وجود

... loading ...

وجود

بچے کی نگہداشت: کیا کریں کیا نہ کریں

منگل 09 جنوری 2018 بچے کی نگہداشت: کیا کریں کیا نہ کریں

بدن پر تیل ملنا:بچے کے بدن پر تیل ملنے میں کوئی ہرج نہیں مالش اگر ٹھیک طریقے سے کی جائے تو اس سے رگ اور پٹھے کھل جاتے ہیں اور ان کی ورزش ہو جاتی ہے۔ لیکن بچے کی مالش زیادہ طاقت سے نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ بچے کی کھال اور پٹھے نازک ہوتے ہیں اور اس کے بدن کے جوڑ بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس لیے بچے کی مالش بہت ہلکے ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ تیل کی مالش اس لیے بھی اچھی ہے کہ رگوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ دوران خون کو بھی ٹھیک رکھتی ہے اور چربی کو کم کرتی ہے۔ تیل مالش کا سب سے بڑا فائدہ ماں بچے کی اس طویل سنگت کے روپ میں نکلتا ہے جو مالش کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس طرح ماں کو بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ مالش کے لیے کوئی بھی تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں اس کے لیے کوئی نفیس قسم کا تیل ہی استعمال کیا جائے۔ ہاں یہ احتیاط بھی کرنی چاہیے کہ تیل میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔ ناریل، زیتوں اور تل کا تیل دوسروں کے مقابلے میں اس لیے اچھا ہے کہ اس سے جلد میں سوزش یا جلن نہیں ہوتی۔ بچے کی زبان:اس بات کی ضرورت نہیں کہ ا?پ اس کی زبان کی صفائی کریں۔ قدرت نے بچے کے منہ کی صفائی کا نظام خود بخود بنا دیا ہے جس کی وجہ سے بچے کے منہ کی صفائی ازخود قدرتی طور پر ہوتی رہتی ہے۔ بچے کے ناخن بڑھ جائیں تو انہیں چھوٹی قینچی یا بچوں کے نیل کٹر سے کاٹیں۔ بچوں کو قولنج کا درد: بچوں کو قولنج کا درد اس وقت ہوتا ہے جب ان کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ تکلیف سے چیخنے لگتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بچہ جب بہت تیزی سے دودھ پیتا ہے تو دودھ کے ساتھ اس کے پیٹ میں بہت سی ہوا چلی جاتی ہے۔ اس لیے اس درد کا علاج یہ ہے کہ ہوا کا اخراج ہو۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچے کو ا?ہستہ دودھ پلایا جائے تاکہ پیٹ میں ہوا داخل ہی نہ ہو۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر اس کی پیٹھ تھپکنا چاہیے تاکہ بچے کو ڈکاریں ا?ئیں اور ڈکاروں کے ذریعہ پیٹ میں پھنسی ہوئی ہوا نکل جائے۔ اس کے بعد بچے کو داہنی کروٹ سے لٹا دیں اور اس کی پیٹھ کی طرف بائیں جانب تکیہ لگا دیجیے۔ اس سے بھی ہوا کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ درد کی صورت میں بچے کو پیٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ پیٹ کے دبنے سے اسے ڈکاریں ا?ئیں اور پیٹ میں موجود ہوا خارج ہو جائے۔ سب سے اہم بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ بچے کو ا?رام سے لیٹا رہنے دیجیے اور ہر کسی کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیجیے اور نہ گود میں اٹھانے دیجیے۔ جہاں تک ممکن ہو ماں ہی اس کی تمام ضروریات پوری کرے۔لیکن بہت پیار کے ساتھ۔ نرم اور جاذب کپڑے: اگر ماں نے بچے کی پیدائش سے پہلے فراکیں وغیرہ تیار کر لی ہیں تو بہتر ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایسے نرم کپڑے کی فراکیں وغیرہ بنائی جائیں جو پسینہ اور نمی جذب کر لیں۔ کپڑے نرم، ہلکے اور ڈھیلی ڈھالے ہوں تو اچھا ہے۔ جاڑوں میں بچوں کو تین چار سویٹر پہنانے سے بہتر ہو گا کہ اسے ایک (یا زیادہ سے زیادہ دو)گرم سویٹر پہنا کر کمبل ڈال دیں۔ کمبل چارپائی پر ا?ڑا کر کے اس طرح ڈالیں کہ بچے کے سینہ پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔ بچے کو ایک ہی سویٹر پہنانا اس لیے بہتر ہے کیونکہ بہت سارے اونی کپڑے ایک ساتھ پہننے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ گرمی سے گھبرا جائے اور بے چین ہو جائے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلائے۔ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی بہترین غذا ہے اور جب تک ڈاکٹر منع نہ کرے ماں بچے کو قبل از وقت دودھ پلانا بند نہ کرے۔ تین ماہ کا بچہ: تین ماہ کا بچہ اپنی گرد ن گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی ماں کو پہچاننے لگتا ہے۔ کھیل میں ٹانگیں اٹھا کر اپنے پیر پکڑتا ہے اور مسکراتا ہے۔ یہ گویا اس کی سماجی زندگی کا ا?غاز ہوتا ہے۔ بیٹھنے اور چلنے کی عمر:چار ماہ کے بچے کو اگر اوندھا کرکے لٹا دیں تو وہ اپنا سر اور سینہ اوپر اٹھا لیتا ہے اور وہ سیدھا لیٹا ہو تو اس کو ہاتھ پکڑ کر اٹھا سکتے ہیں۔ اس عمر کو پہنچ کر اس کا سر ٹھہرنے لگتا ہے لیکن پھر بھی تھوڑی سی ڈگمگاہٹ باقی رہ جاتی ہے۔ پانچ ماہ کی عمر میں بچہ سہارے سے بیٹھنے لگتا ہے۔ بعض بچے اس عمر میں دودھ پیتے وقت گلاس، پیالہ بھی پکڑنے لگتے ہیں۔ سات مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے بیٹھنے لگتا ہے۔ ا?ٹھ ماہ کی عمر میں وہ سہارے سے کھڑا ہو جاتا ہے اور دس گیارہ مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے کھڑا ہونے لگتا ہے۔ وہ دیوار یا رسی کے سہارے زینہ بھی چڑھ سکتا ہے۔ اب وہ ’’ماما، بابا‘‘ جیسے الفاظ بھی کہنے لگتا ہے۔ اٹھارہویں مہینہ میں وہ اور مضبوطی سے قدم جما کر چلنے لگتا ہے اور کئی دوسرے الفاظ بولنا سیکھ جاتا ہے۔ دو سال کی عمر میں بچہ دوڑنے کے قابل ہو جاتاہے۔ زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے اور اپنے ا?س پاس کی چیزوں کو زیادہ اچھی طرح پہچاننے لگتا ہے۔ بچے کی بڑھوتری کا سلسلہ 20 سال کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ والدین کو شروع کے چند سالوں میں بچے کی ہر بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ ابتدائی زمانہ میں بچے کو اگر کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو اس کی تلافی متعدد بار ممکن نہیں ہوتی مثلاً اگر سکول میں داخلے وقت ذرا پہلے اس کی طرف بے توجہی برتی جائے تو بچہ پڑھنے لکھنے سے جی چرانے لگتا ہے اور سکول میں ٹھیک نہیں چل پاتا۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر