وجود

... loading ...

وجود

انتظارکاقتل ‘ سندھ پولیس کی غفلت یاسفاکی

هفته 10 فروری 2018 انتظارکاقتل ‘ سندھ پولیس کی غفلت یاسفاکی

گزشتہ ماہ تواترکے ساتھ کراچی میں جعلی مقابلوں میں تین نوجوانوں کی ہلاکت نے سندھ پولیس کی درندگی عیاں کردی ۔ جہاں تک جعلی مقابلوں کاتعلق تویہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے ۔ عرصہ درازسے ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں ۔ لیکن حکام کے کان اس وقت کھڑے ہوئے جب سوشل میڈیاپرنقیب اللہ محسودنامی قبائلی نوجوان کی فرضی پولیس مقابلے میں ہلاکت کاشوراٹھا۔ اس حوالے سے اخبارات اورالیکٹرانک میڈیاپربہت کچھ لکھا جاچکاہے ۔ کئی اہلکارگرفتاراوراس مقابلے یا اس قسم کے مقابلوں کے مرکزی کردارسابق ایس ایس پی ملیراب تک قانون کی گرفت سے آزادہیں ۔ نقیب اللہ کے بارے میں اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ کئی روزسے پولیس کی حراست میں تھااوراسے باقاعدہ پروگرام بناکرمارکردہشت گردثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن اسی دوران کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک اورواقعہ اس وقت پیش آیاجب اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں نے ملائیشیاسے چھٹیاں گزارنے کے لیے آنے والے نوجوان انتظارکوصرف گاڑی نہ روکنے کے جرم پراندھادھند گولیابرساکرہلاکت کر دیا۔ گوکہ یہ معاملہ بھی پوری شدت سے سوشل میڈیاپراٹھایاگیالیکن اس بازگشت اس انداز سے نہیں سنائی دی جس طرح کاردعمل نقیب اللہ کی ہلاکت پرسامنے آیا۔ تاہم اس جعلی مقابلے میں ملوث اہلکار بھی پولیس کی حراست میں ہیں اورکیس کی سماعت جاری ہے ۔

اس حوالے سے اینٹی کار لفٹنگ سیل ( اے سی ایل سی ) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان کے معاملے میں تحقیقات کر نے والوں کا کہا ہے کہ انتظار کے قتل میں کوئی مجرمانہ سازش نہیں تھی اور سینئر پولیس افسر مقدس حیدر کے قتل کے پیچھے ملوث ہونے کے ثبوت بھی نہیں ملے، تاہم یہ واقعہ ایک غلطی سے زیادہ ہے۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس واقعے کو سفاکانہ قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کرمنل پروسیجر کوڈ ( سی آر پی سی) کی دفعہ 173 کے تحت یہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے گی تاکہ ابتدائی طور پر گرفتار اے سی ایل سی کے 9 اہلکاروں کا ٹرائل شروع کیا جاسکے۔خیال رہے کہ انتظار کے والد اشتیاق احمد کی جانب سے پولیس تفتیش پر تحفظات کے اظہار کے بعد انسپکٹر جنرل ( آئی جی) سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کی جانب سے سی ٹی ڈی کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔

اس حوالے سے سی ٹی ڈی انچارج ڈی آئی جی پرویز احمد چانڈیو کا کہنا تھا کہ انتظار کی ہلاکت کے معاملے میں کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو سکتا کہ قتل کے پیچھے مجرمانہ سازش تھی۔سی ٹی ڈی نے اپنی تحقیقات میں کہا کہ اس واقعے میں یہ بھی ظاہر نہیں ہوا کہ یہ اے سی ایل سی حکام کی غلطی تھی بلکہ یہ ایک نوجوان کا سفاکانہ قتل تھا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے پاس ’ قتل کا لائسنس نہیں بلکہ پولیس صرف اپنا دفاع اس وقت کرسکتی ہے جب ان پر کوئی حملہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جب اے سی ایل سی اہلکاروں نے نوجوان کی گاڑی کو روکا تو انہوں نے اس کی تلاشی نہیں لی، یہاں تک کہ گاڑی کے شیشے اتاروا کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ نوجوان آخر کون ہے۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اے سی ایل سی اہلکاروں نے نوجوان کے سامنے یہ بات تک ظاہر نہیں کی کہ ان کا تعلق پولیس سے ہے اور انہوں نے اس کیس میں اتنے غیر ذمہ دارانہ رویہ کا مظاہرہ کیا جس کے بعد سی ٹی ڈی اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ ایک سفاکانہ قتل تھا۔

سی ٹی ڈی کی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انتظار کے قتل کے پیچھے کا عمل تمام 9 اے سی ایل سی اہلکاروں کا عام عمل تھا، تاہم اس واقعے میں دو اے سی ایل سی اہلکار دانیال اور بلال نے نوجوان کی گاڑی پر فائرنگ کی لیکن باقی 7 اہلکاروں کا عمل میں ان سے مختلف نہیں تھا اور وہ سب اس واقعے میں شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ باقی اہلکاروں نے ان اہلکاروں کو نہ تو روکا اور نہ ہی فائرنگ سے ابتدائی طور پر زخمی ہونے والے انتظار کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی بلکہ تمام اے سی ایل سی اہلکار کرائم سین سے غائب ہوگئے۔

ڈی آئی جی انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) عامر فاروقی نے انتظار قتل کیس کے معاملے کو پولیس کی ناکامی قرار دیتے ہوئے معاملے پر جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش کردی۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کی ناکامی ثابت ہوئی ہے، پولیس نے شدید غفلت کا مظاہرہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پولیس پارٹی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور واقعے میں استعمال گاڑیاں بھی پولیس افسران کی ذاتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ انتظار کی گاڑی کو روکنے کی بات نے کئی شبہات پیدا کیے ہیں اور گاڑی روکنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انتظار کو اغوا کیا جارہا تھا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ تمام تر کاروائی جلد بازی اور لاپرواہی میں کی گئی جس سے انتظار کی موت واقع ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں میں سے کچھ اہلکاروں کو وردی میں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سادہ کپڑوں میں ایسا لگا جیسے سارے ڈاکو ہیں اس لیے انتظار گھبرا گیا تھا۔ڈی آئی جی عامر فاروقی نے تحقیقات میں شفافیت کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کے حوالے سے کہا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینے کی سفارش انتظار کے لواحقین سے مشاورت کے بعد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے تشکیل دینے سے ایس ایس پی مقدس حیدر سمیت دیگر ہولیس افسران اور اہلکاروں کا واقعے میں کردار مزید واضع ہوجائے گا۔

انتظارنامی نوجوان کے قتل کے معاملے پراگردیکھاجائے تویہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کراچی پولیس اس قدرسفاک ہوچکی ہے کہ کسی خوفزدہ نوجوان کوگاڑی نہ روکنے پرقتل کرنے سے بھی نہیں چوکتی ۔ اطلاعات کے وقت جس وقت انتظار کو سفاکیت کا نشانہ بنایا گیااس وقت اس کے ساتھ ایک لڑکی بھی موجودتھی اس حوالے سے صاف ظاہرہے کہ کوئی بھی نوجوان کسی لڑکی کوگاڑی میں ساتھ بٹھاکرکسی سنگین نوعیت کے جرم کے لیے ہرگزنہیں نکل سکتا اس کے علاوہ جس شہرمیں آئے روزاسٹریٹ کرائم کے دوران لوگوں کے لٹنے کی خبریں ملتی ہوں وہاں سادہ لباس میں مسلح افرادکودیکھ کرکسی بھی شریف شہری کاگھبراجانااورجان کے لیے بھاگنے کی کوشش کرناایک فطری بات ہے ۔ انتظارقتل کیس کے فیصلے سے قطع اعلی پولیس حکام کواس جانب توجہ دیناہوگی اورسادہ لباس مسلح اہلکاروں کے مٹرگشت پرپابندی لگانی ہوگی۔


متعلقہ خبریں


ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ وجود - منگل 05 مئی 2026

یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...

ایران کا امریکی جہاز پر حملے کا دعویٰ

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت وجود - منگل 05 مئی 2026

بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...

حکومت پر دبائو بڑھائیں،ارکان اسمبلی آج اڈیالہ جیل پہنچیں،علیمہ خانم کی پارٹی رہنمائوں کو ہدایت

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان وجود - منگل 05 مئی 2026

سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...

جماعت اسلامی، آئی پی پیز، پیٹرول مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

مضامین
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب وجود منگل 05 مئی 2026
عصرِ حاضر میں اللہ کا روحانی قرب

آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں! وجود منگل 05 مئی 2026
آؤ ! جیل کی سلاخیں توڑیں!

سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر