وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کی سیف اللہ فیملی ،برطانیا میں سب سے زیادہ آف شور پراپرٹیز کی مالک نکلی

هفته 17 مارچ 2018 پاکستان کی سیف اللہ فیملی ،برطانیا میں سب سے زیادہ آف شور پراپرٹیز کی مالک نکلی

برطانیا میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق سے یہ ظاہرہواہے ، برطانیا میں سب سے بڑی اور زیادہ آف شور پراپرٹیز کامالک پاکستان کاکوئی سیاستداں یا تاجر نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقے لکی مروت کا ارب پتی سیف اللہ خاندان ہے۔ انگریزی اخبار ڈان کے لندن میں مقیم نامہ نگارساجد اقبال نے ا س حوالے سے جو تفتیشی رپورٹ تیار کی ہے اس سے برطانیا میں سیف اللہ خاندان کی آف شور پراپرٹیز کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ہیمپشائر میں سرسبز برام شیل پارک میں واقع ایک خوبصورت محل نما بنگلہ برطانیا میں سیف اللہ خاندان کی املاک کے تاج میں جڑا ہیرا تصور کیاجاتاہے، اطلاعات کے مطابق سیف اللہ خاندان نے یہ پراپرٹی 1996 میںجرسی میں قائم آف شور کمپنی کے توسط سے 8لاکھ65ہزار پونڈ میں ایکوا نامنیز لمیٹیڈ کے ذریعہ خریدی تھی۔اس محل نما فارم ہائوس میں 6بیڈ روم ،7استقبالیہ کمرے ،5باتھ رومز اور وسیع وعریض زرعی اراضی شامل ہے۔ اس میں ایک بڑا سوئمنگ پول ، ٹی وی اور میوزک سے آراستہ جاکوزی اور ایک ٹینس کورٹ بھی اس میں شامل ہے۔ اس خوبصورت اور پرتعیش محل کے ساتھ ہی اس میں بڑی تعداد میں ہرن اوردیگر جنگلی جانور بھی موجود ہیں ۔

برطانیا کے لینڈ ریکارڈ کے تحت مختلف مقامات پر کیے گئے اندراج کے مطابق سیف اللہ فیملی کی ملکیت اس بڑے فارم ہائوس میں 9ہزار مربع فٹ کاکورڈ ایریا ہے جبکہ اس کے ساتھ 334 ایکڑ کی زرعی زمین بھی موجود ہے۔ 2013 میں اس کی قیمت کااندازہ 8ملین پونڈ یعنی 80لاکھ پونڈ لگایاگیاتھا۔ جبکہ فی الوقت اس کی قیمت کااندازہ 10ملین پونڈ یعنی ایک کروڑ پونڈ لگایاگیا ہے۔

یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ آف شور کمپنی کامالک ہونے کامطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ یہ پراپرٹی لازماً کسی شخص یا کمپنی نے کسی غلط طریقے سے بنائی ہو ۔ سیف اللہ فیملی کی ملکیت یہ محل نما فارم ہائوس کسی بھی طرح بدنام زمانہ سرے محل سے کم نہیں ہے، سرے محل جسے مبینہ طورپر پاکستان پیپلزپارٹی کے سرپرست اعلیٰ آصف علی زرداری نے خریدا تھا اور یہ محل 355ایکڑ اراضی پر قائم ہے۔

برطانیا میں کی گئی تحقیق کے مطابق یہ محل نما فارم ہائوس خریدنے کے صرف 2سال بعد ہی سیف اللہ فیملی نے ایکوانامنیز کے ذریعے وسطی لندن میں ایک اور قیمتی پراپرٹی خریدی یہ سائوتھ وک اسٹریٹ سینٹرل لندن میں واقع ٹیرس ہائوس ہے جو سیف اللہ فیملی نے1998میں نصف ملین پونڈ میں خریدا تھا۔

برطانیا کے لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق آف شو ر کمپنی ایکوا نامنیز لمیٹیڈ سینٹرل لندن کے البیون اسٹریٹ پر بھی ایک پراپرٹی کی مالک ہے،اس کے علاوہ سیف اللہ فیملی کی ایک اور آف شور کمپنی یوکے پراپرٹی انوسٹمنٹ لمیٹیڈ نے پارک پلازا ویسٹ منسٹر برج کی 13ویں منزل پر بھی ایک فلیٹ خریدا تھا،اسی سائز کااسی فلور پر واقع ایک فلیٹ 2016میں 4لاکھ30ہزار پونڈ میں فروخت ہواتھا۔

سینٹرل لندن میں واقع البیون اسٹریٹ کو مکانوں کی قیمتوں کے اعتبار سے بہت قیمتی تصور کیاجاتاہے کیونکہ اسی اسٹریٹ پر واقع تین مکان اوسطاً 35لاکھ پونڈ فی مکان کی شرح سے فروخت کیے گئے تھے۔برطانیا کے لینڈ رجسٹری ریکارڈ سے ثابت ہوتاہے کہ البیون اسٹریٹ پر سیف اللہ فیملی کے2مکان موجود ہیں۔

البیون اسٹریٹ پر واقع ان پراپرٹیز کے علاوہ سیف اللہ خاندان ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے ورسیسٹر میں بھی 3پراپرٹیز کامالک ہے اور یہ تینوں پراپرٹیز بھی ایکوا ٹرسٹ کمپنی کے توسط سے خریدی گئی تھیں۔ سیف اللہ فیملی سینٹ مارٹنز پیلس میں ایک قطعہ اراضی کا مالک ہے اس کے علاوہ سینٹ مارٹنز پیلس کے شمال کی جانب ایک اراضی اورعمارتیں اورسٹی والز روڈ پر جاگوار سینٹر میں بھی سیف اللہ خاندان کی پراپرٹی ہے۔بیلز میں قائم پاکستان کے سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ خان کی آف شور کمپنی اشبی لمیٹیڈ کی زیر ملکیت کلیو وے سٹن میں ایک پارکنگ لاٹ بھی سیف اللہ فیملی کی ملکیت ہے۔اس کے علاوہ برطانیا میں سیف اللہ فیملی کی زیر ملکیت کسی اورپراپرٹی کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم سیف اللہ خاندان کی زیر ملکیت آف شور کمپنیوں کی موجودگی کی پانامہ پیپرز سے بھی تصدیق ہوتی ہے۔ سیف اللہ فیملی ہیمپشائر میں فارم ہائوس کی مالک واحدپاکستانی فیملی نہیں ہے بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے نااہل قرار دئے گئے رہنما جہانگیر ترین بھی ہیمپشائر میں ایک خوبصورت فارم ہائوس کے مالک ہیں۔اس کے علاوہ اسی کائونٹی میں جہانگیر ترین نے برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم شائنی ویو لمیٹیڈ کے توسط سے2012 میں 12لاکھ پونڈ میں ایک ہائیڈ ہائوس بھی خریدا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جو خود کوخادم پنجاب کہتے نہیں تھکتے اوراپنے بڑے بھائی کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ کی صدارت کاتاج جن کے سرسجایاگیاہے کی ساس ثمینہ درانی بھی سینٹرل لندن میں ایک رہائشی پراپرٹی کی مالک ہیں انھوں نے یہ پراپرٹی بہاماس میں قائم ایک آف شور کمپنی ارمانی ریور لمیٹیڈ کے ذریعے ستمبر2002 میں 4لاکھ 80پونڈ میں خریدی تھی۔اس وقت اس پراپرٹی کی قیمت 10لاکھ پونڈ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔اسی فلور پر واقع دو فلیٹس 2015اور2014 میں بالترتیب 10لاکھ80ہزار پونڈا ور14لاکھ 25ہزارپونڈ میں فروخت ہوئے تھے۔

جہانگیر ترین کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے علیم خان کی بھی سینٹرل لندن میں 3پراپرٹیز ہیں،جو کہ انھوں نے برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم آف شور کمپنی ہیکزام انوسٹمنٹ کمپنی انکارپورٹیڈ کے توسط سے خریدی تھیں۔علیم خان کی زیر ملکیت ان پراپرٹیز میں ایچ ویئر کے علاقے پارک ویسٹ میں پانچویں منزل پر واقع ایک کمرے کا ایک فلیٹ شامل ہے جو انھوں نے جولائی2007میں 3لاکھ پونڈ میں خریداتھا اسی طرح کے اسی فلور پر واقع دو اور فلیٹ اگست2017 میں 5-5لاکھ پونڈ میں فروخت ہوئے تھے،علیم خان ماربل آرک اپارٹمنٹ میں بھی ایک فلیٹ کے مالک ہیں جو ان کی آف شور کمپنی کے توسط سے اگست2002 میں 2لاکھ20ہزار پونڈ میں خریدا گیاتھا۔ماربل آرک میں اسی طرح کے دو فلیٹ گزشتہ سال بالترتیب4لاکھ95ہزار پونڈ اور4لاکھ 15ہزار پونڈ میں فروخت ہوئے تھے۔

علیم خان کی ایک تیسری آف شورپراپرٹی انتہائی قیمتی اور معروف علاقے سائوتھ وہارف روڈ لندن میں واقع ویسٹ کلف اپارٹمنٹس میں ہے انھوں نے یہ فلیٹ صرف 6ماہ قبل 4لاکھ5ہزار پونڈ میں خریداہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری بھی سینٹرل لندن میں 2قیمتی پراپرٹیز کے مالک ہیں جو انھوں نے آف شور کمپنی کے ذریعے خریدے تھے، یوکے لینڈ رجسٹری ریکارڈ کے مطابق براڈ بری ریسورسز کمپنی کاتعلق بھیزلفی بخاری سے ہے اور 30 انسمور گارڈن میں اس کمپنی کے شیئرز ہیں، اس پراپرٹی کی قیمت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جولائی2008میں انسمور گارڈن میںایک فلیٹ 9لاکھ49ہزار 950پونڈ میں فروخت ہواتھا۔

ƾ


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر