... loading ...
امریکا کے معروف فلم ساز اور صحافی مائیکل مور ، جنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران جب کسی کو بھی ان کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتاتھا ،ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا تھا کہ امریکا ایک خطرناک انقلاب کے دوراہے پر کھڑا ہے اور امریکی عوام کو ابھی اس کااحساس تک نہیں ۔مائیکل مور کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی مقرر کردہ ٹیم امریکا کو تباہ کردے گی اور امریکی عوام انھیںاور ان کی ٹیم کے ارکان کو اقتدار کی مسند سے اٹھا پھینکیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اسٹیو بینن کے کردار کے حوالے سے نیویارک ٹائم کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے مائیکل مور نے ٹوئٹ کیاہے کہ ’’ اگر آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ 21ویں صدی کا انقلاب دروازے پر نہیںبلکہ پہنچ چکاہے تو برائے مہربانی سے خواب غفلت سے جاگ جائیں۔‘‘
نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا ہے کہ اسٹیو بینن نے جو اب تک انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی نیوز سائٹ ’’بریٹ بارٹ‘‘ نیوزچلارہے تھے ،وہ کس طرح امریکا کی سیکورٹی پالیسی میں ایک ایسا اہم عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہوگئے جس پر عام طورپر فوج کے کسی سینئر جنرل کو ہی تعینات کیا جاتا ہے۔ بینن کا سیکورٹی پالیسی کے سربراہ کی حیثیت سے تقرر امریکی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ اور روایات سے بڑا انحراف ہے، یہ بھی کہاجارہاہے کہ وائٹ ہائوس سے حال ہی میں انتہاپسندانہ پالیسی پر مبنی جو بیانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں ،ان کے پس پشت بھی اسٹیو بینن ہی کارفرما رہے ہیں۔
مائیکل مور نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کی سابق قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یٹس کو برطرف کیے جانے کے فوری بعد ہی ایک اور لنک پوسٹ کی جس میں کہاگیاہے کہ سیلی یٹس کو اس لئے برطرف کیاگیا تھاکہ انھوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا اور محکمہ انصاف سے وابستہ وکلا کو ہدایت کی تھی کہ اس حکم کے حوالے سے حکومت کا دفاع نہ کریں۔سیلی یٹس کی برطرفی کے حوالے سے جاری بیان میں کہاگیا تھا کہ انھیں اس لئے برطرف کیاگیا کہ انھیں امریکا کی سرحدوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں اور غیر قانونی امیگریشن کے بارے میں تو معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سیلی یٹس کو برطرف کرنے کے بعد ڈانا بوئنٹ کو ان کی جگہ اٹارنی جنرل مقرر کیاہے جن کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کی زیادہ حامی ہیں۔خیال کیاجاتا ہے کہ انھیں بھی سینیٹر جیف کے جو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیشی کاانتظار کررہے ہیں ،کمیٹی کے سامنے پیشی کے فوری بعد تبدیل کردیاجائے گا۔
گوگل کے ایک بلاگر نے اس سے چند گھنٹے قبل ایک وائرل ہونے والے بلاگ میں یہی استدلال پیش کیاہے کہ مسلمانوں پر پابندی کے حکم کاغبارہ پھٹ کر امریکا میں انقلاب کانقیب اور سبب بن جائے گا۔ انھوں نے اس حوالے سے مختلف واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے وکلا کی جانب سے مسلمانوں پر پابندی کی مخالفت شامل ہے جس کونئے اٹارنی جنرل نے مسترد کردیاہے، جبکہ گارجین کی ایک رپورٹ میں تو یہاں تک دعویٰ کیاگیاہے کہ وائٹ ہائوس نے محکمہ خارجہ کے تقریباً تمام سینئر ارکان کو برطرف کردیاہے۔
زوناٹن زنگر کی جانب سے کی گئی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ امریکی انتظامیہ تمام ایگزیکٹو اختیارات ایک سخت اندرونی حلقے کو منتقل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔جس کے بعد وفاق،بیورو کریسی ،کانگریس یہاں تک کہ عدالتوں کی جانب سے اس پر نظر رکھنا یا اس میں تبدیلی کرنا ممکن نہیں ہوگا، انھوںنے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ امریکا کے مختلف محکموں کی تنظیم نو کی جارہی ہے یا اس میں اس حوالے سے برطرفیاں اورچھانٹیاں کی جارہی ہیں۔انھوں نے لکھاہے کہ مسلمانوں پر پابندی اور اس طرح کے حال ہی میں رونما ہونے والے واقعات یا سامنے آنے والے غیر متوقع احکامات دراصل اس بات کا اندازہ لگانے کی کوششوں کاحصہ ہیں کہ کس طرح ایسے آمرانہ اختیارات حاصل کئے جاسکتے ہیں جس کو کوئی کہیں بھی چیلنج نہ کرسکے۔اس پوسٹ کو ہائوس آف کارڈز کے موجد سمیت بہت سی اہم شخصیات نے شیئر کیاہے۔بریٹینیکا نے اس طرح کے انقلاب کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ اس طرح کاانقلاب ایک چھوٹے سے گروپ کی طرف اچانک لایاجاتاہے جس میں متعلقہ گروپ موجود حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیتاہے،یہ اس انقلاب سے قطعی مختلف ہوتاہے اور یہ اچانک رونما ہوتاہے اور اس کیلئے بڑی تعداد میں لوگوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔عام انقلاب کے برعکس اس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کو اقتدار سے بیدخل کرکے حکومت کے اہم کارپردازوں کو ہٹا کر نئے لوگوں کوان کی جگہ تعینات کردیاجاتاہے۔
اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی انتظامیہ میں تیزی سے کی جانے والی تبدیلیوں اور مختلف اہم محکموں کے سینئر ترین ارکان کو سبکدوش کرکے نئے اور ناتجربہ کا ر لیکن جی حضوری کرنے والے لوگوں کے تقرر سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اوپربیان کئے گئے انقلاب کے بانی بننے کی راہ پر گامزن ہیں اوران کے مٹھی بھر حواریوں کاایک گروپ پورے امریکا کا نقشہ تبدیل کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔
امریکا کے صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور احکامات اسی طرح کے انقلاب کا پیش خیمہ نظر آتے ہیں جس کا ذکر بریٹینیکا میں کیاگیاہے جس کے لئے لوگوں کے بڑے ہجوم کی یعنی لوگوں کی اکثریت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کاایک چھوٹا سا گروپ اقتدار پر قبضہ کرکے اہم عہدوں پر اپنے مہرے بٹھادیتاہے اور اہم محکموں سے سینئر اور قابل لوگوں کو نکال کر اپنی پسند کے لوگوں کو تعینات کردیتاہے جن کا کام صرف حکم کی بجاآوری اور جی حضوری کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
اس صورت حال کے پیش نظر یہ کہا جاسکتاہے کہ امریکا ایک انقلاب کے دوراہے پر نہیں ہے بلکہ یہ انقلاب امریکا میں آچکاہے اور اب بتدریج اپنی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے پیش بندیوں میں مصروف ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی عوام اس انقلاب اور اس کے ذریعے اقتدار کی مسند پر قبضہ کرنے والوں کو اکھاڑ پھینکنے میں کتنا وقت لگائیں گے۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...