وجود

... loading ...

وجود

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

جمعرات 24 نومبر 2016  بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے
گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی

indian-army-kills-lecturer-in-custody-in-occupied-kashmir-1471519396-7445

بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی فوج کی ہلاکت کا بدلہ مسافر بس کو نشانہ بنا کر لیا گیا۔
بدھ کی صبح وادیٔ نیلم کے علاقے لوات میں لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستانی فورسزنے مسافر بس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 10 شہری جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے۔فائرنگ کا نشانہ بننے والی کوسٹر مظفرآباد جارہی تھی۔جبکہ بعد ازاں (ایل او سی) پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 3 جوان شہید ہوگئے۔
وادی نیلم کے ایس پی جمیل میرنے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اٹھمقام منتقل کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وادی نیلم میں بھارتی فائرنگ کا آغاز رات 3 بجے ہوا تاہم صبح اس میں شدت آگئی۔دوسری جانب کوٹلی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ کمشنر سردار ذیشان نثار نے بتایا کہ نکیال سیکٹر میں صبح 8 بج کر 40 منٹ پر شروع ہونے والی ہندوستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 6 افراد زخمی ہو چکے ہیں، جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔امریکی خبرساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس واقعے میں دس شہری شہید ہوئے۔ اے پی نے ڈپٹی کمشنر وحید خان کے حوالے سے کہا کہ انڈین فوج نے مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے تین شہری موقع پر شہید ہو گئے جبکہ زخمیوں میں شامل سات افراد بعد میں ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
انڈین فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی بس کے ڈرائیور راجہ گلفام نے برطانوی خبر رساindian-occupied-kashmir-1ں ایجنسی کی نامہ نگار کو بتایا کہ انڈین فوج کا گولا بس کی چھت پر لگا اور چار مسافر اسی وقت شہید ہو گئے۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے بس روکی نہیں اور اس کو بھگا کر آ گے لے آئے۔گلفام کا کہنا تھا کہ جس جگہ ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا وہاں سے دریا کے پار انڈین فوج کی پوسٹ صاف طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ڈڈیال کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد جب ایک ایمبولینس زخمیوں کو لینے کے لیے وہاں پہنچی تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی، واقعے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔تاہم انھوں نے مزید نقصان کا بھی خدشہ ظاہر کیا کیونکہ بھارت کی جانب سے شدید شیلنگ جاری ہے۔کوٹلی ڈسٹرکٹ کے تتا پانی سیکٹر میں بھی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوا، جبکہ ڈسڑکٹ پونچھ کے بٹل اور مدارپور سیکٹرز پر بھی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں کیپٹن تیمور علی، حوالدار مشتاق حسین اور لانس نائیک غلام حسین شامل ہیں۔
پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 7بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے لائن آف کنٹرول کے نزدیک اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اورہندوستانی فوج کی ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی گئی تھی تاہم بھارتی فوج نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ حملہ کس نے کیا جبکہ فوجیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔ٹوئیٹ میں ایک فوجی کی لاش کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ’مسخ شدہ‘ تھی، تاہم پاکستان نے بھارتی میڈیا کی جانب سے فوجی کے جسم کو مسخ کیے جانے کےarmy1-16-1460746931-12-1468278980 جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی تردید کردی تھی۔لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر ہندوستانی افواج کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں۔رواں ماہ 19 نومبر کو بھی ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر ہندوستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 پاکستانی بچے جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے، اسی روز 6 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔
قبل ازیںایک کارروائی میں 7پاکستانی جوانوں کی شہادت کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہندوستان کوغیرت دلائی تھی کہ ہمارے 7 جوانوں کی شہادت کے دن بھارت کے 11 فوجی مارے گئے تھے، ہم اپنے جوانوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں، بھارتی فوج بھی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاک فوجیوں کا بتایا کرے۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر اب تک 45 سے زائد بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں۔اس بیان کے جواب میں بھارتی وزارت دفاع نے 11کے بجائے 13فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی۔
پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ایل او سی کے شاہ کوٹ، جورا، بٹل، کریلہ، باغ، باگسر اور تتا پانی سیکٹر پر بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز تمام سیکٹرز پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہی ہے، جس پر پاک فوج کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کی گئی اور ہندوستان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 18 نومبر کو بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔جبکہ ایک جاسوس ڈرون بھی پاکستانی حدود میں گھس آیا تھا جسے پاک فوج کے جوانوں نے مار گرایا تھا۔
ان واقعات کے بعد حالیہ دنوں میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور بھارتی سفارتکاروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
بھارتی حکام نے لائن آف کنٹرول پرشہریوں کی ہلاکتوں کے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم انڈین فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ بدھ کی صبح پاکستان کی طرف سے بھمبر گلی، کرشنا گھاٹی اور نواشہر سیکٹر میں بلااشتعال اور اندھا دھن فائرنگ شروع کی دی۔اس سے قبل آئی ایس پی آر نے اطلاع دی تھی کہ انڈین فوج نے کشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کررکھا ہے۔ان علاقوں میں شاہ کوٹ، جورا، بٹل، کریلا، باغ اور گرم چشمہ سیکٹر شامل ہیں۔فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے اردگرد دیہات میں رہنے والے افراد میں خوف پایا جاتا ہے اور وہ خطرے کے پیشِ نظر عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر