وجود

... loading ...

وجود

محکمہ آبپاشی اینٹی کرپشن کے لیے نوگوایریا بن گیا

اتوار 23 اپریل 2017 محکمہ آبپاشی اینٹی کرپشن کے لیے نوگوایریا بن گیا

انور مجید اور حاجی علی حسن زرداری کا خفیہ معاہدہ ،اینٹی کرپشن چیف نے بے بسی ظاہر کردی دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے 80 فیصد کیس عدالتوں میں ثابت نہیں ہوتے چینی کمپنی گڈوبیراج بحالی ٹھیکے پر اعتراض لے کر دردرٹھوکر کھانے لگی ،کوئی شنوائی نہیں ہورہی،ذرائع

یوں تو محکمہ اینٹی کرپشن کو’’ آنٹی ‘‘کرپشن کہا جاتا ہے کیونکہ اس محکمہ نے کرپشن کا خاتمہ تو کرنا نہیں ہے ،الٹا کرپشن کو پروان چڑھانا ہے۔ اب تو یہ بات ہر زبان پر ہے کہ جو افسران اور محکمے کرپشن کرتے ہیں وہ باقاعدہ طے شدہ حصہ سرکاری کام سے الگ کرتے ہیں ۔ماتحت افسران کا کتنا فیصد‘ اعلیٰ افسران کا کتنا فیصد ‘ سیکریٹری کا کتنا فیصد‘ اینٹی کرپشن کا کتنا فیصد‘ وزیراعلیٰ ہائوس کا کتنا فیصد ہونا چاہیے یہ سب پہلے سے حصہ بنادیا جاتا ہے ،خیر اب تو افسران نیب سے پلی بارگین کے لیے بھی الگ رقم رکھ لیتے ہیں ۔نیب کے آنے کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کی اہمیت کم ضرور ہوئی ہے مگر ختم نہیں ہوئی۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کا رعب اور ٹھاٹھ باٹھ بھی دیکھنے جیسا ہوتا ہے مگر محکمہ اینٹی کرپشن نے آج تک کرپشن کے خاتمہ کے لیے عملی طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے 80 فیصد کیس عدالتوں میں ثابت نہیں ہوتے۔ پچھلے سال جب نیب اور رینجرز نے سندھ میں کارروائیوں میں تیزی پیدا کی تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے محکمہ اینٹی کرپشن کو فعال کردیا ،اس کے نتیجے میں محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران راتوں رات امیر بن گئے، اور ان کے ریٹ بھی بڑھ گئے ہیں۔ اور پھر ان کیسوں میں پسند نا پسند بھی چل رہی ہے۔ اب محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ آبپاشی کے خلاف کسی بھی شکایت پر تحقیقات کرنے یا کوئی کارروائی کرنے کو شجر ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اس کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے وہ یہ ہے کہ چونکہ محکمہ اینٹی کرپشن اور محکمہ پولیس کے معاملات انور مجید دیکھتے ہیں اور چیئرمین اینٹی کرپشن غلام قادر تھیبو تو انور مجید کے قابل اعتماد ساتھی تصور کئے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں جب انور مجید کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کو آئی جی سندھ پولیس تبدیل کرنے اور نئے آئی جی کے لیے جو تین نام ارسال کئے تھے ان میں ایک نام غلام قادر تھیبو کا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں چلا گیا اور حکومت سندھ کا لیٹر وہیں کا وہیں رہ گیا۔ یو سمجھا جائے کہ محکمہ اینٹی کرپشن انور مجید کے حوالے ہے اور محکمہ آبپاشی دبئی میں بیٹھے ہوئے حاجی علی حسن زرداری کے حوالے ہے، اس لیے انور مجید اور حاجی علی حسن زرداری کا یہ غیر اعلانیہ معاہدہ ہوچکا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کسی بھی معاملہ میں محکمہ آبپاشی کی طرف نہیں دیکھے گا اور یہی وجہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے ہر محکمے میں کارروائی کی لیکن محکمہ آبپاشی کی جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ یہ سنگین انکشاف گزشتہ روز اس وقت ہوا جب غلام قادر تھیبو کا قریبی دوست یہ شکایت لے کر آیا کہ ضلع نواب شاہ میں محکمہ آبپاشی نے 100 ٹیوب ویل نہروں پر لگادیئے ہیں اور ان ٹیوب ویلوں سے وہ پانی اپنی زمینوں پر لے جاتے ہیں اور جن کی زمینیں نہروں کے آخری حصے میں ہیں ان کو پانی نہیں ملتا اور یہ بے قاعدگی محکمہ آبپاشی نے شروع کردی ہے جس پر چیئرمین اینٹی کرپشن کا اپنے دوست کو جواب تھا کہ آپ کو تو پتہ ہوگا کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے تمام معاملات انور مجید دیکھتے ہیں اور محکمہ آبپاشی کے غیر اعلانیہ وزیرحاجی علی حسن زرداری ہیں۔ انور مجید نے مجھے محکمہ آبپاشی کے خلاف کارروائی کرنے یا کوئی تحقیقات کرنے سے روکا ہوا ہے ،اس لیے میں مجبور ہوں۔
واقعی ان کی بات درست ہے کہ محکمہ آبپاشی میں رواں مالی سال 2016-17ء کا بجٹ 24 ارب روپے رکھا گیا تھا اور اب تک محکمہ خزانہ نے محکمہ آبپاشی کو 38 ارب روپے جاری کرچکا ہے اور جون 2017ء تک محکمہ آبپاشی کو 45 سے 50ارب روپے جاری ہونے کے امکانات ہیں اور مزیدار بات یہ ہے کہ 38 ارب روپے جاری تو ہوچکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں 38کروڑ روپے بھی خرچ نہیں کئے گئے۔ آربی او ڈی کے معاملات کی نیب نے انکوائری کی ہے لیکن مجال ہے محکمہ اینٹی کرپشن کی کہ وہ محکمہ آبپاشی کے معاملات دیکھے کیونکہ انور مجید اور حاجی علی حسن زرداری کا سرپرست آصف زرداری ہے جس نے بھی ایک دوسرے سے زیادتی یا انصافی کی تو دوسرا فریق فوری طور پر آصف زرداری سے شکایت کرے گا اور پھر آصف زرداری پہلے فریق سے جواب طلب کریں گے، اس لیے دونوں نے طے کررکھا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنا ہے، دوسرے کو پریشان نہیں کرنا ہے، اسی میں دونوں کی بھلائی ہے۔ اسی خفیہ سمجھوتے کی بِنا پر دونوں محکمے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کُھل کر کھیل رہے ہیں۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس 15 سے زائد پرانی انکوائریز پڑی ہیں جن کو داخل دفتر کردیا گیا ہے کہ کہیں حاجی علی حسن زرداری ناراض نہ ہوجائیں۔ اس سے بڑی اور کیا ظلم کی بات ہوگی کہ سابق سیکریٹری محکمہ آبپاشی احمد جنید میمن جب چیف انجینئر تھے تواس وقت انہیں نیب نے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان گرفتار کیا، وہ چار ماہ تک نیب کی حراست میں رہے اور رہائی کے چھ ماہ بعد وہ سیکریٹری آبپاشی بھی بن گئے لیکن محکمہ اینٹی کرپشن نے ان سے رسمی تحقیقات بھی نہیں کی کہ آخر وہ کون سا کیس تھا جس میں نیب نے ان کو گرفتار کیا،اور چار ماہ تک نیب کی حراست میں رہنے کے بعد ضمانت پر آزاد ہوئے۔ کیونکہ اگر محکمہ اینٹی کرپشن نے احمد جنید میمن سے پوچھ گچھ کی تو اس کا مطلب ہے کہ حاجی علی حسن زرداری سے پوچھ گچھ کی گئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ احمد جنید میمن حکومت سندھ خصوصا محکمہ آبپاشی سے کرپشن سے کلیئر ہونے کے باعث سیکریٹری آبپاشی بن گئے۔ اس طرح محکمہ آبپاشی میں ترقیاتی منصوبوں میں کی جانے والی کھلی بے قاعدگی پر محکمہ آبپاشی خاموش ہے۔ پچھلے دنوں گڈو بیراج کی بحالی کا ٹھیکہ پاکستان کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے جس پر چین کی کمپنی نے اعتراض اٹھایا ہے اور اس کمپنی نے ہر ادارے کا دروازہ کھٹکھٹایا کسی نے ان کی نہ سنی بالآخر وہ کمپنی عالمی بینک کے پاس گئی عالمی بینک نے چینی کمپنی سے کہا کہ وہ متعلقہ افسر (چیف انجینئر گڈو بیراج) کے پاس اپیل دائر کرے کمپنی نے ایسا کیا مگر اس کو انصاف نہ ملا اب چینی کمپنی نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں اس ٹھیکے کو چیلنج کیا ہے لیکن محکمہ اینٹی کرپشن کو اتنی ہمت نہیں کہ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود صرف تفصیلات ہی طلب کرتا۔ کیونکہ اس کو منع کیا گیا ہے کہ محکمہ آبپاشی ہر شکایت سے مستثنیٰ ہے اور وہ ایسا ہی کررہا ہے ۔


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

مضامین
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

بھارت کی جارحانہ حکمت عملی وجود منگل 14 اپریل 2026
بھارت کی جارحانہ حکمت عملی

مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر