... loading ...
مولانا محمد راشد
اسلام سے قبل دنیا کے مختلف مذاہب اور معاشروں کا جائزہ لیں تو ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم،معصوم اور معاشرتی و سماجی عزت وقارسے محروم تھی، اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا، یونانی، رومانی، ایرانی اور زمانہ جاہلیت کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں عورت کوسب سے کمتر درجہ حاصل تھا۔ مگر عورت کی عزت، احترام اور اس کی صحیح پہچان کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔اسلام نے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی ممانعت کرکے زمانہ جاہلیت کی اس رسم بد کا خاتمہ کیا۔اورعورت کو وہ اعلیٰ مقام عطا کیا جس کا تصور ناممکن تھا۔
مغرب جو آج عورت کو اس کا مقام و منصب دلوانے کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہتاہے۔ لیکن مغربی معاشرہ نے ہمیشہ عورت کے حقوق کو پامال کیا، اور عورت کو اپنی محکومہ اور مملوکہ اور باندی بنا کر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مختلف تہذیبوں اور اقوام نے عورت کے لیے سینکڑوں قانون بنائے مگر اسلام ان سب میں ممتاز رہا۔الغرض یونانی تہذیب سے لے کر روم، فارس، ہندوستان، یہودی اور عیسائی تہذیب نے عورت کو معاشرے میں کمتر درجہ دے رکھا تھا،انہوں نے دنیا میں ہر برائی کی وجہ عورت کو قرار دیا، حتیٰ کہ انگلینڈ کے آٹھویں بادشاہ کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ اس نے اپنے دور میں پارلیمنٹ میں یہ قانون پاس کیا گیا تھاکہ عورت اپنی مقدس کتاب انجیل کی تلاوت تک نہیں کرسکتی کیونکہ وہ ناپاک تصور کی جاتی تھی۔جدید تہذیب بھی عورت کو اس کا مقام نہ دلا سکی۔ارتقائے تہذیب نے عورت و مرد کے درمیان فاصلوں کو اتنا بڑھا دیا کہ عورت کی حیثیت کو اور زیادہ پست کردیا۔ علاوہ ازیں مذہب اور خصوصاً بڑی بڑی تہذیبوں نے صنفِ نازک کو ناپاک بتا کر اس کا رتبہ اور بھی کم کردیا۔ مگراسلام نے عورت کووہ مقام دیا کہ جس کی وجہ سے عورت ماں،بہن،بیٹی،بیوی جیسے مقدس رشتوں میں جڑتی چلی گئی،اور معاشرہ میں وہ مقام ملا جس کی وہ اصل حقدار تھی،۔اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کاپیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور عورت کو وہ حیثیت عطا کی جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔اﷲتبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے درجے میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں رکھا ہے۔ اسی طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔
اسلام نے رحمت الٰہی اور بخشش الٰہی کو مرد و عورت دونوں کے لیے عام رکھا ہے۔ دونوں میں سے کسی ایک صنف کے لیے اللہ کی رحمت خاص نہیں بلکہ دونوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو تگ و دو کرے اور آگے بڑھ کر اسے پا لے وہ اسی کا حق اور مقدر ہے۔مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے اس آیت قرآنی پر بحث کرتے ہوئے اس بات کو بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے:
(فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ)(آل عمران)چنانچہ ان کی دعا کو ان کے پروردگار نے قبول کر لیا۔ کیونکہ میں تم میں سے کسی کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں ہونے دیتا۔ تم آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہو۔اس آیت سے قبل اللہ پاک نے اہل ایمان کی دعاؤں کا تذکرہ کیا ہے ان اہل ایمان نے خوب دل کھول کر دعائیں کیں ۔ ان کی دعائیں معمولی دعائیں نہ تھیں بلکہ ان کی دعائیں بڑی مومنانہ تھیں۔اگر قرآنی سیاق و سباق میں غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعائیں مردوں نے کی تھیں مردوں ہی نے کہا تھا:(رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ آمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا)(سورہ آل عمران:)اے ہمارے رب ہم نے ایک پکارنے والے سے سنا جو ایمان لانے کو پکارتا تھا کہ اپنے رب پہ ایمان لاو سو ہم ایمان لے آئے
یہ مردانہ دعا ہے۔ پیش پیش رہنے والے اور مردار نہ وار لبیک کہنے والے مرد ہی تھے۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب ان دعاؤں کی قبولیت اور ان پر اجر و جزا کا ذکر کیا ہے تو صرف مردوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ خاص طور پر عورتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔اب یہاں غور کیجئے! اگر کوئی ادیب ہوتا کوئی انشاء پرداز ہوتا، کوئی ماہر نفسیات ہوتا کوئی عورتوں کا بڑا حامی اور ان کی آزادی کا محرک ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ یہاں عورتوں کو فراموش کردیتا۔کیونکہ یہاں موقع بھی نہ تھا ساری دعائیں مردوں نے کیں سارے کام مردوں کے تھے مرد ہی پیش پیش تھے، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت دیکھئے وہ خالق ذکورو اناث دونوں جنسوں کا خالق ہے دونوں پر اس کی یکساں شفقت کی نظر ہے۔ اس ذات نے جب(اِنِّیْ لاَ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ)کہا تو جواب پورا ہوگا تھا لیکن ایک دم سے عورتوں کو یاد فرمایا اور ان کو شرف بخشتے ہوئے فرمایا:
(مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی)یہاں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جاسکتی ہے کہ رحمت الٰہی اور بخشش الٰہی میں مساوات کامل ہے اس میں کوئی تحفظ نہیں، زمانہ جاہلیت کے لوگوں کے اس طرزِ عمل کو قرآن حکیم یوں بیان کرتا ہے:اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کردیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔ (سور ۃ الانعام)
اس آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ زمانہ جہالت میںعورتوں اور مردوں کے درمیان چیزوں کی تقسیم اور لین دین کے معاملات میں نہ صرف تفریق کی جاتی بلکہ عورت کو مرد کے مقابلے میں نسبتاً کمتر سمجھا جاتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ عورت کی حیثیت کا اقرار کرنا تو درکنار وہاں تو عورت سے اس کے جینے کا حق تک چھین لیا جاتاتھا۔ اس لیے وہ لوگ لڑکی کے پیدا ہونے پر غصہ میں ہوتے اور انہیں زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں ان قوموں کے اس طرزِ عمل کی عکاسی یوں کی گئی ہے:اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی (کی پیدائش) کی خبر سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ غصہ سے بھر جاتا ہے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بری خبر کی وجہ سے جو اسے سنائی گئی ہے، (اب یہ سوچنے لگتا ہے کہ) آیا اسے ذلت و رسوائی کے ساتھ (زندہ) رکھے یا اسے مٹی میں دبا دے (یعنی زندہ درگور کر دے)، خبردار! کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (سورۃ النحل، )اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دورِ جاہلیت کی اس غلط رسم کو بیان فرمایا ہے اور اسکی مذمت کی ہے۔دین اسلام نے مرد و عورت کو برابر کا مقام عطا فرمایا بلکہ عورت کو وہ مقام عطا فرمایا جو کسی بھی قدیم اور جدید تہذیب نے نہیں دیا۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل ایمان کی جنت ماں کے قدموں تلے قرار دے کر ماں کو معاشرے کا سب سے زیادہ مکرم و محترم مقام عطا کیا، اسلام نے نہ صرف معاشرتی و سماجی سطح پر بیٹی کا مقام بلند کیا بلکہ اسے وراثت میں حقدار ٹھہرایا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دنیا میں عورت کے تمام روپ اور کردار کو اپنی زبانِ مبارک سے بیان فرمایا: اب جس دور میں عورت ہو، جس مقام پر ہو اور اپنی حیثیت کا اندازہ کرنا چاہے تو وہ ان کرداروں کو دیکھ کر اپنی حیثیت کو پہچان سکتی ہے۔عورتوں میں بہترین عورتیں چار ہیں، حضرت مریم بنت عمران علیھماالسلام، (ام المومنین) حضرت خدیجۃ الکبریٰ علیھا السلام،حضرت سیدہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا اور فرعون کی بیوی آسیہ علیہاالسلام۔ان چار عورتوں کی طرف اشارہ فرما کر حقیقت میں چار بہترین کرداروں کی نشاندہی فرمادی گئی ہے اور وہ کردار جس سے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہوئے اور اس مقام سے سرفراز فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا، وہ کردار کیا ہے؟ایک ماں کا کردار حضرت مریم بنت عمران علیھا السلام ،ایک عظیم بیوی کا کردار حضرت خدیجہ الکبریٰ علیھا السلام ،ایک عظیم بیٹی کا کردار حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا، ایک عظیم عورت کا کردار حضرت آسیہ علیہا السلام،ان چاروں کرداروں پر نظر دوڑا کر ہر عورت اپنی حیثیت کو پہچان کر اپنے کردار کو متعین کرسکتی ہے،کہ وہ کون سے راز تھے جنہوں نے ان ہستیوں کو خیر النساء کے لقب سے سرفراز کیا؟
محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں ، وہ اچھی طرح ان کی پرورش کرے، تو یہی لڑکیاں اس کے لیے دوزخ میں آڑ بن جائیں گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے مردوں کو بار بار تاکید فرمائی ، کہ وہ عورتوں سے بہتر سلوک کریں ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا۔ بہترین مسلمان، بہترین صاحب اخلاق اور اپنی بیویوں کے بہترین خاوند ہوتے ہیں تم میں سے بہتر وہ ہے ، جو اپنی بیویوں سے بہترین سلوک روا رکھے اور تم میں سے میں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عورتوں سے بہترین سلوک روا رکھتا ہوں۔ دنیا کی بہترین نعمتوں میں سے بہترین نعمت نیک بیوی ہے ۔بیٹے کو فرمایا۔ تیری ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔عورت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قابل احترام تھی اس معاشرے میں مرد اپنی بیٹیوں کو پیدائش کے وقت زندہ دفن کر دیتے تھے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں جینے کا حق دیا۔ عورتوں کا تحفظ، جس طرح کیا، اس کی مثال دنیا کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسلام میں عورت کو وہ درجہ دیا جو آج کے جدید مغربی معاشرے میں بھی اسے حاصل نہیں۔فرمان نبوی ہے کہ اگر ایک عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے، تو اللہ تعالی اس عورت کوحکم دے گا کہ جنت میں داخل ہو جا، جس دروازے سے بھی چاہو۔
یو ایس نیول ڈسٹرائر جہاز پسپائی پر مجبور،امریکی بحری جہاز کو رکنے کی وارننگ دی گئی تھی ہدایات نظر انداز کرنے پر دو میزائل داغے گئے جو ہدف پر جا لگے، پاسدارانِ انقلاب ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور انتباہ کے باوجود اپنی سمت تبدیل نہ ...
بانی سے وکلاء اور اہل خانہ کی فوری ملاقات ممکن بنائی جا سکے،عمران خان کے ذاتی معالج، ماہر ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں علاج کا مطالبہ، شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے ضمانت کی درخواستوں پر فوری سماعت مقرر کی جائے، عمران اور بشریٰ کی رہائی کا مطالبہ، تنہائی میں قید رکھ...
سرکاری اسکولوں کا بیڑہ غرق کردیا، سولرپربھی ٹیکس لگا دیا گیا،اب نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے باہرنکلنا پڑے گا، خاندانوں کی بنیاد پر نظام چل رہا ہے، حکومت بیوروکریسی چلا رہی ہے، خطاب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد آئی پی پیز،پٹرول مافیا کیخلاف...
مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...
میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...
25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...
نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...
بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...
عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...
قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...
گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...
پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...