وجود

... loading ...

وجود

بچے کی نگہداشت: کیا کریں کیا نہ کریں

منگل 09 جنوری 2018 بچے کی نگہداشت: کیا کریں کیا نہ کریں

بدن پر تیل ملنا:بچے کے بدن پر تیل ملنے میں کوئی ہرج نہیں مالش اگر ٹھیک طریقے سے کی جائے تو اس سے رگ اور پٹھے کھل جاتے ہیں اور ان کی ورزش ہو جاتی ہے۔ لیکن بچے کی مالش زیادہ طاقت سے نہ کرنی چاہیے۔ کیونکہ بچے کی کھال اور پٹھے نازک ہوتے ہیں اور اس کے بدن کے جوڑ بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس لیے بچے کی مالش بہت ہلکے ہاتھ سے کرنا چاہیے۔ تیل کی مالش اس لیے بھی اچھی ہے کہ رگوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے کے علاوہ دوران خون کو بھی ٹھیک رکھتی ہے اور چربی کو کم کرتی ہے۔ تیل مالش کا سب سے بڑا فائدہ ماں بچے کی اس طویل سنگت کے روپ میں نکلتا ہے جو مالش کے دوران پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس طرح ماں کو بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ مالش کے لیے کوئی بھی تیل استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں اس کے لیے کوئی نفیس قسم کا تیل ہی استعمال کیا جائے۔ ہاں یہ احتیاط بھی کرنی چاہیے کہ تیل میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔ ناریل، زیتوں اور تل کا تیل دوسروں کے مقابلے میں اس لیے اچھا ہے کہ اس سے جلد میں سوزش یا جلن نہیں ہوتی۔ بچے کی زبان:اس بات کی ضرورت نہیں کہ ا?پ اس کی زبان کی صفائی کریں۔ قدرت نے بچے کے منہ کی صفائی کا نظام خود بخود بنا دیا ہے جس کی وجہ سے بچے کے منہ کی صفائی ازخود قدرتی طور پر ہوتی رہتی ہے۔ بچے کے ناخن بڑھ جائیں تو انہیں چھوٹی قینچی یا بچوں کے نیل کٹر سے کاٹیں۔ بچوں کو قولنج کا درد: بچوں کو قولنج کا درد اس وقت ہوتا ہے جب ان کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ تکلیف سے چیخنے لگتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ بچہ جب بہت تیزی سے دودھ پیتا ہے تو دودھ کے ساتھ اس کے پیٹ میں بہت سی ہوا چلی جاتی ہے۔ اس لیے اس درد کا علاج یہ ہے کہ ہوا کا اخراج ہو۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ بچے کو ا?ہستہ دودھ پلایا جائے تاکہ پیٹ میں ہوا داخل ہی نہ ہو۔ دودھ پلانے کے بعد بچے کو کندھے سے لگا کر اس کی پیٹھ تھپکنا چاہیے تاکہ بچے کو ڈکاریں ا?ئیں اور ڈکاروں کے ذریعہ پیٹ میں پھنسی ہوئی ہوا نکل جائے۔ اس کے بعد بچے کو داہنی کروٹ سے لٹا دیں اور اس کی پیٹھ کی طرف بائیں جانب تکیہ لگا دیجیے۔ اس سے بھی ہوا کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔ درد کی صورت میں بچے کو پیٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ پیٹ کے دبنے سے اسے ڈکاریں ا?ئیں اور پیٹ میں موجود ہوا خارج ہو جائے۔ سب سے اہم بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ بچے کو ا?رام سے لیٹا رہنے دیجیے اور ہر کسی کو اسے ہاتھ نہ لگانے دیجیے اور نہ گود میں اٹھانے دیجیے۔ جہاں تک ممکن ہو ماں ہی اس کی تمام ضروریات پوری کرے۔لیکن بہت پیار کے ساتھ۔ نرم اور جاذب کپڑے: اگر ماں نے بچے کی پیدائش سے پہلے فراکیں وغیرہ تیار کر لی ہیں تو بہتر ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کے لیے ایسے نرم کپڑے کی فراکیں وغیرہ بنائی جائیں جو پسینہ اور نمی جذب کر لیں۔ کپڑے نرم، ہلکے اور ڈھیلی ڈھالے ہوں تو اچھا ہے۔ جاڑوں میں بچوں کو تین چار سویٹر پہنانے سے بہتر ہو گا کہ اسے ایک (یا زیادہ سے زیادہ دو)گرم سویٹر پہنا کر کمبل ڈال دیں۔ کمبل چارپائی پر ا?ڑا کر کے اس طرح ڈالیں کہ بچے کے سینہ پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔ بچے کو ایک ہی سویٹر پہنانا اس لیے بہتر ہے کیونکہ بہت سارے اونی کپڑے ایک ساتھ پہننے کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ گرمی سے گھبرا جائے اور بے چین ہو جائے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچے کو اپنا دودھ پلائے۔ بچے کے لیے ماں کا دودھ ہی بہترین غذا ہے اور جب تک ڈاکٹر منع نہ کرے ماں بچے کو قبل از وقت دودھ پلانا بند نہ کرے۔ تین ماہ کا بچہ: تین ماہ کا بچہ اپنی گرد ن گھما کر ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی ماں کو پہچاننے لگتا ہے۔ کھیل میں ٹانگیں اٹھا کر اپنے پیر پکڑتا ہے اور مسکراتا ہے۔ یہ گویا اس کی سماجی زندگی کا ا?غاز ہوتا ہے۔ بیٹھنے اور چلنے کی عمر:چار ماہ کے بچے کو اگر اوندھا کرکے لٹا دیں تو وہ اپنا سر اور سینہ اوپر اٹھا لیتا ہے اور وہ سیدھا لیٹا ہو تو اس کو ہاتھ پکڑ کر اٹھا سکتے ہیں۔ اس عمر کو پہنچ کر اس کا سر ٹھہرنے لگتا ہے لیکن پھر بھی تھوڑی سی ڈگمگاہٹ باقی رہ جاتی ہے۔ پانچ ماہ کی عمر میں بچہ سہارے سے بیٹھنے لگتا ہے۔ بعض بچے اس عمر میں دودھ پیتے وقت گلاس، پیالہ بھی پکڑنے لگتے ہیں۔ سات مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے بیٹھنے لگتا ہے۔ ا?ٹھ ماہ کی عمر میں وہ سہارے سے کھڑا ہو جاتا ہے اور دس گیارہ مہینے کی عمر میں بچہ بغیر سہارے کے کھڑا ہونے لگتا ہے۔ وہ دیوار یا رسی کے سہارے زینہ بھی چڑھ سکتا ہے۔ اب وہ ’’ماما، بابا‘‘ جیسے الفاظ بھی کہنے لگتا ہے۔ اٹھارہویں مہینہ میں وہ اور مضبوطی سے قدم جما کر چلنے لگتا ہے اور کئی دوسرے الفاظ بولنا سیکھ جاتا ہے۔ دو سال کی عمر میں بچہ دوڑنے کے قابل ہو جاتاہے۔ زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے اور اپنے ا?س پاس کی چیزوں کو زیادہ اچھی طرح پہچاننے لگتا ہے۔ بچے کی بڑھوتری کا سلسلہ 20 سال کی عمر تک جاری رہتا ہے۔ والدین کو شروع کے چند سالوں میں بچے کی ہر بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ ابتدائی زمانہ میں بچے کو اگر کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے تو اس کی تلافی متعدد بار ممکن نہیں ہوتی مثلاً اگر سکول میں داخلے وقت ذرا پہلے اس کی طرف بے توجہی برتی جائے تو بچہ پڑھنے لکھنے سے جی چرانے لگتا ہے اور سکول میں ٹھیک نہیں چل پاتا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر