وجود

... loading ...

وجود

بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں

اتوار 23 اپریل 2017 بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں قومی خزانے پر بوجھ بن گئیں

جام شورو پاور کمپنی،سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن میں 777 کلوواٹ فی گھنٹہ کی شرح سے انرجی ضائع 2012سے 2014میں قومی خزانے کو کم وبیش 69 ارب روپے کاخسارہ ہوا ،نیپراکی پرفارمنس ایویلو یشن پورٹ میں انکشاف

بجلی تیار کرنے والی سرکاری کمپنیاں ناقص کارکردگی،بد انتظامیوں،دیکھ بھال کامناسب انتظام نہ ہونے ، مشینری کی ٹوٹ پھوٹ اور فرسودگی ، مناسب تکنیکی مہارت کے حامل افراد کی کمی ، مشینری کو اس کی گنجائش کے مطابق نہ چلائے جانے اور گنجائش کے مطابق پیداوار حاصل نہ کیے جانے کی وجہ سے قومی خزانے پر بوجھ بنتی جارہی ہیں ، اس بات کاانکشاف حال ہی میں سامنے آنے والی نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی ایک رپورٹ میں کیاگیاہے۔
نیپرا کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ جام شورو پاور کمپنی،سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن میں کم وبیش 777 کلوواٹ فی گھنٹہ کی شرح سے انرجی ضائع ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 69 ارب روپے کانقصان ہوا ہے۔ نیپرا کی 2012-2013 ء اور2014 ء کے بارے میں پرفارمنس ایویلو یشن رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ گیس سے بجلی پیدا کرنے والے بعض یونٹس جن میں گیس ٹربائن پاور اسٹیشن کوٹری،سی ٹی ایس فیصل آباد ،ایس پی ایس اسٹریم پاور اسٹیشن فیصل آباد 2012-2013ء اور2014کے دوران گیس کی مسلسل اور ضرورت کے مطابق فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر وقت بند پڑے رہے ،اس طرح ملک ان بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی نسبتاً سستی بجلی سے محروم رہااور ملک میں بجلی کی طلب اور فراہمی کے درمیان توازن پیدا کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔
اطلاعات کے مطابق جام شورو پاور کمپنی، سینٹرل پاور جنریشن کمپنی اور ناردرن پاور کارپوریشن نے بندش کی صورت حال میں763 کلوواٹ فی گھنٹہ انرجی حاصل کی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو کم وبیش 6.04 بلین روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ٹی پی ایس جام شورو، ٹی پی ایس گدو اور ٹی پی ایس مظفر گڑھ کے بعض یونٹس نے اپنی بجلی خریدنے کے معاہدے کے تحت جس پر نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیج کمپنی نے دستخط کیے تھے، کے طے شدہ اور غیر طے شدہ حدود کی خلاف ورزیاں کیں۔اگر یہ بجلی گھر ان حدود کی خلاف ورزی نے کرتے تو انہیں بجلی پیدا کرنے کے لیے زیادہ وقت مل سکتاتھا اس طرح ان کی آمدنی میں اضافہ اور خسارے میں کمی ہوسکتی تھی ۔
نیپرا کی رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مذکورہ 3 سال کے دوران ان میں سے بیشتر بجلی کی کمپنیوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی ۔جینکو کے جمع کردہ اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ مذکورہ تین برسوں کے دوران بجلی پیدا کرنے کے حوالے سے ان کی صلاحیتوں کی دستیابی بہت ہی کم رہی خاص طورپر ٹی پی ایس جام شورو، ٹی پی ایس گدو اور لاکھڑا بجلی گھروں کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر رہی۔ان میں سے لاکھڑا بجلی گھر کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی اور مذکورہ تین برسوں کے دوران صرف 39 فیصد وقت کے دوران اس میں بجلی پیدا کی جاسکی۔
دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مذکورہ تین سال کی مدت کے دوران بجلی کی پیداوار کی صورت حال انتہائی کم رہی خاص طورپرگیس سے چلنے والے بجلی گھروں جن میں سی ٹی پی ایس کوٹری، سی ٹی پی ایس فیصل آباد اور ایس پی ایس فیصل آباد شامل ہیں ،کی بجلی کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ اس پوری مدت کے دوران یہ بجلی گھر بیشتر وقت بند رہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ جینکو کے بعض بجلی گھروں میں دیکھ بھال اور مرمت سے غفلت یا تساہل کی وجہ سے بجلی کی پیداوار بہت کم رہی ۔رپورٹ میں بجلی گھروں کی غیر یقینی کارکردگی اور ان سے بجلی کی پیداوار کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے عوام، صنعت کاروں ، تاجروں اور دیگر شعبوں کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ اس کی وجہ سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرنس آئل سے بجلی تیار کرنے والے بجلی گھر جن میںٹی پی ایس جام شورو اور ٹی پی ایس مظفر گڑھ سے حاصل ہونے والی بجلی جینکو کے زیر انتظام کام کرنے والے دیگر تمام سرکاری بجلی گھروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی ثابت ہوئی ۔رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ 2012-2013 ء اور2014 ء کے دوران ان بجلی گھروں سے تیار ہونے والی بجلی سی پی پی اے ۔جی نے ان بجلی گھروں سے بالترتیب 19.7 روپے اور 19.1 روپے فی یونٹ کی شرح سے حاصل کی ۔اس کے برعکس گیس سے چلنے والے سی ٹی پی ایس فیصل آباد اورٹی پی ایس گدو سے حاصل ہونے والے بجلی سب سے سستی یعنی کم قیمت ثابت ہوئی کیونکہ ان بجلی گھروں سے تیار ہونے والی بجلی سی پی پی اے ۔سی نے ان بجلی گھروں سے بالترتیب 5.3 روپے اور5.9 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریدی۔
اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ گیس سے چلنے والے بجلی گھر 2012-2013ء اور2014ء سے ملک کو انتہائی سستی بجلی فراہم کررہے ہیں لیکن یہ بجلی گھر گیس کی عدم فراہمی اور دیگر وجوہات کے پیش نظر زیادہ تر بند رکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سی پی پی اے ۔جی کو تیل سے چلنے والے بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتاہے ۔
نیپرا کی تیارکردہ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ بجلی گھروں کی دیکھ بھال کے ناقص انتظامات، فرائض سے غفلت ،بجلی گھروں کو گیس کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ اور بندش اور نااہلی کی وجہ سے سرکاری شعبے میں چلائے جانے والے یہ بجلی گھر ملک میں بجلی کی کمی پوری کرنے کی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہورہے ہیں ،اوران بجلی گھروں کو ان کی پوری استعداد کے مطابق نہ چلائے جانے کی وجہ سے ان کو سالانہ اربوں روپے کاخسارے کاسامناہے اور اس طرح یہ بجلی گھر قومی خزانے پر بوجھ بن گئے ہیں۔

حکومتی نااہلی ،سستی بجلی پیدا کرنے والے یونٹس زیادہ تر بند رہتے ہیں

فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر وںسے سی پی پی اے ۔جی نے 19.7 روپے اور 19.1 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی حاصل کی ،اس کے برعکس گیس سے چلنے والے یونٹس سے حاصل ہونے والے بجلی سی پی پی اے ۔سی نے 5.3 روپے اور5.9 روپے فی یونٹ کی شرح سے خریدی۔اس رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ گیس سے چلنے والے بجلی گھر 2012-2013ء اور2014ء سے ملک کو انتہائی سستی بجلی فراہم کررہے ہیں لیکن یہ بجلی گھر گیس کی عدم فراہمی اور دیگر وجوہات کے پیش نظر زیادہ تر بند رکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سی پی پی اے۔جی کو تیل سے چلنے والے بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہونا پڑتاہے ۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر