وجود

... loading ...

وجود

بجٹ اور عام آدمی

بدھ 02 مئی 2018 بجٹ اور عام آدمی

شدید مخالفت اور احتجاج کے باوجود ن لیگ کی حکومت نے چھٹا بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ چند دن کی حکومت کو پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا اختیار ہی نہیں۔ اصولی طور پر تو بات صحیح ہے لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دو متضاد دعوے کردیے ہیں۔ ایک بات تو انہوں نے یہ کہی کہ نئی حکومت چاہے تو پورا بجٹ مسترد کردے اور دوسرے یہ کہ نئی حکومت اس بجٹ میں ایک لفظ کی تبدیلی بھی نہیں کرسکے گی۔ اس سے ایک بات تو یہ ظاہر ہورہی ہے کہ وزیراعظم کو یہ یقین نہیں کہ اگلی حکومت ن لیگ ہی کی ہوگی۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی صورتحال میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ ن لیگ کے ارکان اسمبلی اسے چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب سیاسی خانہ بدوشوں کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ حکومت جارہی ہے اور اب نئی چراہگاہ تلاش کی جائے۔ آمد ورفت کا یہ سلسلہ دوسری جماعتوں میں بھی جاری ہے۔ کوئی پیپلزپارٹی چھوڑ کر جارہا ہے تو کوئی پیپلزپارٹی میں آرہا ہے۔ ہر ایک اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے گوشہ عافیت کی تلاش میں ہے۔ ایسے لوگوں کو عوامی نمائندے کہنا مشکل ہے۔ ن لیگ نے بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک کارنامہ یہ سر انجام دیا کہ ایک غیر منتخب شخص مفتاح اسماعیل کے ذریعے بجٹ پیش کروایا۔یہ بجٹ وزیراعظم یا احسن اقبال بھی پیش کرسکتے تھے، لکھے ہوئے اعدادوشمار کو پڑھنا ہی تو تھا۔ اس طرح مفتاح اسماعیل بھی کڑی آزمایش سے بچ جاتے۔ انہیں ایسے معاملات کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔

گزشتہ جمعہ کو بجٹ پیش کرنے کے دوران میں ارکان اسمبلی میں ہاتھا پائی کے مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ اس بارے میں یہ طے کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رکن مراد سعید اور ن لیگ کے وزیر مملکت عابد شیر علی میں سے کون زیادہ قصور وار ہے اور زیادتی کس نے کی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں ہی کا رویہ نا شائستہ تھا۔ احتجاج کرنے کو جمہوری حق قرار دیا جاسکتا ہے لیکن معزز ارکان اسمبلی اور گلی کے غنڈوں میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان تو اپنی روایت اور عادت کے مطابق اس موقع پر بھی قومی اسمبلی میں نہیں آئے چنانچہ مراد سعید کو سمجھانے والا کوئی نہیں تھا۔ عابد شیر علی تو ایک عرصے سے شیر بنے ہوئے ہیں۔ ان کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ وہ مفتاح اسماعیل کو بچانے کے لیے درمیان میں آئے۔ پی ٹی آئی کے ارکان کو چاہیے تھا کہ پیپلزپارٹی کی طرح واک آؤٹ کرجاتے۔

جہاں تک 59کھرب، 32 ارب 50 کروڑ روپے کے بجٹ کا تعلق ہے تو یہ بھی ماضی کے ہر بجٹ کی طرح روایتی ہے کہ فلاں چیز کی قیمت کم اور فلاں کی بڑھادی گئی۔ اس کی حقیقت اس وقت کھلے گی جب عام آدمی پر اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوں گے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے اور اس میں خسارہ بھی تاریخی ہے۔ 10کھرب 90ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ خسارہ کس طرح پورا ہوگا، ظاہر ہے کہ عوام ہی کی گردن دبوچی جائے گی چنانچہ ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ بجٹ میں صرف ایک اچھی بات نظر آئی ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس سے پنشن پانے والے بزرگ شہریوں کو تھوڑی سی سہولت ضرور ملے گی۔ کم سے کم پنشن 10ہزار روپے کی گئی ہے۔ مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ بھی اچھا اقدام ہے لیکن سب تو سرکاری ملازم نہیں ہیں مگر مہنگائی کا بوجھ برداشت کررہے ہیں۔ عام آدمی کو کیا سہولت دی گئی ے؟بجٹ میں دفاع کے لیے رقم پہلی بار ایک کھرب روپے سے آگے چلی گئی ہے۔ اس کو مجبوری کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے دفاع کو کئی خدشات لاحق ہیں اور پھر موجودہ حالات میں فوج کو خوش کرنا حکومت کی بھی مجبوری ہے۔ خطرناک بات یہ ہے کہ بجٹ کا 30فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جائے گا۔ قرضے ہیں کہ بڑھتے جارہے ہیں جن پر سود کی ادائیگی سے اللہ اور اس کا رسول ﷺبھی ناراض۔ن لیگ کی حکومت نے اپنے 5 سالہ دور حکومت میں ریکارڈ قرضے لیے ہیں جو عوام کو ادا کرنے پڑیں گے۔ قوم کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ اس پر دعویٰ یہ کہ اب آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ ہوتا یہ ہے کہ جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ یہی رونا روتی ہے کہ جانے والی حکومت نے ملک کو مقروض کردیا چنانچہ مزید قرضے لینا مجبوری ہے۔

نئے بجٹ میں صحت کے لیے محض 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ عوام کو صحت و علاج کی سہولتیں فراہم کرنا حکمرانوں کی ترجیح نہیں ہے، چیف جسٹس پاکستان کہتے ہیں کہ پینا ڈول کی دو گولیوں کے لیے مریض خوار ہوتے ہیں۔ اسپتالوں کا حال کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ پورے ملک میں صحت کے لیے 13 ارب روپے ناکافی ہی نہیں، اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء￿ میں ملاوٹ، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بلکہ زہریلے اور آلودہ پانی کی فراہمی جعلی دواؤں کی وجہ سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں غریب عوام علاج سے محروم ہیں البتہ حکمرانوں اور با اثر طبقے کے افراد نزلہ زکام کے علاج کے لیے بھی یورپ و امریکا کا رخ کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے بقول یہ عوام کا نہیں پارٹی بجٹ ہے جسے غیر آئینی اور غیر منتخب حکومت کا بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ تاریخی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اب تک کا ن لیگ کا بہترین بجٹ ہے۔ یعنی اس سے پہلے کے 5 بجٹ بد ترین نہیں تو بہترین بھی نہیں تھے۔

کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی پیکج کا اعلان کیاگیا ہے۔ لیکن یہ رقم کون استعمال کرے گا، اور کس مد میں خرچ ہوگی۔ ظاہر ہے کہ مرکز ہی اپنی نگرانی میں یہ رقم خرچ کرے گا اور اس پر صوبائی حکومت اگر برہم نہ ہوئی تو خود استعمال کرنے کی کوشش کرے گی۔ 25 ارب روپے سے اگر کچرا ہی صاف ہوجائے تو بڑی بات ہے۔ بجٹ میں کھاد، زرعی و صنعتی مشینری، الیکٹرک گاڑیاں، پولٹری کی اشیا سستی مگر سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کی مصنوعات مہنگی ہوجائیں گی جس کا مطلب ہے کہ مکان بنانا اور دشوار ہو جائے گا کیونکہ سیمنٹ، سریا اور اسٹیل کا تعلق تعمیرات سے ہے۔ بڑے بلڈرز تو شاید یہ جھٹکا سہ لیں اور اپنے منصوبوں، فلیٹوں کی قیمت بڑھا کر بوجھ خریداروں پر ڈال دیں لیکن اپنی چھت اور چار دیواری کے خواہش مند یہ آرزو ملتوی کردیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نا اہل وزیراعظم نواز شریف نے وزارت عظمیٰ سے ہٹنے کے بعد ایک جلسے میں نعرہ لگایا تھا کہ ’’اب لوگوں کو مکان بھی فراہم کریں گے‘‘۔ گویا سب کچھ تو فراہم کردیا، بس یہی کام رہ گیا تھا جس کا خیال 5 سال میں نہیں آیا۔ اور اب ن لیگ ہی کی حکومت نے مکان بنانا مشکل کردیا۔ بجٹ میں 2300 ارب روپے قرض لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ بجٹ نواز شریف کے وژن کا عکاس ہے، ان کی کمی محسوس کررہے ہیں۔ بجٹ تقریر میں نا اہل قرار دیے گئے نواز شریف کو 7 مرتبہ یاد کیاگیا۔ بہر حال ایل ای ڈی لائٹس، ایل این جی، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، اسٹیشنری، نظر کے چشمے، آپٹیکل فائبر، استعمال شدہ کپڑے (لنڈا) اور جوتے سستے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کوئی شے عام آدمی کے لیے نا گزیر نہیں ہے۔ ٹیکسٹائل، چمڑے، آلات جراحی اور کھیلوں کے سامان پر سیلز ٹیکس کی زیرو ریٹنگ برقرار رہی ہے۔

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ ایسا بجٹ اس سے پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے یہ اعتراض مسترد کردیا کہ مفتاح اسماعیل کا بجٹ پیش کرنا غیر آئینی تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فی کس آمدنی ایک لاکھ 80 ہزار 1204 روپے ہوگئی ہے۔ یہ مذاق ہے تو بہت سنگین ہے۔ جن کی فی کس آمدنی اتنی ہے وہ اس ملک میں کتنے ہیں اور کہاں ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا کہ پچھلے 5 سال میں معاشی ترقی کی بلند شرح کی بدولت معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور الحمدللہ آج ہم دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو لیکن یہ جو گلی گلی، محلے محلے بھوک اور افلاس کے ڈیرے ہیں والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو ہلاک کررہے ہیں، یہ سب کیا ہے۔ ہمارے حکمران کس دنیا کے باسی ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر