... loading ...
ماحولیات کے ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر عالمی سطح پر حدت میں ہونے والے اضافے کو موثر طوررپر کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کرہ ارض کے بعض حصے جنھیں انسانی تہذیب وتمدن کا مخزن تصور کیاجاتاہے، شعلہ صفت بن جائیں گے اور ان علاقوں میں انسانوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا ۔ گرمی میں اس اضافے کی وجہ سے بیشتر وہ علاقے جن علاقوں سے انسان نے جنوبی ایشیا میں آبادیوں اور تہذیب و تمدن کی شروعات کیں، وہی علاقے انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے تباہی اور
ہلاکت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔نئی صدی شروع ہونے میں گو ابھی کئی عشرے باقی ہیں لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نئی صدی سے نئی امیدیں اور توقعات نہ باندھی جائیں۔ نئی صدی انسان کے لیے نئے مسائل اور نئی پریشانیاں لا رہی ہے۔ نئی صدی کا سب سے بڑا مسئلہ زمین کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ ماحولیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے ایک گنجان آباد خطے، جسے ہم اور آپ جنوبی ایشیا کے نام سے جانتے ہیں، کے کئی حصے اس قدر گرم ہوجائیں گے کہ وہاں انسانی زندگی کا وجود برقرار رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔
جنوبی ایشیا میں واقع جن علاقوں کو آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات سے شدید خطرات لاحق ہیں، ان میں پاکستان کی وادی سندھ، بھارت کی وادی گنگااور شمالی علاقہ جبکہ بنگلہ دیش کا زیادہ تر حصہ شامل ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم نہ کیا گیا تو ان علاقوں میں درجہ حرارت اور رطوبت کی بہت بلند سطح اور کئی دوسرے عوامل انسانی زندگی کے وجود کو مشکل تر بنا دیں گے اورعین ممکن ہے کہ ان علاقوں سے انسان کاوجود ہی ختم ہوجائے۔
ماہرین نے جن دوسرے عوامل کی نشان دہی کی ہے ان میں آبادی میں بے تحاشا اضافہ، غربت اور زراعت پر مسلسل انحصار شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافے سے زرعی پیداوار میں کمی ہوگی جس کی وجہ سے آبادی کی ضروریات پوری نہیںہو سکے گی،پانی کی شدید قلت پیداہوگی اورانسان کی بقا کے لیے ضروری دیگر عوامل کے بھی نایاب ہونے کاخدشہ ہے۔
سائنسی جریدے’ سائنس ایڈوانسز‘میںگزشتہ روز شائع ہونے والی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کے جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ تاریخی اور ثقافتی ورثے سے مالامال ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پانچ ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے انسان نے پکی انیٹوں کے شہر بسائے، جو اپنے عہد کے ترقی یافتہ شہر تھے اور علوم و فنون اور تجارت کو فروغ دیا جن کی کچھ باقیات اور نشانیاں آج بھی موجود ہے۔جن علاقوں سے انسان نے جنوبی ایشیا میں آبادیوں اور تہذیب و تمدن کی شروعات کیں، اب وہی علاقے انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے تباہی اور ہلاکت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے شریک مصنف اورمیسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنس دان الفتح الطاہر کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی تحقیق میں جن عوامل کو پیش نظر رکھا، ان میں آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات سب سے نمایاں تھے۔ ان علاقوں میں آبادی بہت گنجان ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کی اکثریت انتہائی خراب اور ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ ان کے لیے گرم اور مرطوب ہوتے ہوئے موسم کی سختیاں برداشت کے قابل نہیں رہیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے تجزیے میں گرمی اور ہوا میں نمی کے تناسب کو پیش نظر رکھا ہے کیونکہ یہ دونوں انسانی صحت پر اثر ڈالتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں نم آلود ٹیسٹ ٹیوب کے درجہ حرارت کے ماڈل کا مطالعہ کیا گیا جس میں نمی کاتناسب 100 فی صد ہوتا ہے۔ تجربے سے یہ ظاہر ہوا کہ اگردرجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے تو کوئی بھی انسان اس حرارت کو برداشت نہیں کر سکے گا چاہے وہ کتنا ہی صحت مند کیوں نہ ہو اور پانی کی کتنی ہی مقدار کیوں نہ پی لے، وہ محض چند گھنٹوں کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ100 فی صد مرطوب ماحول میں 35 درجے سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے اثرات 72 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اثر رکھتے ہیں۔پاکستان میں آب و ہوا کی تبدیلی کے ہلاکت خیز اثرات کا مظاہرہ کچھ عرصہ کراچی میں ہو چکا ہے جہاں گرمی کی لہر سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔الطاہر کا کہنا ہے کہ اس تجربے میں جس سطح پر حرارت کے اثرات ظاہر ہوئے ان کا اس سے پہلے کبھی تصور نہیں کیا گیا اور یہ اثرات وہاں کی آبادیوں کے نمایاں طور پر ہلاکت خیز بن سکتے ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ درجہ حرارت مسلسل خطرناک حدود سے تجاوز کرتا رہے گا، لیکن وہ جب بھی ایک خاص حد سے بڑھے گا تو ان لوگوں کے لیے ہلاکت خیز بن جائے گا جن کے پاس ایئر کنڈیشننگ نہیں ہو گی۔امریکا کی پرڈیو یونیورسٹی کے آب وہوا سے متعلق سائنس دان میتھیو ہوبر کہتے ہیں کہ اس رپورٹ میں کاربن گیسوں کے اخراج کی سطح کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق گیس کے اخراج کے پیمانے آر سی پی 8.5 پر 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت دنیا کی ایک بڑی آبادی کے لیے موت کا پروانہ بن سکتا ہے۔سائنس دانوں نے یہ انتباہ ایک ایسے وقت جاری کیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکاکو آب و ہوا کی تبدیلی کے پیرس معاہدے سے الگ کر لیا ہے۔ وہ کئی موقعوں پر یہ کہہ چکے ہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلی اور زمین کا درجہ حرارت بڑھنے کی باتوں کی حقیقت فسانے سے زیادہ نہیں ہے۔
17برس پہلے ہم نے اکیسویں صدی کا آغاز بڑے جوش و خروش اور اس عزم اور ولولے سے کیا تھا کہ اس کرہ ارض کو جنت نظیر بنائیں گے اور نئی ایجادات کے ساتھ انسانی زندگی میں مزید آسانیاں پیدا کریں گے۔ لیکن سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے اپنے طور اطوار تبدیل نہ کیے تو بائیسویں صدی میں دنیا کے کئی حصے کسی دوزخ سے کم نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...
سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...
روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...
سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...
20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...
ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...
اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...
مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...
رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...
حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...
احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...
شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...