وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف خوابوں سے باہر نکلیں ،سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں

اتوار 29 اکتوبر 2017 نواز شریف خوابوں سے باہر نکلیں ،سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں

کسے نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے گیے نواز شریف جنرل جیلانی کی سفارش پر جنرل ضیا کی گود میں بیٹھ کر ان کی بیساکھی کے سہارے پہلی بار اقتدار میں آئے اور پھر بار بار آتے رہے۔ اس طویل عرصے میں وہ بزعم خود اس ملک کے بادشاہ بن بیٹھے اور اس ملک کی تمام دولت کو اپنی میراث اور اس ملک کے عوام کو اپنی رعایہ یا کمی تصور کرنے لگے اور صورت حال یہاں تک پہنچی کہ وہ عام آدمی سے تو کجا اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی براہ راست ملاقاتوں سے کترانے لگے ،جس قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکر وہ اقتدار کی سنگھاسن تک پہنچے تھے اس قومی اسمبلی میں حاضری اورعوام کے منتخب رہنماؤں کے ساتھ بیٹھنے کو کسر شان سمجھنے لگے ،بار بار اقتدار میں آنے اور مخالف پارٹیوں کی غلطیوں کی وجہ سے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی کامیابی کو انھوں نے اپنی کامیابی تصور کیا اوریہ فرض کرلیا کہ اب ان کو ہر کام کی کھلی چھوٹ حاصل ہوچکی ہے اور اس ملک میں کسی کو ان سے کسی بھی معاملے میں باز پرس کی جرات نہیں ہوسکتی ، لیکن ان کی قسمت نے یاوری نہیں کی اور اچانک پانامہ پیپرز کا بم پھٹ گیا اور ان سے یہ رازفاش ہوگیاکہ نواز شریف کس طرح اس ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بناتے رہے ہیں اور کس طرح انھوں نے اپنے بیٹوں کے نام بیرون ملک کمپنیاں قائم کرلی تھیں جو مبینہ طورپر منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھیں جس کاثبوت یہ ہے کہ جب نواز شریف اقتدار میں ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں غیر معمولی انداز میں منافع کمانا شروع کردیتی تھی اور نواز شریف کے اقتدار سے الگ ہوتے ہی یہ سونے کے انڈے دینے والی کمپنیاں کڑک ہوجاتیں اورخسارے میں جانے لگتی تھیں ۔پانامہ پیپرز سے یہ راز افشا ہوگیا کہ مسکین صورت بنا کر خود کو مسٹر کلین کے طورپرپیش کرنے والے میاں نواز شریف نے اس قوم کی دولت کو کس بیدردی سے لوٹا ہے اور اس لوٹ مار میں انھوں نے نامی گرامی ڈاکوؤں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے،میاں نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے جان نثاروں کو ساتھ رکھنے اور اہم معاملات پر ان مشورے کرنے کے بجائے خود کو عقل کل تصور کرلیا اورایسے جہاندیدہ لوگوں کو بتدریج کنارے لگاتے گئے جو ان کے فیصلوں سے ان کے منہ پر انحراف کرتے ہوئے انھیں صائب مشورے دینے کی کوشش کرتے تھے یا کرسکتے تھے جس کی مثال چوہدری نثار کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے ،ان کی اس روش کی وجہ سے ان کی پارٹی ان کے ہاتھوں اس طرح تباہ ہوئی کہ پرانے آزمائے ہوئے مخلص اور تجربہ کار ساتھیوں نے پارٹی کے معاملات میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اورسیاست میں تازہ تازہ آنے والے نام نہاد سیاست دانوں نے ان کے گرد ایسا گھیرا ڈالاکہ وہ پارٹی کے کارکنوں سے بالکل ہی کٹ کر رہ گئے اور اپنے حلقہ انتخاب میں جھانک کر دیکھنا بھی انھیں ناگوار معلوم ہونے لگا۔ نوبت یہاں تک آئی کہ انھوں نے ذو الفقار کھوسہ اور اپنے مخلص بھائی شہباز شریف کو بھی رفتہ رفتہ اپنے سے دور کردیا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم سے وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد یہ عمل بجائے درست ہونے کے مزید بگڑ گیا اور نواز شریف مکمل طور سے مریم نواز اینڈ کمپنی کے رحم وکرم پر رہ گئے اور اب بھی نوشتہ دیوار پڑھنے اور حالات کوسمجھنے کے بجائے وہ خود کو اب بھی ذہنی طور پروزیر اعظم تصور کرتے ہیں ، اس کی ایک وجہ تو وہ خوشامدی ٹولہ ہے جو ان کو مسلسل اپنا لیڈر کہہ کر پکاررہا ہے دوسرے وہ سرکاری پروٹوکول ہے جو شہباز شریف بادل نخواستہ ابھی تک ان کو اور ان کی فیملی کو دے رہے ہیں جبکہ اندرونی کہانی یہ ہے کہ مسلم لیگ( ن) ان دنوں انتہائی نازک،صبرآزما اور انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے اور نواز اور مریم ایک طرف اور شہباز، چوہدری نثار اورکئی دوسرے رہنما دوسری طرف جاتے نظر آرہے ہیں ، اس صورتحال کے پیش نظر سیاسی جغادری اورتجزیہ نگار یہ پیشگوئی کرنے لگے ہیں کہ نواز شریف کی ضد، ہٹ دھرمی اور مریم پر ضرورت سے زیادہ انحصار جلد یا بدیر اس پارٹی کو توڑ دے گا اور مریم کی بڑھک کہ نواز شریف کو چوتھی اور پانچویں بار بھی وزیراعظم بنائیں گے، دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں ثابت ہوگی لیکن خواب دیکھنے سے کسی کو کون روک سکتا ہے۔
مریم نواز شریف کی بھڑکوں اورمیاں نواز شریف کے رویے سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ نواز شریف کے سر سے ابھی تک ’’اکثریت‘‘ کانشہ نہیں اترا ہے اوروہ اکثریت کے نشے سے سرشار ریاستی اداروں سے ٹکرانے کی پالیسی پر گامزن ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میاں صاحب کی انا اور ضد نے مسلم لیگ(ن) کے سیاسی مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے کیوں کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرنے پر آمادہ نہیں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ وہ جماعت کے ووٹ بینک کے بل بوتے پر محاذ آرائی کرکے احتساب سے بچ سکتے ہیں اور بیرونی ممالک موجود اپنے اثاثے منجمدکرائے جانے سے بچاسکتے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما کو شدت سے یہ احساس ہورہاہے کہ موجودہ صورتحال میں محاذ آرائی اورتصادم کی پالیسی کسی طوربھی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے اورنواز شریف تصادم اور محاذ آرائی کی راہ اختیار کرکے دراصل مسلم لیگ کو داؤ پر لگارہے ہیں ۔
موجودہ صورت حال میں مسلم لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے زبان زد عام قیاس آرائیوں کی اگرچہ مریم صفدر یہاں تک کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز بھی کھل کر تردید کرتے رہے ہیں لیکن ان باتوں کومحض قیاس آرائی قرار دے اس کی حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کیونکہ تہمینہ شہباز کی حالیہ ٹویٹس اور حمزہ شہباز کے انٹرویو اور بیانات سے واضح طورپر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے اندر صف بندی کاعمل جاری ہے۔نواز شریف کے قریبی ساتھی سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مریم صفدر کی قیادت کے بارے میں پہلے ہی اعتراضات کرتے ہوئے سنجیدہ سوالات اْٹھا چکے ہیں اور دو ٹوک الفاظ میں ریاستی اداروں سے محاذ آرائی کی مخالفت کررہے ہیں ۔ رہی سہی کسر سینئر سیاستدان وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے میاں شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کی تجویز پیش کرکے پوری کردی ہے ریاض پیرزادہ کی اس تجویز پر توقع کے مطابق مخالفانہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے لیڈر، اراکین پارلیمنٹ اور سرگرم متوالے موجودہ معروضی حالات میں میاں شہباز شریف کو متبادل قائد کے طور پر دیکھ رہے ہیں ،اور انھیں یہ احساس ہوگیاہے کہ ان کاشیراب بوڑھا ہوچکاہے اور اسکے قویٰ مضمحل ہونے لگے ہیں ۔ میاں نواز شریف کا سیاسی مقدمہ کمزور ہوچکا ہے۔ وہ طویل سیاسی اننگ کھیل چکے ہیں انکی اخلاقی ساکھ متاثر ہوچکی ہے اور ان کا خاندان ایسے سنگین مقدمات میں پھنس چکا ہے جن سے بچنا ممکن نظر نہیں آتا۔ میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر پاک فوج اور عدلیہ کیخلاف احتجاج کرکے اپنے خاندان اور ریاستی اداروں کے درمیان ایسی خلیج پیدا کردی ہے جسے پاٹنابہت مشکل ہوگا۔ پاکستان کے دشمن مودی کے ساتھ میاں صاحب کی ذاتی دوستی کسی پاکستانی کو قبول نہیں ہے اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کوعوام کی اس خواہش کاپوری طرح ادراک ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ممکن نظر نہیں آتاکہ نواز شریف ایک طرف عدالت میں پیشیاں بھی بھگتتے رہیں اور اپنی انتخابی مہم کی فعال قیادت بھی کرسکیں ۔بہت سے مسلم لیگی رہنما پارٹی کے کسی ایسے رہنما کی سربراہی میں انتخاب لڑنے سے ہچکچاہٹ محسوس کرینگے جس کا اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگا ہو۔ اس صورتحال میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمدکی یہ بات کسی حد تک درست معلوم ہوتی ہے کہ مسلم لیگ کے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد مسلم لیگ کو خیر باد کہنے کو تیار بیٹھی ہے،مسلم لیگ ن کو خیرباد کہنے کے لیے پرتولنے والے رہنماؤں کاموقف یہ ہے کہ جمہوری اْصولوں اور اخلاقی روایات کا تقاضہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف مسلم لیگ(ن) کے علامتی رہبر رہیں اور پارٹی کی قیادت ایسے لیڈر کو سونپ دیں جو اسٹیبلشمنٹ کو قبول ہو اور وہ نہ صرف انتخابی مہم کی قیادت کرسکتا ہو بلکہ شریف خاندان کو افسوسناک انجام سے بچانے کے لیے معاونت بھی کرسکتا ہو۔
معروضی حالات میں میاں شہباز شریف مسلم لیگ(ن) کے فطری آئیڈیل صدر ثابت ہوسکتے ہیں ۔ وہ پنجاب میں مقبول ہیں ان پر کرپشن کے سنگین الزامات نہیں ہیں جب بھی ان پر کسی نے انگلی اْٹھائی انہوں نے غیر معمولی عزم و یقین سے چیلنج کیا کہ ان کیخلاف ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو ان کی وفات کے بعد بھی ان کی لاش کو قبر سے نکال کر بجلی کے کھمبے سے لٹکا دیا جائے جبکہ میاں نواز شریف کے پاس کرپشن کے الزامات کا کوئی ٹھوس دفاع نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف پر ’’بھارت نواز‘‘ ہونے کا الزام بھی نہیں لگایا جاتا۔ ان کے پاکستان سے باہربظاہر کوئی اثاثے نہیں ہیں ۔مسلم لیگ(ن) اگر اخلاقی طور پر مفلوج، عدالتی طور پر نااہل اور فرد جرم کے حامل لیڈر کی قیادت میں انتخابی میدان میں اْتری تو اس کیخلاف نفرت کی لہر بھی اْٹھ سکتی ہے جو مسلم لیگ(ن) کے اْمیدواروں کے لیے بڑی مہنگی ثابت ہوسکتی ہے۔موجودہ صورتحال میں اگر میاں نواز شریف مسلم لیگ کے مفاد کو نظر انداز کرنے اور قیادت پر براجمان رہنے پر بضد رہے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ وفاق میں اگلی حکومت مسلم لیگ ن نہیں بناسکے گی ۔ موجودہ صورت حال میں دانش مندی کاتقاضہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف اپنی انا اور ضد کو ترک کردیں ۔ زمینی حقائق کا درست ادراک کریں ۔ ریاستی اداروں سے تصادم اور محاذ آرائی سے گریز کریں اور اپنی پارٹی کے لیڈروں کو بغاوت پر مجبور نہ کریں ۔ نواز شریف کو اس بات کو سمجھنے کی کوشش کہ ان کی عملی سیاست کے امکانات اب مخدوش ہوچکے ہیں اور وہ جماعت کے علامتی سربراہ کے طور پر ہی کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ اب وہ جس جگہ پہنچ چکے ہیں وہ پارٹی کی قیادت اپنی بیٹی کو منتقل کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں ۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر