وجود

... loading ...

وجود

آئی جی سندھ پولیس، وزیرداخلہ تنازعہ

پیر 05 جون 2017 آئی جی سندھ پولیس، وزیرداخلہ تنازعہ

حکومت سندھ صرف انور مجید کی خواہش پر ایک ایسا کھیل کھیل رہی ہے جس سے صرف صوبہ اور اداروں کو ہی نقصان ہوگا ۔ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے ساتھ تنازعہ میں حکومت سندھ کو علم ہے کہ اس کا کیس کمزور ہے، حتیٰ کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی سمجھتے ہیں کہ پی پی پی قیادت کا مؤقف کمزور ہے۔ اور وہ پارٹی کے اندر شدید تنقید برداشت کر رہے ہیں۔ اس لیے اس لڑائی میں سہیل انور سیال کو لایا گیا ہے، سہیل انور سیال کی سیاسی حیثیت اتنی نہیں ہے، لیکن سندھ کی سیاست میں وہ اتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ شاید کوئی دوسرا رشک کرے ۔کیونکہ آصف زرداری اور فریال تالپر کا منظور نظر ہے اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ حکمرانوں کو وفادار کے بجائے خوشامد پسند ہی اچھے لگتے ہیں۔ سہیل انور سیال نے خوشامد میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے وہ تو 2001 ءکے عام انتخابات میں الطاف حسین انڑ سے الیکشن ہارے تھے حالانکہ ان کی انتخابی مہم آصف زرداری اور فریال تالپر نے چلائی تھی یہ تو قسمت کی بات تھی کہ الطاف حسین انڑ کا رضائے الٰہی سے انتقال ہوا تو ان کی خالی نشست پر پوری ریاستی طاقت استعمال کرکے سہیل انور سیال کو بلا مقابلہ کامیاب کر ایا گیا، اب انہیں دوسری مرتبہ وزیر داخلہ بنایا گیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ پہلی دفعہ رسوائی کے داغ لے کر وزارت داخلہ کا قلمدان گنوا بیٹھے تھے، شاید اس مرتبہ اس سے زیادہ رسوائی کے ساتھ گھر جائیں گے۔ انہوں نے آتے ہی اپنے آقاؤں کے حکم پر عمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کو سیکورٹی تھریٹ ہے اس لیے ان کو پولیس ہیڈ آفس میں دفتر دیا جائے ۔انہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر ان کا دفتر پولیس ہیڈ آفس میں ہوگا تو پولیس کا کام کتنا متاثر ہوگا اور پھر روزانہ ان کے پاس سیاسی ورکر ملنے آئیں گے تو پھر پولیس ہیڈ آفس کی سیکورٹی کتنی متاثر ہوگی؟ خیر پہلے دفتر اور بلٹ پروف گاڑی دینے کا مطالبہ کیا۔ پھر ایک لیٹر وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کرایا کہ کوئی بھی ڈی سی، ایس ایس پی، کمشنر اور ڈی آئی جی اس وقت تک اپنا ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ چیف سیکریٹری سندھ ان کو تحریری اجازت نہیں دیتے۔ تب چیف سیکریٹری اور دیگر نے وزیراعلیٰ ہاؤس کو مشورہ دیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ضلع یا ڈویژن چھوڑنے سے قبل پولیس اور انتظامی افسران اجازت لیتے پھریں۔ پھر یہ حکم نامہ واپس لیا گیا اب نیا حکم نامہ یہ جاری کیا گیا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس اگر ہیڈ کوارٹر چھوڑیں گے تو چیف سیکریٹری سے اجازت لیں گے۔ اور ایسا کرنا بھی آئی جی کے لیے مشکل ہے کیونکہ اس وقت نیشنل ایکشن پلان کے تحت کومبنگ آپریشن چل رہا ہے ،ان کو کسی بھی وقت کسی علاقہ میں جاکر آپریشن کے لیے ہدایات دینا ہونگی، آپریشن کی نگرانی کرنا ہوتی یا پھر اسلام آباد میں نیشنل ایکشن پلان کا کوئی اجلاس وزیراعظم نے بلایا تو ا س میں لازمی طور پر جانا ہوگا جبکہ ایسے حکامات سندھ ہائی کورٹ کے واضع احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہےں کیونکہ ہائی کورٹ کا حکم تھا کہ آئی جی سندھ پولیس کو کام کرنے دیا جائے ان کے لیے رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں۔ مگر حکومت سندھ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ سہیل انور سیال کو تو مفت میں لڑائی کرنی ہے اور آصف زرداری اور فریال تالپر کے سامنے ہیرو بننا ہے۔ سہیل انور سیال کے بار بار رابطوں کے بعد بالآخر آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے جواب محکمہ داخلہ کو بھیج دیا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر وزیر داخلہ کو سیکورٹی کا کوئی مسئلہ ہے تو پھر ان کو کراچی پولیس کے چار محفوظ دفاتر میں سے ایک دفتر دیا جاسکتا ہے۔ ان میں ایس ایس یو ہیڈ کوارٹر حسن اسکوائر ، پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن، کرائم برانچ ہیڈ آفس کیماڑی اور سی آئی اے ہیڈ آفس صدر شامل ہیں کیونکہ پولیس ہیڈ آفس ایک حساس دفتر اور آئی جی پولیس کا سیکریٹریٹ ہے جس میں اسپیشل برانچ اور سی ٹی ڈی جیسے حساس دفاتر ہیں اور وزیر داخلہ چونکہ سیاسی شخصیت ہیں اس لیے ان کی آمد ورفت کے وقت سیاسی کارکنوں کا آنا جانا ہوگا اس لیے اس دفتر کی حساسیت متاثر ہوگی۔ اگر وزیر داخلہ چاہیں تو ان کی سیکورٹی کے لیے پولیس اسکواڈ میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس لیٹر کی کاپی وزیراعلیٰ ہاؤس اور چیف سیکریٹری آفس کو بھی فراہم کی گئی ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عدالتی محاذ پر اس سرد جنگ میں اضافہ ہوگا۔ چونکہ پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ نے حکم جاری کیا ہوا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس کو کام کرنے دیا جائے اور ان کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے لیکن حکومت سندھ کو اس کی پرواہ نہیں ہے اور وہ بار بار عدالتی محاذ پر ہزیمت کے باوجود ہر بار نئے جوش کے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہو جاتی ہے اب نئے احکامات کو سندھ ہائی کورٹ میں پیش کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے اور حکومت سندھ اس بار بھی عدالتی احکامات پر عمل کرنے کے بجائے لڑائی کے نئے محاذ کے لیے تیار ہے۔ اب ان خوشامدی وزیر داخلہ کو کون سمجھائے کہ کیا وفاقی وزیر دفاع ایسا مطالبہ کرسکتا ہے کہ ان کا دفتر جی ایچ کیو میں قائم کیا جائے؟ مسلح افواج یا مسلح پولیس کے دفاتر خصوصی طور پر وردی والے اہلکاروں کے لیے ہوتے ہیں۔ کل اگر وزیر داخلہ یہ فرمائش کردیں کہ میں بھی وردی پہنوں گا۔ اور مجھے بھی کندھوں پر بیج ، اسٹار لگا دیے جائیں تو کیا ایساممکن ہوگا؟ حکومت سندھ نے پچھلے چھ ماہ سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ کسی طور کوئی ایسا ثبوت ہاتھ لگ جائے جس میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے خلاف مالی یا انتظامی بے قاعدگی ثابت ہو۔ مگر حکومت سندھ ناکام ہوگئی ہے کیونکہ پورے کیریئر میں آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے خود کو بچا رکھا ہے اپنے ہاتھ کالے ہونے سے بچالیے ہیں، جب دامن اور ہاتھ صاف ہوں تو پھر کرپٹ اور خوشامدیوں کے سامنے ڈٹ جانے سے ان کو نقصان نہیں ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر