وجود

... loading ...

وجود

آصف زرداری کی آمد سیاسی ہنگامہ خیزی میں تیزی کا امکان!

هفته 24 دسمبر 2016 آصف زرداری کی آمد سیاسی ہنگامہ خیزی میں تیزی کا امکان!

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ڈیڑھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس وطن پہنچ گئے لیکن اس موقع پر ان کے قریبی دوست کے دفاتر پر رینجرز کے چھاپوں اور اسلحے کی برآمدگی یقیناً معنی خیز ہے۔
آصف علی زرداری ہلکے بادامی رنگ کی شلوار قمیض، اسی رنگ کی واسکٹ اور سر پر ٹوپی پہنے گھر سے نکلے اور دبئی کے المکتوم ایئرپورٹ سے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے خصوصی طیارے PTP- 555 کے ذریعے کراچی پہنچے ،پرواز میں سابق صدر کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما رحمٰن ملک، بابر اعوان سمیت 7 مسافر موجود تھے۔ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے وی آئی پی پرنسلے جیٹ لاؤنج پر آصف علی زرداری کا استقبال کیا۔کاروانِ جمہوریت ٹرک پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے جھرمٹ میں خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج بی بی بہت یاد آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام اور فوج کی طاقت سے پاکستان مکمل محفوظ ہے، ہماری سرحدوں پر مسائل ہیں، کشمیر میں پاکستان کا پرچم جدوجہد کی علامت ہے اور ہمارا عزم ہے کہ کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔ہماری دونوں سرحدوں میں شرپسندوں نے تکلیف دی ہوئی ہے، ہمیشہ کہا ہے پاکستان شر پسندوں کا ملک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا انتقام کل بھی جمہوریت تھا، آج بھی جمہوریت ہے اور کل بھی جمہوریت ہی ہوگا کیونکہ ہماری تو میتیں بھی اسی مٹی میں دفن ہوتی ہیں، ہم پاکستان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کرسی پر کون بیٹھا ہے اور کل کون بیٹھے گا، ایک نہ ایک دن پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ضرور آئے گی۔‘‘
آصف زرداری نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت پاکستان کو متحد کرنے کا ہے مگر حکمران صرف سڑکیں بنانے میں لگے ہیں۔ چھوٹی سوچ والوں کو نظر انداز کر دیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ میں جب بھی بیرون ملک گیا تو کہا گیا کہ پاکستان سے بھاگ گیا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جمہوریت کو آگے بڑھایا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت کا متبادل بہت خطرناک اور خوفناک ہے اور ہم شام نہیں بننا چاہتے، پاکستان کبھی ناکام ریاست نہیں ہوگا۔خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 27 دسمبر کو دوبارہ ملاقات کروں گا اور خوش خبری دوں گا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’جئے بھٹو‘ کے نعرے سے کیا اور اختتام ’پاکستان کھپے‘ کے نعرے سے۔انہوں نے فلمی انداز میں شرکا کو فلائنگ کِس بھی دی جسکا سوشل میڈیا پر بہت چرچا رہا جبکہ انکی آمد کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے کرپشن اور نیب کو بھی خوب نشانہ بنایا۔
پاکستان میں فوج کی قیادت میں تبدیلی کے بعد ان کی وطن واپسی سامنے آئی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک پیپلز پارٹی سنگل آؤٹ ہو چکی تھی، خاص طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کیس اور ایان علی کیس کے حوالے سے۔
‘یہ ظاہر ہو رہا تھا جیسے اس کے بعد زرداری صاحب کی باری آئے گی تاہم یہ کہا نہیں جاسکتا کہ ایسا ہونا بھی تھا یا نہیں۔ لیکن ان کے گرد حصار تنگ کیا گیا تھا۔ اب زرداری کا خیال ہوگا کہ نئے حالات میں ان کے لیے زیادہ گنجائش ہوگی۔’
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں ہی آنا چاہ رہے تھے تاکہ یہ پیغام دیں کہ وہ جنرل راحیل شریف کے خوف سے نہیں بھاگے تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پہلے اور اب بھی جنرل راحیل شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں اختلافات کو مسترد کرتی ہے۔
سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ راحیل شریف اور آصف علی زرداری کا کوئی ایشو نہیں تھا اگر تھا تو وہ کسی فرد کی وجہ سے تو نہیں ہے۔ ادھر ادارہ ہے اور ادھر پارٹی ہے۔ہم پاکستان فوج کے ساتھ لڑ نہیں سکتے اور نہ لڑنا چاہتے ہیں اسی طرح وہ بھی نہیں لڑنا چاہتے کیونکہ پیپلز پارٹی بہت بڑی جماعت ہے۔ کچھ لوگوں کی یہ خواہش ہوسکتی ہے کہ کوئی تصادم ہو تاکہ کسی تیسرے کا راستہ کھلے لیکن دونوں طرف ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد پارٹی کی تنظیم نو کی اور رواں سال بالآخر پنجاب میں بھی پارٹی کا مرکزی کنونشن منعقد کیا گیا۔ سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی واپسی سے کیا ان کی شخصیت ثانوی ہوجائے گی؟سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی واپسی سے یہ تاثر نہیں لینا چاہیے، وہ بلاول بھٹو کی رہنمائی بھی کریںگے۔بلاول اور آصف زرداری کی تال میل شاندار ہے، کیونکہ بلاول بھٹو جارحانہ سیاست کرتے ہیں اور زرداری صاحب دھیمے انداز میں معاملہ فہم ہے۔ اگر دونوں مل کر کوئی حکمت عملی بناتے ہیں تو بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں بظاہر کسی بڑی مخالفت یا جماعت کا کوئی چیلنج نظر نہیں آتا، جبکہ پنجاب میں اس سے تحریک انصاف زیادہ متحرک نظر آتی ہے۔پنجاب میں صرف مسلم لیگ نواز نہیں وہاں تحریک انصاف بھی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بلاول پنجاب میں جاکر فوکس کریں اور زرداری دیگر معاملات دیکھیں۔
یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے چار مطالبات پر تحریک چلانے کی دھمکی دے رکھی ہے جس میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، پاناما اسکینڈل کی شفاف تحقیقات، چین پاکستان راہداری منصوبے پر آل پارٹیز کانفرنس اور کل وقتی وزیر خارجہ کی تعیناتی پر عملدرآمد کا مطالبہ شامل ہے ،جو پورے نہ ہونے کی صورت میں 27 دسمبر سے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔تبصرہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کا کردار پارٹی کو منظم کرنا نہیں بلکہ ان کا کردار یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو ملاکر ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنایا جائے۔ انہوں نے ایک نشست میں اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نواز شریف کا نہیں میرا دوست ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر