وجود

... loading ...

وجود

ریٹائرڈ سرکاری افسران سیاست میں آنے کے لیے بے تاب

جمعرات 26 اکتوبر 2017 ریٹائرڈ سرکاری افسران سیاست میں آنے کے لیے بے تاب

سیاست میں سرکاری افسران کی شمولیت کا سہرا سابق بیورو کریٹ امتیاز شیخ کو جاتا ہے جو پہلے آغا طارق پٹھان کے ذریعے محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملے اور ضلع لاڑکانہ میں ڈی سی بنے پھر جب جام صادق وزیر اعلیٰ سندھ بنے تو امتیاز شیخ نے ایک مرتبہ پھر آغا طارق پٹھان سے ملے اور ان کو لے جاکر جام صادق سے ملاقات کی ۔ جام صادق نے ان کو اپنے آبائی ضلع سانگھڑ میں ڈی سی لگایا جب انہوں نے دیکھا کہ یہ تو کام کا بندہ ہے تو انہوں نے امتیاز شیخ کو بطور ڈی ایم جی افسر ملازمت سے استعفیٰ دلایا اور ان کو صوبائی سروس گروپ میں گریڈ18 میں براہ راست بھرتی کیا اور ان کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں او پی ایس پر پہلے ایڈیشنل سیکریٹری چیف منسٹر ہاؤس مقرر کیا اور چند ماہ بعد ان کو گریڈ 19 میں ترقی دے کر وزیر اعلیٰ ہاؤس کا قائم مقام سیکریٹری بنا دیا اور پھر ان کو گریڈ 20 میں ترقی دے دی۔ یوں صرف ایک سال یا سوا سال میں امتیاز شیخ نے 18 سے 20 گریڈ کا سفر طے کیا۔
جام صادق کے بعد مظفر شاہ کی حکومت آئی اور جب 93 ء میں وہ حکومت ختم ہوئی تو امتیاز شیخ مقدمات سے بچنے کے لیے بیرون ممالک چلے گئے کیونکہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور عبداللہ شاہ نے امتیاز شیخ کے خلاف تحقیقات شروع کردی تھیں ۔پی پی پی کا دوسرا دور انہوں نے بیرون ممالک گزارا جب لیاقت جتوئی وزیر اعلیٰ بنے تو امتیاز شیخ واپس آئے لیکن اس بار لیاقت جتوئی نے ان کو وہ لفٹ نہیں کرائی جو جام صادق نے انہیں کرائی تھی۔ لیاقت جتوئی نے ان کی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں تقرری نہیں کی لیکن وہ سیکریٹری صحت ضرور بن گئے پھر جب پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو امتیاز شیخ نے ملازمت جاری رکھی لیکن کچھ عرصہ بعد استعفیٰ دے دیا اور 2002 ء میں انہوں نے سندھ ڈیموکریٹک الائنس (ایس ڈی اے) بن اکر سیاست میں شمولیت اختیار کیاور میجر جنرل احتشام ضمیر جعفری کی ہدایت پر ایس ڈی اے کے پلیٹ فارم پر اپنے محسن آغا طارق پٹھان کے مقابلے میں صوبائی حلقہ شکارپور سے الیکشن لڑے حالانکہ آغا طارق پٹھان اس وقت جیل میں تھے الیکشن میں وہ آغا طارق پٹھان سے ہار گئے پھر انہوں نے ضمنی الیکشن لڑا اور گمبٹ سے ایم پی اے بن گئے ۔پرویز مشرف، ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین کے منظور نظر رہے یوں وہ موسمی پرندے کی طرح اڑتے اڑتے پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ان کو دیکھ کر کئی سرکاری افسران بھی سیاست میں آگئے۔
آفتاب میمن بھی ایک ریٹائرڈ سیکریٹری تھے وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایم کیو ایم میں شامل ہوئے لیکن جب 22 اگست کا واقعہ رونما ہوا تو آفتاب میمن بھی گھر بیٹھ گئے اور سیاست میں غیر فعال ہوگئے اس طرح ریٹائرڈ ڈی آئی جی علی اکبر بھنگوار بھی ضلع دادو میں لیاقت جتوئی کے کیمپ میں شامل ہوئے حال ہی میں سابق ڈی سی او کراچی جاوید حنیف نے بھی ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ ایسی درجنوں مثال موجود ہیں جب ریٹائرڈ سرکاری افسران نے سیاست میں شمولیت اختیار کی ہو۔ سرکاری افسران کا اب 80 فیصد رجحان سیاست کی جانب ہوگیا ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ وہ بطور افسر جو کچھ کمایا اس کے بدلے ان پر نیب اور محکمہ اینٹی کرپشن کے مقدمات بنے اب وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مقدمات بھگتیں گے اس سے بہتر ہے کہ وہ اپنے کمائے ہوئے مال کے تحفظ کے لیے سیاست کریں اور پھر سیاسی تحفظ حاصل کریں جب وہ ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہوتے ہیں تو ان کے پاس اچھا خاصا تجربہ بھی ہوتا ہے اور وہ حکومتوں کو تجربہ کی بنیاد پر مشورے بھی دیتے ہیں بعض اوقات وہ مشورے مفید بھی ثابت ہوتے ہیں اس لیے ان کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے یہ تجربہ ہی تو ہے جس کی بنا پر پی پی پی کے کٹر مخالف امتیز شیخ اب پی پی پی کے روح رواں بن چکے ہیں ۔ جام صادق کے دور میں پاکستا ن پیپلزپارٹی کے رہنماؤں پر مقدمات بنانے کا سہرا امتیاز شیخ کو جاتا ہے اور ماضی میں پیپلزپارٹی کی قیادت جتنی نفرت جام صادق کرتی تھی انھیں اس سے کہیں زیادہ نفرت امتیاز شیخ سے بھی تھی لیکن اب وہی امتیاز شیخ پی پی پی میں شامل ہوکر خودپاکستان پیپلزپارٹی کے قصیدے پڑھ رہے ہیں اورکچھ بعید نہیں ہے کہ آنے والے وقتوں میں پی پی پی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے امیدوار امتیاز شیخ ہی ہوں ۔ اس وقت ایک درجن سے زائد ریٹائرڈ بیورو کریٹ تیار بیٹھے ہیں کہ ان کی سیاست میں شمولیت ہوجائے اور وہ مختلف سیاسی قیادتوں سے رابطے میں ہیں سیاست کا یہ المیہ ہے کہ اس میں پہلے ہی کوئی اصول نہیں ہے لیکن اب تو سیاست میں وہ ریٹائرڈ افسران شامل ہوچکے ہیں جنہوں نے دوران ملازمت دل کھول کر کرپشن کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد تحقیقاتی اداروں میں دھکے کھانے کے بجائے سیاست میں آگئے یوں اپنا کمایا ہوا مال بچانے کے چکر میں سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے سیاسی جماعتیں بھی اس معاملہ پر خاموش ہیں ۔


متعلقہ خبریں


پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک) وجود - جمعرات 25 جون 2026

ہلاک دہشتگردوں میں خلیل الرحمان، نعیم الدین کفایت اللہ شامل ہیں، حکام دہشت گردوں سے 6 کلاشنکوف، 3 دستی بم برآمد، فرار ساتھیوں کی تلاش جاری لوئر دیر کے علاقے برچڑئی تالاش میں پولیس اور خوارج کے مابین جھڑپ کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق برچڑی پہاڑی میں دہشت گرد...

سی ٹی ڈی،پولیس کی لوئردیر میں مشترکہ کارروائی( 6 دہشت گرد ہلاک)

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا وجود - جمعرات 25 جون 2026

مودی سرکارکی بدترین خارجہ پالیسی، سنجیدہ سفارت کاری سوشل میڈیاپر تماشا بن گئی ناقص پالیسیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا بائیکاٹ کر رہے ہیں،رپورٹ مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کے باوجود بھارت کے سفارتی تعلقات کمزور ہونے لگے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بی جے پی کے کٹ...

پاکستان نے مودی کی نام نہاد سفارت کاری کو خاک میں ملا دیا

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل وجود - منگل 23 جون 2026

دھماکا اس وقت پیش آیا جب مارچ میں ایرانی حملے کے بعد بند کی گئی تنصیبات کو دوبارہ فعال کیا جا رہا تھا،دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی اس کا اثر مرکزی دوحا تک محسوس کیا گیا، وزیر توانائیقطر ہمارے 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن کا تعلق بھارت، پاکستان سے ہے، 66 افراد زخمی ہوئے ،راس...

قطر کے ایل این جی پلانٹ میں دھماکا؛ 13 افراد جاں بحق، 66 زخمی؛ پاکستانی بھی شامل

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ وجود - منگل 23 جون 2026

کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50فیصد اضافہ ،عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی،مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ایران امریکا جنگ بندی کے بعدپیٹرول 299روپے 58پیسے فی لیٹرمقرر،نئے بجٹ میں لیوی کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوںکی مد می...

آئی ایم ایف کی سخت شرائط ، لیوی 160روپے فی لیٹر رکھنے کا مطالبہ)پیٹرول پھر مہنگا ہونے کا خطرہ

مضامین
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں! وجود جمعه 26 جون 2026
چاردن میں تین مسجدیں شہید کردی گئیں!

کربلا،ایک واقعہ نہیں! وجود جمعه 26 جون 2026
کربلا،ایک واقعہ نہیں!

شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب وجود جمعه 26 جون 2026
شہادتِ امام حسین:بقائے اسلام کا روشن باب

سیاسی استحکام سے محرومی وجود جمعرات 25 جون 2026
سیاسی استحکام سے محرومی

کربلا، مشعل راہ وجود جمعرات 25 جون 2026
کربلا، مشعل راہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر