وجود

... loading ...

وجود

بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں

اتوار 23 اپریل 2017 بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں

جام شورو پاور کمپنی،سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن میں 777 کلوواٹ فی گھنٹہ کی شرح سے انرجی ضائع 2012سے 2014میں قومی خزانے کو کم وبیش 69 ارب روپے کاخسارہ ہوا ،نیپراکی پرفارمنس ایویلو یشن پورٹ میں انکشاف

بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں ناقص کارکردگی،بد انتظامیوں،دیکھ بھال کامناسب انتظام نہ ہونے ، مشینری کی ٹوٹ پھوٹ اور فرسودگی ، مناسب تکنیکی مہارت کے حامل افراد کی کمی ، مشینری کو اس کی گنجائش کے مطابق نہ چلائے جانے اور گنجائش کے مطابق پیداوار حاصل نہ کیے جانے کی وجہ سے قومی خزانے پر بوجھ بنتی جارہی ہیں ، اس بات کاانکشاف حال ہی میں سامنے آنے والی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں کیاگیاہے۔
نیپرا کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ جام شورو پاور کمپنی،سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن میں کم وبیش 777 کلوواٹ فی گھنٹہ کی شرح سے انرجی ضائع ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 69 ارب روپے کانقصان ہوا ہے۔ نیپرا کی 2012-2013 ء اور2014 ء کے بارے میں پرفارمنس ایویلو یشن رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ گیس سے بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس جن میں گیس ٹربائن پاور اسٹیشن کوٹری،سی ٹی ایس فیصل آباد ،ایس پی ایس اسٹریم پاور اسٹیشن فیصل آباد 2012-2013ء اور2014کے دوران گیس کی مسلسل اور ضرورت کے مطابق فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر وقت بند پڑے رہے ،اس طرح ملک ان بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی نسبتاً سستی بجلی سے محروم رہااور ملک میں بجلی کی طلب اور فراہمی کے درمیان توازن پیدا کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔
اطلاعات کے مطابق جام شورو پاور کمپنی، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن نے بندش کی صورت حال میں763 کلوواٹ فی گھنٹہ انرجی حاصل کی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 6.04 بلین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ٹی پی ایس جام شورو، ٹی پی ایس گدو اور ٹی پی ایس مظفر گڑھ کے بعض یونٹس نے اپنی بجلی خریدنے کے معاہدے کے تحت جس پر نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیج کمپنی نے دستخط کیے تھے، کے طے شدہ اور غیر طے شدہ حدود کی خلاف ورزیاں کیں۔اگر یہ بجلی گھر ان حدود کی خلاف ورزی نے کرتے تو انہیں بجلی پیدا کرنے کے لیے زیادہ وقت مل سکتاتھا اس طرح ان کی آمدنی میں اضافہ اور خسارے میں کمی ہوسکتی تھی ۔
نیپرا کی رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مذکورہ 3 سال کے دوران ان میں سے بیشتر بجلی کی کمپنیوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی ۔جینکو کے جمع کردہ اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ مذکورہ تین برسوں کے دوران بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے ان کی صلاحیتوں کی دستیابی بہت ہی کم رہی خاص طورپر ٹی پی ایس جام شورو، ٹی پی ایس گدو اور لاکھڑا بجلی گھروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ان میں سے لاکھڑا بجلی گھر کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی اور مذکورہ تین برسوں کے دوران صرف 39 فیصد وقت کے دوران اس میں بجلی پیدا کی جاسکی۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مذکورہ تین سال کی مدت کے دوران بجلی کی پیداوار کی صورت حال انتہائی کم رہی خاص طورپرگیس سے چلنے والے بجلی گھروں جن میں سی ٹی پی ایس کوٹری، سی ٹی پی ایس فیصل آباد اور ایس پی ایس فیصل آباد شامل ہیں ،کی بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ اس پوری مدت کے دوران یہ بجلی گھر بیشتر وقت بند رہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ جینکو کے بعض بجلی گھروں میں دیکھ بھال اور مرمت سے غفلت یا تساہل کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بہت کم رہی ۔رپورٹ میں بجلی گھروں کی غیر یقینی کارکردگی اور ان سے بجلی کی پیداوار کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے عوام، صنعت کاروں ، تاجروں اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ اس کی وجہ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرنس آئل سے بجلی تیار کرنے والے بجلی گھر جن میںٹی پی ایس جام شورو اور ٹی پی ایس مظفر گڑھ سے حاصل ہونے والی بجلی جینکو کے زیر انتظام کام کرنے والے دیگر تمام سرکاری بجلی گھروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی ثابت ہوئی ۔رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ 2012-2013 ء اور2014 ء کے دوران ان بجلی گھروں سے تیار ہونے والی بجلی سی پی پی اے ۔جی نے ان بجلی گھروں سے بالترتیب 19.7 روپے اور 19.1 روپے فی یونٹ کی شرح سے حاصل کی ۔اس کے برعکس گیس سے چلنے والے سی ٹی پی ایس فیصل آباد اورٹی پی ایس گدو سے حاصل ہونے والے بجلی سب سے سستی یعنی کم قیمت ثابت ہوئی کیونکہ ان بجلی گھروں سے تیار ہونے والی بجلی سی پی پی اے ۔سی نے ان بجلی گھروں سے بالترتیب 5.3 روپے اور5.9 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریدی۔
اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ گیس سے چلنے والے بجلی گھر 2012-2013ء اور2014ء سے ملک کو انتہائی سستی بجلی فراہم کررہے ہیں لیکن یہ بجلی گھر گیس کی عدم فراہمی اور دیگر وجوہات کے پیش نظر زیادہ تر بند رکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سی پی پی اے ۔جی کو تیل سے چلنے والے بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتاہے ۔
نیپرا کی تیارکردہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ بجلی گھروں کی دیکھ بھال کے ناقص انتظامات، فرائض سے غفلت ،بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ اور بندش اور نااہلی کی وجہ سے سرکاری شعبے میں چلائے جانے والے یہ بجلی گھر ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہورہے ہیں ،اوران بجلی گھروں کو ان کی پوری استعداد کے مطابق نہ چلائے جانے کی وجہ سے ان کو سالانہ اربوں روپے کاخسارے کاسامناہے اور اس طرح یہ بجلی گھر قومی خزانے پر بوجھ بن گئے ہیں۔

حکومتی نااہلی ،سستی بجلی پیدا کرنے والے یونٹس زیادہ تر بند رہتے ہیں

فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر وںسے سی پی پی اے ۔جی نے 19.7 روپے اور 19.1 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی حاصل کی ،اس کے برعکس گیس سے چلنے والے یونٹس سے حاصل ہونے والے بجلی سی پی پی اے ۔سی نے 5.3 روپے اور5.9 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریدی۔اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ گیس سے چلنے والے بجلی گھر 2012-2013ء اور2014ء سے ملک کو انتہائی سستی بجلی فراہم کررہے ہیں لیکن یہ بجلی گھر گیس کی عدم فراہمی اور دیگر وجوہات کے پیش نظر زیادہ تر بند رکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سی پی پی اے۔جی کو تیل سے چلنے والے بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتاہے ۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر