... loading ...

وزیر خزانہ نے گزشتہ دنوں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اور اس کے بعد بعد از بجٹ پریس کانفرنس کے دوران پورا زور یہ ثابت کرنے پر لگانے کی کوشش کی کہ موجودہ حالات اور وسائل میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیاجاسکے گا، انہوںنے اپنے تیار کردہ بجٹ کو ہر اعتبار سے موزوں قرا ر دیتے ہوئے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس بجٹ میں کسی شعبے کو نظر انداز نہیں کیاگیاہے ، لیکن بجٹ کا بغور جائزہ لیا جائے تو وزیر خزانہ کے یہ دعوے کھوکھلے اور غلط نظر آتے ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بجٹ میں بعض شعبوں کے لیے جو ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، بہت ہی کم یعنی نہ ہونے کے برابر رقم رکھی گئی ہے،مثال کے طور پر کلائمیٹ چینج یعنی ماحول یاموسم کی تبدیلی کا شعبہ، پوری دنیا اس وقت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط اور بھرپور اقدام کررہی ہے۔ بڑی طاقتوں خاص طورپر صنعتی ممالک کے درمیان اس مسئلے پر کئی معاہدے ہوچکے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے اس حوالے سے معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کی شکایت کی وجہ سے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی آلودگی کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے ۔آلودگی میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے نت نئی بیماریاں اس غریب اور کم وسیلہ ملک کے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کرتی نظر آرہی ہیں، لیکن ہمارے وزیر خزانہ نے اس اہم محکمے کے لیے بجٹ میں صرف 815 ملین روپے مختص کیے ہیں،اس رقم میں سے 764 ملین روپے آلودگی پر کنٹرول کے حوالے سے زیر تکمیل منصوبوں یا اسکیموں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ اس کے بعد اس حوالے سے نئی اسکیمیں شروع کرنے کے لیے محکمے کے پاس صرف 51 ملین روپے رہ جائیں گے۔ان نئی اسکیموں کے لیے ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسلام آباد کے چڑیاگھر، جو بوٹانیکل گارڈن بھی ہے، میں جانوروں کے تحفظ اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی افزائش کے لیے چاردیواری تعمیر کرنے کی اسکیم کے علاوہ پورے پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات اور نادر جڑی بوٹیوں کی افزائش کی اسکیم شامل ہے۔منصوبے کے مطابق ان دونوں منصوبوں پر بالترتیب 15 اور36 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔
ماحول سے آلودگی میں کمی اور فضا میں آلودگی میں اضافے کوروکنے کے لیے زیر تکمیل منصوبوں میں، جن کی تکمیل کے لیے 764 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں کلائمیٹ چینج اور پائیدار ترقی کے لیے ایک جیو میٹرک سینٹر کاقیام ،گرین پاکستان پروگرام،پاکستان میں جنگلات میں اضافہ،پاکستان میں جنگلی حیات کی افزائش اور زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کے پروگرام اور اسکیمیں شامل ہیں۔
دوسرا اہم شعبہ جس کووزیرخزانہ نے نظر انداز کرتے ہوئے اس کیلئے انتہائی کم رقم مختص کی ہے نارکوٹکس کنٹرول یعنی منشیات کی روک تھام کاشعبہ ہے ،وزیر خزانہ نے اس محکمے کے لیے مجموعی طورپر 220 ملین روپے مختص کیے ہیں جس میں سے 76.662 ملین روپے اس محکمے کے زیر تکمیل منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ نئی اسکیمیں شروع کرنے کے لیے محکمہ کے پاس صرف 143 ملین روپے باقی بچیں گے ۔اس محکمے کی نئی اسکیموں میں پسنی اورسوست کے مقام پر انسداد منشیات پولیس کے لیے تھانوں کی تعمیر اور کورنگی کراچی میں انسداد منشیات فورس کی پولیس کے تنہاجوانوں کے لیے بیرکوں کی تعیر کامنصوبہ شامل ہے۔ ان تینوں تعمیراتی کاموں کے لیے بالترتیب،59 ملین،55 ملین
اور28.84 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،جبکہ محکمے کے زیر تکمیل 3 منصوبوں میں باجوڑ میں ترقیاتی پراجیکٹ ،خیبر ایریا کا ترقیاتی پروجیکٹ اورمہمند کے علاقے کا ترقیاتی پروجیکٹ شامل ہے۔ان تینوں پروجیکٹس کے لیے بالترتیب 14.261،47.401اور15 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
تیسرا اہم محکمہ خلا اور بالائی ماحول پر ریسرچ کمیشن ہے جو اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن کہلاتاہے۔ وزیر خزانہ نے اس اہم محکمے کے لیے صرف 3.5 بلین روپے مختص کیے ہیں ، اس محکمے کا صرف ایک ہی زیر تکمیل منصوبہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لاہور ہے، اس کے لیے 3.279 روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس محکمے کے پاس صرف ایک نئے منصوبے کی گنجائش ہے جو کہ فیزی بلیٹی اینڈ سسٹم ڈیفی نیشن (ایف ایس ڈی ایس) اسٹڈی آف پاکستان ہے اس کے تحت ایک کثیر المقاصد پاکستانی سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کاپروگرام ہے اس اسکیم کے لیے220.012 ملین روپے رکھے گئے ہیں،اس اہم کام کے لیے اتنی کم رقم دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہوتاہے کہ وزیر خزانہ کے نزدیگ خلائی تجربات کی ضرورت کی کوئی اہمیت نہیں ہے یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ابھی اس پر کچھ زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک بلکہ خود ہمارا پڑوسی ملک اس مقصد کے لیے بھاری رقوم مختص کررہاہے اوراس کے نتیجے میں اب وہ ایک درجن سیٹلائٹ ایک ساتھ خلا میں بھیجنے کے کامیاب تجربے کررہاہے۔
وزیر خزانہ نے اسٹیٹس اور فرنٹیئر ریجنز ڈویژن (سیفرون) کو بھی اہمیت کے قابل نہ تصور کرتے ہوئے اس ڈویژن کے لیے 50 ملین روپے مختص کرنے کااعلان کیاہے۔ اس رقم سے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں نواز شریف ماڈل ٹائون تعمیر کیاجائے گا۔جبکہ غلنئی مہمند گاٹ روڈ کو چوڑا کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے کام کے لیے 600 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ سیفرون کو اس کی زیر تکمیل 4 اسکیموں کے لیے 2.69 ملین روپے جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 650 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیرخزانہ یا ان کے حواریوںمیں کسی کو ان میں سے کسی محکمے کی اہمیت کا احساس ہوتاہے یا نہیں، اور وہ ان اہم محکموں کے لیے مختص رقوم میں اضافے کے لیے کوئی کوشش کرتے ہیں یا آنکھ بند کرکے موجودہ تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔
تہمینہ حیات نقوی
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...