وجود

... loading ...

وجود

سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی

هفته 22 اکتوبر 2016 سفارتی محاذ پربھارت کو ایک اور شکست,برطانیہ نے بھی پاکستان مخالف پٹیشن مسترد کردی

امریکاکے بعد برطانیہ نے بھی پاکستان کودہشت گردوں کی پناہ گاہ قراردینے کا بھارتی دعویٰ یکسر مسترد کردیا
برطانیہ میں مقیم بھارتیوں کی آن لائن پٹیشن پر پاکستان کی قربانیوں کے برطانوی  اعتراف نے بھارتی غبارے سے ہوا نکال دی
petitionامریکا اوربرطانیہ دونوں ممالک نے بھارتی حکومت کے اشارے اور ان ممالک میں موجود بھارتی سفارت خانوں کی مبینہ مالی امداد کے سہارے برٹش او ر امریکی بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی آن لائن مہم کوناکام بنادیاہے اور اس حوالے سے پٹیشن خارج کردی ہیں جس کا مقصد پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ اور حکومت پاکستان کو دہشت گردوں کاسرپرست ثابت کرناتھا۔گزشتہ دنوں وائٹ ہاؤس نے پاکستان کو دہشت گردوں کا کفیل ملک قرار دینے کے حوالے سے امریکا میں مقیم بھارتی شہریوں کی جانب سے شروع کی گئی آن لائن مہم کو جعل سازی کے شبے میں خارج کردیا تھا۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ‘پٹیشن کو اس لیے خارج کیا گیا کیوں کہ وہ دستخط کی شرائط پر پوری نہیں اتر رہی تھی اور اب اس پر مزید دستخط نہیں کیے جاسکیں گے۔واضح رہے کہ قوانین کے تحت اس پٹیشن پر وائٹ ہاؤس کو غور کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ضروری تھا کہ 21 اکتوبر تک اس پر کم سے کم ایک لاکھ لوگوں کے دستخط موجود ہوں۔جب پٹیشن کو خارج کیا گیا تو اس پر 6 لاکھ 25 ہزار 723 دستخط موجود تھے تاہم وائٹ ہاؤس کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ ممکن ہے ان میں جعلی دستخط بھی موجود ہوں۔‘‘
یہ پٹیشن وائٹ ہاؤس کے ویب پیج پر ڈالی گئی تھی جو ہر طرح کے صارف کے لیے کھلی رہتی ہے لہٰذا اس ویب سائٹ پر ویسی سیکورٹی نہیں ہوتی جیسی دیگر حکومتی ویب سائٹس پر ہوتی ہے۔اس آن لائن درخواست کو شروع کرنے والے زیادہ تر افراد بھارتی نژاد امریکی شہری تھے جنہوں نے یہ موقف اپنایا تھا کہ ‘پاکستان کو دہشت گردوں کا کفیل ملک قرار دینا امریکا، بھارت اور دیگر کئی ملکوں کے لوگوں کے لیے انتہائی اہم ہے جو پاکستان کے تعاون سے ہونے والی دہشت گردی سے مسلسل متاثر ہورہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے پٹیشن کو خارج کرنے پر امریکا میں موجود بھارتی کمیونٹی کو شدید مایوسی ہوئی جو اس بات کی امید لگائے بیٹھے تھے کہ امریکا کو پاکستان کے خلاف اس معاملے میں واضح موقف اپنانے پر مجبور کیا جاسکے گا۔امریکی حکام اس پٹیشن کے حوالے سے انتہائی محتاط تھے کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ اس سے بھارتی نژاد امریکیوں اور پاکستان سے آنے والے لوگوں کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے پاکستانی نژاد امریکیوں نے بھی وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پٹیشن دائر کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کراچی، بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردوں کی معاونت کرنے پر بھارت کو دہشت گرد ریاست قرار دیا جائے، یہ درخواست ایک لاکھ دستخط کی حد عبور کرنے والی ہے۔پاکستان مخالف پٹیشن کو خارج کرنے کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے حکام نے بتایا کہ بعض دستخطوں میں سامنے آنے والے تکنیکی مسائل کی وجہ سے پٹیشن خارج کی گئی۔واضح رہے کہ 20 ستمبر کو امریکی ایوان نمائندگان میں بھی بل پیش کیا گیا تھا جس میں پاکستان کو دہشتگردوں کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس بل کو پیش کرنے والے ٹیڈ پوئے اور ڈانا روہرابیچر ماضی میں بھی کئی بار پاکستان مخالف بل ایوان میں پیش کرتے رہے ہیں اور ان کے زیادہ تر بلوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ادھر پاکستان کے خلاف شروع کی جانے والی ایک آن لائن پٹیشن پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے برطانوی دفتر خارجہ نے واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کیا۔
برطانوی حکومت نے بھی برٹش بھارتیوں کی جانب سے شروع کی جانے والی مہم سے یہ بیان جاری کرکے ہوا نکال دی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بیشمار قربانیاں دی ہیں جس کا اعتراف کیاجانا چاہیے،برٹش بھارتیوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف شروع کی جانے والی اس پٹیشن پر اب تک 19 ہزار 484 افراد دستخط کرچکے تھے اور قانون کے مطابق اگر کسی پٹیشن پر 10 ہزار دستخط ہوجائیں تو برطانوی حکومت اس پر سرکاری موقف جاری کرنے کی پابند ہوتی ہے۔برطانوی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے کہ اس کی سرحدی حدود میں سرگرم تمام دہشت گردوں کے خلاف مستقل کارروائی کی ضرورت ہے‘۔ برطانوی حکومت کی آفیشل ویب سائٹ پر شروع کی جانے والی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے معاملے میں دہرا معیار اپنایا ہوا ہے، اس نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد(جس میں برطانیہ بھی امریکا کا اہم اتحادی ہے) کے دشمنوں کی معاونت کی ہے‘۔پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ ’القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا خفیہ ٹھکانا بھی پاکستان میں تھا اور یہ ملک اب بھی اقوام متحدہ کے بلیک لسٹ کردہ دہشت گردوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنا ہوا ہے‘۔
اس پٹیشن پر پاکستان کے حوالے سے سرکاری موقف جاری کرتے ہوئے برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ ’برطانیہ پاکستان کو انسداد دہشت گردی اور سلامتی کے امور پر مشاورت فراہم کررہا ہے جن میں ایوی ایشن اور ایئرپورٹ سیکورٹی بھی شامل ہیں، برطانیہ یہ بھی تربیت فراہم کررہا ہے کہ کس طرح دیسی ساختہ بموں کا سراغ لگایا جائے اور انہیں ناکارہ بنایا جائے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ شدت پسندانہ نظریے کو روکنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کے حوالے سے بھی پاکستان کو معاونت فراہم کررہا ہے۔اس کے علاوہ برطانیہ کا دو طرفہ امدادی پروگرام پاکستان میں قانون کی حکمرانی، بہتر تعلیم کی فراہمی اور غربت کے خاتمے میں معاونت کررہا ہے۔واضح رہے کہ اس پٹیشن پر برطانوی حکومت کا رد عمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے والی ہیں جہاں وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گی۔توقع کی جارہی ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کا معاملہ غالب رہے گا جبکہ اس کے علاوہ برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا پر بھی بات چیت ہوگی۔
برطانیہ میں ستمبر کے آخر میں شروع کی جانے والی اس پٹیشن کو 29 مارچ 2017 تک کا وقت دیا جائے گا اور اگر اس دوران اس پر کم سے کم ایک لاکھ دستخط ہوگئے تو پھر برطانوی پارلیمنٹ اس پٹیشن پر بحث کی پابند ہوگی۔پٹیشن پر جن لوگوں نے دستخط کیے ہیں ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق ان پارلیمانی حلقوں سے سامنے آیا ہے جہاں بھارتی نژاد برطانوی شہریوں کی اکثریت ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر