وجود

... loading ...

وجود

سیاسی وکٹیں گراتے ہوئے پیپلز پارٹی کے بھی بولڈ ہونے کا خطرہ

اتوار 26 فروری 2017 سیاسی وکٹیں گراتے ہوئے پیپلز پارٹی کے بھی بولڈ ہونے کا خطرہ

سندھ کی سیاست نے بھی عجیب کروٹ لی ہے ۔ کبھی یہ پورا صوبہ مزاحمت کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایوب خان سے لے کر ضیاء الحق اور جام صادق تک کسی کو بھی اس نے دل میں جگہ نہ دی اور ان کے خلاف مزاحمت کے لئے کھڑے ہوگئے۔ تبھی ایوب خان نے غصہ میں کہا تھا کہ کراچی والو آپ کہاں جائو گے آگے سمندر ہے؟ لیکن یہ دھمکی بھی کراچی والوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ سمندر بھی بہتا رہا اور کراچی والے بھی زندگی کرتے رہے مگر ایوب خان نہ رہے اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ یعنی ایوب خان کے نام کی سیاست ہی باقی نہ رہی۔ پھر ضیاء الحق آئے انہوں نے مظاہرہ کرنے والے نہتے لوگوں پر ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کرائی اور مورو اور دادو میں 80 سے زائد بے گناہ افراد قتل کردیے گئے ۔ وقت نے ثابت کیا اور مزاحمت جاری رہی مگر ضیاء الحق ختم ہوگئے اُن کے نام کی سیاست بھی باقی نہ رہی۔ مگرنہ جانے اس صوبے کو اب کیا ہوگیا ہے کہ یہ پورا صوبہ آصف علی زرداری کے ہاتھ کی جنبش میں آگیاہے۔ کراچی بانی متحدہ کے ہاتھ میں تھا مگر اُنہوں نے کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کو نہ جانے کہاں رہن رکھوادیاتھا ، اب بڑے عرصے بعد کراچی بندوق کے سائے سے آزاد ہوا ہے اور دیگر جماعتیں اپنی سوچ اور پالیسی کے تحت یہاں سیاست کررہی ہیں۔ آصف زرداری جن پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا الزام لگا۔ جن کے ساتھیوں پر سنگین الزامات لگے۔ اُن کی کہانیاں ہر زبان پر آنے لگیں۔ کچھ مخالفین قتل ہوئے تو ان کے الزامات بھی آصف زرداری اور ان کے ساتھیوں پر لگے۔ مگر محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد حالات نے یوٹرن لیا اور آصف زرداری کنگ بھی بنے اور کنگ میکربھی بنے۔ ان کی قسمت پر رشک ہی کیاجاسکتاہے۔ حالانکہ ان ہی آصف زرداری نے پارٹی کو دیگر تین صوبوں میں دفن ہی کردیا ہے۔ آزاد کشمیر‘ گلگست بلتستان میں پارٹی کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ لیکن سندھ میں اس پارٹی کو روزانہ عروج مل رہا ہے اور اب تو پورا صوبہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہورہا ہے۔
شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور تصوف کا مجموعہ ہے ۔ شاہ بھٹائی نے ایک شعر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ ’’ اے اللہ مجھے عقلمند نہ بنانا، کیونکہ زیادہ عقلمند دکھ جھیلتے ہیں۔‘‘آصف زرداری صاحب بھی وہی عقلمند بن رہے ہیں جس کے لیے شاہ بھٹائی نے کہا ہے کہ وہ دُکھ دیکھتے ہیں ۔ کشمور سے کراچی تک تمام مخالفین کو پی پی پی میں شامل کررہے ہیں۔ اب صرف پیر پگارا‘ سید غوث علی شاہ ‘ ارباب غلام رحیم‘ ممتاز بھٹو‘ غلام مرتضیٰ جتوئی‘ الٰہی بخش سومرو‘ محمد میاں سومرو‘ لیاقت جتوئی اور اعجاز شاہ شیرازی بچ گئے ہیں۔ جو پی پی میں یا تو شامل ہی نہیں ہوسکتے یا پھر ان کو شامل کرنا پی پی کا ایجنڈا نہیں ہے۔ اب توسابق صدر غلام اسحاق خان کے داماد عرفان اللہ مروت‘ جام صادق کے بھتیجے جام مدد علی‘ جام صادق کے پرسنل سیکریٹری امتیاز شیخ‘ سابق صدر فاروق لغاری کے بھتیجے نادر اکمل لغاری بھی پی پی میں شامل ہوچکے ہیں ۔ اس پر سوشل میڈیا میں دلچسپ تبصرے ہوئے ہیں کہ اگر ضیاء الحق اور جام صادق بھی زندہ ہوتے تو آصف زرداری ان کو بھی پی پی میں شامل کرلیتے۔ لیکن یہ صرف وہی روایت دہرائی جارہی ہے جب 71ء کے بعد ذوالفقار بھو نے پورے ملک کے سیاسی لوگوں کو یا تو پی پی میں شامل کیا یا پھر جیل میں ڈالا۔ اس پر یہ مقولہ مشہور ہوا کہ ’لاڑکانہ چلو ‘ورنہ تھانے چلو‘ حبیب جالب نے یہ بات کہہ کر ایک تاریخ رقم کی تھی۔ لیکن جب بھٹو کو گرفتار کیا گیا اس وقت سے لے کر پھانسی تک وہی لوگ چھپ کر بیٹھ گئے اور وہی لوگ آگے چل کر مختلف پارٹیوں میں چلے گئے۔ آج ہر ضلع میں سب سیاسی حریفوں کو یکجا کرکے ان کو ’ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز‘ کے مصداق پی پی میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ لیکن یہ بات آصف زرداری یا ان کے ساتھیوں نے سوچی ہے کہ کل جب عام انتخابات ہوں گے تو پھر کس کس کو ٹکٹ دیا جائے گا؟ کس کو راضی اور کس کو ناراض کیا جائے گا؟ اور جب حالات تبدیل ہوں گے تو برساتی مینڈک کہاں کھڑے ہوں گے؟ ضلع گھوٹکی میں علی گوہر مہر کے سیاسی مخالفین میں خالد احمد لونڈ اور نادر اکمل لغاری ہیں ،اب وہ دونوں پی پی میں شامل ہوچکے ہیں۔ اسی طرح لاڑکانہ میں صرف انڑ خاندان الگ ہے اور ممتاز بھٹو تو محترمہ بینظیر بھٹو کے دور سے ہی ایک سیاست کررہے ہیں ۔ بقیہ سب کو اپنے ساتھ ملالیا گیا ہے۔ شکارپور میں بھی سیاسی مخالفین کو پی پی میں لایا گیا ہے لیکن جب عام انتخابات ہوں گے تو پارٹی کے اہم رہنما یا تو مسلم لیگ (ن) یا پھر تحریک انصاف میں شامل ہوں گے اور اس وقت یہی عقلمندی گلے پڑ جائے گی تب وقت گزر چکا ہوگا۔
الیاس احمد


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع وجود - پیر 20 اپریل 2026

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد م...

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان وجود - پیر 20 اپریل 2026

پاکستان ہمارا گھر، کسی جاگیردار یا بیوروکریٹس کی ملکیت نہیں، امریکی صدرٹرمپ کی سفارتکاری دیکھیں ایسا لگتا ہے کوئی بدمعاش ہے، الفاظ اور لہجہ مذاکرات والا نہیں،سربراہ جے یو آئی جب تک فارم 47 کی غیرفطری حکمرانی رہے گی، تب تک نہ تو مہنگائی کم ہوگی اور نہ ہی حقیقی استحکام آئے گا، غ...

مصنوعی مینڈیٹ نے ملک کو مفلوج کر دیا، حکومت بیساکھیوں پر کھڑی ہے، مولانا فضل الرحمان

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی وجود - پیر 20 اپریل 2026

محکمہ تعلیم سندھ نے مخصوص مونوگرام یا لوگو والی نوٹ بکس خریدنے کی شرط بھی غیر قانونی قرار دیدی اسکول کے اندر کسی قسم کا اسٹال یا دکان لگا کر اشیا بیچنا اب قانونا جرم ہو گا،محکمہ تعلیم کا نوٹیفکیشن جاری نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبا کے والدین کو بڑا ریلیف مل گیا،اسکول انتظام...

مخصوص دکانوں سے کتابیں ، یونیفارم، اسٹیشنری کی فروخت پر پابندی

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر وجود - پیر 20 اپریل 2026

شہباز شریف سے فون پر گفتگو،وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امن کوششوں پر اظہار تشکر خوشگوار گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کا خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال وزیراعظم شہباز شریف کا صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج شام اسلا...

ایران، پاکستان کے تعلقات آئندہ مزید مستحکم ہوں گے، ایرانی صدر

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

مضامین
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش وجود پیر 20 اپریل 2026
آبرومندانہ صلح کی امریکی خواہش

مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد وجود پیر 20 اپریل 2026
مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد

اسے کہتے ہیں پاکستان !! وجود پیر 20 اپریل 2026
اسے کہتے ہیں پاکستان !!

پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر