وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بھارت کی زہر آلود صحافت

پیر 19 ستمبر 2016 بھارت کی زہر آلود صحافت

کشمیر کی گتھی کو سمجھنے اور سلجھانے میں ناکام حکومتِ ہندوستان کے منفی اثرات اکثر شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں ۔اس ناکامی میں جو کردار بھارت بھر کے الیکٹرانک میڈیا کا ہے وہ المناک بھی ہے اور شرمناک بھی ۔یہ ذرائع ابلاغ نہیں بلکہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کا روپ دینے والی وہ مشین ہے جس کا اوڑھنا بچھونا ہی بے ضمیری ہے ۔اس کی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔جب بھی بھارت میں کوئی دھماکا ہوتا ہے تودھماکے سے ایک لمحہ قبل’’بے خبر میڈیا‘‘ دھما کے کے ایک لمحہ بعد ’’باخبر‘‘ہو جاتا ہے اور خصوصی نشریات اس طرح چلائی جاتی ہے کہ گویا اس چینل ہی کا کوئی فرد سایے کی طرح دھماکا کرنے والوں کے ساتھ ساتھ رہا ہو ۔خبر لکھنے اور نشر کرنے کے الفاظ ہی حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ آپ بھی ملاحظہ فرما لیجیے ’’نئی دہلی کے صدر بازار میں دھماکا کئی ہلاک اور زخمی ،کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ،مگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ’’انڈین مجاہدین پر شک ‘‘۔دس منٹ بعد خبر چلائی جاتی ہے ’’ابھی ابھی نیوز روم کو ایک ای میل ملی ہے جو ’’القائدہ کی ہندوستانی شاخ‘‘نے بھیجی ہے اور اس تنظیم نے دہلی دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہو ئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ یہ بابری مسجد کی شہادت ،کشمیر ،گجرات اور مظفر نگر قتل عام کا بدلہ ہے جبکہ آئندہ کے لئے حکومت ہندوستان کو خبردار کیاہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائے ۔1947ء سے لیکر 2016ء تک آپ کو ایک بھی ایسی نیوزپڑھنے یا سننے کو نہیں ملے گی جس میں شک کی سوئی مسلمانوں کے بجائے کسی اور کی جانب گھومی ہو یا گھمائی گئی ہو ۔اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ ہندوستانی میڈیا کی شدید نفرت ۔

جھوٹی خبریں پھیلانے اور تخلیق کرنے کا ثانی مغرب کے بعد اگر کوئی ہے تو وہ ہے بھارتی میڈیا ۔9ستمبر2016ء کو بھارت کے معروف نیوز چینل انڈیا ٹوڈے پر دن کے پانچ بجے کشمیر کی تازہ شورش پر ایک رپورٹ نشر کی گئی ۔میں حیران ہی نہیں بلکہ بہت شرمندہ بھی ہوا کہ کیا واقعی انڈیا ٹوڈے جیسے کسی حد تک غیر جانبدارسمجھے جانے والے چینل پر ایک قوم کے خلاف اس قدرتعصب برتا جا سکتا ہے، اور کیا سچ میں ایک نیوز چینل جھوٹ کو سچ کے روپ میں پیش کرنے کے لئے اتنی نچلی سطح تک گر سکتاہے ۔اخلاقی گراوٹ جب اتنے بڑے لوگوں میں اس حد تک آجائے تب آپ ایک پولیس والے یا فوجی سے کیا توقع کر سکتے ہیں ؟جن کے ذہن کو’’ میڈیا رومز‘‘ میں بیٹھے لکھے پڑھے ’’خفیہ ایجنڈے پر مامور‘‘صحافت کی آڑ میں زہرآلود ہ کرنے والے ’’مجرم‘‘ کوئی کسر باقی نہیں چھوڑرہے ہوں ۔پھر آپ یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ بھارت کی سوا ارب آبادی والے ملک میں عوام سچائی اور حق کا ساتھ دیں گے جب سچائی کے سوتے ہی خشک ہو چکے ہوں یا ان سے رواں فطری شفاف خیالات کو فاسد کر نے والے لوگ ہی سرچشمہ پر ڈھیرہ ڈالے انسانیت کو رسوا کرنے پر بضد ہوں۔

چینل انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ کو خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ تار ملاکر کشمیر کی رواں تحریک کے حوالے سے چند حیرت انگیز انکشافات کیے۔ اولاً:کشمیر کی رواں ایجی ٹیشن ’’وہابیت‘‘کی دین ہے ۔ثانیاً:اس کا تعلق کہیں نہ کہیں آئی ،ایس ،آئی سے ہے یعنی یہ داعش سے جڑا معاملہ ہے ۔ثالثاً:یہ کشمیر کو ’’طالبانائزڈ‘‘کرنے کی سازش ہے ۔رابعاً :یہ ’’جماعت اورجمعیت‘‘کے تین ہزار مساجد میں مبلغین کی کارستانی ہے ۔خامساً:یہ سید صلاح الدین سید علی گیلانی کے ذریعہ کراتا ہے ۔ان الزامات کے علاوہ اور شگوفے اینکر نے چھوڑے جن پر کچھ کہنا ہی غیر ضروری ہے البتہ چند چٹکلے یہاں تفنن طبع کے لئے عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ پتہ چلے کہ بھارت کے اتنے مشہور نیوز چینل کے نامی گرامی اینکرز کی معلومات کس قدر سطحی ہوتی ہیں ۔جناب کی طویل ’’بکواس‘‘کو سننے کے لئے مجھے بہت صبر کرنا پڑا مگر میری ہنسی ضبط کرنا اس وقت مشکل ہوگیا جب اس نے سید علی گیلانی کی تنظیم سے متعلق یہ انکشاف کیا کہ اس کا نام ’’تحریک انصاف‘‘ہے حالانکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ اس کا نام ’’تحریک حریت ‘‘ہے ۔اینکر کبھی کبھی تین ہزار مساجد میں خطباء کو ’’جماعتی اور کبھی جمیعتی‘‘قرار دیتا تھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ وقت کی کمی کے بیچ جب اینکر کے لئے جھوٹ گھڑتے گھڑتے مواد ہاتھ نہیں لگا تو اُس نے جماعت اسلامی کی جگہ جماعتی اورجمعیت اہلحدیث کی جگہ جمعیتی کے الفاظ استعمال کر کے اپنی کمزوری چھپانے کی ناکام کوشش ضرور کی ہے۔ اس لئے کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ تحقیقات کرنے والے ان تیس مار خانوں کا ’’سارامواد‘‘ ہی انسائیکلوپیڈیا کے لنکس کے علاوہ چند خبریں ہوتا ہے جن کی رپورٹنگ کرنے والے انہی جیسے وہ رپورٹر ہو تے ہیں جن کے نزدیک ہیجان پیدا کرنے کے لئے رائی کو پہاڑ ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے ۔

جہاں تک داعش کا تعلق ہے کشمیر میں تحریک کے پس منظر میں ایجی ٹیشن کے باوجود اس کا دور دور تک کوئی سراغ نہیں ہے ممکن ہے کسی فرد کو ذاتی حد تک ان سے کوئی فکری یا سیاسی مناسبت ہو مگر بحیثیت قوم ان کو کشمیریوں نے مجموعی طور پر رد کردیا ہے ۔یہی حال پاکستانی طالبان کا ہے البتہ کشمیریوں کو افغان طالبان سے محبت ضرور ہے ۔مگر پاکستانی طالبان ہی نہیں بلکہ افغان طالبان کا بھی زمینی سطح پر کوئی وجود نہیں ہے ۔رہے یہاں کے تین ہزار مساجد کے مبلغین ،سچائی یہ ہے کہ کشمیر کے مبلغین اکثر غیر سیاسی تقاریر کرتے ہیں البتہ جب کوئی بڑی آفت محسوس ہو تو اس کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہیں ۔وہابیت سے مراد اگر داعش ہے تو کشمیر میں اس سوچ کے لوگ ایک فیصد بھی نہیں ہیں، ہاں سلفی المسلک لوگ تو یہاں ہیں مگر ہیں اقلیت میں ۔کشمیر میں حنفی المسلک لوگوں کی اکثریت آباد ہے ۔جن میں اکثر یت غیر متشدد مسلمانوں کی ہے باوجود اس کے کہ کشمیر کے لوگ احیائے خلافت کے متمنی ہیں اور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے خواہش مند بھی ۔کشمیر میں جماعت اسلامی ایک طاقتوراور موثر مذہبی اور سیاسی جماعت ہے ۔جس کی پر امن دعوت و تبلیغ اور سیاسی جدوجہد کی طویل ترین داستان تاریخ کشمیر کا حصہ بن چکی ہے ۔جہاں تک سید صلاح الدین کا سید علی گیلانی کے ذریعے شورش برپا کرانے کا الزام ہے اس پر ہنسے بغیر کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی ہے بلکہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ لوگ کشمیر کی تحریک اور اس کے لیڈران کے قد و قامت سے کس قدر ناواقف ہیں اور بھارت کی زہر آلودہ صحافت کس قدر کشمیر کے حوالے سے تعصب میں مبتلا ہے کہ اب حریت کے ساتھ ساتھ وہ کس طرح کشمیر کی مذہبی تنظیموں اور علماء کو بھی پروپیگنڈہ کی زد میں لاکر ریاستی جبر کا نشانہ بنوانا چاہتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری ابو محمد نعیم - جمعرات 24 نومبر 2016

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی...

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

پاکستان بار بار یہی بات دہرارہا ہے لیکن بھارت فوجی قبضے اورتسلط پراَڑاہوا ہے ،نتیجہ آنے تک مقد س اورجائزجدوجہد جاری رکھیں گے بھارتی مظالم کے آگے سینہ سپر87سالہ ناتواں بزرگ لیکن جواں عزائم اورمضبوط اعصاب کے مالک چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس انٹرویوپینل:شیخ امین ۔مقصود منتظر وجود:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جولائی...

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین شیخ امین - هفته 22 اکتوبر 2016

ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے،پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیے مذاکرات اور قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مجاہدین کو وسائل مہیا کیے جائیں جب دنیا ہماری آواز نہیں سن رہی تو پھر ہمارے پاس آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ہی آخری آپشن ہے،سید صلاح الدین کا ایوان صحافت مظفر آباد میں خطاب امیر حز ب المجاہدین وچیئرمین متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ بھارت سے آزادی کے لیے پ...

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین

طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ الطاف ندوی کشمیری - بدھ 05 اکتوبر 2016

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت...

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور انوار حسین حقی - منگل 04 اکتوبر 2016

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے ا...

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول) الطاف ندوی کشمیری - هفته 01 اکتوبر 2016

زندہ قوموں کی زندگی کارازصرف ’’خود احتسابی‘‘میں مضمر ہے۔ جو قومیں احتساب اور تنقید سے خوفزدہ ہو کر اسے ’’عمل منحوس‘‘خیال کرتی ہیں وہ کسی اعلیٰ اور ارفع مقصد کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتی ہیں۔ احتساب ہی ایک ایسا عمل ہے جس سے کسی فرد، جماعت اور تحریک کی کامیابی اور ناکامی کا صحیح اور درست اندازہ لگا یا جا سکتا ہے، اسی ایک عمل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ ہم ایک مقصد میں کتنا کامیابی کی جانب اور کتنا ناکامی کی طرف جارہے ہیں۔ جب امت مسلمہ کا ستارہ آسمان عالم پر چمکتا تھا ت...

کشمیر کی صورتحال، ہڑتال مضر یا مفید (قسط اول)

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں الطاف ندوی کشمیری - بدھ 28 ستمبر 2016

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیرائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ کشمیر کے لیڈر، دانشور، صحافی، تجزیہ نگار، علماء، طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کے تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس ...

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟ محمد اقبال دیوان - پیر 26 ستمبر 2016

پچھلے دنوں وہاں دہلی میں بڑی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے Security Apparatus اور’’ را‘‘ کے نئے پرانے کرتا دھرتا سب کے سب نریندر مودی جی کو سجھاؤنیاں دینے جمع ہوئے۔ ان سب محافل شبینہ کے روح رواں ہمارے جاتی امراء کے مہمان اجیت دوال جی تھے۔ وہ آٹھ سال لاہور میں داتا دربار کے پاس ایک کھولی میں ground -spy کے طور پر رہتے رہے تھے۔ اُنہوں نے کراچی، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور کابل میں اپنے عرصۂ قیام میں کئی سلیپر سیلز بھی قائم کیے جو اب بھی چھپ چھپا کر اپنی تخریب کاری کی کاروائیاں دکھاتے رہت...

کشمیر، اوڑی سیکٹر اور ملاقاتیں، کون کیا سوچ رہا ہے؟

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……! عارف عزیز پنہور - جمعرات 22 ستمبر 2016

ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے امریکا سمیت دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان خطاب کرتے ہیں۔ یہ روایت وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اس اجلاس کو باہم متحارب ملکوں کے سربراہان کے لیے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور اپنا زور خطابت آزمانے کا بھی اچھا موقع سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان……دونوں ہی ملکوں کے سربراہان حکومت عام طور پر اس اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے خطاب میں مدمقابل کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اس فورم پر بھی...

وزیراعظم نواز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب، دھیمے لب و لہجے نے مجموعی تاثر کو گہنا دیا……!