وجود

... loading ...

وجود
وجود

حکومت سندھ کی صوبائی احتساب کمیشن سے توبہ ، نیا پنڈورا بکس کھل جانے کا خطرہ !!!

اتوار 12 فروری 2017 حکومت سندھ کی صوبائی احتساب کمیشن سے توبہ ، نیا پنڈورا بکس کھل جانے کا خطرہ  !!!


احتساب بیورو کو جو قومی احتساب (نیب) میں تبدیل کیاگیا تو اس وقت ان کے سربراہ فوج کے حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل بنے تھے، آگے چل کر فوج نے نیب سے خود کو الگ کردیا اب جو ریٹائرڈ فوجی افسران نیب میں کام کررہے ہیں ان کے خلاف بھی سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس میں درجنوں مقدمات زیر سماعت ہیں اور کئی ریٹائرڈ افسران کا مستقبل بھی مخدوش نظر آرہا ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد جب تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت بنی تو اس کے بعد وہاں نیب کے مقابلہ میں صوبائی احتساب کمیشن بنادیاگیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تحریک انصاف کے رہنمائوں ضیاء اللہ آفریدی اور دیگر کے خلاف کارروائی شروع ہوگئی۔
اس وقت کے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری ارباب شاہ رخ نے ایک خط چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وفاقی حکومت کو لکھ دیا جس میں احتساب کمیشن کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ احتساب کمیشن کے صوبائی سربراہ جنرل (ر) حامد علی خان نے جب حقیقی معنوں میں احتساب شروع کیا تو عمران خان بھی دبائو میں آگئے اور پھر صوبائی حکومت نے احتساب کمیشن کو روکنے کی کوشش کی۔ نتیجہ میں جنرل حامد علی خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح اب وہاں احتساب کا عمل روک دیاگیا ہے۔ جب احتساب کمیشن خیبرپختونخوا میں قائم ہوا تو اس وقت پی پی کی مرکزی قیادت کو بھی خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا ہی احتساب کمیشن سندھ میں بنایا جائے پھر محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے فوری طور پر خیبرپختونخوا حکومت سے رابطہ کیا اور ان سے صوبائی احتساب کمیشن کی تفصیلات حاصل کیں اور حکومت سندھ نے خوشی میں اعلان شروع کردیے کہ اب نیب سے چھٹکارا ملے گا اور حکومت سندھ اپنا احتساب کمیشن بنائے گی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے تیاریاں تیز ہوگئیں کہ اب نیا کمیشن بن جانے کی کاغذی کارروائی بھی کردی گئی۔ اس وقت ڈاکٹر عاصم حسین گرفتار ہوچکے تھے۔ پی پی کی قیادت اس خوش فہمی کا شکار تھی کہ اب احتساب کمیشن بنے گا تو ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح جتنے بھی سیاسی رہنما اور سرکاری افسران نیب میں مقدمات بھگت رہے ہیں، ان کو فوری طور پر ریلیف ملے گا لیکن جیسے ہی خیبرپختونخوا میں صوبائی وزیر ضیاء اللہ آفریدی گرفتار ہوئے، ان کے خلاف ثبوت بھی سامنے آئے تو حکومت سندھ کے پسینے چھوٹ گئے کیونکہ سوال پیدا ہورہا تھا کہ اگر صوبائی احتساب کمیشن بن جاتا ہے تو اس کا سربراہ بھی جنرل (ر) حامد علی خان کی طرح سرپھرا نکلا تو پھر کیا ہوگا؟ ایک طرف نیب تو دوسری طرف صوبائی احتساب کمیشن ہو اور دونوں اگر حکومت سندھ سے ٹکراگئے توپھر دُہرا عذاب برداشت کرنا پڑے گا ۔پی پی کو اس وقت ہی ایک ثبوت سامنے ملا تھا جب آصف زرداری کے یار غارجسٹس (ر) آغا رفیق کو اس وجہ سے سندھ پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین لگایا تاکہ ان کو جو بھی فہرست دی جائے گی وہ اس کے مطابق بھرتیاں کریں۔ اس سے پی پی کے حامی افسران کی بڑی تعداد بطور افسر بھرتی ہوجائے گی۔ ایم پی ایز‘ ایم این ایز کے قریبی رشتہ دار‘ اے ایس آئی ‘ اسسٹنٹ کمشنر‘ مختار کار‘ سیکشن افسر‘ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران بھرتی ہوجائیں گے لیکن جسٹس (ر) آغا رفیق نے حکومت سندھ اور پی پی کی قیادت کی امیدوں پر پانی پھیردیا اور میرٹ پر اے ایس آئیز کی بھرتیاں کرکے دھماکا کردیا۔ پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ سکتے میں آگئے کیونکہ انہوں نے تو ہر امیدوار سے ’’مخفی معاملات ‘‘طے کر رکھے تھے۔ اس تجربہ نے پی پی کو بہلاکر رکھ دیا اور فوری طور پر یوٹرن لے لیاگیا اور فیصلہ کیاگیا کہ احتساب کمیشن کا معاملہ یہیں ختم کردیا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑجائیں، ایک نیب ہی کافی ہے اوپر سے صوبائی احتساب کمیشن کی بھی نئی مصیبت کھڑی ہوجائے۔ حکومت سندھ نے نئے احتساب کمیشن کیلئے محکمہ قانون کے ساتھ مل کر ایک بل بھی تیارکرنا شروع کیا تھا اس بل کو بھی داخل دفتر کرلیاگیا اور اب فیصلہ کیاگیا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو فعال بنایا جائے اور اس کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں۔ اس کو اسی تناظر میں سرگرم کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کی نیب سے فی الحال جان نہیں چھوٹ رہی۔ شرجیل میمن کو نیب نے خود کو آزاد کرانے کے لیے پہلے تیاریاں کیں لیکن بعد میں جب ڈاکٹر عاصم کا کیس دیکھا تو اس کی بھی واپسی کی منصوبہ بندی ختم ہوگئی اور اب وہ سندھ ہائی کورٹ میں نئی درخواستیں دائر کررہے ہیں کہ وہ جب وطن واپس آئیں تو نیب کو پابند بنایا جائے کہ ان کو ایئرپورٹ سے گرفتار نہ کرے جس پر جب نیب سے رائے لی گئی تو نیب نے سندھ ہائی کورٹ کو بتادیا کہ شرجیل میمن کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ان کو تو ہر حالت میں گرفتار کیا جائے گا۔ حکومت سندھ کے گلے میں ایسی ہڈی پھنس گئی ہے جس کو اگل سکتی ہے نہ ہی نگل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی نیب کو قبول کیا جارہا ہے۔ صوبائی احتساب کمیشن کے قیام سے حکومت سندھ نے توبہ کرلی ہے کہ کہیں کل کلاں صوبائی احتساب کمیشن ایک نیا پنڈورا باکس نہ کھو ل بیٹھے۔

عقیل احمد راجپوت


متعلقہ خبریں


انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ وجود - جمعه 03 مئی 2024

ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ پر سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے ۔پاکستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے بارے میں رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر ایرانی تیل اسمگل کیا جاتا ہے اور اسمگلنگ سے قومی خزانے کو سالان...

انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ

رینجرز تعیناتی کی مدت میں 180 دن کا اضافہ، سندھ کابینہ کی منظوری وجود - جمعه 03 مئی 2024

سندھ کابینہ نے رینجرز کی کراچی میں تعیناتی کی مدت میں 180 دن کے اضافے کی منظوری دے دی۔ترجمان حکومت سندھ نے بتایا کہ رینجرز کی کراچی میں تعیناتی 13 جون 2024 سے 9 دسمبر 2024 تک ہے ، جس دوران رینجرز کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت اختیارات حاصل رہیں گے ۔کابینہ نے گزشتہ کابینہ ا...

رینجرز تعیناتی کی مدت میں 180 دن کا اضافہ، سندھ کابینہ کی منظوری

انتخابی حربے، مودی کی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی وجود - جمعه 03 مئی 2024

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات میں کامیابی کے لیے بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی دے رہے ہیں ۔ دی وائر کے مطابق بی جے پی نے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کے ذریعے مودی کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مودی کہتے ہیں کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو وہ ہندؤں کی جائیداد اور دولت م...

انتخابی حربے، مودی کی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دھمکی

نیتن یاہو کا جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار وجود - جمعه 03 مئی 2024

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کسی بھی صورت غزہ میں جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا معاہدہ تسلیم نہیں جس میں جنگ کا خاتمہ شامل ہو۔اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس نے جنگ ...

نیتن یاہو کا جنگ بندی تسلیم کرنے سے انکار

جمعیت علماء اسلام کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 03 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر شرقی نے بتایا کہ جے یو آئی کو ایس ایس پی ایسٹ کی رپورٹ پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایس ایس پی ایسٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر بڑے عوامی اجت...

جمعیت علماء اسلام کو کراچی میں جلسے کی اجازت نہیں ملی

عمران خان نے بات چیت کا ٹاسک دیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے پی وجود - جمعرات 02 مئی 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کوئی بات ہوگی تو سب کے سامنے ہوگی اور کوئی بات چیت کسی سے چھپ کر نہیں ہوگی،بانی پی ٹی آئی نے نہ کبھی ڈیل کی ہے اور نہ ڈیل کے حق میں ہیں، یہ نہ سوچیں کہ وہ کرسی کیلئے ڈیل کریں گے ۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گن...

عمران خان نے بات چیت کا ٹاسک دیا ہے ، وزیر اعلیٰ کے پی

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کیخلاف طلبہ کا احتجاج یونان اور لبنان تک پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 مئی 2024

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ دنیا بھر کی جامعات میں پھیلنے لگا۔امریکا، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا کی جامعات کے بعد یونان اور لبنان کی جامعات میں بھی طلبہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔امریکی جامعات میں احتجاج کا سلسلہ تیرہویں روز بھی...

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کیخلاف طلبہ کا احتجاج یونان اور لبنان تک پہنچ گیا

کے ایف سی بائیکاٹ جاری، ملائیشیا میں 100سے زائد ریستوران بندکرنے پر مجبور وجود - جمعرات 02 مئی 2024

غزہ میں مظالم کے خلاف اسرائیل کی مبینہ حمایت کرنے والی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مہم میں شدت آتی جا رہی ہے ۔ معروف امریکی فوڈ چین کے ایف سی نے ملائیشیا میں اپنے 100 سے زائد ریستوران عارضی طور پر بند کرنیکا اعلان کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملائیشیا میں امریکی فوڈ چین کی فرنچائز کم...

کے ایف سی بائیکاٹ جاری، ملائیشیا میں 100سے زائد ریستوران بندکرنے پر مجبور

پتا نہیں وہ ہمیں ڈانٹ رہے تھے یا اپنے سسرال والوں کو؟فضل الرحمان کا کیپٹن صفدر کے خطاب پر طنز وجود - جمعرات 02 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو طنز کا نشانہ بنایا ہے ۔لاہور میں فلسطین کانفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ یہاں بلاوجہ شہباز شریف کی شکایت کی گئی اس بیچارے کی حکومت ہی...

پتا نہیں وہ ہمیں ڈانٹ رہے تھے یا اپنے سسرال والوں کو؟فضل الرحمان کا کیپٹن صفدر کے خطاب پر طنز

کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، شہباز شریف وجود - جمعرات 02 مئی 2024

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، ہم سب مل کر پاکستان کو انشااللہ اس کا جائز مقام دلوائیں گے اور جلد پاکستان اقوام عالم میں اپنا جائز مقام حاصل کر لے گا۔لاہور میں عالمی یوم مزدور کے موقع پر اپنی ذاتی رہائش گاہ پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ ا...

کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہونے والا ہے ، شہباز شریف

ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کیلئے تیار رہیں،بی جے پی کی مسلمانوں کو دھمکیاں وجود - جمعرات 02 مئی 2024

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے رہنما راجوری اور پونچھ میں مسلمانوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ یا تو سنگھ پریوار کے حمایت یافتہ امیدوار کو ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1947میں جموں خطے میں ہن...

ووٹ دیں یا1947 جیسی صورتحال کیلئے تیار رہیں،بی جے پی کی مسلمانوں کو دھمکیاں

تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ وجود - بدھ 01 مئی 2024

پی ٹی آئی نے جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ کیا ہے ، جے یو آئی ف کے سربراہ کو احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کے لیے باقاعدہ دعوت دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق مذاکراتی ک...

تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے فوری رابطے کا فیصلہ

مضامین
ٹیکس چور کون؟ وجود جمعه 03 مئی 2024
ٹیکس چور کون؟

٢١ ویں صدی کا آغازاور گیارہ ستمبر وجود جمعه 03 مئی 2024
٢١ ویں صدی کا آغازاور گیارہ ستمبر

مداواضروری ہے! وجود جمعه 03 مئی 2024
مداواضروری ہے!

پاکستان کے خلاف مودی کے مذموم عزائم وجود جمعه 03 مئی 2024
پاکستان کے خلاف مودی کے مذموم عزائم

''مزہ۔دور'' وجود بدھ 01 مئی 2024
''مزہ۔دور''

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر