... loading ...
محکمہ صحت سندھ میں ڈاکٹروں کی ترقیوں کا انصاف پر مبنی معاملہ موجودہ سیکرٹری صحت کی انا کی نذر ہے تو پیرا میڈیکل اسٹاف کے ہیلتھ الائونس کا جائز مطالبہ کمزور قیادت کی نااہلی کے باعث سرد خانے میں جاتا نظر آرہا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے قانون پسند مسیحا پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر عثمان ماکو کی قیادت میں 7 اگست 2015ء سے تاحال سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے دیئے گئے فیصلے پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تمام ڈاکٹرز تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ کیا محکمہ صحت سندھ کے یہ سرکاری ڈاکٹرز بھی پنجاب کے سول افسروں کی طرح قانون سے بغاوت کرکے اپنا حق حاصل کریں؟ یہ ڈاکٹرز بھی حکومت سندھ کے گزٹیڈ افسر ہیں۔ متعدد تو ترقی حاصل کئے بغیر موت کی ابدی نیند سوگئے اور متعدد ترقی کی حسرت لئے بغیر ہی ریٹائر ہو کر گھر چلے گئے۔ لیکن یہ کیا بے شرمی ہے کہ ریٹائر ہونے والا سیکرٹری صحت عدالت عظمیٰ میں ڈاکٹروں کی ترقیوں کی گمراہ کن رپورٹ جمع کراکے ریٹائرمنٹ کے اپنے نوٹیفکیشن کے اجرا کے باوجود چیف جسٹس آف پاکستان سے اپنی ترقی کی درخواست کرتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی ناانصافی کا وہ خطرناک پہلو ہے جس سے بالادست طبقہ زبردست طاقتور ہوتا جارہا ہے اور محکوم طبقہ ناانصافیوں کے باعث تیزی سے انارکی کی جانب جارہا ہے۔ خطرے کی یہ گھنٹی وفاق اور صوبوں میں مغلیہ سلطنت کی طرز کی نام نہاد جمہوریت کی بساط کے لئے ہی نہیں بلکہ وطن عزیز کی سلامتی اور ترقی کے حوالے سے بھی کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ان مسیحائوں کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کی کسی نے کوشش نہیں کی جس میں حکومتی وزیر اور نمائندگان، سیاسی جماعتوں کے رہنمایان سمیت محکمہ صحت کے کسی نچلی سطح تک کے افسر کو یہ توفیق نہیں ہوئی۔ بالآخر قومی طب و صحت کے اُفق پر موجود ڈاکٹروں کی مستند نمائندہ تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ایس ایم قیصر سجاد نے بھوک ہڑتالی ڈاکٹروں کو جوس پلا کر نہ صرف ان کی بھوک ہڑتال ختم کروائی بلکہ اپنی نگرانی میں بھوک ہڑتالی ڈاکٹروں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال بھی روانہ کیا۔
محکمہ صحت سندھ کی تاریخ میں پہلی بار پیرا میڈیکل اسٹاف نے کراچی پریس کلب پر گزشتہ دنوں ہیلتھ الائونس کے ایک نکاتی مطالبے پر تاریخی بے نظیر مظاہرہ کیا۔ جس میں مظاہرین کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور ان کے پرجوش نعروں نے جہاں سیکورٹی اداروں کو اضافی نفری کے لئے مجبور کردیا وہیں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کمزور قیادت بھی اس غیر متوقع جم غفیر کو دیکھ کر حیران اور پریشان ہوگئی بلکہ میں نے بعض رہنمائوں کو حواس باختگی کی کیفیت میں دیکھا۔ وہیں محکمہ صحت کی تاریخ میں سابق مشیر صحت فیصل گبول کے بعد دوسرے وائسرائے طرز کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیجوہو نے بھی معاملے کو ہاتھ سے نہ نکل جانے کی ہنگامی پالیسی پر عمل کیا اور ایڈیشنل سیکریٹری صحت جلال الدین جلالانی کو اپنا ایلچی بنا کر کراچی پریس کلب کے سامنے پیرامیڈیکل رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بھیجا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی پیپلز پیرامیڈیکل اور آل سندھ پیپلز پیرامیڈیکل کے دونوں گروپوں کے علاوہ سندھ پیرا میڈیکل ویلفیئر ایسوسی ایشن اور اسی طرح سے متحدہ قومی موومنٹ کی میڈیکل ایڈکمیٹی کی شکست وریخت کے بعد پاک سرزمین کا میڈیکل ونگ کے علاوہ متحدہ پاکستان کا میڈیکل ونگ اس جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل ہے۔ گوکہ پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر اور سابق وزیر صحت سندھ ڈاکٹر صغیر احمد نے اپنے میڈیکل ونگ کے تحت کراچی پریس کلب پر ہیلتھ الائونس کے حوالے سے ایک اچھا شو مذکورہ شو سے قبل کرچکے تھے۔ لیکن اس شو کا حفاظتی اداروں سمیت محکمہ صحت تک کے کسی چھوٹے افسر نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بہرحال جلال الدین جلالانی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں سے بات چیت کے بعد واپس سیکرٹری صحت ڈاکٹر فضل اللہ پیجوہو کے پاس گئے اور کچھ دیر بعد جب واپس آئے تو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں نے احتجاجی ٹرک پر چڑھ کر مذاکرات کی ناکامی کا تو اعلان کردیا لیکن اپنی نااہلی اور ناتجربہ کاری کی بنا پر اس مظاہرے کی اصل قوت کو کوئی واضح لائحہ عمل دینے میں ناکام رہے۔ بس یہی وہ موڑ تھا جب دیئے ہوئے احتجاجی پروگرام پر عمل درآمد ہونے سے پہلے مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما جب دوسرے روز محکمہ صحت کے چالاک سیکرٹری کے ہاتھوں ٹریپ ہو کر مذاکرات کے لئے پہنچے تو پہلے تو ان کمزور رہنمائوں کا استقبال انتظار سے کرایا گیا اور جب سیکرٹری صحت آئے تو ناقص حکمت عملی اور موثر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث رہنمائوں کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ یہ تو خیر ہوئی وفد میں شامل ایک بزرگ رہنما نے اپنی بزرگی کو دائو پر لگا کر اور ایڈیشنل سیکرٹری جلال الدین جلالانی نے اپنے سیکرٹری کی پالیسی کے مطابق کمیٹی کے رہنمائوں کو محفوظ راستہ دیا۔ ایکشن کمیٹی میں شامل دو جماعتوں نے سکھ کا سانس لیا کہ ہم معافی تلافی والے مذاکرات میں نہیں تھے۔ اب معافی تلافی والے رہنما ہیلتھ الائونس کے مطالبے کی تکمیل کے بجائے ان چار نیم طبی تنظیموں کو بھی اپنی صف میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہیں جو مذکورہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں شامل نہیں تھے۔ اس میں سب سے بڑی نیم طبی تنظیم پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن، پاکستان ہیلتھ ایمپلائز ایسوسی ایشن، انصاف میڈیکل ونگ، فنکشنل میڈیکل ونگ شامل ہیں۔ حالانکہ عام انتخابات قریب ہونے کے باعث 72 ہزار ملازمین کے ہیلتھ الائونس منظور کرانے کا بہترین موقع تھا۔ جسے گنوایا گیا یا فروخت کیا گیا۔ یہ فیصلہ پیرامیڈیکل اسٹاف کے ملازمین کو کرنا ہے، خود ساختہ رہنمائوں کو نہیں۔
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...