... loading ...
حسن امام صدیقی
٭ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں سے ہی پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش عالمی سطح پر شروع کردی گئی تھی۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے فوجی اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کو بیرون ملک کی تربیت کے لیے بھیجا جانے لگا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے افسران کی مغربی پاکستان کے خلاف ذہنی نشونما اور منفی تربیت بیرون ملک بھی دی جانے لگی۔ بنگالی تہذیب و ثقافت کے نام پر بنگالی قومیت کو اُجاگر اور مضبوط پیرائے میں ہندوبنگالی اور مسلمان بنگالی کو ایک قوم اور اس کی ثقافت کے لیے علیحدہ مملکت کی تشکیل کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے ان افسران کو بیرون ملک تربیت کے دوران بریفنگ دی جانے لگی۔ بیرون ملک کورس مکمل کرکے آنے والے افسران مشرقی پاکستان میں پاکستان مخالف سوچ کی ابتداء کردی۔ اس سازش کا پہلا انکشاف 1948ء میں مشرقی پاکستان میں بعض نیوی کے افسران کی گرفتاری پر ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد 1949ء تک مشرقی پاکستان کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اس اس کے سدباب کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ پاک و ہند کے درمیان ستمبر 1965ء کی جنگ نے ایک پروپیگنڈہ کے ذریعے مشرقی پاکستان کے عوام کو یہ احساس دلایا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے بعد کئی سانحات جنم لیتے رہے۔ فروری 1952ء کے بعد مشہور اگرتلہ سازش کیس 1966ء میں ہوا۔ اس دوران سیاسی معمولات منفی جانب گامزن رہے۔ فروری 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنا چھ نکاتی فارمولا عوام کے سامنے پیش کیا۔ یہ بنگالی نیشنلزم اور پاکستان نیشنلزم کے درمیان مقابلہ تھا اور ساتھ ہی بنگلہ دیش کے قیام کی جانب قدم بھی تھا۔ مئی 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن اور ان کے کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ان پر پاکستان توڑنے کا “اگرتلہ” سازش کا الزام تھا ۔ اگرتلہ مشرقی پاکستان کو وہ سرحدی بھارتی علاقہ جہاں پاکستان توڑنے کی عملاً سازش تیار کی گئی۔ عوامی لیگ نے شیخ مجیب کی گرفتاری کے خلاف 7جون 1966ء کو جنرل اسٹرائیک کا اعلان کردیا۔ جس کے نتیجے میں شدید خونریزی ہوئی۔ 41افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ 1967ء میں فوج سے تعلق رکھنے والے کچھ بنگالی فوجیوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندوستان سے سازباز کرکے ملک کو توڑنے کی سازش کی۔ ا گرتلہ سازش کیس اور مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کو بنگلا زبان کے اخبارات نے نمایاں جگہ دینی شروع کردی اور اس کے حق میں تشہیری مہم بھی شروع کردی گئی ۔ ادھر مغربی پاکستان کے اردو اخبارات نے مجیب کو غدار قراردینا شروع کردیا۔ خاص کر ـ”پریس ٹرسٹ”کے اخبارات نے مشرقی پاکستان کی نازک صورت حال کو محسوس نہیں کیا اور منفی پروپیگنڈہ میں شامل رہے۔ جس کی وجہ سے مغربی پاکستان کے عوام مشرقی پاکستان کے حالات سے بے خبر رہے۔سب اچھا کی رٹ لگاتے رہے۔ 1968ء میں ایوب خان نے ترقیاتی جشن پورے پاکستان میں منانے کا اعلان کردیا مشرقی پاکستان کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی تھی۔ عوامی لیگ کے طلباء چھاتر و لیگ نے احتجاجی تحریک شروع کر رکھی تھی۔ عوام بھی ان کاساتھ دے رہے تھے۔ مغربی پاکستان میں شکر کمی نے صورت حال کو مزید خراب کردیا۔ جس کے نتیجے میں لاہور اور گوجرانوالہ میں کرفیو لگا دیا گیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے خلاف تحریک شدت اختیار کرتی جارہی تھی ۔ 1969ء میں مشرقی پاکستان کے شمالی شہر پاربتی پور میں ایک سازش کے تحت ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کو توڑنے کے لیے بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کے درمیان تصادم کرادیا گیا۔ بی ڈی ممبران ایوب خان کے حامی تھے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کی
سنگین سیاسی صورت حال کو سنبھالنے کے لیے ایوب خان نے لاہور میں “رائونڈ ٹیبل کانفرنس”کا انعقاد کیا اور شرکت کے لیے جیل سے مجیب الرحمٰن کو رہا کردیا۔بھٹو نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ وزیر قانون ایس ایم ظفر نے کانفرنس کے بعد ایک ڈرافٹ تیار کیا جس میں پاکستان کو ایک فیڈریشن اور مغربی و مشرقی پاکستان کو دوریاستوں کا ذکر تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات ناکام رہے۔ ملک میں شدید سیاسی بحران آگیا جس کے نتیجے میں جنرل ایوب خان نے 25مارچ 1969ء کو اقتدار سے علیحدہ ہوکر جنرل آغا محمد یحیٰ خان کو سونپ دیا۔ جنرل یحیٰ خان نے مارشل لا نافذ کردیا اور جلد الیکشن کرانے کا اعلان کردیا۔
جنرل آغا محمد یحیٰ خان نے جسٹس عبدالستار کو چیف الیکشن کمشنر نامزد کردیا۔ متحدہ پاکستان کا آخری الیکشن 7دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی اور 17دسمبر 1970ء کو صوبائی اسمبلی کا ہوا۔ آزاد اور شفاف الیکشن کے نام پر مشرقی پاکستان میں بدترین دھاندلی کی گئی۔ عوامی لیگ کے کارکن پولنگ اسٹیشن پر قابض رہے ۔ الیکشن کا عملہ ان کے ساتھ رہا جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی میں عوامی لیگ کو مشرقی پاکستان میں 167سیٹیں ملیں۔ ایک سیٹ نورالامین پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کو اور دوسری سیٹ چٹا گانگ کے پہاڑی قبائلی علاقوں پر مشتمل حقلہ کے قبائلی چیف ـراجاتری دیورائےکو ملی۔ مغربی پاکستان میں 85سیٹیں پیپلز پارٹی کو ملیں۔
جنوری 1971ء میں نیشنل عوامی پارٹی (بھاشانی گروپ) کے سربراہ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی نےآزاد ایسٹ پاکستان کا نعرہ لگایا اور مغربی پاکستان کو خدا حافظ کہا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس3مارچ 1971ء کو ڈھاکا میں طلب کرلیا گیا۔ زیڈ اے بھٹو نے ڈھاکا جانے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ اس کی اکثریت ہے وہ حکومت بنائے گا۔ پاکستان کا نیا قانون چھ نکات پر مشتمل ہوگا۔ سیاسی معاملات پیچیدہ ہور ہے تھے، ادھر مشرقی پاکستان میں خونریزی، جلائو گھیرائو اور سول انتظامیہ عوامی لیگ کے ماتحت آگئی تھی۔ ہر طرف لاقانونیت تھی۔ اسی دوران صدر یحیٰ خان نے قومی اسمبلی کا ہونے والا اجلاس یکم مارچ کو منسوخ کردیا۔ ڈھاکا اسٹیڈیم میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کے کھلاڑی میچ کھیل رہے تھے۔ ان پر حملہ کردیا گیا۔ ہوٹل پوربانی میں قائم PIAکا دفتر لوٹ کر جلادیا گیا۔ بابائے قوم محمد علی جناح کی تصاویر کی بے حرمتی کرنے کے بعد پاکستانی پرچم سمیت جلادیا گیا۔ پورے مشرقی پاکستان میں چاروں طرف آگ اور خون کا دریا بہہ رہا تھا۔ غیر بنگالیوں کی کالونیوں اور گھروں پر حملہ کرکے انہیں قتل کیے جانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ نوجوان لڑکیوں کو اغوا کیا جانے لگا۔ بنگلہ دیش کا پرچم آویزاں کردیا گیا۔ ایسٹ پاکستان رائفلز (E.P.R) اور بنگال رجمنٹ (Bangal Regments)نے بغاوت کرکے اپنے ہی غیر بنگالی افسروں اور نوجوانوں کو ہلاک کرنا شروع کردیا۔ میجر ضیاء الرحمٰن نے ایک پلاٹون کے ساتھ ریڈیو پاکستان چٹاگانگ پر قبضہ کرکے آزاد بنگلا دیش کا اعلان کردیا یہ وہی میجر ضیاء الرحمٰن تھے جو بعد میں میجر جنرل ضیاء الرحمٰن بنگلا دیش بنے۔ پوری طرح سول نافرمانی جاری تھی۔ بڑی تعداد میں اسلام پسند جماعتوں کے بنگالی اراکین محب وطن پاکستانی اور غیر بنگالی محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام جاری تھا۔ ریلوے لائنیں اکھاڑ دی گئیں، پولیس، انصار و دیگر نیم عسکری اور عسکری اداروں کے افراد نے مکمل بغاوت کا علم بلند کر رکھا تھا۔ ہر طرف سیاہ اور بنگلہ دیشی پرچم آویزاں تھے ۔ یہ سب مجیب الرحمٰن کے حکم پر ہورہا تھا۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی فوجی مکتی باہنی کے روپ میں اندر داخل ہوکر تخریبی کاروائیوں میں مصروف ہوگئے۔
ادھر سیاسی محاذ پر مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین، صدر پاکستان جنرل یحیٰ خان اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے۔ سیاسی معاملات مصلحتوں سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنے کے بجائے وقت کوطول دیا گیا جس کے نتیجے میں پورا مشرقی پاکستان جہنم بن گیا اور حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے اعلان آزادی سے چند گھنٹے قبل 25اور 26مارچ 1971ء کی رات کو پاکستانی افواج نے ملک دشمنوں کے خلاف ایکشن شروع کردیا ایک ایک انچ پر دوبارہ حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے پاکستان بچانے
کے لیے پاکستان فوج کی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کے چپے چپے پر پھیل گئے اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنے شروع کردیے۔ مشرقی پاکستان کے شہری علاقوں میں آباد غیر بنگالیوں کی کالونیوں اور اسلام پسند محب وطن بنگالیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ پاک افواج کے جوانوں نے ہزاروں کی بستی میں چند بچ جانے والے افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔ 14اگست 1947ء قیامِ پاکستان کے وقت فساد سے زیادہ بدترین قتل و غارت تھی۔ اگست 1971ء تک حالات معمول پر آنا شروع ہوئے۔ حکومت نے “عام معافی”کا اعلان کیا۔ مکتی باہنی،لال باہنی، راکھی باہنی اور دیگر نیم عسکری و عسکری اداروں کے افراد جنہوں نے پاک افواج سمیت دیگر محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام کیا تھا۔ وہ تمام معافی کے ذریعے ہندوستان سے واپس آکر مزید مستحکم ہونے لگے۔ تربیت وار ہر علاقوں میں انہوں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کردیا۔ اکتوبر 1971ء کے وسط میں مشرقی پاکستان کے حالات دوبارہ خراب ہونا شروع ہوگئے۔ آگے ہندوستانی فوج سے مقابلہ اور پیچھے مکتی باہنی اور باغی بنگال رجمنٹ کا سامنا تھا۔ بہت خراب حالات تھے۔ دوبارہ ریلوے پلوں کو تباہ کرنے اور غیر بنگالیوں محب وطن پاکستانیوں پر حملہ شروع ہوگیا۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکیوں کو اغوا کرکے کلکتہ لے جاکر فروخت کردیا گیا۔ ہر قسم کے ظلم ڈھائے گئے۔ دسمبر 1971ء کی جنگ لے پہلے ہفتے میں ہی فضائی اڈے تباہ کردیے گئے ۔ اور بھارتی فوج اندر آگئی تھی۔
ایڈمرل احسن کے بعد جنرل نکا خان اور پھر کمانڈر ایسٹرن کمانڈ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی(اے اے کے نیازی) اور گورنر مشرقی پاکستان جناب مالک بنے لیکن بین الاقوامی سازش ہندوستان کی کارفرمانیاں ہمارے سیاسی اکابرین خصوصاً مغربی پاکستان کے زعمائے ملک اور سیاسی اکابرین اور حکمرانو ں نے نوشتہ دیوار نہ پڑھ سکے۔ نہ ہی امریکی جنگی بیڑہ المعروف سیون فلائٹ آسکا اور 16دسمبر 1971ء کو ڈھاکا غروب ہوگیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا دنیا کے سامنے ہے۔ افواج پاکستانی جنگی قیدی بنے اور پھر وطن واپس آگئے۔ قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔ بچ جانے والے محصورین پاکستان کر ب وبلا کے مسافر ٹھہرے۔ انہوں نے تحفظ پاکستان کے لیے پاکستانی افواج کا ساتھ دیا۔ البدروائشمس والے بھی شہید کردیے گئے جنہوں نے کڑے وقت میں پاکستان کی دفاع میں پاکستانی افواج کے شانہ بشانہ رہے۔ حب الوطنی کو جرم بنا کر پیش کیا گیا۔ محصور پاکستانی آج بھی بنگلہ دیش کے 66کیمپوں میں قید بندکی زندگی گذار رہے ہیں اور پاکستان آنے کی آس میں موت کو گلے لگا رہے ہیں۔ حشر کے دن اللہ کے حضور یہ محصور پاکستانی، حکمرانوں کا دامن پکڑ کر اللہ سے فریاد کریں گے انصاف کے طالب ہوں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم ان پاکستانیوں کو پاکستان لائیں اور عذاب الٰہی سے بیچیں۔ حب الوطنی کے جذبہ کو مزید اجاگر کریں جس کی آج ہمیں سخت ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ باد۔
دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...
کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...
وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا سرکاری ملازمین 4 چھٹیوں سے مستفید ہوں گے، باضابطہ نوٹیفکیشن جاری وفاقی حکومت نے یوم عاشور کے موقع پر 2 روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہ...
اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیلئے مخلص ہے، شہبازشریف پاک امریکا تعلقات وقت کیساتھ مزید مضبوط اور گہرے ہوئے،صحافیوں سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں، اسپیکر باقر قالیباف اور ایران کی قیادت خطے میں امن کیل...
حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی ہم جمہوریت، آزاد الیکشن کمیشن، لیول پلیئنگ فیلڈ چاہتے ہیں،پی ٹی آئی رہنماکی میڈیا سے گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی بات کی لیکن بات چیت شروع نہیں ہوئی۔...
سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...
انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...
تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...
قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...
تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...
ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...
شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...