وجود

... loading ...

وجود

قانون کے رکھوالوں نے خودقانون کی خلاف ورزی کی

پیر 18 دسمبر 2017 قانون کے رکھوالوں نے خودقانون کی خلاف ورزی کی

قانون کے رکھوالوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ابراہیم حیدری میں کاروائی کی۔ آپریشن پولیس اپنے تھانے کی حدود سے باہر کسی اور جگہ چھاپہ مارنے کا اختیار ہی نہیں رکھتی اورانویسٹی گیشن پولیس کوئی مقدمہ ہو تو اپنے تھانے کی حدود سے باہر دوسرے تھانے کی حدود میں کاروائی کرتی ہے پولیس دوسرے تھانے کی حدود میں جاتی ہے تو انٹری کراتی ہے ۔اس سے قبل بھی زمان ٹاون پولیس اور عوامی کالونی پولیس ابراہیم حیدری کہ علاقے میں متعدد غیر قانونی چھاپے مار چکی ہے ، اعلی پولیس افسران اس معاملے سے لاعلم نہیں تھے اور کچھ عرصہ قبل ایس ایس پی ملیر نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا،اور موجودہ واقعے میں بھی اعلی افسران کو ایس ایچ او ابراہیم حیدری نے اپنے موقف میں بتایا کہ اس چھاپے کی بھی عوامی کالونی پویس نے نہ تو ابراہیم حیدری تھانے میں کوئی انٹری کروائی تھی اور نہ ہی کوئی اطلاع دی گئی تھی۔ایس ایس پی کورنگی آفس کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ زمان ٹاؤن اور عوامی کالونی پولیس کے غیر قانونی چھاپوں کی اطلاعات تھیں ،اور اس معاملے سے ایس ایس پی کورنگی ٹاؤن آفس کا عملہ مکمل طور پر آگاہ تھا اوریہ تمام معاملات ایس ایس پی آفس میں تعینات خاص پولیس افسران دیکھتے تھے۔

عوامی کالونی اور زمان ٹاؤن پولیس نے آفات ٹالنے کے لیے بکرے صدقہ کرنے شروع کردیئے تھانوں میں بکروں کا صدقہ کیا گیا ہے قران خوانی کا اہتمام کیا گیا،واضع رہے کہ کراچی کہ مختلف تھانوں میں سابقہ جرائم پیشہ پرائیویٹ افراد پولیس پارٹیاں چلا رہے ہیں عوامی کالونی کا پرائیویٹ بیٹرشاہ جی بھی پولیس پارٹی کو لیڈ کرتا ہے،ممکنہ طور پر شہری پر تشدد کے معاملے میں شاہ جی اہم کردار ہوسکتا ہے ۔ کراچی پولیس میں پیدا گیری مشن کی تکمیل کہ لیے پرائیویٹ لوگ رکھنا طریقہ واردات ہے ، ابراہیم حیدری کے علاقے میں چھاپہ مارنے والی ٹیم میں صرف دو اہلکار پولیس کی وردی میں تھے ۔دو پولیس اہلکاروں کہ ساتھ دیگر افراد سادہ لباس میں تھے ۔پولیس اہلکاروں کہ ساتھ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے بھی فرید عالم پر گھونسے چلائے فرید عالم کہ کنپٹی اور گردن پر لگنے والے مکے جان لیوا ثابت ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ جی نام کا پرائیویٹ شخص ایس ایچ او کی سرپرستی میں کام کرہا ہے پرائیویٹ افراد پولیس ٹریننگ نہ ہونے اور مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے چھاپے کے دوران تشدد کرتے ہیں۔

ایس ایچ او عوامی کالونی ناصر محمود کا کہنا تھاکہ گھر میں چھاپے کے دورا ن 3سے 4موٹر سائیکل کے چیسسز ملے تھے تاہم اہل خانہ کی شدید مداخلت اور اہل محلہ کے جمع ہونے پر پولیس چیسسز کو تحویل میں لیے بغیر صرف اکرم کو حراست میں لے کر تھانے آگئی تھی ،انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے کارروائی کے دوران فرید عالم پر کوئی تشدد نہیں کیا وہ گھر میں اتفاقی طور پر گرنے سے جاں بحق ہو ئے ہیں، بعد ازاں متوفی فرید عالم کے لواحقین اور علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد فرید عالم کی لاش کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچ گئے اور وہاں لاش رکھ کر احتجاج کیا ، اس موقع پر مظاہرین نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور فرید عالم پر تشدد اور اس کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔مقتول کے بیٹے اکرم جسے پولیس نے گرفتار کیا تھا اس کا کہنا ہے کہ اس کے گھر یں دو موٹرسائیکلیں موجود ہیں اور دونوں کے کاغذات مکمل ہیں،پولیس جب چاہے وہ کاغذات چیک کرائے۔

فرید عالم کی میڈیکل رپورٹ نے اہل خانہ کی بات کو سچ ثابت کردیاپولیس نے فرید کی موت کو غیرطبعی قراردے کر رپورٹ جاری کردی ،52 سالہ بزرگ فرید عالم کی موت تشدد سے واقع ہوئی، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فریدعالم کے جسم میں اندرونی چوٹیں آنے کی وجہ سے موت واقع ہوئیں، رپورٹ میں تحریر ہے کہ فرید کے جسم پر کوئی ظاہری چوٹ کا نشان نہیں پایا گیا، اور پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہونے والا فرید مضبوط جسم کا مالک تھا، مقتول فرید عالم کے اہل خانہ کے مطابق پولیس نے گن کے دستے اور لاتوں سے فرید کو مارا تھا، زور سے سینے پر جب لات ماری تو اوہ نیچے گر گئے اور درد سے چلانے لگے، فریدعالم کو اسپتال لے جانے کے لیے مقتول کا برادر نسبتی منیر آیا تو اسے بھی پولیس ساتھ لے گئی، جس کی وجہ سے فریدعالم نے موقع پر ہی تڑپ تڑپ کر جان دے دی تھی، عوامی کالونی پولیس موبائل 087 میں سوار پولیس اہلکاروں کے خلاف 302کی دفعات کہ تحت ابراہیم حیدری تھانے میں درج کرلیا گیا ہے، قتل کا مقدمہ موبائل میں اس وقت موجود تمام اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیاہے۔ انویسٹی گیشن پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے،مقتول فرید عالم کی تدفین کردی گئی ،جس میں اہلیان علاقہ کے علاوہ سیاسی جماعت کے مقامی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔


متعلقہ خبریں


تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

مضامین
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

بھارت میں تیل کا بحران وجود بدھ 13 مئی 2026
بھارت میں تیل کا بحران

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل وجود بدھ 13 مئی 2026
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر