... loading ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو معطل کرتے ہوئے 7 مسلمان ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون میں وزیر دفاع جیمز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے۔ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکا میں تارکین وطن کے داخلے کے پروگرام کو 120 دن (یعنی 4 ماہ) کے لیے معطل کردیا گیا۔دوسری جانب 7 مسلمان ممالک ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کو 90 دن (یعنی 3 ماہ) تک امریکا کے ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔نئے آرڈر کے تحت شامی مہاجرین کے امریکا میں داخلے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پینٹاگون میں وزیر دفاع جیمز میٹس کی تقریب حلف برادری کے بعد25 جنوری کو امریکی نیوز چینل اے بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ 7 مسلم اکثریتی ممالک کے افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم نامے پر دستخط کرنے والے تھے تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والے اعتراض کے سبب اس معاملے میں تاخیر کا سامنا ہوا۔انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وہ آئندہ 2 گھنٹوں میں وہ کچھ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردیں گے اور بعد ازاں انہوں نے دو حکم ناموں پر دستخط بھی کردیے جن میں سے ایک امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر اور دوسرا غیر قانونی مہاجرین کی ملک بدری سے متعلق تھا، تاہم مسلمانوں پر پابندی کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی تھیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ کن ممالک کے شہریوں کی امریکا میں داخلے پر پابندی ہوگی؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’پوری فہرست کی معلومات آپ کے سامنے آجائے گی جسے دیکھ کر آپ کو بڑی حیرت ہوگی‘۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا دھیان ان افراد کی جانب ہے جو بری نیت سے امریکا میں داخل ہوتے ہیں، جن کا تعلق داعش سے ہے اور وہ جھوٹی شناخت سے یہاں آرہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی جانچ پڑتال کی جائے گی اور ‘کڑی کا مطلب کہ بہت سخت، اگر ہمیں ذرا سے بھی مسئلے کا سامنا ہوا تو ان افراد کو امریکا میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘ان کا کہنا تھا، امریکا میں داخلہ بہت مشکل کردیا جائے گا، اس وقت امریکا میں داخل ہونا بہت آسان ہے تاہم اسے اتنا آسان نہیں رہنے دیا جائے گا۔
نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسف زئی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تارکین وطن کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دے دیا۔ملالہ یوسف زئی نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشدد اور جنگ سے متاثرہ خواتین اور بچوں پر امریکا کے دروازے بند کرنے کے فیصلے سے ان کا دل ٹوٹ گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا امریکا کی تعمیر میں حصہ لینے والے تارکین اور مہاجرین کے خیرمقدم کی قابل فخر تاریخ سے پیچھے ہٹنا افسوس ناک ہے۔
ملالہ یوسفزئی نے ملالہ فنڈ کے فیس بک پیج پر لکھا کہ ’میں انتہائی دل برداشتہ ہوں، صدر ٹرمپ نے آج ان بچوں، ماو?ں اور والدین پر دروازے بند کر دیے ہیں جو تشدد اور جنگ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ میں دل برداشتہ ہوں کیونکہ امریکا پناہ گزینوں اور تارکین وطن کا خیر مقدم کرنے والی اپنی تاریخ سے منہ موڑ رہا ہے۔‘صدر ٹرمپ نے آج ان بچوں، مائوں اور والدین پر دروازے بند کر دیے ہیں جو تشدد اور جنگ کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے امریکا میں انتہا پسند مسلمان دہشت گردوں کے داخلے کو روکنے کے لیے جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے بارے میں ادارے یو این ایچ سی آر نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ اور استحصال سے بھاگنے والے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا رہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور اعلیٰ شخصیات نے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔امریکا میں سات مسلم ممالک کے شہریوں کی سخت جانچ پڑتال کے حکم نامے کے خلاف مسلم تنظیموں اور رہنمائوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہاہے۔ڈیموکریٹ رہنما ڈاکٹرآصف محمود کہتے ہیں یہ حکم نامہ صرف مسلمانوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا جس سے یہاں بسنے والے مسلم خاندان بھی متاثر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے میکسیکو کے ساتھ اصل اور مسلمانوں کے خلاف تعصب پر مبنی ورچوئل دیوار بنا ئی ہے۔عادل نجم کہتے ہیں حکم نامہ دراصل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا دعوت نامہ ہے ، اس سے امریکی اہلکار مسلمانوں کو کھلم کھلا نشانہ بنائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے پر دستخط کے کئی گھنٹوں بعد اس کا متن سامنے آیا جس میں یہ اقدامات شامل ہیں:
امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کا پروگرام 120 روز کے لیے معطل۔جب تک بعض ’اہم تبدیلیاں نہ کی جائیں، شامی پناہ گزینوں پر پابندی۔
90 روز تک عراق، شام اور ’باعث تشویش‘ علاقوں سے آنے والوں پر پابندی، اطلاعات کے مطابق ان ممالک میں ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔
مذہبی استحصال کا شکار افراد کی درخواستوں کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے لیکن صرف ان لوگوں کی جو اپنے ممالک میں کسی اقلیتی مذہب کا حصہ ہوں۔
2017 میں صرف 50 ہزار پناہ گزینوں کو داخلہ دیا جائے۔ یہ تعداد سابق صدر اوباما کے اعلان کے مقابلے میں نصف ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس سخت جانچ پڑتال کی تفصیلات سے متعلق کچھ نہیں بتایا لیکن جمعے کو ایک ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ پناہ کے متلاشی شامی شہریوں میں عیسائیوں کو ترجیح دی جائے گی۔
پینٹاگون میں منعقدہ تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا: ‘میں سخت جانچ پڑتال کے نئے اقدامات کر رہا ہوں تاکہ انتہا پسند اسلامی دہشت گردوں کو امریکا سے دور رکھا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ صرف ان لوگوں کو اپنے ملک میں داخل ہونے دیں جو ہمارے ملک کی حمایت کریں اور دل سے ہمارے لوگوں سے پیار کریں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...