... loading ...
قائد حزبِ اختلاف نے جو نام وزیراعظم کو پیش کیے ہیں ان پر وزیراعظم بھی اپنی پارٹی کے صدر اور قیادت سے تبادلہ خیالات کریں گے۔ خورشید شاہ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی مشاورت کریں گے ،اِس مقصد کے لیے ایک ہفتے کا وقت رکھا گیا ہے ،اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مشاورت خورشید شاہ ہی کریں گے اور اگر اس عمل کے دوران کسی نام پر اتفاق ہو جائے تو بہت اچھا ہے، لیکن بظاہر نہیں لگتا کہ فوری طور پر ہی کسی نام پر اتفاق رائے ہو جائے، کیونکہ سیاسی جماعتوں کی رائے بْری طرح تقسیم ہے ان میں بڑی اور چھوٹی جماعتوں میں سے ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ اْن کے نامزد کردہ کسی نام پر اتفاق ہو جائے، لیکن حتمی نام بہرحال وہی ہو گا، جس پر وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف کے درمیان اتفاق ہو گا۔مشاورت کا عمل چاہے جتنا بھی طول کھینچ لے، بہترین صورت تو یہی ہو گی کہ وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف کی ملاقاتوں کا سلسلہ سود مند اور ثمر آور ہو اور دونوں میں کسی ایسے نام پر اتفاق ہو جائے،جو الیکشن کرائے تو اْن پر کوئی انگلی نہ اْٹھے۔
دراصل ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم آج تک کوئی ایک الیکشن بھی ایسا نہیں کرا سکے، جس پر دھاندلی کا الزام نہ لگا ہو، اگرچہ1970ء کے الیکشن کے بارے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ تھے،لیکن ان میں عوامی لیگ کی آزادی کا یہ عالم تھا کہ اس کے ورکروں نے صبح نو بجے ہی پولنگ ا سٹیشنوں پر قبضہ کر لیا تھا اور کسی مخالف کو قریب پھٹکنے کی اجازت نہ تھی، جو لوگ اِس کے باوجود کھڑے رہ گئے، اْنہیں تشدد کر کے بھگا دیا گیا،جس الیکشن میں مخالفین کو ووٹ ہی نہ ڈالنے دیا جائے انہیں آزادانہ اور منصفانہ کس پہلو سے کہاجائے گا یہ تو کہنے والے جانتے ہوں گے، چونکہ یہ خیال بڑے بڑے لوگوں کے ذہنوں میں بھی راسخ ہے، جہاں سے یہ نکالنا ممکن نہیں، اِس لیے اس بحث کو طول دینے سے گریز کرتے ہوئے ہم اصل مدعا کی طرف آتے ہیں۔
نگران وزیراعظم چاہے جتنا بھی نیک نام، دیانت دار، پارسا اور ہر لحاظ سے اچھی شہرت کا مالک ہو، جو جماعتیں الیکشن ہار جائیں خاص طور پر وہ جماعتیں جن پر کئی سال سے یہ القا بار بار ہو رہا ہے، کہ وہ قیادت کے لیے چْن لی گئی ہیں اگر وہ ہار جائیں گی تو کسی نگران وزیراعظم کی دیانت داری اور پارسائی کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ کوئی نہ کوئی راستہ ایسا نکال لیں گے، جس کی بنیاد پر الیکشن پر نکتہ چینی کی جا سکے اور دھرنوں کی راہ ہموار کی جاسکے، اِس لیے نگران وزیراعظم کا عہدہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں،کانٹوں بھرا تخت ہو گا، جس نام پر بھی اتفاق ہو اور جس کسی کو یہ منصب سونپا جائے اْسے خود بھی ہزار بار سوچ لینا چاہئے کہ وہ ایسا منصب سنبھالے یا نہیں،کیونکہ سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخر الدین جی ابراہیم ایسے تجربے سے گزر چکے ہیں، اْنہیں منت سماجت کے ساتھ عہدہ سونپا گیا تھا، پھر ان پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے،لیکن پھر ہارنے والوں نے اْن کے ساتھ وہ سلوک کیا کہ الامان الحفیظ، اِس لیے ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی نیک نام عدالتی سیاسی یا معاشی شخصیت سیاست کی ان تاریک راہوں میں نہ ماری جائے۔
فرض کریں نگران وزیراعظم پر پہلے مرحلے میں اتفاق نہیں ہو پاتا تو پھر آئینی طریقِ کار کے تحت یہ معاملہ وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا، جو اس مقصد کے لیے بنائی جائے گی، پارلیمانی کمیٹی اگر اِس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے گی تو پھر اس کا امتحان شروع ہو گا یہ دوسرا مرحلہ بھی بہت اعصاب شکن ہو گا،کیونکہ اس کمیٹی میں زیادہ ارکان ہوں گے اور اْن کی رائے متنوع ہو گی، اِس لیے وہاں اتفاق کے امکانات کم اور اختلاف کے زیادہ ہوں گے تاہم ہماری تجویز تو یہی ہو گی کہ اگر کمیٹی کے پاس معاملہ آئے تو پھر وہ اس پر فیصلہ کن کردار ادا کرے، کسی ایک نام پر اتفاق کر لے، کیونکہ اگر کمیٹی کے بعد معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس گیا تو پھر یہ سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ بہتر ہے فیصلہ سیاست دان ہی کر لیں اور ایک دوسرے کو ’’رعایتی نمبر‘‘ دے کر کسی نام پر متفق ہو جائیں،کیونکہ الیکشن کمیشن کو اگر فیصلہ کرنا پڑا تو اس کی ترجیحات سیاست دانوں کی ترجیحات سے مختلف بھی ہوسکتی ہیں، وہ نگران وزیراعظم کی ذات کے اندرکوئی ایسی صفات تلاش کرنے کا متمنی ہو سکتا ہے، جو سیاست دان میں نہ پائی جاتی ہوں،لیکن جس نام پر بھی اتفاق ہو اس کی پہلی ترجیح اگر انتخابات شفاف طریقے سے کرانا نہ ہوئی تو یہ ساری مشقت ہی بے کار جائے گی۔
ہماری وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف سے گزارش ہو گی کہ جیسے بھی ہو، فیصلہ وہی کر لیں،اس کا فائدہ مْلک و ملت کو ہو گا اور سیاسی مستقبل پر اس کے اثرات بہتر مرتب ہوں گے۔ اگر یہ معاملہ سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ممکن ہے جہاں بھی فیصلہ ہو وہاں سیاسی مستقبل کی بجائے غیر سیاسی مستقبل کو دیکھا جائے، ویسے بھی ہمیں کوئی ایسا نگران وزیراعظم چاہئے جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہو، اس کی اْونچ نیچ سے واقف ہو،اور اس کی خوبیوں اور خامیوں پر نظر رکھتا ہو، ہمیں نہ تو کوئی ایسا وزیراعظم درکار ہے جو کسی اجنبی ماحول میں رہ رہا ہو اور اس ماحول کے اثرات کے تحت پاکستان کو بھی اس نظر سے دیکھتا ہو، نہ ہی ہمیں کسی ایسے سیارے کی مخلوق درکار ہے جو مثالیت پسندی کی تلاش میں ہماری زمین پر اْتر آئی ہو اور جس کی خواہش ہو کہ وہ مْلک کو جمہوریت سے دور اور آمریت سے قریب کر دے کہ ایسی خواہشیں بہت سے اْن لوگوں میں مچلتی رہی ہیں جو ہم نے اس مقصد کے لیے دساور سے درآمد کیے تھے وہ اس مْلک کا حلیہ بگاڑ کر جہاں سے آئے وہیں واپس چلے گئے، اِس لیے وزیراعظم اور قائد حزبِ اختلاف بامقصد اور معنی خیز مشاورت کے بعد کسی نتیجے پر خود ہی پہنچ جائیں تو اچھا ہو گا۔
موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ ، مولاناادریس کے دو گارڈز بھی زخمی ،مولانا کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا راستے میں ہی دم توڑ گئے،ہسپتال کے باہر ہزاروں عقیدت مند پہنچ گئے،علاقہ میںکہرام مچ گیا ضلع چارسدہ میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہ...
چارسدہ میں مولانا ادریس کی شہادت پر آصف زرداری اورشہباز شریف کا اظہارِ افسوس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی عزم غیر متزلزل، زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئیدعا کی چارسدہ میں جے یو آئی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی پر حملے کے نتیجے میں ان ک...
عاصم منیر نے خطے میں امن و استحکام کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے، ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایران امریکا جنگ رکوانے کیلئے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشیں قابل ستائش ہیں، قرارداد کا متن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نوبیل امن انعام کے لئے سفارش کی جائے، سندھ اسمبلی میں قرارداد جمع کرا د...
تیاری ایرانی انرجی انفرااسٹرکچر اور سینئر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی ہے جنگ امریکا کا انتخاب تھی، اثرات دنیا محسوس کررہی ہے، سی این این رپورٹ اسرائیل نے آبنائے ہُرمُز سے متعلق کشیدگی بڑھنے پر ایران پر نئے حملوں کی تیاری شروع کردی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق...
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...
سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...