وجود

... loading ...

وجود
وجود

آصف زرداری یاروں کا یار۔۔۔یا دشمن؟

بدھ 11 جنوری 2017 آصف زرداری یاروں کا یار۔۔۔یا دشمن؟

ہوئے تم دوست جس کے دشمن اُس کا آسماں کیوں ہو!!!!

محترمہ بینظیر بھٹو کی ضلع خیرپور کے ایک سید گھرانے سے منگنی کی بات ختم ہوئی تو اس وقت چند خواتین کے ذریعے رئیس حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے ان کی منگنی اور بعد ازاں شادی ہوگئی تو اس وقت آصف علی زرداری کے بڑے چرچے ہوئے انہیں پولو کا کھلاڑی‘ گھوڑوں کا شوقین کہا گیا۔ مگر کچھ باتیں فرضی بھی تھیں۔ پولو میں ان کی دلچسپی حقیقت سے زیادہ جعلی تھی۔ خیر اس سے پہلے آصف زرداری نے نواب اکبر بگٹی کی بیٹی سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی اور یہ بات نواب بگٹی اور ان کے بیٹوں تک بھی پہنچی اور پھر کراچی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں نواب اکبر بگٹی کے بیٹے نواب سلیم بگٹی اور آصف زراری کی جھڑپ ہوگئی دونوں کے ساتھی اسلحہ لے کر آئے تھے تو فائیو اسٹار ہوٹل کے مالک نے اپنے گارڈز کے ذریعے آصف زرداری کو ہوٹل سے نکال دیا تھا جب سے آج تک اس ہوٹل کے مالک اور آصف زرداری میں اختلافات قائم ہیں۔
شادی سے پہلے جو آصف علی زرداری تھے اس کے سرپرست انجم شاہ تھے جو نواب شاہ کے زمیندار تھے اور وہ ہر ماہ آصف زرداری کو چھوٹا بھائی سمجھ کر خرچہ دیتے تھے۔ انجم شاہ نے آصف زرداری کی منگنی اور شادی کا بھی خرچا بھرا تھا ۔1988ء میں جب پی پی حکومت بنی تب بھی انجم شاہ کو آصف زرداری اہمیت دیتے تھے۔ 1993ء میں وزیراعظم ہائوس میں جب آصف زرداری کے کمرے میں انجم شاہ بلا اجازت چلے گئے تو آصف زرداری نے ان کو جھاڑ پلائی۔ جواب میں انجم شاہ نے آصف زرداری کو پورا ماضی یاد کرادیا اور پھر وہیں سے انجم شاہ کے خلاف آصف زرداری نے ریاستی طاقت استعمال کرنا شروع کی ۔ انجم شاہ بھی ضدی تھا۔انہوں نے پی پی شہید بھٹو گروپ میں شمولیت اختیار کی مگر آصف زرداری نے ان کے خلاف اتنے مقدمات کروائے کہ وہ عرش سے فرش پر آگیا۔ گھر،زمین ‘ گاڑیاں فروخت کردیں مگر وہ آصف زرداری کے سامنے نہیں جھکے۔
آصف زرداری کے دوسرے دوست کا نام عبدالستار کیریو ہے ۔88ء میں وہ آصف زرداری کے فرنٹ مین بنے پھر دیکھتے دیکھتے ہی تمام املاک ستار کیریو کے نام پر کردیں اور ستار کیریو بھی مفرور بن گئے اور پرویز مشرف دور میں ستار کیریو اور آصف زرداری میں بات چیت بند تھی۔ جیسے ہی محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی اور پی پی کی مرکز اور صوبہ میں حکومتیں بنیں تو ستار کیریو کا حشر نشر کردیا گیا، اُن کی تمام املاک پر قبضہ کرلیا گیا۔ ستار کیریو سے نہ صرف آصف زرداری کے پیسوں کی جائیداد واپس لے لی بلکہ سود بھی وصول کرلیا گیا۔
آصف زرداری کے تیسرے دوست ریاض لال جی ہیں۔ جو آصف زرداری کے کاروبار کے نگراں تھے ۔ 96ء کے آخر میں جب پی پی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت اسٹیل ملز کا اربوں روپے کا اسکریپ ریاض لال جی کو کوڑیوں کے دام دلایا حکومت ختم ہوئی تو ریاض لال جی دبئی چلے گئے۔ آصف زرداری نے جیل سے ان کو پیغامات بھیجے مگر ریاض لال جی نے جواب دیا کہ حکومت ختم ہوئی تو سارے پیسے بھی ضبط ہوگئے۔ آصف زرداری نے خاموشی اختیار کی ،شہادت کے بعد پی پی حکومت بنی تو ریاض لال جی کے ساتھ کاروبار بھی شروع کیا اور ایک دن ریاض لال جی کو کراچی کاروبار کو دیکھنے کے لئے بھیجا جیسے ہی ریاض لال جی کراچی ایئرپورٹ آئے تو پولیس نے ان کو اٹھا کر کراچی میں ’محفوظ‘ مقام پر پہنچایا۔ اور خبر پھیلا دی کہ ریاض لال جی اغواء ہوگئے ہیں فوری طور پر دوسری خبر آگئی کہ صدر آصف زرداری دبئی سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ پھر’اغواء‘ ہونے والے ریاض لال جی سے مذاکرات ہوئے۔ اتوار کا دن تھا انہوں نے دبئی سے اربوں روپے کی رقم منتقل کرنے کی حامی بھری لیکن چھٹی کے باعث اسٹیٹ بینک بند تھا ۔ گورنر اسٹیٹ بینک سلیم رضا کو بلاول ہائوس بلایا گیا ۔ انہوں نے چھٹی کے وقت بینک سے رقومات منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ ان سے زبردستی استعفیٰ لے کر قائم مقام گورنر کے ذریعہ یہ رقم دبئی سے کراچی منتقل کی گئی اور پھر ریاض لال جی دبئی واپس چلے گئے اور ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔
آصف زرداری کے ایک اور دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تھے ان کی شوگر ملز چھین لی گئیں۔ ان کی زمینوں پر قبضے کیے گئے مگر ذوالفقار مرزا نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور آصف زرداری اور ان کے اہل خانہ پر سنگین الزامات عائد کیے۔ لندن کے مرتضیٰ بخاری کو کون نہیں جانتا؟ وہ برطانیہ کے شہری تھے اور پھر آصف زرداری نے اپنے دوست غلام حسین انڑ کے ساتھ مل کر ان کے 50 کروڑ روپے چھین لیے۔ جام صادق جب وزیراعلیٰ بنے تو یہ مقدمہ آصف زرداری پر بنا آگے چل کر مرتضیٰ بخاری صدمے میں انتقال کرگئے۔ وہ برطانیہ میں ایروناٹیکل انجینئر تھے اور 50 کروڑ روپے سے صوبہ سندھ میں خیراتی اسپتال بنانا چاہتے تھے۔
آصف زرداری کے ایک اور دوست غلام حسین انڑ تھے ۔ جنہوں نے مرتضیٰ بخاری سے کروڑوں روپے لے کر آصف زرداری کو دیئے۔ آگے چل کر غلام حسین انڑ پر اتنا ناراض ہوئے کہ ان پر بکری چوری‘ خواتین کی چوڑیاں چوری کرنے جیسے 50 مقدمات بنائے پھر ایک انگریزی اخبار کے کالمسٹ اردشیر کائوس جی نے کالم لکھا تو اس وقت کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے ان کی ضمانت منظور کی لیکن رہائی کے چند روز بعد حاجی غلام حسین انڑ انتقال کرگئے۔ آصف زرداری کے حلقہ احباب میں خالد شہنشاہ بھی تھے جن کا پراسرا ر قتل ہو گیا۔ عبدالرحمان ڈکیٹ کا نام اس حوالے سے شکوک کے طوفان میں رہا ۔ وہی رحمان ڈکیت ایس ایس پی چوہدری اسلم کے ذریعے بلوچستان کے شہر اوتھل سے پکڑوا کر مقابلے میں مروادیے گئے۔ ان کے ایک خاص خدمت گار اسماعیل ڈاھری نے جوتے تک پالش کیے جیل میں وہ ہر پیشی میں ساتھ ہوتے تھے اب اسماعیل ڈاہری کو ایم پی او کے تحت گرفتار کروایا اور ان سے بہت کچھ ضمانتیں لے رہے ہیں اور شاید اب سننے میں آیا ہے کہ اسماعیل ڈاھری اور ستار کیریو کی جان بخشی ہوئی ہے اور ان کو معافی دے دی گئی ہے۔ آصف زرداری کے ایسے تو سینکڑوں دوست ہوں گے لیکن جس طرح انہوں نے دوستوں کے ساتھ رویہ رکھا اور ان کو سبق سکھایا شاید اب وہ لوگ دوستی کے لفظ سے خوفزدہ ہوجائیں گے۔ ان کے ساتھ چلنا انتہائی مشکل ہے اس کے باوجود بھی ان کو اگر یاروں کا یار کہا جائے تو ایسے لوگوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔
عقیل احمد


متعلقہ خبریں


حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی وجود - هفته 18 مئی 2024

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی ، قیمت میں مزید ایک روپے 47 پیسے اضافے کی منظوری دے دی گئی۔نیپرا ذرائع کے مطابق صارفین سے وصولی اگست، ستمبر اور اکتوبر میں ہو گی، بجلی کمپنیوں نے پیسے 24-2023 کی تیسری سہ ماہی ایڈجسمنٹ کی مد میں مانگے تھے ، کیپسٹی چارجز کی مد میں31ارب 34 ک...

حکومت نے ایک بار پھر عوام پر بجلی گرا دی

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم وجود - هفته 18 مئی 2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت کو صوبے کے واجبات اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 15دن کا وقت دے دیا۔صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آپ کا زور کشمیر میں دیکھ لیا،کشمیریوں کے سامنے ایک دن میں حکومت کی ہوا نکل گئی، خیبر پخ...

واجبات ، لوڈشیڈنگ کے مسائل حل کریں،وزیراعلیٰ کے پی کا وفاق کو 15دن کا الٹی میٹم

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں وجود - هفته 18 مئی 2024

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پائونڈ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی شدید غصے میں دکھائی دیں جبکہ بانی پی ٹی آئی بھی کمرہ عدالت میں پریشان نظر آئے ۔ نجی ٹی و ی کے مطابق اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف 190 ملین پائونڈ ریفرنس کی سماعت ہوئی جس سلسلے می...

اڈیالہ جیل میں سماعت ، بشری بی بی غصے میں، عمران خان کے ساتھ نہیں بیٹھیں

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں اداروں کے کردار پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کردیا۔ ایک انٹرویو میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے فارم 47 کا فائدہ اٹھایا ہے ، لہٰذا یہ اس سے پیچھے ہٹیں اور ہماری چوری ش...

اداروں کے کردارکا جائزہ،پی ٹی آئی کاجوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی وجود - هفته 18 مئی 2024

پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائن(پی آئی اے ) کی نجکاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مختلف ایئرلائنز سمیت 8 بڑے کاروباری گروپس کی جانب سے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے درخواستیں جمع کرادی ہیں۔پی آئی اے کی نجکاری میں حصہ لینے کے خواہاں فلائی جناح، ائیر بلیولمیٹڈ اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ سم...

پی آئی اے کی نجکاری ، 8کاروباری گروپس کی دلچسپی

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج وجود - هفته 18 مئی 2024

کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں بجلی کی طویل بندش اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا گیا تاہم کے الیکٹرک نے علاقے میں طویل لوڈشیڈنگ کی تردید کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق شدید گرمی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف لائنز ایریا کے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور لکی اسٹار سے ایف ٹی سی جانے والی س...

لائنز ایریا کے مکینوں کا بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا وجود - جمعه 17 مئی 2024

جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا۔بھکر آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انتخابات میں حکومتوں کا کوئی رول نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کا رول ہوتا ہے ، جس کا الیکشن کے لیے رول تھا انہوں نے رول ...

مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا اشارہ دے دیا

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم وجود - جمعه 17 مئی 2024

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاجی تحریک کے دوران شر پسند عناصر کی طرف سے صورتحال کو بگاڑنے اور جلائو گھیرائوں کی کوششیں ناکام ہو گئیں ، معاملات کو بہتر طریقے سے حل کر لیاگیا، آزاد کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کرتے ہیں، کشمیریوں کی قربانیاں ...

شر پسند عناصر کی جلائو گھیراؤ کی کوششیں ناکام ہوئیں ، وزیر اعظم

گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی وجود - جمعه 17 مئی 2024

ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ میری رائے ہے کہ قانون سازی ہو اور گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، اصل بات وہی ہے ۔ جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمے کی سم...

گمشدگیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی

جج کی دُہری شہریت، فیصل واوڈا کے بعد مصطفی کمال بھی کودپڑے وجود - جمعه 17 مئی 2024

رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جج کے پاس وہ طاقت ہے جو منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج سکتے ہیں، جج کے پاس دوہری شہریت بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ، عدلیہ کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کہا کہ کیا دُہری شہریت پر کوئی شخص رکن قومی...

جج کی دُہری شہریت، فیصل واوڈا کے بعد مصطفی کمال بھی کودپڑے

شکار پور میں بدامنی تھم نہ سکی، کچے کے ڈاکو بے لگام وجود - جمعه 17 مئی 2024

شکارپور میں کچے کے ڈاکو2مزید شہریوں کواغوا کر کے لے گئے ، دونوں ایک فش فام پر چوکیدرای کرتے تھے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع شکارپور میں بد امنی تھم نہیں سکی ہے ، کچے کے ڈاکو بے لگام ہو گئے اور مزید دو افراد کو اغوا کر کے لے گئے ہیں، شکارپور کی تحصیل خانپور کے قریب فیضو کے مقام پر واقع...

شکار پور میں بدامنی تھم نہ سکی، کچے کے ڈاکو بے لگام

اورنج لائن بس کی شٹل سروس کا افتتاح کر دیا گیا وجود - جمعه 17 مئی 2024

سندھ کے سینئروزیرشرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کی لائونچنگ، گرفتاری، ضمانتیں یہ کہانی کہیں اور لکھی جا رہی ہے ،بانی پی ٹی آئی چھوٹی سوچ کا مالک ہے ، انہوں نے لوگوں کو برداشت نہیں سکھائی، ہمیشہ عوام کو انتشار کی سیاست سکھائی، ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مزید بہتر کرنے کی کوشش...

اورنج لائن بس کی شٹل سروس کا افتتاح کر دیا گیا

مضامین
اُف ! یہ جذباتی بیانیے وجود هفته 18 مئی 2024
اُف ! یہ جذباتی بیانیے

اب کی بار،400پار یا بنٹا دھار؟ وجود هفته 18 مئی 2024
اب کی بار،400پار یا بنٹا دھار؟

وقت کی اہم ضرورت ! وجود هفته 18 مئی 2024
وقت کی اہم ضرورت !

دبئی لیکس وجود جمعه 17 مئی 2024
دبئی لیکس

بٹوارے کی داد کا مستحق کون؟ وجود جمعه 17 مئی 2024
بٹوارے کی داد کا مستحق کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر