی پر اسرار ہے۔ چک 107 جنوبی کے آس پاس کچھ عرصہ قبل بلند وبالا پہاڑیاں ہوتی تھیں جنہیں کرشنگ کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ کرشنگ کا عمل آخری مراحل میں تھا کہ پہاڑی ٹکڑیوں کے آس پاس پانی قدرتی طور پر ابھرنا شروع ہوگیا۔ بڑھتے بڑھتے اس پانی نے ایک بڑی جھیل کی صورت اختیار کرلی۔ عوام کے لیے جھیل کا وجود میں آنا معجزے سے کم نہ تھا۔ روز بروز بڑھتے پانی کی وجہ سے کرشنگ کا عمل رک گیا اور پہاڑیوں کے کچھ حصے معدوم ہونے سے بچ گئے۔ شاید قدرت ان پہاڑیوں کا نام و نشان مکمل طور پر مٹانا نہیں چاہتی تھی اسی لیے یہاں جھیل بن گئی۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ بعض جگہوں پر اس جھیل کی گہرائی 50 فٹ تک بھی ہے۔ شام کے وقت جب پہاڑیوں کے درمیان سے جھانکتے سورج کی کرنیں چشمے کے پانی پر پڑتی ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ پورا چشمہ سنہری کرنوں میں جگمگا رہا ہوتا ہے۔ انسان اس منظر میں کھو کر خود کو کسی دیومالائی داستان کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سارے جہاں کی خوبصورتی کچھ لمحوں کے لیے اس چشمے کے کنارے منجمد ہو گئی ہو۔ پہاڑیوں کے اوپر سے سورج کی زرد کرنیں جب شفاف پانی پر پڑتی ہیں تو پانی میں مزید کشش سی پیدا ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر غروب آفتاب کا منظر مبہوت کر دینے والی خوبصورتی کا حامل ہوتا ہے۔ اور جب ان جھیلوں کا پانی چاندنی راتوں میں چاند کی دودھیا روشنی میں نہاتا ہے تو مزید مسحور کن ہو جاتا ہے، ایسا کہ جو دیکھنے والوں کا دل موہ لے، دھڑکنوں میں مدوجزر پیدا کر دے اورانسان چاہنے کے باوجود کشش سے نہ نکل پائے۔ ایسے درجنوں قابل دید نظارے ہیں کہ انسان گھنٹوں جھیل کنارے کسی چٹان پر بیٹھ کر خاموشی سے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتا رہے۔قدرت کی صناعی دیکھیے کہ اس جھیل کے اندر بڑی تعداد میں مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ جھیل کا پانی اکٹھا ہوتا گیا اور اس کے ساتھ ہی آبی حیات بھی اس جھیل میں پیدا ہونے لگی۔

مقامی لوگوں کے مطابق یہاں کچھ لوگوں نے مچھلیاں خرید کر چھوڑی تھیں جنہوں نے افزائش نسل کے ذریعے اپنی تعداد میں اضافہ کیا۔ رنگ برنگی مچھلیاں اس جھیل میں کثرت سے پائی جاتی ہیں جو جھیل کے حسن میں اضافے کا باعث تو ہیں ہی، اسی کے ساتھ عوام کے لیے بھی دلچسپی کا سامان کر رہی ہیں۔ تفریح کی غرض سے میں کئی مرتبہ اس مسحور کن جگہ جا چکا ہوں۔یہاں مجھے دو نوجوان رضوان نیازی اور محمد افتخار ملے جنہوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ دونوں نوجوان بنیادی طور پر ڈرائیور ہیں، لیکن اس جھیل میں پائی جانے والی مچھلیوں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی مچھلی بھوکی نہ مرے اور نہ ہی کوئی ان کا شکار کرے۔ وہ بلاناغہ مچھلیوں کو چارہ ڈالتے ہیں۔ جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ جھیل کنارے بیٹھے مچھلیوں کو روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال رہے تھے اور روٹی کا ٹکڑا کھانے کے لیے مچھلیوں کی دلچسپ اچھل کود جاری تھی۔ یہ بڑا قابل دید منظر تھا۔ کنارے پر مچھلیاں غول کی صورت اکٹھی تھیں۔ نوجوان جدھر کھانا پھینکتے، یہ اْدھر پہنچ جاتیں۔ جب تک مچھلیوں کا پیٹ نہیں بھر گیا، نوجوانوں نے اپنی سرگرمی جاری رکھی۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا: ’’جھیل میں ان ننھی مچھلیوں کی غذائی ضرورت پوری کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے ہم روزانہ مچھلیوں کے لیے چارے کا بندوبست کرتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو ان کا شکار نہ کرنے دیں۔ کیونکہ یہ بے ضرر اور نازک مخلوق پہلے ہی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے؛ اگر ان کا شکار کیا گیا تو شاید اس جھیل میں یہ آبی مخلوق باقی نہ رہے۔‘

ان دو نیک دل بندوں کی وجہ سے یہ مچھلیاں انسانوں سے اس قدر مانوس ہو چکی ہیں کہ آسانی سے پانی میں ہاتھ ڈال کر ان کو پکڑا جا سکتا ہے؛ یہ دور نہیں بھاگتیں۔ میں نے خود بھی جھیل کے پانی میں ہاتھ ڈال کر اس کا تجربہ کیا، بہت سی ننھی منی مچھلیاں میرے ہاتھوں سے ٹکرائیں تو پورے جسم میں گدگدی کا احساس ہوا۔ ان مچھلیوں کو چھو کر جو مسرت ہوئی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر پارہا۔ اس جھیل کے پاس بھی دیگر چشموں کی طرح رنگ برنگے اور انتہائی خوبصورت پنچھی اڑانیں بھرتے اور پانی میں سے کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان پنچھیوں کی موجودگی سے اس جھیل کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ نایاب نسلوں کے یہ پرندے صرف جھیلوں، چشموں اور دریاؤں کے کنارے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہاڑیوں کے درمیان پرندوں کی دلفریب چہچہاہٹ من کو خوب بھاتی ہے اور ان کی وجہ سے ماحول کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک اور چشمہ پل 111 سے چند کلو میٹر دور واقع علاقہ نشترآباد میں ہے۔ پہاڑیوں میں گھرا یہ علاقہ ایک قدرتی وادی کی طرح ہے، یہاں بھی پہاڑیوں میں جاری اسٹون کرشنگ کے نتیجہ میں چشمہ وجود میں آیا۔ اسی طرح شاہین آباد کے چک نمبر 123 جنوبی کی قریبی پہاڑیوں، پل111 کے چک نمبر 107 جنوبی اور نشتر آباد کے چک نمبر 120 جنوبی تک درجنوں چشمے اور جھیلیں ہیں جو قدرت کی طرف سے انمول تحفہ ہیں۔ خاص طور پر چک نمبر 123 جنوبی میں لاتعداد چشمے ہیں جن کا میں خود جائزہ لے چکا ہوں۔ ان پہاڑیوں میں نجانے اور کتنے چشمے ہوں گے جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں۔ ان پہاڑیوں کی جانب عام آدمی خال خال ہی آتے ہیں جن میں اسٹون کرشنگ کا کام جاری ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر بلاسٹنگ کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ ٹھیکیدار اکثر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعین وقت کے بعد بھی بلاسٹنگ کا عمل جاری رکھتے ہیں، جس سے انجان لوگ خاص طور پر حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ باردو جب پھٹتا ہے تو پتھر بڑی دور تک گرتے ہیں۔گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران میں بارہا ان پہاڑیوں میں وقت گزارنے کے لیے آچکا ہوں، یہاں گزرے سحر انگیز لمحات میں الگ ہی ترنگ ہے۔ نجانے کیوں! شاہین آباد سے لیکر پل 111 و نشتر آباد تک پھیلی پہاڑیاں، چشمے اور جھیلیں بار بار مجھے اپنی طرف بلاتی ہیں۔ ان کی خوبصورتی، افسانوی ماحول مجھے پکارتا ہے کہ آؤ! تم مجھے سراہنے والے ہو، قدر شناس ہو، آؤ اور کیمرے کی آنکھ و ستائشی الفاظ میں مجھے قید کرکے دنیا کو دکھاؤ اور بتاؤ کہ ہم قدرت کا انمول تحفہ ہیں، قدرت کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کس طرح پہاڑوں کو چیر کر پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔

میں نے سرگودھا کے پہاڑی سلسلوں کا بہت باریکی سے جائزہ لیا ہے، نت نئے اور انمول مناظر دیکھے، نئے چشمے پھوٹتے دیکھے، پہاڑوں سے پانی بہہ کر کیسے ایک چشمے میں بدلتا ہے، جھیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اس بات کا مشاہدہ کیا ہے۔مجھے ہمیشہ اس بات کا جنون رہا ہے کہ مظاہر قدرت کو قریب سے دیکھوں، سرگودھا آیا تو یہاں کے پہاڑی سلسلوں اور جھیلوں و چشموں کا ایسا سحر طاری ہوا کہ میں بار بار ان پہاڑیوں میں قدرت کی کاریگری کو قریب سے دیکھنے کے لیے آیا۔ مجھ پر یہ جنون سوار رہا کہ میں ان پہاڑیوں میں پھیلے مزید چشموں کی کھوج لگاؤں کہ جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ میرا یہ جنون مجھے اکثر طویل اور انجان سفر پر جانے کے لیے اکساتا۔ اسی جنون کے تحت ایک مرتبہ میں شاہین آباد کے چک نمبر 123 جنوبی کے گرد و نواح میں پھیلی پہاڑیوں کا جائزہ لینے نکلا تو حیرت انگیز مناظر میرے منتظر تھے۔لند و بالا پہاڑیوں کے درمیان خاصی گہرائی میں تقریباََ چار سے پانچ ایکڑ پر مشتمل جگہ پر ایک نیا چشمہ وجود میں آ رہا تھا، میں نے پانی کا ماخذ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو مختلف پہاڑیوں سے تھوڑا تھوڑا پانی بہہ کر نیچے آتا دکھائی دیا۔ میرے لیے یہ بات حیرانی کا باعث تھی۔ مقامی لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ گرد و نواح میں بہت گہرائی تک بلاسٹنگ کرکے پتھر نکالے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ چٹانوں کے نیچے کا زیر زمین پانی اپنی سطح سے ابھر رہا ہے اور پہاڑیوں کی درزوں سے ہوتا ہوا اس جگہ اکٹھا ہو رہا ہے۔ اس چشمہ کی وجہ سے کرشنگ کا عمل رکا ہوا تھا اور آہستہ آہستہ پہاڑیوں کی دراڑوں سے آنے والا پانی ایک جگہ اکٹھا ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے پانی چکھ کر دیکھا تو وہ بارش کا پانی ہرگز نہیں تھا۔ اس پانی کا ذائقہ کلر کہار کے چشموں جیسا تھا۔ چمکتا ہوا صاف شفاف پانی بلند و بالا پہاڑیوں کے درمیان بہت ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ اس سے بھی مزے کی بات یہ دیکھی کہ رنگ برنگے پرندوں نے یہاں رونق لگا رکھی تھی، گویا انہیں اندازہ ہو کہ اب اس جگہ بڑا چشمہ وجود میں آنے والا ہے، اور ایسا ہی ہوا۔ چند ماہ بعد دوبارہ اس جگہ آنے کا اتفاق ہوا تو میری حیرت دو چند ہوگئی، کیونکہ نہ صرف اس جگہ اب بہت ہی بڑا چشمہ دیکھا بلکہ آس پاس کی پہاڑیوں میں مزید چشمے وجود میں آچکے تھے۔

اسٹون کرشنگ انڈسٹری سے وابستہ مافیا کے لوگ پہاڑیوں کو تو مٹا ہی رہے ہیں، ساتھ ہی وہ ان جھیلوں اور چشموں کے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان جھیلوں اور چشموں کو ختم کرنے کے لیے نت نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں، بڑے ٹیوب ویل لگا کر چشموں اور جھیلوں کا پانی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پانی خشک کرنے کے لیے چشموں میں خاکہ (پتھروں سے بجری تیار کرنے کے دوران بننے والا پسا ہواملبہ جو مٹیالے رنگ کا ہوتا ہے اور پانی تیزی سے جذب کرتا ہے) پھینکا جا رہا ہے۔ الغرض ان چشموں کا خاتمہ کرنے کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ لیکن قدرت کو بھی شاید ان چشموں اور جھیلوں کا مٹنا منظور نہیں، کچھ جگہوں پر ان چشموں کو خشک کرنے کی کوششیں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں، تاہم چند ہی دنوں بعد کسی اور جگہ سے نیا چشمہ وجود میں آنے لگتا ہے۔انسانوں کے ہاتھوں شب و روز شکست و ریخت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی پہاڑیاں نوحہ کناں ہیں۔ کوئی تو سنے کہانی ان پہاڑیوں کی کہ جنہوں نے اپنا وجود کھونے کے باجود سرگودھا کے عوام کو خوش نما چشموں اور جھیلوں کا تحفہ دیا۔ سچ میں یہ پہاڑ اپنے قد سے بڑھ کر قد آور ہیں۔

کہتے ہیں کہ جب پہاڑ غمزدہ ہوتے ہیں تو ان سے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جب ضبطِ غم نہیں رہتا تو طیش میں آ کر لاوا اگلتے ہیں اور سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلاسٹنگ اور کرشنگ کی صورت میں جب انہیں ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ غضب ناک ہو کر لاوا نہیں اْگلتے، بلکہ ان سے خوشنما چشمے پھوٹتے ہیں؛ اور شاید یہ ان پہاڑیوں کا اظہارِ غم کا نرالا انداز ہے۔سرگودھا کے پہاڑی سلسلوں میں واقع قدرتی چشمے اور جھیلیں کہ جہاں جا کر مجھے ہمیشہ خوشی محسوس ہوئی، ان مناظر میں ایک طلسماتی حسن ہے کہ جیسے کوہ قاف میں واقع کوئی کرشماتی جگہ، جہاں حسین پریاں میٹھے پانی کے بہتے جھرنے جیسی ا?واز میں نغمے گنگاتی ہوں اور ان کی آواز پہاڑیوں سے گھری وادی میں گونجتی ہو، اور فطرت کے دیوانوں کو اپنی جانب کھینچتی ہوں۔ جھیل کے بیچوں بیچ بنی پگڈنڈی پر پیدل چلنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ یہ جگہیں میری ہی نہیں بلکہ میرے جیسے ہزاروں لوگوںکے لیے تفریح کا ذریعہ ہیں۔ لوگ ان مقامات پر آتے ہیں اور خوشگوار یادوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کرانہ پہاڑیوں میں پائے جانے والے چشموں اور جھیلوں کو سیاحتی مراکز کا درجہ دے۔ ان کا پانی صاف شفاف ہے لیکن ارد گر کی پہاڑیوں پر جو تھوڑی بہت جھاڑیاں ہیں ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ پہاڑیوں پرچڑھنے کے لیے راستے بنائے جاسکتے ہیں۔ چشموں کے گرد باڑ لگا کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انفارمیشن سینٹر بنا کر سیروتفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ وہاں کھانے پینے کے اسٹال مقامی آبادی خود لگا لے گی۔اگر تھوڑی سی مخلصانہ کوششیں کی جائیں تو سرگودھا کے لوگوں کو معیاری تفریح گاہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرت کے ان انمول تحفوں کی حفاظت کا بھی بندوبست ہوجائے گا۔ سرگودھا میں ویسے بھی تفریحی مقامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ وہ ان جھیلوں اور چشموں کی موجودگی سے فائدہ اٹھائیں اور معمولی سی سرمایہ کاری کرکے ان جگہوں کو عوامی تفریحی مرکز بنا دیں۔ اگر حکومتی نمائندگان ایسا کوئی بھی اقدام کرتے ہیں تو ان کو عوامی پذیرائی ملے گی۔


متعلقہ خبریں


آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

مضامین
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر