وجود

... loading ...

وجود

پاکستانیوں نے سوئس بینکوں سے دولت کی منتقلی شروع کردی!

پیر 27 فروری 2017 پاکستانیوں نے سوئس بینکوں سے دولت کی منتقلی شروع کردی!

حکومت پاکستان کی جانب سے سوئس حکومت سے دُہرے ٹیکسوں کے مسئلے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ حکومت کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے،کیونکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی دولت سوئس بینکوں میں جمع کرنے والے دولت مندوں کی ایک اندازے کے مطابق مجموعی طورپر کم وبیش 200 ارب ڈالر کے مساوی رقم سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ اب پاکستانیوں نے اپنی رقوم سوئس بینکوں سے نکال کر دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کرنا شروع کردی ہے۔
ستمبر 2014 میں وفاقی حکومت نے سوئس حکومت کے ساتھ ٹیکسیشن کے معاملے پر معاہدے پر دستخط کے باوجود اس پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔وفاقی ریونیو بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کے ٹیکس حکام کی جانب سے معاہدے کی ابتدا سوئٹزرلینڈ میں کرنا ہمارے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اربابِ اختیار کو پسند نہیںآیا جس کاثبوت یہ ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان پہنچتے ہی متعلقہ افسرپر اپنے اعلیٰ حکام کو نظر انداز کرکے بالا بالا ہی معاہدہ کرنے کاالزام عائد کرکے چند دن کے اندر ہی اس کاتبادلہ کردیاگیا ۔
الزامات در الزامات کے اس کھیل میں دو سال کا عرصہ گزرگیا اور اس دوران میں پاکستان سے جمع کی گئی دولت سوئس بینکوں میں رکھنے والے دولت مندوں کو اپنی دولت سوئس بینکوں سے نکال کر دنیا کے ایسے دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کرنے کاموقع مل گیاجہاں اس طرح کی دولت ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صرف 2016 میں پاکستانی دولت مندوں نے سوئٹزرلینڈ کے تین بڑے نجی بینکوں یوبی ایس، کریڈٹ سوئس اور جولیس بائیر سے 30 بلین ڈالر سے زیادہ رقم نکال کر دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کی۔
سوئس حکومت سے 2014 میں مذاکرات کرنے والے افسران سے بات چیت اور کابینہ کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ سوئس حکومت کے ساتھ دُہرے ٹیکس کے سوال پر مذاکرات کرنے والے افسران کو سوئس حکومت کے ساتھ اس حوالے سے کوئی بھی معاہدہ کرنے کا پورا اختیار تھا۔لیکن ارباب اختیار کی جانب سے اس معاہدے پر عملدرآمد روک کر اس حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرنے کے فیصلے سے ان لوگوں کو ایف آئی اے نے جن کے نام غیر قانونی طورپر دولت جمع کرنے اور سوئس بینکوں میں جمع کرانے کے حوالے سے ظاہر کیے تھے اپنی یہ دولت سوئس بینکوں سے نکالنے اور اسے دنیا کے دیگر ایسے ممالک میں منتقل کرنے کا سنہری موقع مل گیا جہاں ان کو اپنی اس دولت پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرناتھا۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف اس طرح کے ثبوت پیش کیے ہیں۔
ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہواتھا کہ سوئٹزرلینڈ کی میسرز انس بیچر (شیویز) اے جی شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں کا انتظام چلاتی ہے یعنی ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاتھا کہ میسرز انس بیچر کمپنی کے ایک ڈائریکٹر نے دو دیگر آف شور کمپنیوں نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹیڈ کو 1993-1995- اور1996 میں لندن میں دو پرتعیش فلیٹ خریدنے کی ہدایت کی تھی۔ٹم سبستیان نے 1999 میں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کا جو انٹرویو کیاتھا اس میں حسن نوازنے بتایا تھا کہ نیلسن اور نیسکول دونوں ہی کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کی ذیلی کمپنیاں تھیں۔جن کی دیکھ بھال سوئٹزرلینڈ میں قائم ایک کمپنی کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگست 2014 میں پاکستان نے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ایک نظر ثانی شدہ معاہدہ کیا جس کے تحت پاکستان کو سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے جمع کردہ 200 بلین ڈالر ز جن کے بارے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ پاکستانیوںنے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ یہ رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع کرائی ہے، کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کاحق حاصل ہوگیا ۔ذرائع کے مطابق 2014 میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت پاکستان کی حکومت کو سوئس بینکوں میں جمع کی ہوئی اس رقم کے بارے میں تمام تفصیلات بتانے یہاں تک کہ بینکوں کے راز میں رکھے جانے والے اکائونٹ کی تفصیلات تک رسائی دینے کو بھی تیار ہوگئی تھی۔اگر اس وقت اس معاہدے پر عملدرآمد کرلیاگیاہوتاتو پاکستان کو جنوری 2015 میںاس حوالے سے تفصیلات کی پہلی قسط موصول ہوجاتی ۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر اکرام الحق نے اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیاتھا کہ شریف فیملی نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کے بینکوں سے لاکھو ں پونڈ کے قرض حاصل کیے ۔سوئس حکومت کے ساتھ ابتدائی معاہدے کو معطل کرکے دوبارہ مذاکرات کے فیصلے کادفاع کرتے ہوئے ایف بی آر یعنی وفاقی ریونیو بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ سوئس بینکوں میں جمع پاکستانیوں کی رقم کے حوالے سے سوئٹرزلینڈ کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی پاکستان کی ٹیم نے سوئس حکومت کواس رقم پر آمدنی کی شرح پر ٹیکسوں میں بھاری چھوٹ دینے کاوعدہ کیاتھا۔ اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بعض شعبوں میں انتہائی ترجیحی یا پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کا بھی وعدہ کیاگیاتھا۔تاہم ذرائع کاکہناہے کہ یہ رعایتیںدینے کاوعدہ سوئس حکومت کی جانب سے بینکوں کی اہم معلومات فراہم کرنے پر رضامندی کااظہار کیے جانے کے بعد کیاگیاتھااور اس پر دوبارہ مذاکرات کرنے کامقصد بھی یہی تھا۔اس حوالے سے یہ الزام بھی لگایاجاتاہے کہ سوئس حکومت سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ارکان نے کابینہ سے معاہدے کی منظوری حاصل نہیں کی تھی لیکن کابینہ کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ ستمبر2013 میںریونیو ڈویزن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری میںکابینہ نے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان دہرے ٹیکسیشن سے بچنے کیلئے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے والی ٹیم کو معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کی اجازت دی تھی۔
ذرائع کا کہناہے کہ ٹیکس کی شرح میں 5فیصد کی رعایت کی پیشکش صرف ان کمپنیوں کو کی گئی تھی جو کم از کم 50 فیصد شیئرز کی مالک ہوںیہ رقم موجودہ حد سے دگنی ہے اوراس پرعمل سے غیر ملکی سرمائے کی پاکستان آمد میں اضافہ ہوتا۔ ذرائع کاکہناہے کہ اوای سی ڈی کے عدم وجوداور ٹیکنیکل سروسز پر فیس کے حوالے سے خصوصی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ مذاکرات کرنے والی ٹیم کو اس رعایت کی پیشکش کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔اگرچہ اس معاہدے میں ٹیکس کی شرح ذرا کم رکھی گئی تھی لیکن اخراجات کی قابل قبول حد میں اضافہ کردیاگیاتھا۔
اس کے باوجود ایف بی آر کے ترجمان کااصرار ہے کہ پاکستان نے سوئس حکام سے دوبارہ رعایتیں حاصل کرلی ہیں اور اس حوالے سے جلد ہی معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اگر موت کہانی سنانے لگے ! وجود اتوار 21 جون 2026
اگر موت کہانی سنانے لگے !

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں ! وجود اتوار 21 جون 2026
سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں !

خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر