وجود

... loading ...

وجود

پاکستانیوں نے سوئس بینکوں سے دولت کی منتقلی شروع کردی!

پیر 27 فروری 2017 پاکستانیوں نے سوئس بینکوں سے دولت کی منتقلی شروع کردی!

حکومت پاکستان کی جانب سے سوئس حکومت سے دُہرے ٹیکسوں کے مسئلے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ حکومت کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا ہے،کیونکہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی دولت سوئس بینکوں میں جمع کرنے والے دولت مندوں کی ایک اندازے کے مطابق مجموعی طورپر کم وبیش 200 ارب ڈالر کے مساوی رقم سوئس بینکوں میں جمع ہے۔ اب پاکستانیوں نے اپنی رقوم سوئس بینکوں سے نکال کر دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کرنا شروع کردی ہے۔
ستمبر 2014 میں وفاقی حکومت نے سوئس حکومت کے ساتھ ٹیکسیشن کے معاملے پر معاہدے پر دستخط کے باوجود اس پر دوبارہ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔وفاقی ریونیو بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کے ٹیکس حکام کی جانب سے معاہدے کی ابتدا سوئٹزرلینڈ میں کرنا ہمارے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اربابِ اختیار کو پسند نہیںآیا جس کاثبوت یہ ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان پہنچتے ہی متعلقہ افسرپر اپنے اعلیٰ حکام کو نظر انداز کرکے بالا بالا ہی معاہدہ کرنے کاالزام عائد کرکے چند دن کے اندر ہی اس کاتبادلہ کردیاگیا ۔
الزامات در الزامات کے اس کھیل میں دو سال کا عرصہ گزرگیا اور اس دوران میں پاکستان سے جمع کی گئی دولت سوئس بینکوں میں رکھنے والے دولت مندوں کو اپنی دولت سوئس بینکوں سے نکال کر دنیا کے ایسے دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کرنے کاموقع مل گیاجہاں اس طرح کی دولت ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہوتی ہے۔میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صرف 2016 میں پاکستانی دولت مندوں نے سوئٹزرلینڈ کے تین بڑے نجی بینکوں یوبی ایس، کریڈٹ سوئس اور جولیس بائیر سے 30 بلین ڈالر سے زیادہ رقم نکال کر دیگر ممالک کے بینکوں میں منتقل کی۔
سوئس حکومت سے 2014 میں مذاکرات کرنے والے افسران سے بات چیت اور کابینہ کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ سوئس حکومت کے ساتھ دُہرے ٹیکس کے سوال پر مذاکرات کرنے والے افسران کو سوئس حکومت کے ساتھ اس حوالے سے کوئی بھی معاہدہ کرنے کا پورا اختیار تھا۔لیکن ارباب اختیار کی جانب سے اس معاہدے پر عملدرآمد روک کر اس حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرنے کے فیصلے سے ان لوگوں کو ایف آئی اے نے جن کے نام غیر قانونی طورپر دولت جمع کرنے اور سوئس بینکوں میں جمع کرانے کے حوالے سے ظاہر کیے تھے اپنی یہ دولت سوئس بینکوں سے نکالنے اور اسے دنیا کے دیگر ایسے ممالک میں منتقل کرنے کا سنہری موقع مل گیا جہاں ان کو اپنی اس دولت پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرناتھا۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاناما کیس میں نواز شریف کے خلاف اس طرح کے ثبوت پیش کیے ہیں۔
ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہواتھا کہ سوئٹزرلینڈ کی میسرز انس بیچر (شیویز) اے جی شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں کا انتظام چلاتی ہے یعنی ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاتھا کہ میسرز انس بیچر کمپنی کے ایک ڈائریکٹر نے دو دیگر آف شور کمپنیوں نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن لمیٹیڈ کو 1993-1995- اور1996 میں لندن میں دو پرتعیش فلیٹ خریدنے کی ہدایت کی تھی۔ٹم سبستیان نے 1999 میں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کا جو انٹرویو کیاتھا اس میں حسن نوازنے بتایا تھا کہ نیلسن اور نیسکول دونوں ہی کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کی ذیلی کمپنیاں تھیں۔جن کی دیکھ بھال سوئٹزرلینڈ میں قائم ایک کمپنی کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اگست 2014 میں پاکستان نے سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ایک نظر ثانی شدہ معاہدہ کیا جس کے تحت پاکستان کو سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے جمع کردہ 200 بلین ڈالر ز جن کے بارے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ پاکستانیوںنے غیر قانونی ذرائع سے حاصل کردہ یہ رقم سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع کرائی ہے، کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کاحق حاصل ہوگیا ۔ذرائع کے مطابق 2014 میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت پاکستان کی حکومت کو سوئس بینکوں میں جمع کی ہوئی اس رقم کے بارے میں تمام تفصیلات بتانے یہاں تک کہ بینکوں کے راز میں رکھے جانے والے اکائونٹ کی تفصیلات تک رسائی دینے کو بھی تیار ہوگئی تھی۔اگر اس وقت اس معاہدے پر عملدرآمد کرلیاگیاہوتاتو پاکستان کو جنوری 2015 میںاس حوالے سے تفصیلات کی پہلی قسط موصول ہوجاتی ۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر اکرام الحق نے اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیاتھا کہ شریف فیملی نے آف شور کمپنیوں کے ذریعے سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کے بینکوں سے لاکھو ں پونڈ کے قرض حاصل کیے ۔سوئس حکومت کے ساتھ ابتدائی معاہدے کو معطل کرکے دوبارہ مذاکرات کے فیصلے کادفاع کرتے ہوئے ایف بی آر یعنی وفاقی ریونیو بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر محمد اقبال کا کہنا تھا کہ سوئس بینکوں میں جمع پاکستانیوں کی رقم کے حوالے سے سوئٹرزلینڈ کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والی پاکستان کی ٹیم نے سوئس حکومت کواس رقم پر آمدنی کی شرح پر ٹیکسوں میں بھاری چھوٹ دینے کاوعدہ کیاتھا۔ اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بعض شعبوں میں انتہائی ترجیحی یا پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کا بھی وعدہ کیاگیاتھا۔تاہم ذرائع کاکہناہے کہ یہ رعایتیںدینے کاوعدہ سوئس حکومت کی جانب سے بینکوں کی اہم معلومات فراہم کرنے پر رضامندی کااظہار کیے جانے کے بعد کیاگیاتھااور اس پر دوبارہ مذاکرات کرنے کامقصد بھی یہی تھا۔اس حوالے سے یہ الزام بھی لگایاجاتاہے کہ سوئس حکومت سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے ارکان نے کابینہ سے معاہدے کی منظوری حاصل نہیں کی تھی لیکن کابینہ کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ ستمبر2013 میںریونیو ڈویزن کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک سمری میںکابینہ نے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان دہرے ٹیکسیشن سے بچنے کیلئے معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے والی ٹیم کو معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرنے کی اجازت دی تھی۔
ذرائع کا کہناہے کہ ٹیکس کی شرح میں 5فیصد کی رعایت کی پیشکش صرف ان کمپنیوں کو کی گئی تھی جو کم از کم 50 فیصد شیئرز کی مالک ہوںیہ رقم موجودہ حد سے دگنی ہے اوراس پرعمل سے غیر ملکی سرمائے کی پاکستان آمد میں اضافہ ہوتا۔ ذرائع کاکہناہے کہ اوای سی ڈی کے عدم وجوداور ٹیکنیکل سروسز پر فیس کے حوالے سے خصوصی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ مذاکرات کرنے والی ٹیم کو اس رعایت کی پیشکش کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔اگرچہ اس معاہدے میں ٹیکس کی شرح ذرا کم رکھی گئی تھی لیکن اخراجات کی قابل قبول حد میں اضافہ کردیاگیاتھا۔
اس کے باوجود ایف بی آر کے ترجمان کااصرار ہے کہ پاکستان نے سوئس حکام سے دوبارہ رعایتیں حاصل کرلی ہیں اور اس حوالے سے جلد ہی معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر