وجود

... loading ...

وجود
وجود

واشنگٹن کی سالانہ دعائیہ تقریب، ٹرمپ نے نیا تنازع کھڑا کردیا

هفته 04 فروری 2017 واشنگٹن کی سالانہ دعائیہ تقریب، ٹرمپ نے نیا تنازع کھڑا کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی محفل میں جائیں اور کوئی تنازع کھڑا نہ کریں ایسا ممکن نہیں، چاہے کوئی ریلی ہو، ٹیلی فون کال ہو، حلف برداری کی تقریب ہو یا پھر عوام سے خطاب، ٹرمپ نے جو بھی کہا اور کیا وہ متنازع بن گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو سالانہ سرکاری دعائیہ تقریب کو بھی نہیں بخشا اور وہاں بھی اپنے بیانات سے شرکا کو حیران کردیا۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور تنازعات کا چولی دامن کا ساتھ ہے، انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے جو کہا اور جو بھی کیا وہ سب متنازع ہوا ، اور اب صدر بننے کے بعد بھی تنازعات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔صدربننے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے پہلا تنازع یہ پیدا ہواتھا کہ ان کی تقریب حلف برداری میں کتنے لوگ تھے؟ کیا لوگوں کی تعداد بارک اوباما کی تقریب حلف برداری سے زیادہ تھی یا پھر کم؟انٹرنیٹ پر 20 جنوری کے بعد سے جو تصاویر گردش کررہی تھیں ان میں ایک جانب بارک اوباما کی 2009 کی تقریب حلف برداری میں شریک افراد کی تعداد اور 2017 میں ڈونلڈ ترمپ کی تقریب حلف برداری کے شرکا کی تعداد کا موازنہ کیا جارہا تھا۔ان تصاویر میں یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں لوگوں کی تعداد اوباما کی تقریب سے بہت ہی زیادہ کم تھی اور پارک میں جگہ خالی دکھائی گئی ہے تاہم اس تصویر کے حقیقی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔یہ تنازع اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ وائٹ ہائوس کو بھی اس حوالے سے غیر معمولی بیان جاری کرنا پڑا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہائوس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھاکہ میڈیا ان تصاویر کو شائع کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں لوگوں کی تعداد کم تھی۔وائٹ ہائوس کے ترجمان سین اسپائسر نے ان تصاویر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں تاریخ میں سب سے زیادہ لوگ شریک ہوئے، لوگ بذات خود بھی شریک ہوئے اور دنیا بھر میں لوگوں نے اسے ٹی وی پر بھی دیکھا۔بیان میں مزید کہا گیا تھاکہ ‘تقریب حلف برداری کے حوالے سے جوش و ولولے کو کم کرنے کی کوششیں شرمناک اور غلط ہیں۔واضح رہے کہ واشنگٹن کی شہری انتظامیہ نے اندازہ لگایا تھا کہ 2009 میں اوباما کی تقریب حلف برداری میں 18 لاکھ افراد شریک ہوئے تھے جو کہ نیشنل مال میں تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔تاہم اسپائسر کا کہنا ہے کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف لیا اس وقت 7 لاکھ 20 ہزار افراد کی گنجائش والا مال مکمل طور پر بھر چکا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیشنل پارک سروس نے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے اور کسی کے پاس بھی حتمی اعداد نہیں۔
واشنگٹن کے میٹرو سب وے سسٹم کا کہنا ہے کہ جمعہ 20 جنوری جس دن ٹرمپ کو حلف اٹھانا تھا، صبح 11 بجے تک ایک لاکھ 93 ہزار افراد سسٹم میں داخل ہوئے جبکہ 2009 میں اوباما کی تقریب حلف برداری کے موقع پر یہ تعداد 5 لاکھ 13 ہزار تھی۔سین اسپائسر نے کہا کہ ‘میڈیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جوابدہ بنانے کی ذمہ داری پر کافی بحث ہورہی ہے اور میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ دو طرفہ عمل ہوگا، ہم پریس کو بھی جوابدہ بنائیں گے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میںدعویٰ کیا کہ ‘میری تقریب حلف برداری 3 کروڑ 10 لاکھ لوگوں نے دیکھی جو کہ 4 برس پہلے کے مقابلے میں ایک کروڑ 10 لاکھ زیادہ ہے۔ٹرمپ نے اپنے خلاف ہونے والے خواتین کے مظاہروں کے حوالے سے بھی ٹوئیٹ کیا اور لکھا کہ ‘پر امن احتجاج ہماری جمہوریت کی علامت ہے، چاہے میں اس سے متفق نہ بھی ہوں لیکن میں لوگوں کے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے حق کو تسلیم کرتا ہوں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں منعقد ہونے والی سالانہ دعائیہ تقریب میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے، سی این این کے مطابق واشنگٹن میں منعقد ہونے والی سالانہ دعائیہ تقریب کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف ہالی ووڈ اداکار اور کیلی فورنیا کے سابق گورنر آرنلڈ شیوارزنیگر کے ٹی وی شو کی ریٹنگز کے لیے دعا کرواکر کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یہ کہا کہ ‘میں صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے دعا کرنا چاہتا ہوں، اگر ہم کرسکیں تو ان ( کیلی فورنیا کے سابق گورنر آرنلڈ شیوارزنیگر) کی ریٹنگز کے لیے بھی دعا کریںتو وہاں موجود مذہبی و سیاسی شخصیات ہکا بکا رہ گئے۔واضح رہے کہ آرنلڈ امریکی ریئلٹی ٹی وی شو ‘دی اپرینٹس کی دیگر افراد کے ہمراہ میزبانی کرتے ہیں جبکہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اس کی میزبانی کیا کرتے تھے تاہم 2015 میں سیاست میں آنے کی وجہ سے ٹرمپ اس سے علیحدہ ہوگئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہم جانتے ہیں کہ سب کچھ کیسے تبدیل ہو، ریٹنگز بہت نیچے آگئی ہیں اور یہ تباہ کن ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ہالی ووڈ اسٹار آرنلڈ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹوئیٹر پر کرارا جواب دیا اور وڈیو اپ لوڈ کردی۔
وڈیو میں آرنلڈ نے کہا کہ ‘ ٹرمپ! میرے پاس ایک کمال کا آئیڈیا ہے، کیوں نہ ہم اپنا کام ایک دوسرے سے تبدیل کردیں، کیوں کہ آپ ریٹنگز لانے میں ماہر ہیں لہٰذا آپ ٹی وی سنبھال لیں اور میں آپ کا کام سنبھال لیتا ہوں، اس طرح امریکی عوام بھی سکون سے سو سکیں گے۔واضح رہے کہ امریکہ میں سالانہ دعائیہ تقریب صبح کے ناشتے پر فروری کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جاتی ہے جس سے امریکی صدر خطاب کرتے ہیں اور اس تقریب میں 70 ممالک کے مذہبی عمائدین اور قانون دان شریک ہوتے ہیں اور یہ تقریب 1953 سے منعقد کی جارہی ہے۔اس سنجیدہ نوعیت کی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر سنجیدہ بیانات کی توقع کوئی نہیں کررہا تھا۔


متعلقہ خبریں


پاکستان کو تباہ و برباد کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے ،نواز شریف وجود - هفته 18 مئی 2024

(رپورٹ: ہادی بخش خاصخیلی) پاکستان مسلم لیگ (ن ) کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیٹھ میں چھرا گھونپا، ساتھ چلنے کی یقین دہانی کروائی، پھر طاہرالقادری اور ظہیرالاسلام کے ساتھ لندن جاکر ہماری حکومت کے خلاف سازش کا جال بُنا۔نواز شریف نے قوم س...

پاکستان کو تباہ و برباد کرنے والوں کا احتساب ہونا چاہیے ،نواز شریف

سیاسی پارٹیاں نواز شریف سے مل کر چلیں، شہباز شریف وجود - هفته 18 مئی 2024

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں قوم کے لیے نواز شریف سے مل کر چلیں، نواز شریف ہی ملک میں یکجہتی لا سکتے ہیں، مسائل سے نکال سکتے ہیں۔ن لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو صدارت سے علیحدہ کر کے ظلم کیا گیا تھا، ن لی...

سیاسی پارٹیاں نواز شریف سے مل کر چلیں، شہباز شریف

ہاسٹل میں محصور ہیں، دوبارہ حملے کی اطلاعات ہیں ، بشکیک سے پاکستانی طلبا کے پیغامات وجود - هفته 18 مئی 2024

کرغزستان میں پھنسے اوکاڑہ، آزاد کشمیر، فورٹ عباس اور بدین کے طلبا کے پیغامات سامنے آگئے ، وہ ہاسٹل میں محصور ہیں جہاں ان پر حملے ہوئے اور انہیں مارا پیٹا گیا جبکہ ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہوچکی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کرغزستان میں فسادات کے سبب پاکستانی طلبا خوف کے ما...

ہاسٹل میں محصور ہیں، دوبارہ حملے کی اطلاعات ہیں ، بشکیک سے پاکستانی طلبا کے پیغامات

جنگ کے بعد ،غزہ میں ملٹری حکومت کے اسرائیلی منصوبے کا انکشاف وجود - هفته 18 مئی 2024

اسرائیلی اخبار نے کہا ہے کہ سینئر سکیورٹی حکام نے حال ہی میں حماس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی حکومت کے قیام کی لاگت کا تخمینہ لگانے کی درخواست کی تھی، جس کے اندازے کے مطابق یہ لاگت 20 ارب شیکل سالانہ تک پہنچ جائے گی۔اخبار نے ایک سرکاری رپورٹ کا حوالہ ...

جنگ کے بعد ،غزہ میں ملٹری حکومت کے اسرائیلی منصوبے کا انکشاف

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی وجود - هفته 18 مئی 2024

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی ، قیمت میں مزید ایک روپے 47 پیسے اضافے کی منظوری دے دی گئی۔نیپرا ذرائع کے مطابق صارفین سے وصولی اگست، ستمبر اور اکتوبر میں ہو گی، بجلی کمپنیوں نے پیسے 24-2023 کی تیسری سہ ماہی ایڈجسمنٹ کی مد میں مانگے تھے ، کیپسٹی چارجز کی مد میں31ارب 34 ک...

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم وجود - هفته 18 مئی 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت کو صوبے کے واجبات اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 15دن کا وقت دے دیا۔صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا،کشمیریوں کے سامنے ایک دن میں حکومت کی ہوا نکل گئی، خیبر پخ...

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں وجود - هفته 18 مئی 2024

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پائونڈ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی شدید غصے میں دکھائی دیں جبکہ بانی پی ٹی آئی بھی کمرہ عدالت میں پریشان نظر آئے ۔ نجی ٹی و ی کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 190 ملین پائونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس سلسلے می...

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں اداروں کے کردار پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔ ایک انٹرویو میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے فارم 47 کا فائدہ اٹھایا ہے ، لہٰذا یہ اس سے پیچھے ہٹیں اور ہماری چوری ش...

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن(پی آئی اے ) کی نجکاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مختلف ایئرلائنز سمیت 8 بڑے کاروباری گروپس کی جانب سے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے کے خواہاں فلائی جناح، ائیر بلیولمیٹڈ اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ سم...

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج وجود - هفته 18 مئی 2024

کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں بجلی کی طویل بندش اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا تاہم کے الیکٹرک نے علاقے میں طویل لوڈشیڈنگ کی تردید کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف لائنز ایریا کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور لکی اسٹار سے ایف ٹی سی جانے والی س...

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا وجود - جمعه 17 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا۔بھکر آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انتخابات میں حکومتوں کا کوئی رول نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کا رول ہوتا ہے ، جس کا الیکشن کے لیے رول تھا انہوں نے رول ...

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم وجود - جمعه 17 مئی 2024

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک کے دوران شر پسند عناصر کی طرف سے صورتحال کو بگاڑنے اور جلائو گھیرائوں کی کوششیں ناکام ہو گئیں ، معاملات کو بہتر طریقے سے حل کر لیاگیا، آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کرتے ہیں، کشمیریوں کی قربانیاں ...

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم

مضامین
جذبہ حب الپتنی وجود اتوار 19 مئی 2024
جذبہ حب الپتنی

لکن میٹی،چھپن چھپائی وجود اتوار 19 مئی 2024
لکن میٹی،چھپن چھپائی

انٹرنیٹ کی تاریخ اورلاہور میںمفت سروس وجود اتوار 19 مئی 2024
انٹرنیٹ کی تاریخ اورلاہور میںمفت سروس

کشمیریوں نے انتخابی ڈرامہ مسترد کر دیا وجود اتوار 19 مئی 2024
کشمیریوں نے انتخابی ڈرامہ مسترد کر دیا

اُف ! یہ جذباتی بیانیے وجود هفته 18 مئی 2024
اُف ! یہ جذباتی بیانیے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر