وجود

... loading ...

وجود

نیپراکاکے الیکٹرک کیخلاف کارروائی کا اعلان،بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا

پیر 23 اپریل 2018 نیپراکاکے الیکٹرک کیخلاف کارروائی کا اعلان،بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا

پاکستان نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کراچی کا دورہ کرنے کے بعد جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں کراچی میں بجلی کے بحران کی ذمے داری واضح طور پر کے الیکٹرک پر عاید کی ہے اور کسی اگر مگر سے کام نہیں لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ کراچی کے شہریوں کے لیے یہ بڑی حوصلہ افزا رپورٹ ہے بشرطیکہ معاملہ صرف رپورٹ تک محدود نہ رہے۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ رپورٹیں تیار ہوجاتی ہیں، خرابی کے ذمے داروں کا تعین ہوجاتا ہے اور بس۔ رپورٹ کسی فائل میں گم ہوجاتی ہے۔ تاہم یہ بد گمانی دور ہوگئی کہ کراچی کا دورہ کرنے والی نیپرا کی ٹیم گھوم پھر کر چلی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بجلی بحران کی ذمے دار کے الیکٹرک کے خلاف کیا قدم اٹھایا جائے گا اور یہ کام کون کرے گا۔ اس وقت پاکستان انتظامی طور پر ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ وفاقی حکومت بھی بحران میں مبتلا ہے اور سارا زور نا اہلوں کو نا اہلی سے بچانے پر لگ رہا ہے۔ ایسے میں کیا وزیراعظم ، وفاقی وزیر پانی و بجلی یا کوئی اور کے الیکٹرک کی خبر لے سکے گا اور اس شتر بے مہار کو لگام ڈال سکے گا۔ صورتحال تو یہ ہے کہ جیسے جیسے عوام احتجاج کررہے ہیں اور گرمی میں بجلی کی عدم فراہم کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں ویسے ویسے لوڈ شیڈنگ بڑھ رہی ہے۔ چند ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعویدارو ں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اب صرف ایک ہی نعرہ ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ جس لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اس کا کیا ہوا۔

کراچی میں خاص طور پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا جارہاہے اور اس پر کے الیکٹرک کا یہ دعویٰ کہ ہم روشنیوں کے شہر کراچی کو بجلی مہیا کرتے ہیں۔ پھر یہ اندھیر کیوں؟ کے الیکٹرک نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا ہے کہ ’’کے الیکٹرک لمیٹڈ شہر کے 6 ہزار 5سو مربع کلو میٹر رقبے پر محیط صنعتی، تجارتی، زرعی اور رہائشی مقامات کی بجلی کی ضروریات پوری کرتی ہے اور اس کے کراچی اور سندھ میں دھابیجی اور گھارو، بلوچستان میں حب، اوتھل، وندر اور بیلا میں 25 لاکھ کسٹمر اکاؤنٹس ہیں، پاکستان میں صرف ہم پاور جنریشن یوٹیلٹی ہیں اور 11 ہزار افراد کے عملے کے ساتھ شہر کے سب سے بڑے آجروں میں سے ہے۔ یہ دعوے اپنی جگہ لیکن ارضی حقائق اس کے منافی ہیں۔ نیپرا کی رپورٹ کے مطابق بن قاسم اور کورنگی کے گیس پلانٹس پر متبادل ایندھن (فیول) کا نظام موجود ہونے کے باوجود انہیں بند رکھا گیا ہے۔ گیس نہ ملنے پر ان پلانٹس کو ہائی اسپیڈ ڈیزل یا متبادل ایندھن پر نہ چلانا غیر ذمے داری ہے۔ متبادل ایندھن پر پلانٹس چلانے سے کے الیکٹرک کو 350 میگاواٹ بجلی مل سکتی تھی لیکن 27 مارچ سے 10 اپریل تک بن قاسم پاور اسٹیشن سے استعداد سے کم بجلی پیدا کی گئی۔

یہاں سے ایک ہزار 15 میگا واٹ کے بجائے صرف 647 میگاواٹ بجلی پیدا کی گئی۔ بن قاسم کا یونٹ نمبر 2 بھی ستمبر سے بند پڑا ہے۔ دیگر پلانٹس کی بھی مرمت نہ ہونے سے بحران میں اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ سے صاف ظاہر ہے کہ کے الیکٹرک نے دانستہ طور پر اپنی استعداد سے کم بجلی پیدا کی تاکہ منافع میں اضافہ کیا جائے۔ کے الیکٹرک کو جتنا منافع حاصل ہوتا ہے اس میں صارفین کا حصہ بھی تھا اور یہ منافع بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے پر صرف ہونا تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور کے الیکٹرک صرف لوٹ مار میں مصروف ہے۔ چنانچہ ایک عرصے سے یہ سوال بھی پوچھا جارہاہے کہ ایسے بے رحم لٹیروں کو اتنا اہم اثاثہ کس نے سونپ دیا اور کس کس نے اس سودے میں اپنے ہاتھ رنگے۔

جب تک کے ای ایس سی بجلی کی فراہمی کی ذمے دار تھی تب تک حکومت اس سے باز پرس بھی کرسکتی تھی مگر اب تو حکومت خود اپنے ہاتھ کاٹ کر بیٹھ گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک شنگھائی الیکٹرک کو بھی حصص فروخت کررہی ہے۔ عوام کو پریشان کرنے کا ایک اور طریقہ یہ اختیار کیا جارہاہے کہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود بجلی کے بل بڑھتے جارہے ہیں اور عوام اس بجلی کی قیمت ادا کررہے ہیں جو انہیں میسر ہی نہیں۔ اس معاملے میں سوئی گیس کمپنیاں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ اس سے بڑھ کر ستم یہ ہے کہ اگر کوئی بجلی کا غلط بل صحیح کرانے جائے تو اس سے کہاجاتا ہے کہ پہلے بل جمع کرادو اس کے بعد بات ہوگی۔ یہ طریقہ کے ای ایس سی نے بھی اختیار کیا تھا۔ اگر کوئی بل جمع کرانے کی حیثیت ہی نہ رکھتا ہو تو وہ کیا کرے؟ زیادہ سے زیادہ یہ مہربانی کردی جاتی ہے کہ قسطیں مقرر کردی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ واردات بھی دہشت گردی ہے۔ خود کے الیکٹرک گیس کمپنی کی 40 ارب روپے کی مقروض ہے جس کی وجہ سے کمپنی نے کے الیکٹرک کو گیس کی فراہمی میں کمی کردی ہے۔

کراچی میں بجلی کی ضرورت 16 سو میگاواٹ ہے اور کے الیکٹرک کے پاس دو ہزار 4 سو میگاواٹ بجلی تیار کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ کے الیکٹرک جان بوجھ کر کم بجلی تیار کررہی ہے۔ گزشتہ ماہ مارچ میں جو بجلی استعمال ہوئی اس کے اپریل میں موصول ہونے والے بلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 40 فی صد زیادہ بلنگ کی گئی یعنی جس کا بل ایک ہزار آتا تھا اسے 14 سو روپے کا بل بھیجا گیا۔ اس بل میں ایک کام اور دکھایاگیا ہے کہ سابقہ ریڈنگ اور موجودہ ریڈنگ کا خانہ ہی نہیں ہے چنانچہ جو مرضی میں آیا اتنے کا بل بھیج دیا گیا۔ بات صرف کراچی اور کے الیکٹرک کی نہیں۔ نواز شریف حکومت نے بجلی کے جتنے بھی پلانٹ لگائے ہیں ان سے دعوؤں کے برعکس بہت کم بجلی مل رہی ہے۔ کراچی میں بجلی اور پانی کی افسوسناک صورتحال پر صرف جماعت اسلامی عرصے سے احتجاجی مہم چلارہی ہے اور اس بحران کے خلاف 20 اپریل (جمعہ) کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ کے الیکٹرک کو چھوٹ دینے میں صوبائی حکومت کا بھی کردار ہے اور مرکزی حکومت کی تو کیا ہی بات ہے۔ دعوے، دعوے اور دعوے۔ ان ان دعوؤں کو لے کر انتخابی میدان میں اترا جارہاہے۔


متعلقہ خبریں


قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ وجود - منگل 23 جون 2026

وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...

9 اور 10 محرم کو ڈبل سواری پر پابندی،موبائل سگنل بحال رکھنے کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم وجود - منگل 23 جون 2026

اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، وزیراعظم

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر وجود - منگل 23 جون 2026

حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...

عمران خان سے مشاورت کے بغیروفاق کو پیسے نہیں دینگے،اسد قیصر

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

مضامین
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ وجود منگل 23 جون 2026
کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کو خطرہ

خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران وجود منگل 23 جون 2026
خاموشی، مایوسی اور اعتماد کا بحران

سب سے مہنگا آدمی کون؟ وجود منگل 23 جون 2026
سب سے مہنگا آدمی کون؟

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو وجود منگل 23 جون 2026
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ:حیاتِ طیبہ اور زندگی کے اخلاقی پہلو

موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر