کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

indian-forces-in-kashmir

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ 1947ء سے لے کر آج تک چھ لاکھ کشمیریوں کے قتلِ عام پر کسی بھی فوجی یا پولیس والے کو سزا نہیں ملی ہے۔ اس ’’شرمناک ریکارڈ‘‘کو مدِ نظر رکھ کر انہیں سزاکے خوف کے برعکس ان مظالم پر انعامات ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری قوم کے خلاف مظالم کا حوصلہ حیرت انگیز حد تک اب ان میں گھرکرچکا ہے۔

اگر چہ کشمیر ی قوم 1990ء کے بعد سے لیکر اب تک سینکڑوں آپریشنز کا مشاہدہ کر چکی ہے اور اب ناقابل بیان مصیبتیں سہہ کر چھبیس سال بعدپرُ امن احتجاج کرنے کے ’’جرم‘‘میں ’’آپریشن کام ڈاؤن‘‘کے نام پر ’’آپریشن توڑپھوڑ‘‘کامقابلہ کرنے پر مجبور کی جا چکی ہے۔ بھارتی سرکار اپنے دعوؤں کو لے کر بے نقاب ہو رہی ہے۔ کہنے کو بھارت گاندھی کاجمہوری اور سیکولرملک ہے، جبکہ سچائی بالکل اس کے برعکس ہے، کم سے کم کشمیریوں کے لیے اس کے معنی وہ نہیں ہیں جو دنیا بھر کے لوگ لیتے ہیں۔ بھارت نے کشمیریوں کو دو مسلم ممالک جیسے حالات سے دوچار کردیا ہے، ایک الجزائر دوم مصر۔ الجزائر میں اسلام پسندوں نے الیکشنوں میں حصہ لیا تو انھیں پابندیوں میں جکڑ کر بندوق کی طرف دھکیل دیا اور یہی کچھ مصر میں اخوان کے ساتھ کیا گیا تاکہ عوام’’ پر امن جدوجہد ‘‘سے مایوس ہو کر’’پرُ تشدد راستوں ‘‘کا انتخاب کریں جس سے قتل عام کا بین الاقوامی لائسنس دستیاب ہو۔ پر امن جدوجہد کرنے والے لوگوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو کشمیر میں ’’مجاہدین‘‘کے ساتھ کیا جا تا ہے۔

بھارت کا رویہ کشمیر میں انتہائی متضاد اور شرمناک ہے۔ ان کا قولی دعویٰ عملی دعوے کے بالکل برعکس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری طریقوں سے بھی ہمیں وہی قبول ہے جو ’’اعتقادی اور فکری ‘‘طور پر ہمارے رنگ میں رنگاہے۔ وہی لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پر امن جدوجہد بھی کرسکتے ہیں،چاہیں تو پر تشدد بھی، پھر بھی کوئی گلہ نہیں،اُن کے لیے نہ گولی ہے نہ جیل۔ رہے کشمیری وہ ’’پر امن جدوجہد کریں یا پر تشدد‘‘ان کے لیے ہر حال میں گولی ہے یا جیل۔ ایسے میں کشمیر میں پر امن جدو جہد پر یقین رکھنے والوں کے لیے بھارت جان بوجھ کر دروازے بند کر دیتا ہے اور جاری آپریشنز اسی کا ایک حصہ ہیں۔دعویٰ یہ کیا گیا کہ کشمیر میں ’’آپریشن کام ڈاؤن‘‘کے ذریعے امن بحال کیا جائے گا۔ نام اس آپریشن کا کام ڈاؤن رکھا گیا ہے مگر اس کے بطن سے ’’خاموشی اور امن ‘‘کے برعکس ’’ماتم، شور شرابہ اور توڑ پھوڑ ‘‘بر آمد ہو رہا ہے۔ دن ہو یارات فورسزبستیوں پر اس طرح ٹوٹ پڑتی ہیں گویا کہ انھیں جنگ لڑنی ہو اور مقابلہ نہتے عوام کے بجائے کسی مسلح فوج سے ہو۔

کشمیر کے اندرسیکورٹی فورسز گزشتہ تین مہینوں سے جو عمل دہرا رہے ہیں وہ حکومت کی جانب سے احتجاجیوں کے تئیں اپنائی گئی انتہائی ظالمانہ اور جارحانہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ نوے سے زیادہ معصوم شہید، پندرہ ہزار کے قریب مجروح، سات سو سے زیادہ بینائی سے محروم اور چھ ہزار سے زیادہ پابندِ سلاسل ہیں۔ اربوں روپے کی پراپر ٹی جن میں بے شمار گاڑیاں، مکانات اور دکانیں شامل ہیں کودورانِ آپریشن سیکورٹی ایجنسیوں نے ناقابل استعمال بنادیا ہے۔ اب کچھ عرصہ سے سیب کے باغات اور دھان کی فصلوں کو تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے۔ حال ہی میں دورانِ چھاپا فورسز نے ایک ہی باغ مالک کی پانچ سو پیٹیاں کھول کر ان میں بھرے ہوئے سیبوں کو سڑکوں پر پھینک دیااور کسان ٹیلی ویژن چینلز کے سامنے بس فریاد کرتا رہا۔ اسی طرح رات کے چھاپوں کے دوران خوف و دہشت کا ایسا ماحول برپا کیا جا چکا ہے کہ اسلام آباد میں کشمیر کی ایک خاتون دل کے دورے سے انتقال کر گئیں۔

فورسز جب دن کو بستیوں میں داخل ہوتی ہیں تو شور شرابہ اور توڑ پھوڑ سے ایسا ادھم مچاتی ہیں کہ مرد حضرات بھی کانپنے لگتے ہیں جس کی وجہ ہے بلا امتیاز مار دھاڑ اور بے پناہ تشدد۔عورت، مرد حتیٰ کہ نابالغ بچوں کو بھی بخشا نہیں جا تا ہے۔ دن کے برعکس اگر رات میں یہ حادثہ کسی بستی یا گھر کو پیش آجائے تو الامان والحفیظ۔ ۔ گویا کہ قیامت ہو، معصوم بچے بھی ڈر کے مارے دبک جاتے ہیں۔ رہی باتونی حکومت اور اس کی ’’میڈیا کابینہ‘‘وہ صرف بیان بازی تک محدود ہے۔ گزشتہ تین مہینوں سے ان کا زمین پر کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ وہ گپکار روڑ کے ہائی سیکورٹی زون پرواقع’’ پرُ تعیش بنگلوں‘‘ میں ’قیدیوں ‘کی سی زندگی گزارنے میں ہی خوش ہیں۔ اکثر حضرات بیان بازیوں کے بعد اب تھک چکے ہیں اس لیے کہ جو محنت وہ ہفتہ بھر پریس نوٹوں کے ذریعے سے کرتے ہیں اس کو ان کی ’’میڈم‘‘ایک سادہ سے بیان سے ختم کردیتی ہے۔ اس لیے کہ وہ ہفتوں سوچنے کے بعد جو بھی بیان دیتی ہے خود اسی کے گلے پڑتا ہے۔جس کی بنیادی وجہ اپنی عقل اور ادراک پر حد سے زیادہ اعتماد ہے۔

بھارت نے’ آپریشن کام ڈاؤن‘کے دوران جب’ سرجیکل اسٹرائیک ‘کا اعلان کیا تو ’’دلی کے پر شور میڈیا‘‘نے ہنگاما برپا کردیا کہ گویا یہ سبھی اینکر حضرات بھی قدم قدم پر ’’پیرا کمانڈوز‘‘کے ساتھ شامل تھے۔ حیرت یہ کہ اینکر حضرات ریکارڈ کھنگال کربہت فخر کے ساتھ یہ بتانے لگے کہ بھارت ’’امریکا‘‘کے ہم پلہ ہو چکا ہے اور اب بھارت جہاں چاہے حملہ کر سکتا ہے گویا کہ پاکستان نیپال سے بھی زیادہ کمزور ملک ہو،جبکہ بھارت امریکابن گیا ہو۔ چھ گھنٹوں میں ثبوت فراہم کرنے کا اعلان کرنے والی دلی حکومت کئی دن گزر جانے کے باوجود بھی کو ئی ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ البتہ پاکستان نے سرحدی پٹی پر ان کی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی اہلکاروں کی ویڈیو جاری کردی۔عالمی میڈیا اب اس ’’سرجکل اسٹرائک‘‘ پر سوالات اٹھا رہا ہے کہ آخر بھارت کو جھوٹ گھڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟کہا جا رہا ہے کہ کشمیر کی ابتر صورتحال نے اس ’’مسٹر مودی‘‘کو پریشان کر رکھا ہے اور ان کی سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ آخر یہ معاملہ کیسے اور کس طرح حل کیا جائے ؟اب مودی جی نے ’’جنگ نہیں صلح ‘‘کی باتیں شروع کردیں اس لیے کہ 36انچ چھاتی والے وزیر اعظم کو جنگ کی باتیں چھیڑتے ہی پتا چلاہے کہ یہ گجرات کا مظلوم مسلمان نہیں بلکہ دشمن ’’ایٹمی قوت کا حامل پاکستان ‘‘ہے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

کشمیر میں آپریشن کام ڈاؤن کے برعکس آپریشن توڑ پھوڑ جاری ہے جس کے سبب کشمیر ’’کربلا کا منظر‘‘پیش کرتا ہے۔ نہیں تو کیا بجلی ٹرانسفارمروں پرگولیاں برسا کر کشمیریوں کو جان بوجھ کرروشنی سے محروم کرنا انسانیت کے زمرے میں آتا ہے ؟دھان کی کھڑی فصلوں کو آگ لگا نا !سیب کی پیٹیوں کو باغوں میں گھس کر تباہ و برباد کرنا۔چھاپوں کے دوران ناقابل تصور تشدد اور توڑ پھوڑ کا ہی نتیجہ ہے کہ’’ اسلام آباد چھی‘‘ کی 66 برس کی معمر خاتون سارہ بیگم ’’ہاٹ اٹیک‘‘کے سبب داعی اجل کواس وقت لبیک کہہ گئیں جب سیکورٹی فورسز نے چھاپا مارنے کے لے ان کا دروازہ اس انداز سے کھٹکھٹایا کہ ڈر کے مارے ان کی جان نکل گئی۔ یہ ہے آپریشن کام ڈاؤن۔ ۔۔اور یہی قبرستان کی خاموشی بھارت یہاں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس خاموشی کے لیے وہ ’’آپریشن کام ڈاؤن ‘‘کے نام پر’’ آپریشن توڑ پھوڑ‘‘کر نے کے باوجود گاندھی جی کا جمہوری ملک کہلاتا ہے۔

Electrolux
الطاف ندوی کشمیری مقبوضہ کشمیر کے معروف دانشور ہیں۔ آپ کشمیر کے مختلف اخبارات و جرائد کے لیے لکھتے ہیں اور ’’کشمیر ،عیسائی مشنریز کے نشانے پر ‘‘ کے علاوہ تین مزید کتابوں کے مصنف بھی ہیں