... loading ...
آج کل ہمارے معاشرے میں بہت سننے میں آتا ہے کہ ہماری اولاد بہت بدتمیز ہوگئی ہے بڑوں کی عزت نہیں کرتی عجیب پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کو سب کچھ دیتے ہیں مگر انہیں یہی بات ہی نہیں سیکھاتے۔ والدین اپنی اولاد سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ہر خواہش پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچوں کو ذرا بھی تکلیف ہو تو خود تکلیف میں آجاتے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا بے حد خیال رکھتے ان کے پیچھے خود کو فراموش کردیتے ہیں مگرانہیں عزت کرنا اور عزت سے پیش آنا سیکھاتے ہی نہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ والدین اپنے بچوں کو سمجھاتے نہیں ، سمجھاتے بہت کچھ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فعل سے انجانے میں بچوں کو عزت و احترام نہ کرنا سیکھا رہے ہوتے ہیں۔
بچوں کو محبت دی جائے، انہیں خلوص دیا سب کچھ دیا جائے مگر انہیں عزت نہ دی جائے تو پھر بچے بدتمیز ہی بنتے ہیں۔ بچوں کو محبت سے زیادہ عزت کی ضرورت ہوتی۔ جبکہ انہیں اکثر بہن بھائیوں یا پھر پڑوسیوں کے بچوں سے موازنہ کرکے ڈی گریڈ کیا جاتا ہے۔ سب کے سامنے یا تو ڈانٹا جاتا ہے یا پھر انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔ کیا عجیب بات ہے کہ جب بچوں کو اپنے گھر والے، والدین ، بہن بھائی ہی عزت و احترام نہیں دیں گے تو بچے کیسے سیکھیں گے کہ یہ سب۔ پھر یوں کہا جائے کہ یہ سب بچوں کے لیے گویا ایک اجنبی سی چیز ہے۔
بعض اوقات بچوں میں چڑچڑاپن اور بدتمیزی کی ایک بڑی وجہ والدین کا آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔ والدین کی آپس میں کشیدگی کا نشانہ بچے بنتے ہیں۔ کسی اور کا غصہ کسی اور پر نکال دیا جاتا ہے۔ بیوی شوہر کا یا پھر شوہر بیوی کا غصہ بچوں پر نکالتا ہے۔ بچے کچھ چاہ رہے ہوتے ہیں مگر والدین کا بچوں سے بات کرنے کا انداز غیر ضروری حدتک تلخ ہوتا ہے۔ اس کا سیدھا اثر بچے کے کمزور دماغ پر پڑتا ہے۔
بچوں کے سامنے غیر ضروری اور غیر شائستہ گفتگو کرنے سے گریز نہ کرنا بھی بچوں کی تربیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ بچوں کے سامنے ہر طرح کی باتیں کرتے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ بچوں پر ان کا کیا اثر پڑ رہا ہے۔ بچے جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں وہی کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ والد بچے کو کہتا ہے کہ ’’بیٹا! اگر کوئی تھپڑ مارے تو تم بھی دو لگا دینا‘‘۔ یہ بات بچہ سیکھتا ہے اور پھر جب اس کا چھوٹا بھائی اسے مارتا ہے تو وہ سب کے سامنے اپنے بھائی کو دو جڑ دیتا ہے۔ یہ سب دیکھ کر سب اسے ڈانٹتے ہیں اور والد صاحب اٹھ کراپنے بیٹے کو تھپڑ لگا دیتے ہیں۔ ’’یہ سب کس نے تمہیں سیکھایا، بدتمیز بن گئے ہو‘‘، وغیرہ وغیر۔۔ اب اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے۔ اس میں کس کا قصور ہے۔ خود ہی سیکھایا اور پھر خود ہی کہا کہ یہ سب کس نے سیکھایا۔ یہ سب جو کچھ ہم فراہم کر ر ہے ہیں وہ تو صرف ہمیں فالو کررہا ہوتا ہے۔بچوں سے ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’مسلمان کی مثال ایک شہد کی مکھی کی طرح ہے۔ اچھا نگلتی ہے اچھا اگلتی ہے‘‘۔
صبر و تحمل سے بھی ہم اپنے بچوں کو بدتمیز بنانے سے بچا سکتے ہیں۔ بعض اوقات کھانے میں یا کچھ غلط ہوجانے پر ہم چیخ و پکار کرتے ہیں۔ حالانکہ ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ایسے میں ہم صبر و تحمل سے کام لیں اور یہی بات ہم اپنے بچوں کو سیکھائیں۔ اس سے بہت حد تک بچے اچھے بن جاتے ہیں۔ اکثر بدتمیزی کی نوعیت ایسی جگہ پیش آتی ہے کہ جب بچے چھوٹی چھوٹی بات پر لڑتے جھگڑتے ہیں۔بچوں سے دو گھڑی اچھی باتیں کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے۔ بچوں کو جتنی عزت ملے گی وہ اس سے زیادہ دیں گے۔ اگر بچے غصہ کرتے ہیں تو سمجھائیں۔بچوں کو خود سے قریب کریں ان کو اپنا دوست بنائیں اور خود ایک اچھے دوست بنیں۔ اچھی باتیں شیئر کریں۔ بچوں کی تعریف کریں ان کی صلاحیتوں کو بڑھائیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ جب کسی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو وہ اس سے بھی اچھا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بچوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوشی ملتی ہے اور وہ انہیں یاد بھی رکھتے ہیں۔ہمارے پڑوس میں ایک بچی کو بچپن سے ہی ڈرائنگ کا شوق تھا ، ایک بار اس بچی نے ڈرائنگ بنائی ، وہ زیادہ اچھی نہیں تھی مگر ٹیچر نے پوری کلاس میں دکھا کر حوصلہ افزائی کی۔ جس سے اس بچی نے اگلی بار اس سے بہتر کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح بچوں کی حوصلہ افزائی کریں ، ان سے تہذیب و تمیز سے بات کریں۔ تھوڑا وقت نکال کر کسی اچھے ٹاپکس پر بات چیت کریں۔ کہانی کے انداز میں باتیں سکھائیں۔ زبان درازی سے گریز کریں۔ یہ سب کچھ بچوں کے دلوں کو خود بخود وہ سب کرنے پر مجبور کرتا ہے جو کچھ وہ دیکھتے ہیں۔ جب ہم خود کو اچھا بنا لیں گے تو بچے بھی بدتمیزی کے بجائے اچھائی کی طرف بڑھیں گے۔ ان شا اللہ ہم معاشرے کو اچھا اور تعمیری مستقبل دے جائیں گے۔یاد رکھیں ! یہ معصوم سے بچے جن پر آج ہمیں محنت کرنا ہے، یہ ہمارا مستقبل ہیں۔ یہ ہمارا کل ہیں۔ تو ابھی سے اپنے کل کو سنوارنے کے لیے خوب محنت کریں، اپنے آپ کو اچھا کریں۔ بچے خود اچھے ہوجائیں گے۔
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...
وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...
اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...
حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...