... loading ...
سرگودھا جغرافیائی لحاظ سے خوبصورت پہاڑیوں سے مالا مال ہے۔ کرانہ پہاڑیوں کا یہ سلسلہ سرگودھا کے علاقے شاہین آباد سے لے کر چنیوٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ سرگودھا سے فیصل آباد روڈ پر جائیں تو ان پہاڑیوں کی تابناکی کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے دیو مالائی حسن اور قصے کہانیوں کے وارث ہیں۔ انہی پہاڑیوں کی بدولت سرگودھا کو ایشیا کی سب سے بڑی اسٹون کرشنگ انڈسٹری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سرگودھا کی انہی پہاڑیوں میں سے پھوٹنے والے چشمے اور جھیلیں جہاں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے عوام کی توجہ کے مرکز ہیں، وہیں عوام ان کے اچانک معرض وجود میں آنے سے حیران ہیں۔ پہاڑیوں کے دامن میں مسکراتی یہ جھیلیں اور چشمے قدرت کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کرانہ پہاڑیوں میں جاری اسٹون کرشنگ کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر پانی کی سطح بلند ہوگئی اور پہاڑوں کے بیچ سے رسنے والے پانی نے مختلف جگہوں پر چشموں اور جھیلوں کی صورت اختیار کرلی۔ایک ایسا ہی قدرتی چشمہ شاہین آ باد کی پہاڑیوں میں ہے جو ہر دیکھنے والے کو اپنی خوبصورتی کے جال میں جکڑ لیتا ہے، یہ چشمہ تفریح کے لیے مثالی جگہ ہے۔
سرگودھا شہر سے 20 کلو میٹر دور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول چک نمبر 123 جنوبی رْخ کے بالکل سامنے واقع یہ چشمہ اپنے نرالے حسن کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول ہے۔ اسے ’’شاہینوں کی جھیل‘‘ بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا انمول شاہکار گزشتہ دہائی میں گرد و نواح کی پہاڑیوں میں بے جا بارود کے استعمال اور بلاسٹنگ سے ہونے والی جغرافیائی تبدیلیوں کی وجہ سے وجود میں آیا۔ پہاڑوں کے بیچوں بیچ کھڑے چشمے کے پانی کو دیکھ کر سب حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ پانی آیا کہاں سے۔ پانی کی مقدار میں اکثر اضافہ ہو جاتا ہے۔ گہرائی بھی خاصی زیادہ ہے۔ کئی سال گزرنے کے باوجود چشمہ خشک نہیں ہوا۔ یہ چشمہ چاروں طرف سے چٹانی پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے۔ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ جیسے یہ زمین کا انمول ترین حصہ ہو۔ بڑی بڑی چٹانوں کے بیچ کھڑا چشمے کا سبز پانی قدرت کا طلسماتی کرشمہ محسوس ہوتا ہے اور اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی افسانوی منظر ہو۔ پہاڑوں کی ساخت ایسی ہے کہ ان پر چڑھنا آسان ہے۔ اونچائی پر جا کر سبز پانی پر نظر ڈالی جائے تو انسان خود کو کسی سمندری جزیرے یا پھر جادوئی وادی میں محسوس کرتا ہے۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس وادی نما چشمے کا رخ کرتی ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں پکنک اور تفریح کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ویک اینڈ پر یہاں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ اس چشمے کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور پاکستانی فلم ’’عشقِ خدا‘‘ کے ایک گانے کی شوٹنگ اسی مقام پرکی گئی، جبکہ دیگر بہت سی دستاویزی فلمیں بھی اس چشمے کے بارے میں بنائی گئی ہیں۔ نامی گرامی فوٹو گرافرز یہاں فوٹو گرافی کے لیے آتے رہتے ہیں۔ سیلفی فوبیا میں مبتلا نوجوانوںکے لیے یہ جگہ بہترین ہے، البتہ تفریح کے لیے آنے والے نوجوانوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ چند سال قبل کچھ نوجوانوں نے غیر دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے پہاڑ کے اوپر سے چشمے کے پانی میں چھلانگ لگا دی، بدقسمتی سے نوجوان کسی نوکیلے پتھر پر جا کر گرا اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ لہٰذا نوجوان یہاں تفریح کی غرض سے ضرورآئیں، لیکن خود کو کسی ایسے ایڈونچر میں مبتلا نہ کریں جس سے جان جانے کا خدشہ ہو۔
قدرت کی کاری گری سے وجود میں آنے والی ایک اور انتہائی خوبصورت جھیل فیصل آباد روڈ پر پْل 11 کے قریب چک نمبر 107 جنوبی میں ہے جس کو ’’Mysterious murky lake ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ وسیع و عریض جھیل اپنے نام کی طرح ہی پر اسرار ہے۔ چک 107 جنوبی کے آس پاس کچھ عرصہ قبل بلند وبالا پہاڑیاں ہوتی تھیں جنہیں کرشنگ کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ کرشنگ کا عمل آخری مراحل میں تھا کہ پہاڑی ٹکڑیوں کے آس پاس پانی قدرتی طور پر ابھرنا شروع ہوگیا۔ بڑھتے بڑھتے اس پانی نے ایک بڑی جھیل کی صورت اختیار کرلی۔ عوام کے لیے جھیل کا وجود میں آنا معجزے سے کم نہ تھا۔ روز بروز بڑھتے پانی کی وجہ سے کرشنگ کا عمل رک گیا اور پہاڑیوں کے کچھ حصے معدوم ہونے سے بچ گئے۔ شاید قدرت ان پہاڑیوں کا نام و نشان مکمل طور پر مٹانا نہیں چاہتی تھی اسی لیے یہاں جھیل بن گئی۔
مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ بعض جگہوں پر اس جھیل کی گہرائی 50 فٹ تک بھی ہے۔ شام کے وقت جب پہاڑیوں کے درمیان سے جھانکتے سورج کی کرنیں چشمے کے پانی پر پڑتی ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ پورا چشمہ سنہری کرنوں میں جگمگا رہا ہوتا ہے۔ انسان اس منظر میں کھو کر خود کو کسی دیومالائی داستان کا حصہ سمجھنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سارے جہاں کی خوبصورتی کچھ لمحوں کے لیے اس چشمے کے کنارے منجمد ہو گئی ہو۔ پہاڑیوں کے اوپر سے سورج کی زرد کرنیں جب شفاف پانی پر پڑتی ہیں تو پانی میں مزید کشش سی پیدا ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر غروب آفتاب کا منظر مبہوت کر دینے والی خوبصورتی کا حامل ہوتا ہے۔ اور جب ان جھیلوں کا پانی چاندنی راتوں میں چاند کی دودھیا روشنی میں نہاتا ہے تو مزید مسحور کن ہو جاتا ہے، ایسا کہ جو دیکھنے والوں کا دل موہ لے، دھڑکنوں میں مدوجزر پیدا کر دے اورانسان چاہنے کے باوجود کشش سے نہ نکل پائے۔ ایسے درجنوں قابل دید نظارے ہیں کہ انسان گھنٹوں جھیل کنارے کسی چٹان پر بیٹھ کر خاموشی سے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتا رہے۔قدرت کی صناعی دیکھیے کہ اس جھیل کے اندر بڑی تعداد میں مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ جھیل کا پانی اکٹھا ہوتا گیا اور اس کے ساتھ ہی آبی حیات بھی اس جھیل میں پیدا ہونے لگی۔
مقامی لوگوں کے مطابق یہاں کچھ لوگوں نے مچھلیاں خرید کر چھوڑی تھیں جنہوں نے افزائش نسل کے ذریعے اپنی تعداد میں اضافہ کیا۔ رنگ برنگی مچھلیاں اس جھیل میں کثرت سے پائی جاتی ہیں جو جھیل کے حسن میں اضافے کا باعث تو ہیں ہی، اسی کے ساتھ عوام کے لیے بھی دلچسپی کا سامان کر رہی ہیں۔ تفریح کی غرض سے میں کئی مرتبہ اس مسحور کن جگہ جا چکا ہوں۔یہاں مجھے دو نوجوان رضوان نیازی اور محمد افتخار ملے جنہوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ دونوں نوجوان بنیادی طور پر ڈرائیور ہیں، لیکن اس جھیل میں پائی جانے والی مچھلیوں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی مچھلی بھوکی نہ مرے اور نہ ہی کوئی ان کا شکار کرے۔ وہ بلاناغہ مچھلیوں کو چارہ ڈالتے ہیں۔ جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ جھیل کنارے بیٹھے مچھلیوں کو روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈال رہے تھے اور روٹی کا ٹکڑا کھانے کے لیے مچھلیوں کی دلچسپ اچھل کود جاری تھی۔ یہ بڑا قابل دید منظر تھا۔ کنارے پر مچھلیاں غول کی صورت اکٹھی تھیں۔ نوجوان جدھر کھانا پھینکتے، یہ اْدھر پہنچ جاتیں۔ جب تک مچھلیوں کا پیٹ نہیں بھر گیا، نوجوانوں نے اپنی سرگرمی جاری رکھی۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا: ’’جھیل میں ان ننھی مچھلیوں کی غذائی ضرورت پوری کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس لیے ہم روزانہ مچھلیوں کے لیے چارے کا بندوبست کرتے ہیں، اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو ان کا شکار نہ کرنے دیں۔ کیونکہ یہ بے ضرر اور نازک مخلوق پہلے ہی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے؛ اگر ان کا شکار کیا گیا تو شاید اس جھیل میں یہ آبی مخلوق باقی نہ رہے۔‘
ان دو نیک دل بندوں کی وجہ سے یہ مچھلیاں انسانوں سے اس قدر مانوس ہو چکی ہیں کہ آسانی سے پانی میں ہاتھ ڈال کر ان کو پکڑا جا سکتا ہے؛ یہ دور نہیں بھاگتیں۔ میں نے خود بھی جھیل کے پانی میں ہاتھ ڈال کر اس کا تجربہ کیا، بہت سی ننھی منی مچھلیاں میرے ہاتھوں سے ٹکرائیں تو پورے جسم میں گدگدی کا احساس ہوا۔ ان مچھلیوں کو چھو کر جو مسرت ہوئی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر پارہا۔ اس جھیل کے پاس بھی دیگر چشموں کی طرح رنگ برنگے اور انتہائی خوبصورت پنچھی اڑانیں بھرتے اور پانی میں سے کیڑے مکوڑوں کا شکار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان پنچھیوں کی موجودگی سے اس جھیل کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ نایاب نسلوں کے یہ پرندے صرف جھیلوں، چشموں اور دریاؤں کے کنارے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پہاڑیوں کے درمیان پرندوں کی دلفریب چہچہاہٹ من کو خوب بھاتی ہے اور ان کی وجہ سے ماحول کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
ایک اور چشمہ پل 111 سے چند کلو میٹر دور واقع علاقہ نشترآباد میں ہے۔ پہاڑیوں میں گھرا یہ علاقہ ایک قدرتی وادی کی طرح ہے، یہاں بھی پہاڑیوں میں جاری اسٹون کرشنگ کے نتیجہ میں چشمہ وجود میں آیا۔ اسی طرح شاہین آباد کے چک نمبر 123 جنوبی کی قریبی پہاڑیوں، پل111 کے چک نمبر 107 جنوبی اور نشتر آباد کے چک نمبر 120 جنوبی تک درجنوں چشمے اور جھیلیں ہیں جو قدرت کی طرف سے انمول تحفہ ہیں۔ خاص طور پر چک نمبر 123 جنوبی میں لاتعداد چشمے ہیں جن کا میں خود جائزہ لے چکا ہوں۔ ان پہاڑیوں میں نجانے اور کتنے چشمے ہوں گے جن تک عام آدمی کی رسائی نہیں۔ ان پہاڑیوں کی جانب عام آدمی خال خال ہی آتے ہیں جن میں اسٹون کرشنگ کا کام جاری ہے، کیونکہ اکثر و بیشتر بلاسٹنگ کی وجہ سے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ ٹھیکیدار اکثر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعین وقت کے بعد بھی بلاسٹنگ کا عمل جاری رکھتے ہیں، جس سے انجان لوگ خاص طور پر حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں کیونکہ باردو جب پھٹتا ہے تو پتھر بڑی دور تک گرتے ہیں۔گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران میں بارہا ان پہاڑیوں میں وقت گزارنے کے لیے آچکا ہوں، یہاں گزرے سحر انگیز لمحات میں الگ ہی ترنگ ہے۔ نجانے کیوں! شاہین آباد سے لیکر پل 111 و نشتر آباد تک پھیلی پہاڑیاں، چشمے اور جھیلیں بار بار مجھے اپنی طرف بلاتی ہیں۔ ان کی خوبصورتی، افسانوی ماحول مجھے پکارتا ہے کہ آؤ! تم مجھے سراہنے والے ہو، قدر شناس ہو، آؤ اور کیمرے کی آنکھ و ستائشی الفاظ میں مجھے قید کرکے دنیا کو دکھاؤ اور بتاؤ کہ ہم قدرت کا انمول تحفہ ہیں، قدرت کی کاریگری کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کس طرح پہاڑوں کو چیر کر پانی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔
میں نے سرگودھا کے پہاڑی سلسلوں کا بہت باریکی سے جائزہ لیا ہے، نت نئے اور انمول مناظر دیکھے، نئے چشمے پھوٹتے دیکھے، پہاڑوں سے پانی بہہ کر کیسے ایک چشمے میں بدلتا ہے، جھیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اس بات کا مشاہدہ کیا ہے۔مجھے ہمیشہ اس بات کا جنون رہا ہے کہ مظاہر قدرت کو قریب سے دیکھوں، سرگودھا آیا تو یہاں کے پہاڑی سلسلوں اور جھیلوں و چشموں کا ایسا سحر طاری ہوا کہ میں بار بار ان پہاڑیوں میں قدرت کی کاریگری کو قریب سے دیکھنے کے لیے آیا۔ مجھ پر یہ جنون سوار رہا کہ میں ان پہاڑیوں میں پھیلے مزید چشموں کی کھوج لگاؤں کہ جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ میرا یہ جنون مجھے اکثر طویل اور انجان سفر پر جانے کے لیے اکساتا۔ اسی جنون کے تحت ایک مرتبہ میں شاہین آباد کے چک نمبر 123 جنوبی کے گرد و نواح میں پھیلی پہاڑیوں کا جائزہ لینے نکلا تو حیرت انگیز مناظر میرے منتظر تھے۔لند و بالا پہاڑیوں کے درمیان خاصی گہرائی میں تقریباََ چار سے پانچ ایکڑ پر مشتمل جگہ پر ایک نیا چشمہ وجود میں آ رہا تھا، میں نے پانی کا ماخذ ڈھونڈنے کی کوشش کی تو مختلف پہاڑیوں سے تھوڑا تھوڑا پانی بہہ کر نیچے آتا دکھائی دیا۔ میرے لیے یہ بات حیرانی کا باعث تھی۔ مقامی لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ گرد و نواح میں بہت گہرائی تک بلاسٹنگ کرکے پتھر نکالے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ چٹانوں کے نیچے کا زیر زمین پانی اپنی سطح سے ابھر رہا ہے اور پہاڑیوں کی درزوں سے ہوتا ہوا اس جگہ اکٹھا ہو رہا ہے۔ اس چشمہ کی وجہ سے کرشنگ کا عمل رکا ہوا تھا اور آہستہ آہستہ پہاڑیوں کی دراڑوں سے آنے والا پانی ایک جگہ اکٹھا ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے پانی چکھ کر دیکھا تو وہ بارش کا پانی ہرگز نہیں تھا۔ اس پانی کا ذائقہ کلر کہار کے چشموں جیسا تھا۔ چمکتا ہوا صاف شفاف پانی بلند و بالا پہاڑیوں کے درمیان بہت ہی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا۔ اس سے بھی مزے کی بات یہ دیکھی کہ رنگ برنگے پرندوں نے یہاں رونق لگا رکھی تھی، گویا انہیں اندازہ ہو کہ اب اس جگہ بڑا چشمہ وجود میں آنے والا ہے، اور ایسا ہی ہوا۔ چند ماہ بعد دوبارہ اس جگہ آنے کا اتفاق ہوا تو میری حیرت دو چند ہوگئی، کیونکہ نہ صرف اس جگہ اب بہت ہی بڑا چشمہ دیکھا بلکہ آس پاس کی پہاڑیوں میں مزید چشمے وجود میں آچکے تھے۔
اسٹون کرشنگ انڈسٹری سے وابستہ مافیا کے لوگ پہاڑیوں کو تو مٹا ہی رہے ہیں، ساتھ ہی وہ ان جھیلوں اور چشموں کے بھی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ان جھیلوں اور چشموں کو ختم کرنے کے لیے نت نئے طریقے آزمائے جارہے ہیں، بڑے ٹیوب ویل لگا کر چشموں اور جھیلوں کا پانی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پانی خشک کرنے کے لیے چشموں میں خاکہ (پتھروں سے بجری تیار کرنے کے دوران بننے والا پسا ہواملبہ جو مٹیالے رنگ کا ہوتا ہے اور پانی تیزی سے جذب کرتا ہے) پھینکا جا رہا ہے۔ الغرض ان چشموں کا خاتمہ کرنے کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ لیکن قدرت کو بھی شاید ان چشموں اور جھیلوں کا مٹنا منظور نہیں، کچھ جگہوں پر ان چشموں کو خشک کرنے کی کوششیں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں، تاہم چند ہی دنوں بعد کسی اور جگہ سے نیا چشمہ وجود میں آنے لگتا ہے۔انسانوں کے ہاتھوں شب و روز شکست و ریخت، ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی پہاڑیاں نوحہ کناں ہیں۔ کوئی تو سنے کہانی ان پہاڑیوں کی کہ جنہوں نے اپنا وجود کھونے کے باجود سرگودھا کے عوام کو خوش نما چشموں اور جھیلوں کا تحفہ دیا۔ سچ میں یہ پہاڑ اپنے قد سے بڑھ کر قد آور ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب پہاڑ غمزدہ ہوتے ہیں تو ان سے چشمے پھوٹتے ہیں۔ جب ضبطِ غم نہیں رہتا تو طیش میں آ کر لاوا اگلتے ہیں اور سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ بلاسٹنگ اور کرشنگ کی صورت میں جب انہیں ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ غضب ناک ہو کر لاوا نہیں اْگلتے، بلکہ ان سے خوشنما چشمے پھوٹتے ہیں؛ اور شاید یہ ان پہاڑیوں کا اظہارِ غم کا نرالا انداز ہے۔سرگودھا کے پہاڑی سلسلوں میں واقع قدرتی چشمے اور جھیلیں کہ جہاں جا کر مجھے ہمیشہ خوشی محسوس ہوئی، ان مناظر میں ایک طلسماتی حسن ہے کہ جیسے کوہ قاف میں واقع کوئی کرشماتی جگہ، جہاں حسین پریاں میٹھے پانی کے بہتے جھرنے جیسی ا?واز میں نغمے گنگاتی ہوں اور ان کی آواز پہاڑیوں سے گھری وادی میں گونجتی ہو، اور فطرت کے دیوانوں کو اپنی جانب کھینچتی ہوں۔ جھیل کے بیچوں بیچ بنی پگڈنڈی پر پیدل چلنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ یہ جگہیں میری ہی نہیں بلکہ میرے جیسے ہزاروں لوگوںکے لیے تفریح کا ذریعہ ہیں۔ لوگ ان مقامات پر آتے ہیں اور خوشگوار یادوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کرانہ پہاڑیوں میں پائے جانے والے چشموں اور جھیلوں کو سیاحتی مراکز کا درجہ دے۔ ان کا پانی صاف شفاف ہے لیکن ارد گر کی پہاڑیوں پر جو تھوڑی بہت جھاڑیاں ہیں ان کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ پہاڑیوں پرچڑھنے کے لیے راستے بنائے جاسکتے ہیں۔ چشموں کے گرد باڑ لگا کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ انفارمیشن سینٹر بنا کر سیروتفریح کے لیے آنے والوں کی رہنمائی کی جاسکتی ہے۔ وہاں کھانے پینے کے اسٹال مقامی آبادی خود لگا لے گی۔اگر تھوڑی سی مخلصانہ کوششیں کی جائیں تو سرگودھا کے لوگوں کو معیاری تفریح گاہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرت کے ان انمول تحفوں کی حفاظت کا بھی بندوبست ہوجائے گا۔ سرگودھا میں ویسے بھی تفریحی مقامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ وہ ان جھیلوں اور چشموں کی موجودگی سے فائدہ اٹھائیں اور معمولی سی سرمایہ کاری کرکے ان جگہوں کو عوامی تفریحی مرکز بنا دیں۔ اگر حکومتی نمائندگان ایسا کوئی بھی اقدام کرتے ہیں تو ان کو عوامی پذیرائی ملے گی۔
صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...
ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...
حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...
خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...
ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...
پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...
گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...
حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...
خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...
8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...
خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...
پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...