وجود

... loading ...

وجود

کراچی میں بجلی کا سنگین بحران، وفاق اور صوبائی حکومت میں تکرار

پیر 23 اپریل 2018 کراچی میں بجلی کا سنگین بحران، وفاق اور صوبائی حکومت میں تکرار

کراچی میں بجلی کے بحران الیکشن سے پہلے ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔کراچی کے شہری بجلی کے بحران کے سبب طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھگت رہے ہیں، ایسے میں وفاقی حکومت نے کے-الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے درمیان گیس فراہمی کے تنازع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے-الیکٹرک کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگی۔

وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جب تک کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی کے 80 ارب کے واجبات ادا کرنے کے لیے کوئی لائحہ عمل تشکیل نہیں دے دیتی، اس وقت تک کے-الیکٹرک کو ادائیگی کے بغیر مزید گیس کی فراہمی نہیں کی جائے گی۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحران کو سیاسی شکل دے رہے ہیں یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے بجلی بحران کے حل کے لیے صوبے کی تمام جماعتوں کو مل کر اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا کہا تھا۔

وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ سندھ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ بااثر افراد سے بجلی کی چوری رکوائیں، تاکہ کراچی کے شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔ادھر وزیراعلیٰ سندھ نے دھمکی دی کہ وہ بجلی بحران کے معاملے کو اگلے ہفتے ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل اور قومی معاشی کونسل کے اجلاس میں بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے، اور اس کے علاوہ کسی اور معاملے پر گفتگو میں شریک نہیں ہوں گے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’سوئی سدرن گیس کمپنی میں 70 فیصد جبکہ کے-الیکٹرک میں 25 فیصد شیئرز وفاقی حکومت کے ہیں، اور سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی گئی، جبکہ وفاقی حکومت نے کراچی واٹر بورڈ کے واجبات کی ادائیگی کی ضمانت بھی لی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک اور سوئی سدرن کے مابین جاری تنازع کو حل کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کا امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا ایسا لگتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سندھ میں انتخابات کی شکست کا بدلہ، سندھ کے عوام سے لینے کی ٹھان لی، اور اس وقت حیدرآباد اور سکھر کے شہری 16 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ برداشت کر رہے ہیں۔ کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی اور پیٹرولیم کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’عام صارف کی 2 ماہ کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب ان کے کنکشن منقطع کردیا جاتا ہے، تو ایسا کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے بغیر کے-الیکٹرک کو گیس کی فراہمی جاری رہے، قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے کے۔الیکٹرک کا موقف بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘سندھ حکومت اور کراچی واٹر بورڈ، کے-الیکٹرک کے نادہندگان ہیں، لیکن ان واجبات کی ادائیگی صوبائی معاملہ ہے اور اسے صوبائی سطح پر ہی حل ہونا چاہیے’۔

اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ ملاقات میں سندھ حکومت، وزارت پیٹرولیم، سوئی سدرن گیس کمپنی اور کے-الیکٹرک کے اعلیٰ عہدایداروں نے شرکت کی، جبکہ وزارتِ خزانہ کو اس معاملے کے حل کے لیے فریقین میں معاہدہ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’کے-الیکٹرک، ایس ایس جی سی کے 13 ارب 7 کروڑ کی نادہندہ ہے، جبکہ پالیسی کے مطابق 60 سے 70 ارب روپے لیٹ سرچارج بھی واجب الادا ہیں، یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ عوام کا پیسہ ہے اور اس معاملے کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، گیس کی فراہمی معاہدے کے تحت ہی ہوگی‘۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہر صارف گیس کے تجارتی معاہدے کے تحت ہی گیس حاصل کرتا ہے جس میں غریب صارفین بھی شامل ہیں، اسی طرح کے-الیکٹرک بھی اس سے بالاتر نہیں۔انہوں نے بتایا کہ کے-الیکٹرک کو بغیر کسی سمجھوتے کے نیشنل گرڈ اسٹیشن سے 650 میگا واٹ بجلی کی فراہمی جاری ہے، تاکہ کراچی کے لوگوں کی مشکلات کچھ کم کی جاسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو توقع تھی کہ حکومت کی جانب سے عجلت میں بلائی گئی اس میٹنگ میں مسئلے کا کوئی حل نکل آئے گا، لیکن کے-الیکٹرک کی جانب سے تنازع کو کوئی اور ہی شکل دے دی گئی، اور متوقع نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وفاقی حکومت کسی قسم کی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگی، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایک خود مختار ادارہ ہے، یہ معاملہ ان کے دائرہ کار سے باہر تھا اس وجہ سے اس کے چئیرمین اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔


متعلقہ خبریں


شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید وجود - بدھ 06 مئی 2026

موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...

شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم وجود - بدھ 06 مئی 2026

چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...

دہشت گرد بزدلانہ حملوںسے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے،صدر مملکت ، وزیراعظم

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع وجود - بدھ 06 مئی 2026

عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...

فیلڈ مارشل کو نوبل امن انعام کیلئے نامزدگی کی سفارش ،سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی وجود - بدھ 06 مئی 2026

تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...

اسرائیل نے ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

مضامین
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟ وجود بدھ 06 مئی 2026
بنگال میں الیکشن ہورہا تھا یا جنگ؟

پاک افغان تعلقات کا مستقبل وجود بدھ 06 مئی 2026
پاک افغان تعلقات کا مستقبل

مودی کی بدعنوان حکومت وجود بدھ 06 مئی 2026
مودی کی بدعنوان حکومت

عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر