وجود

... loading ...

وجود

آصف زرداری کی آمد سیاسی ہنگامہ خیزی میں تیزی کا امکان!

هفته 24 دسمبر 2016 آصف زرداری کی آمد سیاسی ہنگامہ خیزی میں تیزی کا امکان!

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ڈیڑھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس وطن پہنچ گئے لیکن اس موقع پر ان کے قریبی دوست کے دفاتر پر رینجرز کے چھاپوں اور اسلحے کی برآمدگی یقیناً معنی خیز ہے۔
آصف علی زرداری ہلکے بادامی رنگ کی شلوار قمیض، اسی رنگ کی واسکٹ اور سر پر ٹوپی پہنے گھر سے نکلے اور دبئی کے المکتوم ایئرپورٹ سے ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے خصوصی طیارے PTP- 555 کے ذریعے کراچی پہنچے ،پرواز میں سابق صدر کے ہمراہ پیپلز پارٹی کے اہم رہنما رحمٰن ملک، بابر اعوان سمیت 7 مسافر موجود تھے۔ سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے وی آئی پی پرنسلے جیٹ لاؤنج پر آصف علی زرداری کا استقبال کیا۔کاروانِ جمہوریت ٹرک پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے جھرمٹ میں خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج بی بی بہت یاد آرہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام اور فوج کی طاقت سے پاکستان مکمل محفوظ ہے، ہماری سرحدوں پر مسائل ہیں، کشمیر میں پاکستان کا پرچم جدوجہد کی علامت ہے اور ہمارا عزم ہے کہ کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔ہماری دونوں سرحدوں میں شرپسندوں نے تکلیف دی ہوئی ہے، ہمیشہ کہا ہے پاکستان شر پسندوں کا ملک نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا انتقام کل بھی جمہوریت تھا، آج بھی جمہوریت ہے اور کل بھی جمہوریت ہی ہوگا کیونکہ ہماری تو میتیں بھی اسی مٹی میں دفن ہوتی ہیں، ہم پاکستان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کرسی پر کون بیٹھا ہے اور کل کون بیٹھے گا، ایک نہ ایک دن پھر پیپلز پارٹی کی حکومت ضرور آئے گی۔‘‘
آصف زرداری نے حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت پاکستان کو متحد کرنے کا ہے مگر حکمران صرف سڑکیں بنانے میں لگے ہیں۔ چھوٹی سوچ والوں کو نظر انداز کر دیں۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ میں جب بھی بیرون ملک گیا تو کہا گیا کہ پاکستان سے بھاگ گیا ہوں، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جمہوریت کو آگے بڑھایا کیوں کہ اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت کا متبادل بہت خطرناک اور خوفناک ہے اور ہم شام نہیں بننا چاہتے، پاکستان کبھی ناکام ریاست نہیں ہوگا۔خطاب کا اختتام کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 27 دسمبر کو دوبارہ ملاقات کروں گا اور خوش خبری دوں گا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز ’جئے بھٹو‘ کے نعرے سے کیا اور اختتام ’پاکستان کھپے‘ کے نعرے سے۔انہوں نے فلمی انداز میں شرکا کو فلائنگ کِس بھی دی جسکا سوشل میڈیا پر بہت چرچا رہا جبکہ انکی آمد کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین نے کرپشن اور نیب کو بھی خوب نشانہ بنایا۔
پاکستان میں فوج کی قیادت میں تبدیلی کے بعد ان کی وطن واپسی سامنے آئی ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک پیپلز پارٹی سنگل آؤٹ ہو چکی تھی، خاص طور پر ڈاکٹر عاصم حسین کیس اور ایان علی کیس کے حوالے سے۔
‘یہ ظاہر ہو رہا تھا جیسے اس کے بعد زرداری صاحب کی باری آئے گی تاہم یہ کہا نہیں جاسکتا کہ ایسا ہونا بھی تھا یا نہیں۔ لیکن ان کے گرد حصار تنگ کیا گیا تھا۔ اب زرداری کا خیال ہوگا کہ نئے حالات میں ان کے لیے زیادہ گنجائش ہوگی۔’
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ستمبر میں ہی آنا چاہ رہے تھے تاکہ یہ پیغام دیں کہ وہ جنرل راحیل شریف کے خوف سے نہیں بھاگے تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پہلے اور اب بھی جنرل راحیل شریف اور پیپلز پارٹی کی قیادت میں اختلافات کو مسترد کرتی ہے۔
سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ راحیل شریف اور آصف علی زرداری کا کوئی ایشو نہیں تھا اگر تھا تو وہ کسی فرد کی وجہ سے تو نہیں ہے۔ ادھر ادارہ ہے اور ادھر پارٹی ہے۔ہم پاکستان فوج کے ساتھ لڑ نہیں سکتے اور نہ لڑنا چاہتے ہیں اسی طرح وہ بھی نہیں لڑنا چاہتے کیونکہ پیپلز پارٹی بہت بڑی جماعت ہے۔ کچھ لوگوں کی یہ خواہش ہوسکتی ہے کہ کوئی تصادم ہو تاکہ کسی تیسرے کا راستہ کھلے لیکن دونوں طرف ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد پارٹی کی تنظیم نو کی اور رواں سال بالآخر پنجاب میں بھی پارٹی کا مرکزی کنونشن منعقد کیا گیا۔ سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی واپسی سے کیا ان کی شخصیت ثانوی ہوجائے گی؟سینیٹر سعید غنی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کی واپسی سے یہ تاثر نہیں لینا چاہیے، وہ بلاول بھٹو کی رہنمائی بھی کریںگے۔بلاول اور آصف زرداری کی تال میل شاندار ہے، کیونکہ بلاول بھٹو جارحانہ سیاست کرتے ہیں اور زرداری صاحب دھیمے انداز میں معاملہ فہم ہے۔ اگر دونوں مل کر کوئی حکمت عملی بناتے ہیں تو بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ میں بظاہر کسی بڑی مخالفت یا جماعت کا کوئی چیلنج نظر نہیں آتا، جبکہ پنجاب میں اس سے تحریک انصاف زیادہ متحرک نظر آتی ہے۔پنجاب میں صرف مسلم لیگ نواز نہیں وہاں تحریک انصاف بھی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بلاول پنجاب میں جاکر فوکس کریں اور زرداری دیگر معاملات دیکھیں۔
یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے چار مطالبات پر تحریک چلانے کی دھمکی دے رکھی ہے جس میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل، پاناما اسکینڈل کی شفاف تحقیقات، چین پاکستان راہداری منصوبے پر آل پارٹیز کانفرنس اور کل وقتی وزیر خارجہ کی تعیناتی پر عملدرآمد کا مطالبہ شامل ہے ،جو پورے نہ ہونے کی صورت میں 27 دسمبر سے تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔تبصرہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آصف علی زرداری کا کردار پارٹی کو منظم کرنا نہیں بلکہ ان کا کردار یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کو ملاکر ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنایا جائے۔ انہوں نے ایک نشست میں اعتماد کے ساتھ کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نواز شریف کا نہیں میرا دوست ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

مضامین
آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر